زندگی کاروبار سے بیش قیمت ہے!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پوری دنیا عجیب مخمصے میں گرفتار ہے کہ جہاں طویل لاک ڈاؤن کے بعد کاروباری سرگرمیوں کی اجازت دی گئی وہاں وائرس کی نئی لہر آ رہی ہے اور جہاں اجازت نہیں دی گئی وہاں لاک ڈاؤن میں نرمی کے حق میں مظاہرے بھی ہو رہے ہیں، تاہم ان ملکوں میں سماجی فاصلے کی پابندیوں پر پاکستان کی نسبت بہتر طور پر عمل ہو رہا ہے، حکومت جو ہدایات دیتی ہے کم و بیش ان کے مطابق ہی کام ہوتا ہے، لیکن ہمارے ہاں سماجی فاصلے کے تصور کو زیادہ پذیرائی نہیں مل رہی ہے، دیکھا جا رہا ہے کہ جن مقامات پر لوگوں کے اکٹھا ہونے کی ضرورت نہیں، وہاں بھی ہجوم موجود ہے اور غالباً ایسے ہی مقامات سے بیماری کے سوتے پھوٹ رہے ہیں، دیکھنے والی بات یہ ہو گی کہ کیا انتظامیہ ایس او پیز پر عمل کرواسکے گی؟

عوام کے اپنے مفاد میں ہے کہ سماجی فاصلے سمیت اس ضمن میں حکومت کی ہدایت پر عمل کریں اور ضابطوں کا خیال رکھیں، لیکن اس سلسلے میں عوام میں لاپروائی کا رویہ بہر حال نظر آ رہا ہے اور محسوس بھی ہوتا ہے کہ لاک ڈاؤن می نرمی کے بعد عوام بے خوف ہو گئی ہے۔ اگر وزیر اعلیٰ پنجاب اپنی ہدایات پر عمل کروا سکیں تو بہتر، ورنہ خدشہ ہے کہ چند روز بعدہی ان فیصلوں پر نظرثانی کی ضرورت پیش آ جائے گی۔

اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ کہ عالمی سطح پر کورونا وائرس نے لاک ڈاؤن میں نرمی کی متفرق پیش رفتوں کے ساتھ ہی دوبارہ سر اٹھایا ہے، عالمی ادارہ صحت نے کہا کہ کورونا وائرس ویکسین 2021 تک تیار نہیں ہوسکتی، ماہرین صحت پہلے سے اندیشہ ظاہر کر رہے تھے کہ کورونا سے نمٹنے کے لیے لاک ڈاؤن میں عجلت نہیں کرنی چاہیے، اس سے معاملات بگڑ سکتے ہیں، مگر حکومت کی رائے اور اس کا استدلال بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ طویل لاک ڈاؤن ممکن نہیں، معاشی صورتحال اس کی متحمل نہیں ہوسکتی، یوں ملک بھر میں لاک ڈاؤن کھولنے کا فیصلہ کیا گیا، لیکن صورتحال افقی و عمودی طور پر خاصی پریشان کن ہے۔

ارباب اختیار کو جہاں کیسز میں اضافے پر تشویش ہے، وہاں اس بات کو بھی یقینی بنانا ہے کہ لاک ڈاؤن کھولنے کا حکومت نے کوئی لائسنسں جاری نہیں کیا ”بلکہ یہ آزادی مشروط ہے، یہ عوام کے گہرے شعور، فرض شناسی، قومی ذمے داری اور کورونا کی لائی ہوئی بندشوں کو صدق دل سے قبول کرنے سے عبارت ہے، سماجی فاصلہ برقرار رکھنا، ماسک پہننا اور بازاروں میں ہجوم اکٹھا کرنے سے گریز کو لازماً اپنے رویے میں شامل کرنا ہوگا۔ کورونا کی روک تھام صرف حکومت کا فرض نہیں، بلکہ ہر شخص کی انفرادی ذمے داری ہے۔ حکومت غیر معینہ مدت کے لیے لاک ڈاؤن نافذ نہیں کر سکتی، کیونکہ اس کے کم آمدنی والے طبقے پر تباہ کن اثرات سامنے آئیں گے۔

حکومت عوامی مفاد کے پیش نظر آسانیاں دینے میں کو شاں ہے، مگر عوام کو بھی ذمہ دارانہ رویئے کا مظاہرہ کرنا ہو گا، حکومت نے قرنطینہ کے متعلق شکایات کا ازالہ کرتے ہوئے پنجاب میں مریضوں کو ہوم قرنطینہ کی مشروط اجازت دے دی ہے، لیکن طبی ماہرین کے مطابق گھروں میں ان پابندیوں پر شاید ہی عمل ہو سکے جو نوٹیفائی کی گئی ہیں، ویسے کاغذی حد تک یہ پابندیاں بڑی جائز ہیں، لیکن یہ کہنا مشکل ہے کہ جو مریض گھروں میں خود کو قرنطینہ کریں گے انہیں وہ تمام سہولتیں دستیاب بھی ہوں گی۔

پوش آبادیاں چھوڑ کر غربا کے محلوں میں بہت کم گھر ایسے ہوں گے، جہاں ایک سے زیادہ واش روم موجود ہوں جو لوگ ایک ایک دو دو کمروں کے گھروں میں گزارا کر رہے ہیں ان کے ہاں دوسرے واش روم کا کوئی تصور نہیں یہ تو خیر غریبوں کے گھروں کی حالت ہے حکومت نے جو قرنطینہ سنٹر بنائے ان کے متعلق بھی یہ شکایات آتی رہی ہیں کہ وہاں پر کئی مریض بیک وقت ایک ہی باتھ روم استعمال کر رہے تھے، شاید اب بھی کر رہے ہوں ایسے قرنطینہ مراکز کی حالت زار پر اعلیٰ عدالتوں کے ریمارکس بھی منظر عام پر آ چکے ہیں، سرکاری قرنطینہ مراکز کے خلاف مظاہرے بھی ہوتے رہے ہیں، ایسے میں ہوم آئسولیشن کے لئے سخت ضابطے بنانے کا مقصد یہی نظر آتا ہے کہ کاغذات میں ہر چیز چمکدار نظر آنی چاہیے اس پر عملدرآمد ہوتا ہے یا نہیں یہ ضابطے بنانے والوں کا درد سر نظر نہیں آتا، شاید اسی وجہ سے وزیر اعظم کو بھی کہنا پڑاکہ ہسپتالوں میں مریضوں کے ساتھ ناروا سلوک برداشت نہیں کیا جائے گا۔ اگر ہمارے ہسپتال مریضوں کو ہر قسم کی ضروری سہولتیں دے رہے ہوتے تو وزیر اعظم کو یہ بیان جاری کرنے کی ضرورت پیش نہ آتی، ایسے حالات میں ہوم آئسولیشن کے لئے بنائے گئے ضابطوں پر جس طرح عمل ہوگا، وہ دیوار پر لکھا صاف نظر آرہا ہے۔

یہ لائق تحسین امر ہے کہ پاکستان کے تمام ادارے اور سیاسی شخصیات کورونا کے متعلق اتفاق رائے رکھتے ہیں۔ اگر ذاتی سطح پر انہیں کسی حکمت عملی پر اعتراض ہوتا بھی ہے تو اس کی وجہ عوام کی سہولت کا خیال ہے، بحرانی ایام میں قیادت اور فیصلوں کی ذمہ داری حکومت کے ہی سر آ تی ہے، اس دور کے فیصلوں کا اچھا یا برا نتیجہ بھی حکومت ہی قبول کرتی ہے۔ محدود مالیاتی وسائل اور انتظامی استعداد کے باعث جلد یا بدیر یہ فیصلہ سبھی اقوام کو کرنا پڑ رہا ہے کہ انہوں نے کورونا کی موجودگی میں کس طرح ریاستی امور چلانا ہیں۔

حکومت نے ایک فیصلہ کیا ہے کہ محروم طبقات اور معاشی بازو کا درجہ رکھنے والے طبقات کے مفادات کو ساتھ لے کر چلنا ہے۔ رمضان المبارک کا مقدس مہینہ نصف گزر چکا، عید کی تیاری کے لئے جتنی بھی سادگی اور کفایت شعاری اپنائیں یہ ممکن دکھائی نہیں دیتا، حالیہ دنوں بازاروں میں دکھائی دینے والا رش اسی وجہ سے ہے۔ بلا شبہ بعض تاجر تنظیمیں اور رہنما حکومت سے کاروبار کھولنے کا مطالبہ کرتے رہے ہیں، تاجروں نے حکومت کو زبردستی دکانیں کھولنے کا انتباہ بھی کیا، بے شک بھوک سب سے خطرناک ہوتی ہے، یہ ہتھیار بھی ہے اور وجہ جنگ بھی، اسی تناطر میں حکومت نے عوام اور کاروباری طبقے کی مجبوریوں کو مد نظر رکھتے ہوئے لاک ڈاؤن میں نرمی کا فیصلہ کیا ہے، تاجر اور دکاندار برادری کو بھی اس بات کی ذمہ داری قبول کرنا ہو گی کہ ان کا روزگار حکومتی ایس او پیز کے ساتھ مشروط ہے۔

اگر خدانخواستہ کاروبار کی جگہ پر بدنظمی ہوتی ہے، جیساکہ نظر آرہا ہے اور حفاظتی تدابیر کو نظر انداز کرنے سے کورونا کی شدت میں اضافہ ہوا تو عوام کے ساتھ پوری تاجر برادری کو اس کا بہت نقصان ہو سکتا ہے، زندہ رہنے کے لئے روز گار، کاروبار بہت ضروری ہے، مگر عوام کو باہر حال یہ بات مدنظر رکھنا ہو گی کہ زندگی منافع بخش کاروبار سے بیش قیمت ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *