لکھاری پر کیا گزرتی ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

”ہم سب“ کے ایڈیٹر سر عدنان کاکڑ اکثر اپنی پوسٹس میں ان مشکلات اور مسائل کا تذکرہ کرتے رہتے ہیں جن کا ان کو بطور ایڈیٹر آئے روز سامنا کرنا پڑتا ہے۔ بعض اوقات تو ان کا پالا ایسے کہنہ مشق اور ذہین لوگوں سے پڑجاتا ہے کہ ایک چھوٹی سی بات سمجھانے کے لیے بھی کئی کئی ای میلز کا تبادلہ کرنا پڑجاتا ہے۔ پھر لکھاری حضرات جس طرح سے ان باکس میں آکر اپنے مضامین کے بارے میں بار بار دریافت کر کے ان کے دماغ کا دہی بناتے ہیں اور مضمون نہ چھپنے کی صورت میں جو صلواتیں ان کو سناتے ہیں وہ ایک الگ کہانی ہے۔ اس سب سے یہ بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ایڈیٹری کا کام بالکل بھی سہل نہیں ہے۔

کیونکہ اگر سر عدنان کاکڑ جیسا شگفتہ انسان بھی اس کی موشگافیوں سے جھلا جائے تو پھر سچ میں اسے نبھانا آسان نہیں ہے۔ تو سر عدنان کی ان پوسٹس کو دیکھ کر مجھے خیال آیا کہ ان کے توسط سے ایڈیٹر کی کارگزاری تو ہم سنتے ہی رہتے ہیں۔ کیوں نہ ایک لکھاری کی کتھا بھی لکھی جائے کہ لکھنے کے دوران کن مشکلات سے اس کا پالا پڑتا ہے اور اپنی تحریروں پر کس طرح کے تاثرات اور مشوروں سے اسے نوازا جاتا ہے۔

تو صاحبو، سب سے پہلے تو یہ بتا دوں کہ اگر ایڈیٹری کا کام مشکل ہے تو لکھنا بھی اتنا آسان نہیں ہے۔ عموماً لوگوں کو لگتا ہوگا کہ لکھنے میں کیا ہے بس تھوڑی دیر دماغ پر زور دیا اور کسی بھی موضوع پر مضمون لکھ مارا۔ تو ایسا ہرگز بھی نہیں ہے۔ کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو یہاں پر ہر بندہ ہی لکھ رہا ہوتا۔ اور پھر خیالات تو ہر بندے کے ذہن میں آتے ہیں۔ اصل بات ہی تو ان خیالات کو ایک ترتیب کے ساتھ بیان کرنا ہے۔ اور پھر جس بھی واقعہ یا موضوع پر آپ لکھ رہے ہوتے اس سے متعلقہ واقعات اور معلومات کے ساتھ اسے جوڑنا ہی اصل کمال ہے۔ پھر لکھنے کے لیے آپ کا ذہنی طور پر پرسکون ہونا بہت ضروری ہے۔ اگر آپ ذہنی طور پر پرسکون نہ ہوں تو اضطراب کی حالت میں آپ اچھی تحریر لکھ ہی نہیں سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض اوقات تو ایک سٹنگ میں ہی تحریر پوری لکھی جاتی ہے۔ اور بعض اوقات پورا پورا دن لگ جاتا ہے۔

میں اگر اپنی بات کروں کہ جب میں نے لکھنا شروع کیا تو کچھ سمجھ نہیں آتی تھی کہ کس موضوع پر لکھا جائے، اور کیسے لکھا جائے۔ پھر آہستہ آہستہ اندازہ ہوتا گیا کہ کون سے موضوعات کو چننا ہے اور کیسے لکھنا ہے۔ ہاں بس یہ سوچ لیا تھا کہ سماجی مسائل کے حوالے سے زیادہ بات کرنی ہے اور ایسے موضوعات کو چننا ہے جن پر بات کم کی جاتی ہے۔ لیکن اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ باقی موضوعات پر میں نے نہیں لکھا۔ سیاست سے لے کر مذہب اور آرٹ سے لے کر اہم ملکی اور غیر ملکی مسائل پر بھی لکھنے کی کوشش کی۔ اندازِ تحریرکے حوالے سے شروع میں ہی یہ سوچ لیا تھا کہ آسان انداز بیان ہی اپنانا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس سے مستفید ہو سکیں۔

پھر بعد میں طنزیہ لکھنے کا انداز اپنایا جسے کافی پذیرائی ملی اور مجھے یہ ماننے میں کوئی بھی تامل نہیں کہ اس انداز ِ تحریر میں سر عدنان کاکڑ سے متاثر ہو کر ہی لکھنا شروع کیا۔ اس حوالے سے میرے طنزیہ مضامین پر اکژ مجھے یہ سننے کو ملتا ہے کہ آپ حق میں لکھ رہے ہیں یا خلاف؟ اس انداز بیان کی خوب صورتی ہی یہی ہے کہ آپ اپنی بات کہہ بھی جائیں اور ایسا لگے کہ آپ نے کچھ نہیں کہا۔ ایک چھوٹا سا واقعہ اس ضمن میں یاد آرہا ہے کہ میں نے اسی طرح ایک بار منظور پشتین کی گرفتاری پر ایک طنزیہ مضمون لکھا جس پر ایک خان صاحب غصہ میں آگئے کہ میں نے منظور کو برا بھلا کیوں کہا ہے؟ ۔ اس پر پھر جب ان کو سمجھایا کہ خان صاحب میں نے منظور کے حق میں ہی لکھا ہے، بس انداز طنزیہ ہے اس لیے ذرا غور سے مضمون دوبارہ پڑھیں تو بعد میں وہ تھوڑا شرمندہ ہوئے اور میرا شکریہ ادا کیا۔ بس ہمارے خان صاحب بہت معصوم ہوتے ہیں۔

اس کے ساتھ ساتھ کوئی بھی تحریر لکھتے ہوئے ایک لکھاری کا اپنی طرف سے مطمئن ہونا بہت ضروری ہوتا ہے کہ جو تحریر اس نے لکھی ہے وہ اس قابل بھی ہے کہ اس کو چھاپا جاسکے۔ میں اس معاملے میں کچھ زیادہ حساس واقع ہوا ہوں۔ بار بار تحریر کو تبدیل کرنا اور بار بار اسے پڑھنا کہ کہیں بھی غلطی کا احتمال نہ رہ جائے یہ میری عادت بن چکی ہے۔ اور بعض اوقات تو اپنی تسلی نہ ہونے کی وجہ سے پورا کا پورا مضمون لکھ کر نئے سرے سے لکھنا پڑا۔ لہذا لکھنا کوئی آسان کام بالکل نہیں ہے اس کے لیے آپ کو کئی پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں۔ تب جا کر کہیں آپ ایک عام سا لکھاری بننے کے قابل ہو پاتے ہیں۔

اب آجاتے ہیں کہ ایک لکھاری کو اس کے مضامین اور تحریروں پر اپنے پڑھنے والوں کی طرف سے کس قسم کے تبصروں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ تو اس حوالے سے جہاں اس کی تعریف کی جاتی ہے وہاں اس کی تحریروں پر اسے خوب اعتراضات کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔ مجھے جس اعتراض کا سامنا سب سے زیادہ کرنا پڑتا ہے وہ یہ ہے کہ میں مثبت موضوعات کو زیر بحث لائے بغیر ہمیشہ منفی موضوعات پر لکھتا ہوں تو اس کے جواب میں اتنا ہی کہوں گا کہ میرے خیال میں ایک لکھاری کا مقصد سماج میں پائی جانے والی برائیوں کو بے نقاب کرنا ہوتا ہے۔ تاکہ لوگوں کو باشعور بنایا جاسکے۔ اب چونکہ وہ سب حقیقت اور سچ پر مبنی ہوتا ہے اور سچ کڑوا بھی ہوتا ہے اور پھر اس سچ کے آئنیے میں جب لوگوں کو اپنا عکس نظر آتا ہے تو اسے وہ دیکھ نہیں پاتے اور بس سوائے اعتراض کرنے کے ان کے پاس کوئی چارہ نہیں ہوتا ہے۔

اور اگر ان سے یہ کہا جائے کہ آپ مثبت لکھ لیں۔ تو اس پر بس آئیں بائیں شائیں ہی کرتے نظر آتے ہیں۔ کیونکہ ظاہر ہے تنقید کرنا آسان اور کچھ کام کرنا مشکل ہوتا ہے۔ پھر ایک اعتراض یہ بھی ہوتا ہے کہ میں اپنی تحریریں غیر جانبدار ہو کر نہیں لکھتا تو اس پر عرض یہ ہے کہ ہر لکھاری کے کچھ نظریات ہوتے ہیں اور اس نے ان نظریات کے حساب سے ہی لکھنا ہوتا ہے۔ آپ کو یہ حق ضرور حاصل ہے کہ آپ ان سے اختلاف کریں، مگر یہ حق نہیں ہے کہ جانبداری کا ٹھپہ لگا دیں۔ کیونکہ ایک لکھاری کسی اخبار کے ایڈیٹوریل بورڈ کا ممبر تو ہوتا نہیں کہ جس نے صرف حقائق ہی بیان کرنے ہوتے ہیں۔

پھر تنقید تو ہر حال میں کسی نہ کسی طرح لکھاری پر ہونی ہی ہوتی ہے۔ مثلاً اگر میری طرح وہ مذہب کے حوالے سے کوئی بات کرے تو پورے کا پورا مذہب خطرے میں پڑجاتا ہے اور کفر کا فتویٰ لگ جاتا ہے۔ اگر وہ سول بالادستی یا فوج کی حدود، کردار اور غلط پالیسیوں کے حوالے سے بات کرے تو ملک کی سالمیت خطرے میں پڑتی ہے اور غدار قرار دے دیا جاتا ہے۔ اسی طرح میرے جیسا لکھاری اگر ہمارے سماج میں عورتوں کے حقوق کی سلبی اور ان کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں پر بات کرے تو مردوں کی مردانگی کو تو ٹھیس پڑتی ہی ہے فیمینسٹ کا ٹھپہ بھی اس پر لگتا ہے۔ حکومتی غلط پالیسیوں، وزیراعظم صاحب کے یو ٹرنز پر قلم اٹھایا جائے تو آپ پٹواری اور اگر مسلم لیگ ن کے غلط فیصلوں پر اگر تنقید کرو تو آپ یوتھیئے کہلاتے ہیں۔ اور اگر کسی مظلوم کی آواز بننے کی کوشش کریں گے تو آپ کو ایجنٹ کا خطاب بھی مل سکتا ہے۔

لیکن اس کے ساتھ ساتھ ایک لکھاری کو مشورے بھی بہت ملتے ہیں کہ آپ اس موضوع پر نہیں، اس پر لکھیں۔ اور میرے جیسے لکھاری کو تو خبردار بھی کیا جاتا ہے کہ بھائی صاحب آپ کو یا کسی مولوی نے کسی دن لگ جانا ہے اور یا پھر آپ نے اٹھائے جانا ہے اس لیے احتیاط کرلیا کریں۔ تو جناب لکھنے کے معاملے میں تو ہم بہت سنکی واقع ہوئے ہیں اور وہی لکھتے ہیں جو خود لکھنے کا من کرے۔ اور کسی کا خوف ہمیں کوئی ہے نہیں اس لیے ہم تو ایسے ہی لکھتے رہیں گے۔

باقی امید ہے اس ساری کتھا سے آپ کو کافی حد تک اندازہ ہوگیا ہوگا کہ ایک لکھاری بننا کوئی عام بات نہیں ہے۔ آپ نے لکھاری بننا ہے تو ایک تو محنت کرنی پڑے گی اور سرقہ وغیرہ کرنے سے کام نہیں چلے گا اور دوسرا اوپر بیان کی گئی سب باتیں ذہن میں رکھ کر یہ فیصلہ لینا بھیا، بعد میں نہ کہنا کہ بتایا نہیں۔ آخر میں میرے جیسے لکھاری پر تنقید کرنے والوں اور مشورے دینے والوں کے لیے بس ساحر لدھیانوی صاحب کا شعر پیش خدمت ہے :

لے دے کے اپنے پاس فقط اک نظر تو ہے
کیوں دیکھیں زندگی کو کسی کی نظر سے ہم

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply