مساج سنٹر اور بھتہ خور صحافی

” جانتے نہیں ہو ہمیں، ڈھائی لاکھ روپے کا کل تک بندوبست کرو ورنہ تمارا حال بد حال کر دیں گے، ایس پی، ڈی سی اور ایس ایچ او کا بھی حصہ ہے اس میں“ اگر آپ اسے سلطان راہی کی کسی پر تشدد فلم کا ڈائیلاگ سمجھ رہے ہیں تو یقیناً یہ آپ کی معصومیت ہے کیونکہ یہ سب کچھ غنڈا نما نام نہاد صحافی حضرات ایک مساج سنٹر کی ویڈیو بنا کے اسے دھمکا رہے تھے، ایسے واقعات

Read more

میڈیائی بابوں کا براہ راست پوسٹ مارٹم

چند ماہ قبل میڈیا کے چند انتہائی اندرونی مسائل کو کھول کر بیان کرنے کی جسارت کی تھی جسے کافی دوستوں کی طرف سے سراہا گیا آج اسی سلسلے کی دوسری کڑی پیش خدمت ہے۔ دوستوں اس فیلڈ میں کئی ایسے لوگ آپ کو ملیں گے جنہوں نے کام ایک سال کیا ہو گا لیکن بالوں کے سفید ہونے تک پچیس تیس سال کو اس ایک برس سے ضربیں دے کر اپنے آپ کو سینئیر کہلوانا پسند فرماتے ہیں۔ یہ

Read more

اسلام آباد کی سیسیلین مافیا

قانون بھی کیا خوب دلچسپ حرکات کا مجموعہ ہے جو کمزور پر چڑھائی کے لیے ہمیشہ سینے کو دو فٹ آگے نکال کے رکھتا ہے جبکہ طاقتور کے لیے بہترین کمانڈو کی طرح محافظ بن کے کھڑا ہو جاتا ہے۔ یہاں روز ہر گلی کوچے میں آپ کا سامنا ایسے ہزاروں مافیاز سے ہو جاتا ہے۔ شہر اقتدار کے ایک تھانے کا منظر پیش خدمت ہے جہاں بڑے افسران کی کالز سے کمزور ٹیلی فون سیٹ تھانے کے در و دیوار کو ہلا رہا تھا، پولیس اسٹیشن مقامی سیسیلین مافیا کے غضب کا شکار ہونے والا تھا۔

یہ ان دنوں کی بات ہے جب کرونا نے پہلی بار شہر اقتدار پر حملہ آور ہونے کی جسارت کی تھی اور ایس او پیز کے نام پہ تمام چھوٹے دکانداروں کو قانون اپنی ہیبت ناک شکل دکھاتا تھا، وہیں ایک سر پھرے پولیس اہلکار نے شہر کے ایک بڑے شاپنگ سنٹر کو بھی ایس او پی کی خلاف ورزی پر وارننگ دینے کی جسارت کر ڈالی۔

Read more

اسلام آباد کے مائی باپ

آج کل شہر اقتدارکالے شیشے والی لینڈ کروزر ہمراہ ڈبل کیبن ویگو کے قبضہ میں لپٹ چکا ہے، شام کے اوقات میں ایف سکس، سیون، ٹین، الیون اور بحریہ ٹاؤن میں یہ رئیس زادے ٹولیوں کی شکل میں ریسلنگ کھیلنے کے انداز سے نکلتے ہیں، ان کے پاس فولادی مکے، لوہے کے راڈز سے لے کر آتشی اسلحہ تک سب تھوک کے حساب سے دستیاب ہوتا ہے، شہر کی شاہرائیں اور سیف سٹی پراجیکٹ ان کی دادا گیری کا چشم

Read more

حمزہ شفقات کی وائرلیس ایڈمنسٹریشن

شہاب نامہ پڑھتے ہوئے میں سوچا کرتا تھا کیا اس طرح کا ڈپٹی کمشنر سچ میں بھی ہو سکتا ہے؟ کیا آج کے دور میں بیوروکریسی میں ایسا شخص سما سکتا ہے۔ پھر ایک دن مجھے اپنے سوالوں کا جواب اس وقت ملا جب میں خود ڈپٹی کمشنر کے دفتر میں بیٹھا تھا۔ ایک اسی سالہ بزرگ گرجدار آواز میں غصہ نکالتے ڈی سی کے کمرے میں پہنچ چکے تھے۔ ڈی سی سامنے یوں سہمے خاموش بیٹھے تھے جیسے ان

Read more

درس گاہیں: بچوں کی حوصلہ شکنی کے غیر حساس ادارے

باپ سے کہو رکشہ لے دیں، یہ پڑھنا لکھنا تمارے بس کا کھیل نہیں؛ نصاب سے تھوڑا ہٹ کے سوال کرنے پر ماسٹر صاحب سیخ پا ہو چکے تھے، یہ سننا روز کا معمول تھا۔ جو سوال کرتا اسے اینکرنگ یا سیاست جوائن کرنے کا مفت مشورہ دے دیا جاتا۔ یہ کہانی ہر متوسط طبقے کے طالبعلم کو جھیلنی پڑتی ہے اور ہمارے معاشرے میں یہ بے موسمی پھل کی طرح وافر مقدار میں ہر کلاس روم میں منڈ لا

Read more

چوہدری بننے کے لیے سی ایس ایس کا امتحان کیوں؟

اربوں کی پراپرٹی رکھنے والے شہر کے بڑے بزنس مین کا فرزند کروڑوں کے پراجیکٹس کی نگرانی کے لیے فرفر کرتی مہنگی ترین گاڑی میں جاتا جو کہ شہر میں شاید چند ایک لوگوں کے پاس ہی ہو گی۔ گھر سے نکلتے ہی قریبی چیک پوسٹ پر کئی دن پرانی ان دھلی یونیفارم پہنے پولیس اہلکار گاڑی پر ایسا جھپٹتا ہے کہ پھر پلٹنے کی توفیق بھی نہیں رہتی۔ گاڑی کے کاغذ، آئی ڈی کارڈ اور اس کا بس چلے

Read more

کرائم رپورٹر یا مجرم صحافی؟

نیا نیا اس فیلڈ میں آیا تو ساتھ ہی کرائم کی بیٹ ٹکر گئی صبح سے شام تک ٹی سی ایس والے سے زیادہ چکر تھانوں اور پولیس افسران کے دفاتر جاتا رہا، کبھی کسی سینئر سے ملاقات ہو جاتی، ہر کوئی اپنا مشورہ دینا فرض عین سمجھتا رہا جو مجھے نصیحت سے زیادہ اپنے ایک سال کے تجربہ کی تیسویں برسی مناتے ہوئے اسے تیس سالا تجربہ ثابت کرنے پر مصر تھے نئے نئے بچے کو کرائم کی بیٹ

Read more

خود فریبی کے کنویں سے براہ راست

فطرت نے تمام انسانوں کو جسمانی طور پر تو ایک جیسا بنایا ہے لیکن ذہنی و شعوری اعتبار سے سبھی اپنی الگ پہچان رکھتے ہیں۔

انسان کا رہن سہن، اس کا سماج، عمومی رویے اور وہ مخصوص لوگ جن کے ساتھ وہ زیادہ وقت گزارتا ہے ان کی جھلک اس کی شخصیت سے عیاں ہوتی ہے۔

Read more

رینٹ اے تفتیش

شہر اقتدار میں ایک قتل ہو گیا تو تیس ہزار تنخواہ لینے والے پولیس تفتیشی کو جیب سے 20 ہزار لگا کر تفتیش شروع کرنا ہوتی ہے۔ شواہد لیبارٹری بھیجنے کے لئے پانچ ہزار جبکہ جائے وقعہ کا نقشہ بنوانے کے لئے پندرہ ہزار دینے ہوتے ہیں۔ آئی جی اسلام آباد کی رپورٹ اسلام آباد ہائیکورٹ نے پبلک کی جس میں یہ انکشاف سامنے آیا ہے۔ اور ستم یہ کہ ریاست کو یہ بات معلوم ہے لیکن اس کے باوجود اس تفتیشی کو اس کام کے لئے کوئی بجٹ نہیں دیا جاتا۔

Read more

امیر شہر کے نام

کئی روز سے ایک بڑھیا اپنے سات سالہ بچے کو بیل گاڑی پر لاد کر اسپتال سے چند دوائیں لے کر واپس چلی جاتی۔ باآخر کئی ہفتوں بعد خاتون بچے کو ایڈمٹ کروانے میں کامیاب ہوتی ہے اور یہ یقیناً اس کے لئے کسی بڑے معرکے کو سر کرنے سے کم نہیں تھا، وجہ پوچھنے پرجواب ملتا ہے کہ آخری عمر میں ہونے والے اس اکلوتے بیٹے کی تکلیف برداشت نہیں ہوتی، ڈاکٹر صاحب نے آپریشن کے لئے سات ہزار

Read more

میڈیا انڈسٹری کا براہ راست پوسٹ مارٹم

تنخواہ آ جائے گی دو چار ماہ بعد، اور کیا چایئے۔ عمرہ بھی کروائیں گے، یہ کرونا مرونا کچھ نہیں ہوتا کام کرو شاباش آئسولیشن سنٹر سے اندر کی خبر لاؤ۔ چوبیس چوبیس گھنٹے کام کرنے والے مشقتی صحافیوں کو اکثر نیوز روم سے ایسی ہی گفتگو سننا پڑتی ہے اور ستم تو یہ کہ مصنوعی مسکراہٹ ہی سہی لیکن باس کے سامنے دانت نکال کر اس کی ہاں میں ہاں ملانا نوکری کا لازمی جزو ہے۔ اگر آپ میڈیا

Read more

دو ٹکے کی صحافت!

زندگی میں جنون کی حد تک پیارے شعبہ صحافت کے بارے میں ایسے الفاظ یقینا میری زندگی کے مشکل ترین لمحات میں سے ایک ہیں۔ بہت عرصے سے شدید کرب و اذیت میں مبتلا ہوں، لوگوں کی ایسی ایسی باتیں سننا پڑتی ہیں کہ جومیرے ضمیر کو نا صرف جھنجھوڑتی ہیں بلکہ سر جھکانے پر مجبور کرتے ہوئے صحافت کو دو ٹکے کی مار ماننے پر مجبور کر دیتی ہیں۔ میں ناجائز فروشوں کی بات کروں تو مجھے اپنی ہی

Read more

ایف آئی آر ہماری مرضی کی ورنہ صلاح الدین بنا دیں گے

یہ اسی تھانے کے سامنے کی روڈ تھی جہاں آج سے چند ماہ قبل زیادتی کے بعد بے دردی سے قتل کی جانیوالی معصوم فرشتہ کے والدین کئی روز ایف آئی آر کی بھیک مانگتے رہے تھے اور ایس ایچ او صاحب ان کی معصومیت و عزت کا مزید کھلواڑ کرتے رہے۔

اسی روڈ پر محمد علی، جس نے قسطوں پر بائیک اس لئے لیا تھا کیونکہ گھر میں آخری سانسیں لیتی ماں کی نجانے کب طبعیت بگڑ جائے کچھ معلوم نہیں تھا، غربت اس بات کی ہر گز اجازت نہیں دیتی تھی کہ گاڑی پر ماں کو ہسپتال لے جاتا لہذا بائیک ماں کی اٹکتی سانسوں کی جلد بحالی کے لئے اسپتال پہنچانے کا واحد آسرا تھی۔

Read more

روٹی بندہ کھا جاندی اے

یہ سات سال کا بچہ تھا جسے غریب والدین نے اس کے حصے کی روٹی بچانے کے لئے مقامی مدرسے میں داخل کروایا تھا۔ اس نو عمری میں اس اسے بھوک تھی تو فقط ایک روٹی کی، داخلے کے وقت وہ خوش تھا کیونکہ دل میں ایک آس تھی کہ شاید ایک وقت کی پوری روٹی مل سکے، لیکن جب غربت ناچتی ہے تو اس کی چال میں بھی وحشت عیاں ہوتی ہے۔ یہاں اس کی روٹی کو بھی کام

Read more

پولیس اہلکار یا روبوٹ

چند روز قبل ائی جے پی روڈ پر لگے اسکینر سے گزرا، پولیس والے حسب معمول چیکنگ کر رہے تھے، پانچ سات منٹ تک آئی ٹین ہی پہنچا تھا کہ دہشتگردوں کے حملہ کی اطلاع ملی، فوری طور پر وہاں پہنچا۔ دو اہلکار موقع پر شہید ہو چکے تھے، سفاک درندوں نے سروس روڈ سے آ کر اندھا دھند گولیاں برسائیں۔

Read more

بینظیر بھٹو اسپتال راولپنڈی: اسٹریچر دو

یہ بالکل وہی دن تھا جب ٹی وی اور سوشل میڈیا پر حکومتی عہدیدران اپنی ایک سالہ کارکردگی کا جشن منا رہے تھے، ہر طرف ہریالی و شادابی کے شادیانے بج رہے تھے، گزشتہ ادوار پر لعن طعن جاری تھی سیاسی وفاداریوں میں دھنسا بے سمت ہجوم خوب واہ واہ کر رہا تھا۔ اسی ہجوم میں شامل ایک مریض کی عیادت کرنے راولپنڈٰی کے سب سے بڑے سرکاری اسپتال بینظیر بھٹو پہنچا. مریضوں کا جم غفیر تھا افرتفری کا عالم

Read more

بد تہذیبیاں

کافی نمازیں قضا ہونے کے بعد غلطی کا احساس ہوا تو ایف ٹین کی ایک مسجد کا رخ کیا جیسے ہی وضو کے لئے بیٹھا تو ”خاں خاں اور زو زو“ کی آوازوں نے استقبال کیا، اپنے ارد گرد نظر دوڑائی تو دوسرا تیسرا بندہ اسی کیفیت میں مبتلا پایا۔ اسی اثنا میں کچھ لوگوں نے یہ حرکت دیکھ کر بجائے وضو کر کے نماز پڑھنے کے مسجد سے باہر نکلنے میں عافیت جانی۔ جی ہاں یہ آوازیں تھیں ناک

Read more

میڈیا ورکر کے مسائل

ادھر دھماکے کی اطلاع ملی ادھر ایڈیٹر صاحب نے ٹیم کو جھٹ پٹ پہنچنے کے احکامات صادر فرما دیے، پولیس، 1122، سیکورٹی اداروں سے اکثر اوقات پہلے نہتے میڈیا ورکرز قوم کو باخبر رکھنے یا اپنی نوکری بچانے کے لئے گولیوں کی تڑتڑاہٹ کو چھیرتے ہوئے فرنٹ لائن پر پہنچتے ہیں، ایک کی دیکھا دیکھی میں دوسرے چینلز بھی اپنے ورکرز کو بڑے سے مانیٹرنگ ہال سے حکم صادر فرما رہے ہوتے کہ اس اینگل سے فٹیج دو اور بہت

Read more

پمز: ایک اسپتال یا مذبح خانہ

وفاقی دارالحکومت کا سب سے بڑا سرکاری ہسپتال پمز جہاں خیبر پختونخواہ، اندرون پنجاب کے دور دراز علاقوں سے حصول شفا کے لئے لوگ جوق در جوق آتے ہیں۔ پاکستان انسٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز جسے عرف عام میں کمپلیکس بھی کہا جاتا ہے یہاں پہنچنے کے بعد ایک نئی دنیا آپ کا انتظار کر رہی ہوتی ہے، او پی ڈی یا ایمرجنسی کی پرچی بنوانے سے لے کر مریض کو ایڈمٹ کروانے تک یہاں ہر ایک قدم پہ آپ کی

Read more

پولیس اتنا آسان ہدف کیوں؟

ہمیں جانتے نہیں ہو، دیکھ لیں گے تمیں یہ تمارے افسران ہم سے رشوت لیتے ہیں، یہ چند وہ شہرہ آفاق جملے ہیں جو کہ پولیس اہلکاروں کو ہر گلی کوچے، نکر پر سننا پڑتے ہیں۔ آخر وجوہات کیا ہیں؟ کیا پولیس اتنی ہی بری ہے؟ سردی، گرمی، بارش میں ہمہ وقت شہریوں کے لئے دستیاب وردی میں ملبوث انسان اٹھارہ اٹھارہ گھنٹے ڈیوٹی کرنے کے بعد ذہنی طور پر مفلوج ہو چکا ہوتا ہے لیکن ہم اسے انسان ماننے کے لئے کسی بھی طور تیار نہیں ہیں۔

Read more

ایس پی طاہر خان داوڑ کا قتل اور حکومت کی غیر سنجیدگی

27 اکتوبر کی شام چار بجے کسی کام سے جی الیون مرکز میں واقع تھانہ رمنا ابھی جا کے بیٹھا ہی تھا کہ ایک پچاس سالہ شخص پریشانی کے عالم میں رپورٹنگ روم میں آیا اور ڈیوٹی پر موجود افسر کو بتانے لگا کہ اس کا بھائی چوبیس گھنٹوں سے لاپتہ ہے، جب میں نے اس شخص سے پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ وہ پشاور پولیس رورل زون کے ایس پی طاہر خان داوڑ کی گمشدگی کی رپورٹ کرنے آئے ہیں۔ اس وقت کے ایس ایس پی آپریشن سید امین بخاری گمشدہ ایس پی کے گھر پہنچے اور تسلی دی۔

میں وہیں سے طاہر خان داوڑ کے جی ٹین میں واقع گھر پہنچا جہاں پر ان کے باورچی اور گارڈز موجود تھے۔ معلوم ہوا کہ دو روز قبل طاہر خان اپنے باورچی کو مٹن بنانے اور دس منٹ میں واپس آنے کا کہہ کر نکلے تھے۔

Read more

اسلام آباد کے طلبہ و طالبات کے لئے منشیات کا حصول مشکل یا آسان؟

چند روز قبل وزیر داخلہ شہر یارآفریدی نے وفاقی دارالحکومت کے مختلف تعلیمی اداروں میں منشیات کے مکروہ دھندے کے بارے میں ہوش ربا انکشافات کیے تو میڈیا میں انہیں شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور ان کے بتائے گئے اعداد و شمار کو مبالغہ آرائی کہا گیا۔ منشیات کی لعنت صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں انتہائی تیزی سے پھیلتی جا رہی ہے۔ لیکن کیا ملک کے دارالحکومت میں منشیات کا حصول اتنا ہی آسان ہے اور تعلیمی درسگاہوں تک ان جرائم پیشہ عناصر کی دسترس کیسے ہوتی ہے۔

ملک کی سب سے بڑی درس گاہ قائد اعظم یونیورسٹی منشیات فروشوں کا سب سے بڑا ٹھکانہ سمجھی جاتی ہے، یونیورسٹی کے گیٹ سے لے کر اس کے ہاسٹلز تک شراب، آئس اور ہر طرح کا نشہ باآسانی دستیاب ہوتا ہے اور اگر شام کے وقت یہاں جائیں تو آپ یونیورسٹی کے اندر گلی کے نکڑوں پر شراب کی بکھری ہوئی بوتلیں پائیں گے۔ جامعہ میں طالب علم کھلے عام چرس و آئس کا ستعمال کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ سوال یہ اٹھتا ہے کہ آخر یہ منشیات آتی کہاں سے ہیں اور کئی ناکوں سے گزر کے ریڈ زون عبور کرتے ہوئے منشیات فروش پہنچتی کیسے ہیں۔

Read more