رینٹ اے تفتیش
شہر اقتدار میں ایک قتل ہو گیا تو تیس ہزار تنخواہ لینے والے پولیس تفتیشی کو جیب سے 20 ہزار لگا کر تفتیش شروع کرنا ہوتی ہے۔ شواہد لیبارٹری بھیجنے کے لئے پانچ ہزار جبکہ جائے وقعہ کا نقشہ بنوانے کے لئے پندرہ ہزار دینے ہوتے ہیں۔ آئی جی اسلام آباد کی رپورٹ اسلام آباد ہائیکورٹ نے پبلک کی جس میں یہ انکشاف سامنے آیا ہے۔ اور ستم یہ کہ ریاست کو یہ بات معلوم ہے لیکن اس کے باوجود اس تفتیشی کو اس کام کے لئے کوئی بجٹ نہیں دیا جاتا۔
خاموشی کا مطلب اگر رضامندی ہوتا ہے تو پھر یہ سمجھ لینا چائیے کہ ریاست پاکستان نے پولیس تفتیشی کو رضامندی دے رکھی ہے کہ وہ جیسے بھی چاہے یہ خرچہ پانی نکالے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ اپنے فیصلے میں بھی لکھ چکی کہ یہ بات اب کوئی راز نہیں کہ تفتیشی یہ خرچہ پانی مقتول کی فیملی سے ہی مانگتا ہے۔ یعنی کسی کا بیٹا قتل ہو گیا تو اپنے جگر گوشے کی لاش اٹھانے سے پہلے باپ کو بیس ہزار روپے تفتیشی افسر کو دینا ہوں گے ورنہ ریاست کا نظام رک جائے گا
وفاقی دارالحکومت میں فرانزک لیب نہ ہونے کے باعث ہر کیس میں تقریباً دو ماہ کی ابتدائی تاخیر ہوتی ہے جس سے کیس کی صحت پر شدید اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
لاہور لیب جانا، پھر دو، تین دن تک سٹے کرنا یہ سب کچھ تفتیشی جیب سے ادا کرنے کا پابند ہوتا ہے، اور حد تو یہ ہے کہ عام کیسز سے ہٹ کر اگر ہائی پروفائل واقعات دیکھیں تو صورتحال جوں کی توں ہے۔
ایف ایٹ کچہری دھماکے میں کئی افراد لقمہ اجل بنے تھے، اس کیس کی ابتدائی تفتیش اور فرانزک لیب کے چکروں میں ایک لاکھ سے زائد کی رقم بھی پولیس کو اپنی جیب سے ادا کرنی پڑی تھی۔
فرشتہ قتل کیس کا وزیر اعظم صاحب نے نوٹس تو لے لیا تھا، افسران فارغ بھی کئیے لیکن ادھر بھی تفتیش کے لئے پولیس کو بنیادی سہولیات دینے سے کنارہ کشی کی گئی پولیس کو خود سے تمام معاملات پورے کرنے کا حکم صادر فرمایا گیا۔
عوام الناس کی ضروریات کو سمجھنے سے ہزاروں میل دور حکمران جو اپنے مفادات کے لیے گھنٹوں میں آئینی ترامیم کر دیتے ہیں انہیں اس فرسودہ نظام سے کوئی سروکار نہیں۔
اس بانجھ نظام میں شواہد اکٹھا کرنے کے لیے جوڈیشل مجسٹریٹ، ملزم، گواہ، پراسیکیوٹر سمیت کئی فضولیات کا مجموعہ جمع کیا گیا ہے جس سے کیس کی طوالت کے سوا کچھ بھی حاصل نہیں ہوتا، پولیس اسٹیشن میں موجود گاڑی کو روز کا چند لیٹر فیول دے کر ان سے ہم کس طرح میرٹ کی امید لگا سکتے ہیں۔
پرائیویٹ پلازوں میں موجود مقامی عدالتیں دیکھ کر ہی انسان کا اس نظام سے اعتبار اٹھ جاتا ہے اور رہی سہی کسر بھاری بھر کم فیسوں والے وکلا نکال دیتے ہیں۔
سچ تو یہ ہے کہ امیر کو چوری سے روکنے والے قانون کی ترمیموں پر ترمیمیں جاری ہیں جبکہ غریب کو انصاف دینے والا پینل کوڈ آج بھی 1905 والا ہے۔
رینٹ اے تفتیش بھی فرسودہ نظام کا وہ بد نما دھبہ ہے جس کی جڑوں میں تیزاب پھینکنے کے علاوہ کوئی آپشن باقی نہیں رہا۔
قاتل نے کس صفائی سے دھوئی ہے آستین
اس کو خبر نہیں کہ لہو بولتا بھی ہے


