تکّلم رہن رکھنے سے سفر آساں نہیں ہوتا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

انسانی حقوق میں اجتماعی اور وابستگی کی آزادی کا مقام بلند ہے۔ اجتماع کا مطلب ہے رضاکارانہ طور پر پُرامن طریقے سے مل بیٹھ کر مسائل و افکار پر غورو فکر کرنا۔ اور وابستگی کا مفہوم ہے باہمی مشاورت کے بعد ہم خیال انسانوں کا اپنے لیے ایک اجتماعی شناخت اختیار کرنا۔ اجتماعی شناخت کی شکلیں ایک سے زائد ہوسکتی ہیں۔ ٹریڈ یونین، سیاسی جماعت، مذہبی گروہ، مفاد عامہ کا ادارہ، وکلاءکی انجمن، تاجروں کی تنظیم، صحافی تنظیمیں وغیرہ۔ وابستگی کی یہ تمام صورتیں تمدنی قوتوں کا درجہ رکھتی ہیں۔ انسانی معاشرے میں ریاست یا تو مفاد عامہ کا ذریعہ ہے یا مخصوص مفادات کے تحفظ کا آلہ۔ پہلی صورت میں ریاست اجتماع اور وابستگی کے حق کی حوصلہ افزائی کرتی ہے تاکہ معاشرے میںموجود مختلف گروہوں کے خیالات، مفادات اور خدشات کھل کر سامنے آسکیں جب کہ دوسری صورت میں ریاست تفریق اور قانون کے متنوع مدارج کی مدد سے دیواریں کھڑی کرتی ہے۔ مقصد واضح ہوتا ہے ریاستی باشندوں کی باہم سنگت کا امکان ختم ہو۔ ریاستی ہتھکنڈوں پر معاشرتی دباؤ پیدا نہ ہونے دیا جائے۔

انسانی تاریخ میں اختیار اور اقتدار نے عام طور پر اجتماع اور وابستگی کے تحفظ کی بجائے تفریق اور دیوار پہ انحصار کیا ہے۔ دیوار کا استعارہ انسانی مساوات، اخوت، رفاقت اور جمہوریت کی نفی ہے۔ یوں کہنے کو دیوار اینٹ پتھر سے تعمیر کی جاتی ہے۔ لیکن انسانی معاشرے میں نظر نہ آنے والی دیواریں بھی تو ہوتی ہیں۔ لغت میں دیکھئے تو دیوار حد بندی کے لیے استوار کی جاتی ہے تاکہ ملکیت اور اختیار کا تعین کیا جاسکے نیز یہ کہ دیوار کے اندر موجود افراد اور اشیا کو بیرونی مداخلت سے تحفظ دیا جا سکے۔ لیکن دیوار کا ایک دوسرا مفہوم بھی تو ہے یعنی درونِ دیوار کو بیرونی دنیا سے کاٹ دیا جائے، فاصلے تخلیق کیے جائیں اور حقیقی یا مفروضہ امتیازات قائم کیے جائیں۔ یہ ان دیکھی دیوار ہی انسانی معاشرت میں منافرت کی بنیاد ہے۔ یہ ان دیکھی دیواریں ثقافت، زبان، عقیدے، جنس، نسل اور سیاسی نظریات کی بنا پر انسانوں کو انسانوں سے دور کرنے کے کام آتی ہیں۔ انسانی وسائل پر لامحدود اختیار اور اپنے جیسے انسانوں کی استحصال کرنے کے خواہش مندافراد اور گروہوں نے ان دیواروں سے بہت کام لیا ہے۔آج دیواریں گرانے کا زمانہ ہے۔ جدید دور میں دیواریں کھڑی کرنا، اسداللہ غالب کے لفظوں میں، مبارک کام نہیں ہے۔

انسانی تاریخ میں اجتماعی وابستگی کے حقوق کے حوالے سے ان گنت سنگ میل نظر آتے ہیں۔ 431 قبل مسیح میں پیری کلیز نے کہا تھا کہ ایتھنز کے باشندوں کے لیے عوامی بحث مباحثہ محض ایسی چیز نہیں جسے روایت کے طور پر برداشت کیا جائے بلکہ وہ باقاعدہ طور پر سمجھتے ہیں کہ عوام کے سامنے کھلے بحث مباحثے کے بغیر شہریوں کے مفادات کا بہترین تحفظ ممکن ہی نہیں۔ یہ تسلیم کہ عوامی اجتماع کو سقراط جیسے عالم کے قتل کا ذریعہ بھی بنایا جا سکتا ہے لیکن یہ بھی خیال رہے کہ اجتماعی انسانی شعورمیں سقراط کے اساطیری روپ کی ایک وجہ اس پر چلائے جانے والا کھلا مقدمہ بھی ہے جس کے باعث عوام کو اس پر عائد کیے گئے الزامات کی لغویت کا علم ہوسکا۔ دیکھنے والی آنکھ کئی صدیاں اور ان گنت تاریخ ساز واقعات چھوڑتے ہوئے1776ء پہ آکے ٹھہرتی ہے جب اجتماعی ذمہ داری کے جذبے سے سرشار مدبرین کے ایک نمائندہ اجتماع نے امریکہ میں برطانوی نو آبادی کے خاتمے کا اعلان کیا تھا۔ چند برس گزرے تھے کہ شاہی جبروت کے نشے میں لوئی چہار دہم نے 1789ء میں فرانس کی قومی اسمبلی کا اجلاس روک دیا جس کے نتیجے میں عوامی نمائندوں نے ٹینس کورٹ میں مجلس بر پا کی۔ انقلاب فرانس کا آغاز اسی اجلاس سے ہوا تھا جسے فوری نتائج کے اعتبار سے بھلے ناکام سمجھا جائے مگر اس جدید دنیاکا نقطہ آغاز انقلاب فرانس ہی قرار پاتا ہے جس میں مساوات، آزادی اوراخوت کو رہنما اصولوں کا درجہ حاصل ہے۔

ایک ریاست کے طور پر پاکستان کی تاریخ سات دہائیوں پر محیط ہے لیکن تاریخ کا یہ مختصر وقفہ اجتماع اور وابستگی کے حوالے سے خونچکاں ہے۔ بھابڑا سے قلات تک، لالو کھیت سے لے کر کوہلو ایجنسی تک، لیاقت باغ سے تاجپورہ تک، ٹھوری پھاٹک سے کچھی گراؤنڈ تک، پاکستان پر حکومت کرنے والوں کے اعصاب پر ایک ہی خوف سوار رہا ہے کہ پاکستان میں رہنے والوں کو آپس میں مل بیٹھنے اور دکھوں کی سانجھ تشکیل دینے سے روکا جا سکے۔

ہم ایک نئی دنیا کے باسی ہیں۔ آج کی دنیا میں کوئی ملک اپنی حقیقی یا مفروضہ حدود کے بارے میں غیرضروری طور پر حسا س نہیں رہ سکتا۔ دیوان خانوں، اوطاقوں، حجروں او ردفتروں کی سیاست کا دور گزر چکا۔ مفروضہ بے حس انسانوں کو جوتے کی نوک پر رکھنے والے نام نہاد حساس اور خفیہ اہل کاروں کا عہد بیت چکا۔ سازش ایک ایسا فعل ہے جو چند افراد بند دروازوں کے پیچھے کرتے ہیں۔ سازش کھلے میدان میں نہیں ہوتی۔ کھلے میدان میں قومیں تعمیر ہوتی ہے۔ معاشرے میں بسنے والے قانون پسند شہری اجتماع اور وابستگی کا حق استعمال کرتے ہیں اور بات چیت کے ذریعے اپنے مسائل کا حل ڈھونڈتے ہیں تو قوم مضبوط ہوتی ہے۔ مکالمہ کرنے سے یک جہتی کے دروازے کھلتے ہیںاور تفرقے کی راہ مسدود ہوتی ہے۔

پر امن اجتماع اور گروہی وابستگی کا حق دنیا بھر میں بسنے والے انسانوں کا بنیادی حق ہے۔ اسی حق کی عملی تعبیر سے ذمہ دار اور باشعور انسانی برادری کی امید وابستہ ہے۔ اسی حق کی ضمانت سے آنے والی صبحوں کی جوت جاگے گی۔ ایک ایسے مستقبل کی امید جس میں تمام انسانوں کا مفاد سانجھا ہوگا، ان کے خواب مشترک ہوں گے او ر ان کی امنگیں ایک سی ہوں گی۔ انسانوں کو مل بیٹھنے دو اور اپنے دکھ بیان کرنے دو تاکہ یہ امید باقی رہے کہ آنے والے کل میں ایسی دنیا تعمیر ہوگی جس کی بنیاد مساوات، امن، انصاف، ہم آہنگی اور خوشحالی پر رکھی جا سکے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •