ایف آئی آر ہماری مرضی کی ورنہ صلاح الدین بنا دیں گے

یہ اسی تھانے کے سامنے کی روڈ تھی جہاں آج سے چند ماہ قبل زیادتی کے بعد بے دردی سے قتل کی جانیوالی معصوم فرشتہ کے والدین کئی روز ایف آئی آر کی بھیک مانگتے رہے تھے اور ایس ایچ او صاحب ان کی معصومیت و عزت کا مزید کھلواڑ کرتے رہے۔

اسی روڈ پر محمد علی، جس نے قسطوں پر بائیک اس لئے لیا تھا کیونکہ گھر میں آخری سانسیں لیتی ماں کی نجانے کب طبعیت بگڑ جائے کچھ معلوم نہیں تھا، غربت اس بات کی ہر گز اجازت نہیں دیتی تھی کہ گاڑی پر ماں کو ہسپتال لے جاتا لہذا بائیک ماں کی اٹکتی سانسوں کی جلد بحالی کے لئے اسپتال پہنچانے کا واحد آسرا تھی۔

Read more

روٹی بندہ کھا جاندی اے

یہ سات سال کا بچہ تھا جسے غریب والدین نے اس کے حصے کی روٹی بچانے کے لئے مقامی مدرسے میں داخل کروایا تھا۔ اس نو عمری میں اس اسے بھوک تھی تو فقط ایک روٹی کی، داخلے کے وقت وہ خوش تھا کیونکہ دل میں ایک آس تھی کہ شاید ایک وقت کی پوری…

Read more

پولیس اہلکار یا روبوٹ

چند روز قبل ائی جے پی روڈ پر لگے اسکینر سے گزرا، پولیس والے حسب معمول چیکنگ کر رہے تھے، پانچ سات منٹ تک آئی ٹین ہی پہنچا تھا کہ دہشتگردوں کے حملہ کی اطلاع ملی، فوری طور پر وہاں پہنچا۔ دو اہلکار موقع پر شہید ہو چکے تھے، سفاک درندوں نے سروس روڈ سے آ کر اندھا دھند گولیاں برسائیں۔

Read more

بینظیر بھٹو اسپتال راولپنڈی: اسٹریچر دو

یہ بالکل وہی دن تھا جب ٹی وی اور سوشل میڈیا پر حکومتی عہدیدران اپنی ایک سالہ کارکردگی کا جشن منا رہے تھے، ہر طرف ہریالی و شادابی کے شادیانے بج رہے تھے، گزشتہ ادوار پر لعن طعن جاری تھی سیاسی وفاداریوں میں دھنسا بے سمت ہجوم خوب واہ واہ کر رہا تھا۔ اسی ہجوم…

Read more

بد تہذیبیاں

کافی نمازیں قضا ہونے کے بعد غلطی کا احساس ہوا تو ایف ٹین کی ایک مسجد کا رخ کیا جیسے ہی وضو کے لئے بیٹھا تو ”خاں خاں اور زو زو“ کی آوازوں نے استقبال کیا، اپنے ارد گرد نظر دوڑائی تو دوسرا تیسرا بندہ اسی کیفیت میں مبتلا پایا۔ اسی اثنا میں کچھ لوگوں…

Read more

میڈیا ورکر کے مسائل

ادھر دھماکے کی اطلاع ملی ادھر ایڈیٹر صاحب نے ٹیم کو جھٹ پٹ پہنچنے کے احکامات صادر فرما دیے، پولیس، 1122، سیکورٹی اداروں سے اکثر اوقات پہلے نہتے میڈیا ورکرز قوم کو باخبر رکھنے یا اپنی نوکری بچانے کے لئے گولیوں کی تڑتڑاہٹ کو چھیرتے ہوئے فرنٹ لائن پر پہنچتے ہیں، ایک کی دیکھا دیکھی…

Read more

پمز: ایک اسپتال یا مذبح خانہ

وفاقی دارالحکومت کا سب سے بڑا سرکاری ہسپتال پمز جہاں خیبر پختونخواہ، اندرون پنجاب کے دور دراز علاقوں سے حصول شفا کے لئے لوگ جوق در جوق آتے ہیں۔ پاکستان انسٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز جسے عرف عام میں کمپلیکس بھی کہا جاتا ہے یہاں پہنچنے کے بعد ایک نئی دنیا آپ کا انتظار کر رہی…

Read more

پولیس اتنا آسان ہدف کیوں؟

ہمیں جانتے نہیں ہو، دیکھ لیں گے تمیں یہ تمارے افسران ہم سے رشوت لیتے ہیں، یہ چند وہ شہرہ آفاق جملے ہیں جو کہ پولیس اہلکاروں کو ہر گلی کوچے، نکر پر سننا پڑتے ہیں۔ آخر وجوہات کیا ہیں؟ کیا پولیس اتنی ہی بری ہے؟ سردی، گرمی، بارش میں ہمہ وقت شہریوں کے لئے دستیاب وردی میں ملبوث انسان اٹھارہ اٹھارہ گھنٹے ڈیوٹی کرنے کے بعد ذہنی طور پر مفلوج ہو چکا ہوتا ہے لیکن ہم اسے انسان ماننے کے لئے کسی بھی طور تیار نہیں ہیں۔

Read more

ایس پی طاہر خان داوڑ کا قتل اور حکومت کی غیر سنجیدگی

27 اکتوبر کی شام چار بجے کسی کام سے جی الیون مرکز میں واقع تھانہ رمنا ابھی جا کے بیٹھا ہی تھا کہ ایک پچاس سالہ شخص پریشانی کے عالم میں رپورٹنگ روم میں آیا اور ڈیوٹی پر موجود افسر کو بتانے لگا کہ اس کا بھائی چوبیس گھنٹوں سے لاپتہ ہے، جب میں نے اس شخص سے پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ وہ پشاور پولیس رورل زون کے ایس پی طاہر خان داوڑ کی گمشدگی کی رپورٹ کرنے آئے ہیں۔ اس وقت کے ایس ایس پی آپریشن سید امین بخاری گمشدہ ایس پی کے گھر پہنچے اور تسلی دی۔

میں وہیں سے طاہر خان داوڑ کے جی ٹین میں واقع گھر پہنچا جہاں پر ان کے باورچی اور گارڈز موجود تھے۔ معلوم ہوا کہ دو روز قبل طاہر خان اپنے باورچی کو مٹن بنانے اور دس منٹ میں واپس آنے کا کہہ کر نکلے تھے۔

Read more

اسلام آباد کے طلبہ و طالبات کے لئے منشیات کا حصول مشکل یا آسان؟

چند روز قبل وزیر داخلہ شہر یارآفریدی نے وفاقی دارالحکومت کے مختلف تعلیمی اداروں میں منشیات کے مکروہ دھندے کے بارے میں ہوش ربا انکشافات کیے تو میڈیا میں انہیں شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور ان کے بتائے گئے اعداد و شمار کو مبالغہ آرائی کہا گیا۔ منشیات کی لعنت صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں انتہائی تیزی سے پھیلتی جا رہی ہے۔ لیکن کیا ملک کے دارالحکومت میں منشیات کا حصول اتنا ہی آسان ہے اور تعلیمی درسگاہوں تک ان جرائم پیشہ عناصر کی دسترس کیسے ہوتی ہے۔

ملک کی سب سے بڑی درس گاہ قائد اعظم یونیورسٹی منشیات فروشوں کا سب سے بڑا ٹھکانہ سمجھی جاتی ہے، یونیورسٹی کے گیٹ سے لے کر اس کے ہاسٹلز تک شراب، آئس اور ہر طرح کا نشہ باآسانی دستیاب ہوتا ہے اور اگر شام کے وقت یہاں جائیں تو آپ یونیورسٹی کے اندر گلی کے نکڑوں پر شراب کی بکھری ہوئی بوتلیں پائیں گے۔ جامعہ میں طالب علم کھلے عام چرس و آئس کا ستعمال کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ سوال یہ اٹھتا ہے کہ آخر یہ منشیات آتی کہاں سے ہیں اور کئی ناکوں سے گزر کے ریڈ زون عبور کرتے ہوئے منشیات فروش پہنچتی کیسے ہیں۔

Read more