زندگی دے کے مارا گیا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کرونا وائرس کی وبا نے دنیا کا رخ موڑ دیا ہے۔ اس وبا کے اثرات زندگی کے ہر شعبے پر مرتب ہوئے ہیں۔ وبا سے نمٹنے کے لیے ہونے والے لاک ڈاؤن کی وجہ سے پہلے سے لڑکھڑاتی عالمی معیشت ایک مزید گہرے بحران کی جانب تیزی سے گامزن ہے۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں اس وبا کے معاشی اثرات بہت گہرے پڑے ہیں، اس تحریر میں ہم پاکستان میں موجودہ وبا سے ہونے والے معاشی اثرات کا جائزہ لیں گے اور ان سے جنم لینے والے ممکنہ سماجی حالات کا تجزیہ اور غریبوں پر اس بحران کے اثرات بھی پیش کریں گے۔

پاکستان کی معیشت زیادہ تر عالمی تجارت اور ترسیلات زرپر منحصر ہے۔ ان دونوں شعبوں پرموجودہ بحران نے شدید منفی اثرات ڈالے ہیں۔ پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈیولیپمینٹ اکنا مکس کی حالیہ رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ پاکستان کا تجارتی خسارہ 4 ارب ڈالر سے زیادہ ہو چکا ہے یعنی برآمدات میں درآمدات کی نسبت کمی واقع ہوئی ہے۔ اس رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ پاکستانی کی مجموعی ملکی پیدوارا میں 4.64 فیصد کمی ہو چکی ہے۔

انٹر نیشنل لیبر آرگنائزیشن کی حالیہ رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں 3 ارب 30 کروڑ افراد کا انحصار غیر رسمی معیشت پر ہے جن میں سے 1 ارب 60 کروڑ محنت کشوں کی ملازمتیں موجودہ بحران کی وجہ سے خطرے میں ہیں۔ اس شعبے میں کام کرنے والے محنت کشوں کی آمدن میں 60 فیصد کمی ہو چکی ہے۔ پاکستان کے لیبر فورس سروے 2008۔ 09 کے مطابق ملک بھر میں 73.3 فیصد لیبر فورس کو غیر رسمی معیشت روزگار مہیا کرتی ہے۔ اور یہی وہ شعبہ ہے جو موجودہ بحران سے سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔

انٹر نیشنل لیبر آرگنائزیشن کی رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ کرونا وائرس کی وجہ سے سب سے زیادہ نقصان مینوفیکچرنگ، ہوٹل اورریستوران، ہول سیل اور ریٹیل ٹریڈ، رئیل اسٹیٹ اور کاروباری سرگرمیوں کو ہوا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس بحران میں مختلف شعبوں پر مختلف طرح کے اثرات دیکھنے میں آئے ہیں جیسے کاسمیٹکس، کھیلوں کے سامان، جوتوں و کپڑوں، ٹیکسٹائل، کراکری اور دیگر اس جیسے نچلے اور درمیانے درجے کے صنعتیں یا کاروبار بھی ختم ہو سکتے ہیں۔ کیونکہ ان اشیا کی طلب میں کمی واقع ہوئی ہے جس کے نتیجے میں اس شعبے سے تعلق رکھنے والے مزدوروں کو یا تو روزگار سے ہاتھ دھونے پڑے ہیں یا ان کو اجرتوں میں کمی کا سامنا ہے۔ ایسے میں ملک میں ہونے والے جرائم، گھریلوتشدد، قتل و غارت، فرقہ واریت، طلاقوں اور بربریت میں اضافہ ناگزیر ہو گا۔

کیا حکومت کا یہ حل قابل عمل ہے کہ لاک ڈاؤن میں نرمی کر کے عوام کو روزگار کرنے کا موقع فراہم کیا جائے تاکہ یہ غریب لوگ ہمارے سر سے تو ٹلیں؟ نہیں۔ معیشت کسی جذباتی نہیں بلکہ سائنسی اصولوں پر کارفرما ہوتی ہے۔ اس وقت لاک ڈاؤن ختم کرنے کے طرف جانا عوام میں موجود اضطراب کو ختم نہیں کر سکتا۔ یعنی اس وقت لوگ مخصوص مصنوعات ہی خریدنا چاہتے ہیں جو کہ انتہائی ضرورت کی اشیا ہوں۔ اکثریت کا یہ رجحان منڈی میں سست روی کو جنم دے سکتا ہے کہ جس سے بے روزگاری اور غربت میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

اسی طرح لاک ڈاؤن کے پیش نظر ٹیکس ریونیو میں کمی دیکھنے کو آئی ہے۔ اس کمی کو پورا کرنے کے لیے عالمی مالیاتی اداروں نے جو امدادی قرض فراہم کیے ہیں اس سے حکومت کو مالیاتی بحران سے عارضی طور پر آسرا مل گیا ہے۔ لیکن در حقیقت عوام پر پھر بھی معاشی حملے کیے جا رہے ہیں اور اس سرمائے سے ٹیکس چور سرمایہ داروں کی تجوریاں بھرنے کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے۔ جس کی وجہ سے بحران آنے والے سالوں میں مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔

اگلے سال سے قرضوں کی اقساط بھی دینی ہوں گی جس سے حکومت کو ایک بار پھر عالمی مالیاتی اداروں کی طرف سے مہنگائی میں اضافہ، نجکاری اور کٹوتیوں کی پالیسی لاگو جیسے اقدامات کے حوالے سے پریشر کا سامنا ہو گا۔ اس پریشر کو حکومتیں عموماً آگے عوام پر منتقل کر دیتی ہیں۔ معاشی بحرانات تحریکوں اور بغاوتوں کو جنم دے سکتے ہیں جیسا اس وقت لبنان میں ہو رہا ہے۔ لیکن تاریخ بتاتی ہے کہ بحرانات میں جرائم بھی بڑھ سکتے ہیں۔

ایک بات یقینی ہے کہ معاشی بحرانات خود میں بڑے بڑے طوفان سموئے ہوتے ہیں جس میں حکومتوں کا گرنا بھی ایک ہے۔ مگر ان بحرانات میں بہتر خیالات اور طریقہ کار سے مداخلت کرناحکومتوں کے علاوہ معیشت کو بھی مضبوط کر جاتا ہے۔ سال 2020 میں کرونا وائرس کے سبب جو شدید تر معاشی گراوٹ ہوئی ہے اس میں بہتری کا انحصار سال 2021 میں ہونے والے تیز تر عالمی و مقامی معیشتوں کی بحالی پر ہے۔

لاک ڈاؤن کھولنے جیسے اقدامات بھی شاید معیشت کو بحال کرنے کی صلاحیت سے محروم ہیں کیونکہ اس صحت اور غربت کے ملے جلے بحران میں لوگوں کی اکثریت انتہائی ضروری اشیا پر ہی اخراجات کرنا چاہتے ہیں۔ اس لئے کچھ کاروبار کھول کر صرف بڑے کاروباری افراد کو تو سہولت دی گئی ہے کہ ان کا منافع قائم رہے جبکہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری حضرات کے لیے سہولیات کا بھی فقدان ہے۔

موجودہ حکومت، ماضی کی حکومتوں کی طرح نیو لبرل اکنا مکس پر اپنی پالیسیاں بناتے آئے ہیں۔ مثال کے طور پر، پاکستان پیپلز پارٹی، پاکستان مسلم لیگ نجکاری اور کٹوتیوں کی پالسیوں پر گامزن رہی ہیں۔ آج تحریک انصاف کی حکومت بھی اسی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ نیو لبرل معیشت جو نجکاری، کٹوتیوں اور آزادانہ تجارت پر یقین رکھتی ہے، موجودہ بحران میں اس پر عمل پیرا ہونا عوام دشمنی کے مترادف ہو گا۔

حکومت تو کبھی لاک ڈاؤن کے فوائد تو کبھی اس کے نقصانات گنوا رہی ہے۔ جبکہ حال ہی میں اسد عمر نے انکشاف کیا ہے کہ کرونا وائرس کے بحران سے ملک بھر میں 7 کروڑ افراد غربت کے لکیر سے نیچے چلے جائیں گے جبکہ 1 کروڑ 80 لاگھ افراد روزگار سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔ حکومت کو غریبوں کی تعداد تو پتا ہے مگر پھر بھی امداری رقم صرف 1 کروڑ 20 لاکھ افراد کے لیے۔ یہاں حکومت سے سوال ہے کہ باقی غریب لوگوں کا کیا سوچا آپ نے؟ اب تو ہمارے ملک کے سیٹھ بھی تصویری امداد دے دے کر تھک چکے ہیں یا کچھ نے تو اب سوچ لیا ہے کہ ہم نے ٹھیکہ تھوڑی اٹھا رکھا ہے سب غریبوں کا۔ ہمارے سمجھدار سیٹھ شاید یہ بات ٹھیک ہی کہہ رہے ہیں کیونکہ یہ ٹھیکہ ریاست کے پاس ہی ہوتا ہے۔

ایسے معاشی حالات کی کوکھ سے جنم لینے والے سماجی حالات غیر انسانی معاشرہ بنا دیتے ہیں۔ صرف اس لاک ڈاؤن کے دوران اندوہناک واقعات سماج میں موجود ہیجان، تذبذب اور بربریت کا اشارہ دیتے ہیں۔ افراد ایک دوسرے سے ہاتھ ملانے سے گئے، اب دوستوں کی محفلیں بھی کم ہو گئی ہیں، کوئی کھیل بھی نہیں دیکھنے جا سکتے، کسی پارک میں نہیں جا سکتے، تعلیمی اداروں میں تھکا دینے والے چھٹیاں ہو چکی ہیں۔ ایسے میں ذہنی دباؤ میں اضافہ ہوا ہے جو معاشرے میں تشدد و قتل و غارت کو جنم دے گا۔

مثال کے طور پر، رحیم یار خان میں ایک باپ کے ہاتھوں اپنے ہی بچے کا قتل، 7 سالہ معصوم بچی کا شور کرنے پر اپنے ہی چچا کے ہاتھوں قتل، ایک بھائی کا شربت کم میٹھا بنانے پر بہن اور بھائی کا قتل، سندھ میں ایک حاملہ عورت کا بھوک سے مر جانا اور خودکشیوں کے واقعات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ یہ سماج اب انسانوں کے رہنے کے قابل نہیں رہا۔ گھریلوتشدد کے واقعات آخر ی تجزیے میں معاشی بدحالی کے پیش نظر وقوع پذیر ہوتے ہیں، ان واقعات میں بھی اضافہ رپورٹ ہوا ہے۔

بے روزگاری نے جرائم میں اضافہ کر دیا ہے۔ منڈی میں موجود ذخیرہ اندوزوں نے بھی اس صحت کی ایمرجنسی کو اپنے لیے ایک نعمت سمجھ لیا ہے کہ جس میں ان کی تجوریاں بھر رہی ہیں۔ غریب کے لیے اس بحران میں اس وقت دو ہی آپشن موجود ہیں جس میں لازم شرط مرنا ہی ہے، چاہے کرونا سے مرے یا بھوک سے۔ کسی شاعر نے شاید موجودہ عہد کے غریبوں کو سامنے رکھ کر لکھا ہو گا کہ

آسماں سے اتارا گیا
زندگی دے کے مارا گیا

Latest posts by بشریٰ ناز (see all)
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
بشریٰ ناز کی دیگر تحریریں

Leave a Reply