اٹھارہویں ترمیم نہ چھیڑیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تکرار کی عادت نہیں لیکن بار بار کہنا پڑ رہا ہے کہ اس وقت ہمارا مسئلہ وسائل کا فقدان نہیں بلکہ بیان بازی اور غیر سنجیدگی ہے۔ یہ بات تو طے ہے کہ کورونا کا مسئلہ چند روز کی بات نہیں۔ جب تک کورونا وائرس سے مدافعت کی ویکسین تیار نہیں ہوتی دنیا کا کوئی ملک محفوظ تصور نہیں کیا جا سکتا۔ کیونکہ وبا پر قابو پانے میں ایک بار کامیابی مل بھی گئی تو اس کے دوبارہ پھوٹ پڑنے کا خطرہ پھر بھی موجود رہے گا۔ اب تک اس وائرس کی تباہ کاری سے بچنے کا ایک ہی طریقہ ہے یعنی لاک ڈاؤن۔

لیکن طویل عرصے کے لیے لاک ڈاؤن جاری رکھنا بھی آسان بات نہیں۔ ہمارا حال ویسے ہی پتلا ہے ترقی یافتہ اور وسائل سے مالا مال ریاستیں بھی لاک ڈاؤن کے معاشی اثرات سے تنگ آکر اب کاروبار بحال کرنے کی کوشش میں ہیں۔ ہمیں بھی اس حقیقت کو تسلیم کرنے اور نئے حالات میں زندگی گزارنے کے ڈھنگ سیکھنے کی کوشش کرنی چاہیے مگر یہاں سارا زور بیان بازی پر ہے۔ ایک طرف وفاقی وزرا کی اشتعال انگیز گفتگو ہے تو دوسری جانب سندھ حکومت بھی سخت لاک ڈاؤن کو انا کا مسئلہ بنائے بیٹھی ہے۔

اسد عمر جو تحریک انصاف کا پڑھا لکھا چہرہ ہیں اور اب عملاً نائب وزیراعظم کا بھی کردار ادا کر رہے ہیں، ان سے توقع تھی کہ وہ کوئی معقول بات کریں گے۔ خود ہی وہ فرماتے ہیں کہ گزشتہ چند دنوں میں کورونا وائرس سے اموات میں اضافہ ہوا ہے جو اچھی خبر نہیں ہے مگر ساتھ یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ آبادی کے تناسب کے حساب سے پاکستان میں اموات کی شرح کم ہے اور اس سے زیادہ لوگ ٹریفک حادثات کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ایک پڑھے لکھے شخص کا وبا کی اموات سے ٹریفک حادثات کا مقابلہ کرنا سمجھ سے بالاتر ہے۔

ہر کوئی جانتا ہے کہ کورونا تیزی سے پھیلنے والا متعددی وائرس ہے خدانخواستہ اگر مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہو گیا تو ہمارا نظام صحت اس صورتحال کے سامنا نہیں کر پائے گا۔ پہلے ہی عوام احتیاط نہیں کر رہے جب سینئر وزرا اس قسم کے بیان دیں گے تو کون احتیاطی تدابیر پر عمل کرے گا؟ اب تک جو لاک ڈاؤن ہوا اس کا فائدہ بھی کماحقہ اس لیے نہیں ہو سکا کیونکہ عمران خان صاحب کی سوئی پہلے دن سے لاک ڈاؤن کی مخالفت پر اٹکی ہوئی تھی۔

انہوں نے ایک بار پھر اس فیصلے کی مخالفت کرتے ہوئے فرمایا ملک میں لاک ڈاؤن اناؤنس کرنے میں جلدی کی گئی۔ کسی نے نہیں سوچا کہ دیہاڑی دار غریب آدمی اور رکشے والا جو سارا دن محنت مزدوری کرنے کے بعد اپنا اور اپنے گھر والوں کا پیٹ پالتا ہے اس بیچارے کا کیا بنے گا۔ اسی پر بس نہیں بلکہ ایک قدم آگے بڑھ کر انہوں یہ تک کہہ ڈالا کہ لاک ڈاؤن مٹھی بھر اشرافیہ نے نافذ کرایا۔ یہ تو اب حکومتی ترجمانوں پر فرض ہے کہ وہ وضاحت کریں کہ اشرافیہ کون ہے جس نے وزیراعظم سے بالا اتنا بڑا فیصلہ لے لیا؟ چلیں سندھ میں تو پیپلز پارٹی برسر اقتدار ہے مگر وفاق اور دیگر صوبوں میں تحریک انصاف کی حکومت ہے۔ لاک ڈاؤن کا فیصلہ اتنا غلط تھا تو وہاں یہ کام اشرافیہ کے کن نمائندوں کے کہنے پر کیا گیا۔

لاک ڈاؤن کے معیشت پر منفی اثرات سے باکل انکار نہیں لیکن ملکی معیشت تو پچھلے ڈیڑھ سال سے تنزلی کا شکار تھی۔ کورونا سے پہلے ہی سالانہ تین اعشاریہ تین کی شرح نمو کے ساتھ جنوبی ایشیاء میں پاکستان سب سے کم تیزی سے ترقی کرنے والا ملک تھا اور کہا جا رہا تھا کہ آئندہ برس یہ شرح مزید تنزلی کے بعد اقتصادی شرح ترقی 2.1 فیصد رہ جائے گی۔ قابل غور بات یہ ہے کہ صرف ڈیڑھ سال قبل ملکی معیشت چھ فیصد کے قریب گروتھ کر رہی تھی اور عوام کے لیے روزگار کے مواقع بھی نسبتاً کہیں بہتر تھے اس قدر گراوٹ کا شکار کیوں ہوئی؟

قلیل مدت میں معاشی شرح نمو میں اتنی بڑی کمی کی وجہ ترقیاتی منصوبوں کا خاتمہ، کرنٹ اکاؤنٹ خسارے پر قابو پانے کے لیے ملکی درآمدات میں کی جانے والی اچانک کمی، ڈاکومینٹیشین کی جارحانہ کوشش اور احتساب کی لٹھ تھی۔ ان پالیسیوں کے باعث بیروزگاری میں اضافہ ہوا ہے اور تجارتی و کاروباری سرگرمیاں بری طرح مندی کا شکار ہوئیں۔ اب تازہ تخمینوں میں کہا جا رہا ہے کہ یہی حالات رہے تو ہماری شرح نمو صفر سے بھی گر سکتی ہے۔

واضح رہے کہ اس وقت ملکی آبادی میں اضافے کی شرح لگ بھگ تین فیصد سالانہ ہے اور ملکی معاشی شرح نمو کا آبادی میں اضافے کی شرح سے بھی گرنا بہت تشویشناک اور لمحہ فکریہ ہے۔ جس کا سیدھا سادھا مطلب یہ ہے کہ آنے والے دنوں میں پاکستانی عوام کی اقتصادی حالت نہایت ابتر ہوگی اور نئی ملازمت پیدا ہونا دور کی بات ملک میں پہلے سے برسر ملازمت افراد بھی بڑے پیمانے پر اپنے روزگار سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔

ان حالات میں کاروباری سرگرمیاں جلد از جلد بحال کرنا ناگزیر ہے لیکن یہ کام تمام اسٹیک ہولڈرز کی منشاء و مشاورت کے بغیر ممکن ہو نہیں سکتا۔ وزیراعظم صاحب کی افتاد طبع مگر ایسی ہے کہ وہ سیاسی مخالفین سے مشاورت تو درکنار ہاتھ تک ملانا گوارا نہیں کرتے۔ مجبوراً اسی لیے اب اٹھارہویں ترمیم کے خاتمے کی باتیں شروع کی گئی ہیں۔ اچانک اب اسی لیے یاد آیا ہے کہ تمام وسائل صوبے لے جاتے ہیں اور وفاق کے پاس کچھ نہیں بچتا۔

کیونکہ اٹھارہویں ترمیم میں، آئین کے آرٹیکل 160 ( 3 ) (a) میں صراحت سے صوبوں کو یہ تحفظ دیا گیا تھا کہ ”قومی مالیاتی کمیشن کے ہر ایوارڈ میں صوبوں کا حصہ، اس حصے سے کم نہیں ہوگا جو صوبوں کو پچھلے ایوارڈ میں دیا گیا تھا۔“ اس ترمیم کے ناقدین کو زیادہ اعتراض اسی پر ہے کیونکہ یہ وفاق کو مجموعی وسائل میں اپنا حصہ بڑھانے کی اجازت نہیں دیتی۔ یہ درست ہے کہ وفاق کے حصے کی رقم کا بڑا حصہ دفاعی بجٹ کی مد میں جاتا ہے۔

دوسرا بڑا حصہ قرضے کی ادائیگی پر خرچ ہوتا ہے۔ لہذا وفاقی اخراجات پورے ہونے مشکل ہو جاتے ہیں اسی باعث واویلا ہوتا ہے۔ لیکن اٹھارہویں ترمیم کو کئی سال گزر چکے ہیں اس کے بعد بھی وفاقی حکومتیں اپنے اخراجات بخوبی پورے کرتی رہی ہیں۔ اب جو تنگی آئی ہے اس کی وجہ یہ ترمیم نہیں بلکہ خود وفاقی حکومت کی نا اہلی ہے کیونکہ پہلی بار ملکی تاریخ میں ایف بی آر نے گزشتہ سال کے مقابلے میں ریوینیو کم جمع کیا۔

وزیراعظم صاحب معاشی بدحالی سے واقعتاً پریشان ہیں تو اس نازک موقع پر انہیں دل بڑا کرتے ہوئے اتفاق رائے پیدا کرنا ہوگا۔ وفاقی حکومت یا کوئی اور قوت اگر سمجھتی ہے کہ آئین میں کوئی قباحت موجود ہے تو اسے رفع کرنے کے لیے بھی غیر مشروط اتفاق ضروری ہو گا۔ کسی دھونس دھمکی لالچ ترغیب اور تحریص کام کر بھی گئی تو غیر متناسب شرح آبادی اور وسائل رکھنے والی وفاقی اکائیوں کو باہم مربوط رکھنے کے لیے اس ترمیم کے ساتھ چھیڑ چھاڑ سنگین مضمرات کی حامل یا چھوٹی اکائیوں کے لیے تحفظات کا سبب بن سکتی ہے۔ وفاق کو اپنے اخراجات پورے کرنے کے لیے دیگر ذرائع مثلاً محاصل اور مجموعی قومی پیداوار میں اضافے کی سنجیدہ کاوش کرنی چاہیے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply