پیدا ہونے والے صرف روزی نہیں پورا پیکج ساتھ لانا


\"saleem

آج ہم وہی کچھ ہیں جس کا فیصلہ ہم نے کل کیا تھا اور ہمارا کل بھی ویسا ہی ہو گا جیسے فیصلے ہم آج کریں گے۔ یہ سب ہمارا اپنا کیا دھرا ہے اور اس کے علاوہ کچھ نہیں۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ جاپان اور ناروے میں پیدا ہونے والے بچے اور انہیں پیدا کرنے والی ماؤں کا خدا ایک ہو اور پاکستان اور افغانستان میں پیدا ہونے والے بچوں اور ماؤں کا خدا کوئی دوسرا۔ یہ بھی میں ماننے کو تیار نہیں ہوں کہ جاپان اور ناروے کے بچوں اور ان کی ماؤں کا خدا زیادہ محنتی اور شفیق ہو اور پاکستان اور افغانستان کے بچوں اور ان کی ماؤں کا خدا تھوڑا سست اور نا مہربان سا ہو۔ یہ جو فرق ہے ناں ہماری زندگیوں اور اس میں میسر مسرتوں کا، اس کا الزام خدا پر دھرنے کی روش بدلنی پڑے گی۔ اس کا ذمہ دار خدا کے علاوہ کسی اور کو ٹھہرانا ہو گا ورنہ ہمارے بچوں کی زندگیاں ہم سے بہتر نہ ہو پائیں گی۔

معیار زندگی کا فرق اتنا بڑا اور واضح ہے کہ اسے نظرانداز کرنا ممکن نہیں ہے۔ پاکستان میں پیدا ہونے والے ہزار بچوں میں سے 81 اپنی پانچویں سالگرہ سے پہلے فوت ہو جاتے ہیں۔ افغانستان میں ایسے بچوں کی تعداد 96 ہے۔ جبکہ جاپان اور ناروے میں پیدا ہونے والے ہر ہزار بچوں میں سے 3 بچے پانچ سال کی عمر سے پہلے فوت ہو جاتے ہیں۔ ماؤں کی اموات کی تعداد اور بھی زیادہ چونکا دینے والی ہے۔ پاکستان میں ایک لاکھ زچگیوں کے دوران 178 مائیں مر جاتی ہیں۔ افغانستان میں یہ تعداد 396 ہے۔ جبکہ جاپان اور ناروے میں ایک لاکھ زچگیوں میں 5 مائیں مر جاتی ہیں۔

اسی طرح سے پاکستان میں 22% لوگ خوراک اور غذائیت کی کمی کا شکار ہیں افغانستان میں یہ تعداد 27% ہے۔ جبکہ جاپان اور ناروے میں خوراک کی کمی کے شکار لوگوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے۔ خوراک اور غذائیت کی کمی کا اثر بچوں پر خاص طور پر بہت برا ہوتا ہے کیونکہ وہ چھوٹے قد اور چھوٹے دماغ جیسی لاعلاج بیماریوں اور معذوری کا شکار ہو سکتے ہیں۔

\"child-food-malnourishment2\"

اس کا مطلب ہے کہ پاکستان میں ہر سال لاکھوں بچے ایسی اموات یا معذوری کا شکار ہوتے ہیں جس سے بچاؤ ممکن ہے۔ ان لاکھوں اموات اور معذوریوں کی وجہ ہمارے حکمرانوں کی مجرمانہ غفلت ہے۔ اس لئے یہ کہنا درست نہیں کہ بچے مر رہے ہیں یا معذور ہو رہے ہیں بلکہ یہ کہنا چاہیے کہ ہم اپنے بچوں کو قتل کر رہے ہیں اور ان کو معذور بنا رہے ہیں۔ جب تک ہم اس کو قتل نہیں کہیں گے اور اس قتل کے ذمہ دار کو کیفرکردار تک نہیں پہنچائیں گے یہ قتال اور معذوری کی زندگی جاری رہے گی۔

ماں اور بچے کو بھوک، غربت اور بے وقت موت سے بچانا اور انہیں خوشحال زندگی کا تحفہ دینا اب ممکن ہو چکا ہے۔ اس کے لئے ایک مکمل اور آزمودہ کار چیک لسٹ موجود ہے۔ اس چیک لسٹ پر عمل کرتے ہوئے اور اسی دنیا میں بہت سے ممالک نے ماں اور بچے کی زندگیوں کو بہتر بنا لیا ہے۔

ماں بننے کے لئے ایک عورت اور اس کے گرد ماحول کو ایک خاص تیاری کرنی پڑتی ہے۔ عورت کی عمر، اپنے جسم، زچگی کے پروسیس اور بچےکے متعلق ضروری معلومات، اس کی جسمانی، ذہنی اور نفسیاتی صحت، خوراک اور طبی سہولیات تک اس کی رسائی اور شدید مشقت اور ہر قسم کے تشدد سے اس کا بچاؤ کچھ پیشگی شرائط ہیں جو پوری ہونی ضروری ہیں۔ اگر یہ چیزیں پوری کر دی جائیں تو عورت محفوظ طریقے سے ایک صحت مند بچے کو جنم دے سکتی ہے۔

ہمارے حکمران وسائل کی کمی کا بہانہ کرتے ہیں۔ یہ بہانہ سراسر غلط اور جھوٹا ہے۔ بھوک، غربت اور بے وقت موت سے بچاؤ کے لئے وسائل ہمارے پاس موجود ہیں۔ پاکستان میں لاکھوں کاشتکاری کے ماہر خاندان بے زمین ہیں جب کہ کروڑوں ایکڑ قابل کاشت زمین ویران پڑی ہے۔ اور کاشتکاروں کا راہ تکتی ہے۔ ایسی زمیںیں حکومت کی ملکیت ہیں یا وڈیروں کی۔ پاکستان میں لاکھوں ڈاکٹر نوکریاں ڈھونڈتے پھرتے ہیں جبکہ ہزاروں سرکاری ہسپتال ڈاکٹروں سے خالی ہیں اور کروڑوں لوگوں کو ڈاکٹر اور طبی سہولتیں میسر نہیں ہیں۔ ہزاروں سکول ویران پڑے ہیں اور کروڑوں بچوں کو سکول نصیب نہیں ہیں۔ اس بات سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ مسئلہ وسائل کی کمی کا نہیں بلکہ گڈ گورننس کی کمی کا ہے۔

پاکستان میں ایک کروڑ بچے متوازن غذا کی کمی، پینے کے صاف پانی کی عدم دستیابی اور حفظان صحت کی مناسب سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے چھوٹے قد اور چھوٹے دماغ کے رہ جائیں گے۔ ان بچوں کو خاص سپلیمنٹ بہم پہنچا کر ہی بچایا جا سکتا ہے۔ ہر بچے تک پہنچنے کے لئے ایمرجنسی نافذ کرنا ہو گی۔ اس وقت بین الاقوامی ادارے اس ایمرجنسی میں ہماری مدد کرنے کو تیار ہیں۔ ہم کوشش کر کے ایک کروڑ بچوں کو معذوری کی زندگی سے بچا سکتے ہیں۔ ایکشن کا وقت اب ہے۔ ورنہ دیر ہو جائے گی۔

\"thar-children-malnourishment-food\"

اگر اب ہم نے دیر کی تو حالات ہمارے قابو سے نکل جائیں گے۔ اگر کروڑ بچے چھوٹے دماغ اور چھوٹے قد کی وجہ سے معذوری کا شکار ہو گئے تو ملک میں افرادی قوت کا بحران پیدا ہو جائے گا۔ ایک کروڑ معذور نوجوانوں کے بوجھ کی موجودگی میں پاکستان کو ترقی کی راہ پر لانا نا ممکن ہو جائے گا۔

مستقبل میں بھی ایسی صورت حال س بچنے کی منصوبہ بندی کرنا ہو گی۔ ”ہر روح اپنی روزی ساتھ لاتی ہے“ کی غلط تشریح سے جان چھڑانی ہو گی۔ بلاشبہ خدا نے روزی کے وسائل زمین پر اتارے ہیں، لیکن اسے پیدا کرنا اور ہر روح تک پہنچانا انسانوں کی ذمہ داری قرار پایا ہے۔ خوشحال زندگی گذارنے کے لئے ایک پورا پیکیج ہے جو بچے ساتھ نہیں لاتے بلکہ اس کا بندوبست اس دنیا میں ہم نے خود کرنا ہے۔ ورنہ ہمارے بچے ایک باعزت اور خوشحال زندگی سے محروم رہیں گے۔

Facebook Comments HS

سلیم ملک

سلیم ملک پاکستان میں شخصی آزادی کے راج کا خواب دیکھتا ہے۔ انوکھا لاڈلا کھیلن کو مانگے چاند۔

salim-malik has 366 posts and counting.See all posts by salim-malik

One thought on “پیدا ہونے والے صرف روزی نہیں پورا پیکج ساتھ لانا

  • 09/11/2016 at 1:48 شام
    Permalink

    Very nice

Comments are closed.