چند روز قبل وزیر داخلہ شہر یارآفریدی نے وفاقی دارالحکومت کے مختلف تعلیمی اداروں میں منشیات کے مکروہ دھندے کے بارے میں ہوش ربا انکشافات کیے تو میڈیا میں انہیں شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور ان کے بتائے گئے اعداد و شمار کو مبالغہ آرائی کہا گیا۔ منشیات کی لعنت صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں انتہائی تیزی سے پھیلتی جا رہی ہے۔ لیکن کیا ملک کے دارالحکومت میں منشیات کا حصول اتنا ہی آسان ہے اور تعلیمی درسگاہوں تک ان جرائم پیشہ عناصر کی دسترس کیسے ہوتی ہے۔
ملک کی سب سے بڑی درس گاہ قائد اعظم یونیورسٹی منشیات فروشوں کا سب سے بڑا ٹھکانہ سمجھی جاتی ہے، یونیورسٹی کے گیٹ سے لے کر اس کے ہاسٹلز تک شراب، آئس اور ہر طرح کا نشہ باآسانی دستیاب ہوتا ہے اور اگر شام کے وقت یہاں جائیں تو آپ یونیورسٹی کے اندر گلی کے نکڑوں پر شراب کی بکھری ہوئی بوتلیں پائیں گے۔ جامعہ میں طالب علم کھلے عام چرس و آئس کا ستعمال کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ سوال یہ اٹھتا ہے کہ آخر یہ منشیات آتی کہاں سے ہیں اور کئی ناکوں سے گزر کے ریڈ زون عبور کرتے ہوئے منشیات فروش پہنچتی کیسے ہیں۔
Read more