مولانا ضمیر اختر نقوی عرف ’یہ تو ہو گا‘

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

رہ رہ کے تاؤ آ رہا ہے اپنے آپ پہ!

تیس برس ہو گئے ڈاکٹر بنے، پچیس برس ہو گئے گائنی میں کام کرتے! دنیا کی مختلف یونیورسٹیوں سے سائنس میں ڈگریاں حاصل کر ڈالیں، ہزاروں مریضوں کا علاج کر لیا، لیکن پھر بھی ہم نالائق کے نالائق ہی ٹھہرے!

موئے انگریزوں کی کتابیں پڑھ پڑھ کے اپنے ہاں کا جوہر قابل ہمیں نظر ہی نہیں آیا کہ زانوئے تلمذ تہ کرتے اور علم کے کچھ نادر موتی چن لیتے۔  لیجیے ثابت ہو گیا نا کہ احساس کمتری کی ماری قوم کو اپنے دامن کا ہیرا پتھر ہی نظر آیا کرتا ہے۔

حاضر ہیں آپ کے لئے کچھ لولوئے گلفام،

“معذور بچوں سے بچنے کا طریقہ یہ ہے کہ حمل ٹھہرنے سے لے کر زچگی تک عورت شوہر کے علاوہ کسی بھی غیر مرد کو نہ دیکھے۔ بازاروں میں نہ جائے، مجمعے میں نہ جائے، غیر محرم کے پاس سے بھی نہ گزرے”

دیکھیے یہ سن کے تو ہمیں پچھتاوں نے آ گھیرا ہے، کیسی فاش غلطی ہوئی ہم سے۔ تین حمل ہوئے اور تینوں میں ہر دن گھر سے نکل کے نہ صرف ہسپتال نوکری پہ پہنچ جاتے بلکہ رستے میں آنے والے تمام غیر مردوں سے سلام دعا بھی کرتے جاتے۔  ہسپتال کے چوکیدار، وارڈ بوائے، ساتھی ڈاکٹرز، میڈیکل سپرنٹنڈنٹ، مریضوں کے لواحقین، پٹرول پمپ کے ملازم، صدر میں جوس کی دوکان والا، ہمارا ریسرچ اسسٹنٹ، کتابوں کی دوکان کے سیلز مین، درزی، اب کس کس کا نام گنوائیں۔  اور تو اور ہمارے گھر کے تو ملازم بھی مرد تھے،  بیٹ مین، مالی، خاکروب جن کے سر پہ ہمارا گھر چلتا تھا۔

اب ہم انتہائی سراسیمگی کے عالم میں حیدر میاں کے بازو اور ٹانگیں ٹٹول ٹٹول کے دیکھتے ہیں کہ خدا نخواستہ کوئی ٹیڑھا پن تو موجود نہیں۔  آنکھیں، ناک، کان اور دماغ کا معائنہ کروانا بھی مقصود ہے۔  دیکھیے نا مولانا ضمیر اختر نقوی کی سائنسی ریسرچ کو جھٹلانے کی تو ہم میں تاب نہیں۔  سو تشویش ہے کہ کہیں غیر مردوں کے چہرے دیکھنے کی بابت ہماری غفلت نے کچھ رنگ نہ دکھایا ہو۔  گھر میں فی الحال تو حیدر میاں دسترس میں ہیں سو انہی پہ زور چل رہا ہے۔ بیٹیوں سے بات ہو گی تو وڈیو کال پہ ان کو بھی غور سے دیکھنے اور نظروں میں ٹٹولنے کا ارادہ کر رکھا ہے۔

ان سب حرکات سے یہ ضرور ہوا ہے کہ حیدر میاں کو ہماری دماغی صحت پہ شک ہو چلا ہے۔  شبہ تو ہمیں بھی ہے کہ ماضی میں تو بچ نکلے لیکن زمانہ حال کے غیر مردوں کو دیکھنے سے شاید ہمارا دماغ چل چکا ہے۔ کبھی مولوی قوی، کبھی خلیل الرحمن قمر، کبھی مولانا طارق جمیل، کبھی مفتی منیب اور اگر تھوڑی کسر باقی تھی تو اب یہ حضرت ضمیر اختر نقوی!

“یہ سائنس کہہ رہی ہے کہ ماں اگر غیر مرد کو دیکھے گی تو اس کی ساری عادات و اطوار ریز (شعاعوں) کے ذریعے عورت کے اندر اتر جائیں گی، خباثتیں جو معاشرے میں ہیں، وہ بچے میں آ جائیں گی”

اللہ معاف کرے! یہ حیدر میاں جو ہر وقت میوزک سے الجھتے ہیں، ضرور ہمارے بے شمار میوزک کنسرٹس میں شرکت کرنے کا شاخسانہ ہے۔  ہم محو حیرت ہیں کہ کس کی خباثت کی شعاعیں ہم تک پہنچیں؟ ابرار الحق؟ نہیں وہ تو کچھ معصوم ہی دکھتے تھے۔  فاخر؟ نہیں بھئی ان کی بہن تو سہیلی تھیں ہماری۔  ہو نہ ہو یہ عارف لوہار ہوں گے، اللہ ان سے پوچھے۔

لیکن ایک بات ہماری سمجھ میں نہیں آئی کہ ہماری اماں تک کس کی خباثت پہنچی کہ ہم ایسے ہوئے۔  دادی سے کیسے سوال کریں کہ ابا جب بطن میں تھے تو وہ کہاں گھوما کرتی تھیں؟

اور سنیے

” اب سائنسی خبر سنیے! ایک گورے جوڑے کے ہاں کالا لڑکا پیدا ہو گیا۔ یہ میں سائنس کی بات بتا رہا ہوں۔  تو بھئی سب کو بڑی حیرانی ہوئی کہ گورے ماں باپ کے ہاں کالا یعنی نیگرو کیسے پیدا ہوا۔ جب ریسرچ کی گئی تو پتہ یہ چلا کہ ایک کیلنڈر پہ نیگرو کی تصویر ٹنگی ہوئی تھی اس کمرے میں جہاں ہونے والی ماں سوتی تھی۔  صبح جب وہ اٹھتی تھی تو اٹھتے ساتھ ہی وہ تصویر دیکھتی تھی تو اس کے اثرات کی وجہ سے بچہ کالا پیدا ہوا۔

لیجیے یہ خوشخبری نہ صرف آپ کے لئے بلکہ ان تمام بد نصیبوں کے لئے جو رنگ کی تفریق سے ہونے والی نا انصافیوں کا شکار ہیں۔  سو اگر آپ کو انجلینا جولی، بریڈ پٹ، کیٹ ونسلیٹ، لیونارڈو ڈی کیپریو یا کسی بھی اور جیسا بچہ چاہیے تو لٹکائیے ان سب کی تصویریں ارد گرد اور گھوریے دن رات۔  دیکھیے اب یہ خود ان سے پوچھ لیجیے کہ غیر مردوں کی تصویروں پہ بھی وہی کلیہ لاگو ہو گا کہ نہیں۔

ایک بات کی وضاحت درکار ہے کہ وہ سب کالی عورتیں جو مغرب میں سفید فاموں کے بیچ بستی ہیں، کیا ان کی آنکھوں پہ نو ماہ پٹی بندھی رہتی ہے، جو اگلی نسل پھر وہی نیگرو کی نیگرو… ارے معاف کیجیے گا، یہ لفظ اگر ہمارے بچوں نے سن لیا تو بگڑ جائیں گے۔ تین گھنٹے کا لیکچر تو کہیں نہیں گیا کہ کہ اماں، خدا کے لئے یہ لفظ نسلی تفاوت کی پہچان ہے اور اس لفظ کے استعمال پہ ہر ذی عقل اور ذی ہوش کو شرمندہ ہونا چاہیے۔  اب خدا کرے، بچے کہیں مولانا کی وڈیو نہ دیکھ لیں ورنہ ان کے اقوال زریں سمجھنے سے پہلے ہی بگڑ بیٹھیں گے۔

مولانا نے تصویر کے اثرات کے علاوہ بھی ترکیب بتائی ہے،

“گورا بچہ اگر چاہیے تو ماں کو چاہیے کہ حمل کے دوران ناریل خوب کھائے، ارے بھائی، یہ سب سائنس ہے”

لگتا ہے مولانا کو ہندوستان چھوڑے زمانے ہوگئے اور یادداشت میں کچھ بھول چوک ہوگئی۔  چلیے کوئی بات نہیں عمر کے بھی تو کچھ تقاضے ہوا کرتے ہیں۔  ہندوستان میں کیرالہ، گجرات، سورت اور کلکتہ میں رہنے والوں کا من بھاتا کھاجا ناریل ہے، ہر وقت اور ہر کھانے میں۔  اب اگر پھر بھی دور دور تک اجلی رنگت نظر نہیں آتی تو یقیناً ان کی نیت میں فتور ہو گا، مولانا کی کہی بات تو سائنس ثابت کر چکی۔  اب آپ اعتراض کرنے والے کون؟

“دیکھو ساعتیں مقرر کی گئی ہیں، جن میں اگر آپ دلہن کے پاس چلے جائیں تو بچہ گونگا پیدا ہو سکتا ہے، بہرا پیدا ہو سکتا ہے، بچے کے اعضا نامکمل رہ جائیں گے۔ اسی لئے ایسے بچے پیدا ہو رہے ہیں، کسی کا کان نہیں ہے، کسی کا اور کچھ نہیں ہے۔ اسی لئے جنسی عمل کا دن اور وقت مقرر کیا گیا ہے اللہ کی طرف سے”

ہمارا جی چاہتا ہے کہ امریکہ سے جان ہاپکنز یونیورسٹی والے آئیں اور مولانا کی گرانقدر خدمات حاصل کرکے اپنی درسی کتابوں کو مولانا کے علمی معیار کے مطابق ترتیب دیں۔  ان معلومات کو جنیٹکس کے سلیبس میں ڈال کے ہی نشاۃ ثانیہ کا دور شروع ہو گا۔

ارے ایک بات تو بھول گئے، جفتی کی یہ مبارک ساعت مولانا نے بتایا نہیں کہ قمری تقویم کے مطابق ہو گی یا فرنگیوں کی شمسی تقویم بروئے کار لائی جائے گی۔ خدا کرے کہ قمری حساب سے دو دلوں کے ملنے اور پھول کھلنے کی بشارت دی گئی ہو۔ پھر تو مفتی منیب مدظلہ کے عیش ہو جائیں گے۔ ابھی رمضان اور عید پر نخاس کا اہتمام ہوتا ہے۔ پھر ہر جوڑے کے لئے الگ سے رویت ہلال ہو گی۔ وہی رانی توپ جیسی دوربین سے۔ ہر شام ریڈیو پر “دو ستاروں کا زمیں پر ہے ملن آج کی رات” کی دھن چھیڑی جائے گی۔ اناؤنسر شرماتے لجاتے ہوئے اعلان کرے گی کہ کراچی کے رہنے والے اپنے مقامی وقت کے مطابق علامہ ضمیر اختر نقوی سے رجوع فرمائیں۔ واللہ ہمارا دیس پھولوں کی نگری بن جائے گا

ہمیں مولانا سے صرف اتنا کہنا ہے کہ للہ ہمیں اپنی شاگردی میں قبول کیجیے۔  ہم اپنی تمام ڈگریاں جلانے کو تلے بیٹھے ہیں اور تیس سالہ تجربے پہ تو ہم لعنت بھیجتے ہیں۔

مولانا ضمیر اختر نقوی عرف ” یہ تو ہو گا”، زندہ باد!

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *