صدام حسین اور اپنا بستر درست کرنا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


بہت سی خوبصورت روایتوں اور اختراعو ں کی طرح امریکی یونیورسٹیوں میں ایک روایت یہ بھی ہے کہ سالانہ گر یجوشن کی تقریب میں خطاب کرنے کے لئے کسی ایسے مہمان کو بلایا جاتا ہے جو اپنی محنت کے بل بوتے پر زندگی کے کسی شعبے میں نمایاں مقام پر پہنچا ہو۔ یہ خطاب اکثر عملی زندگی میں داخل ہونے والے طلبا کے لئے مشعل راہ بن جاتا ہے۔ ہمارے یہاں کانووکشن کے نام پر ہونے والی تقریبات اتنی ہی بے جان اور بے مقصد ہوتی ہیں جتنی وہاں پر مہمانان خصوصی کی جانب سے کی گئی رسمی اور روکھی تقاریر۔

ایڈمرل ولیم ہنری میک ریون امریکی بحریہ اور اسپیشل فورسز کمانڈوز نیوی سیل میں سینتیس سال نوکری کرنے کے بعد سن دو ہزار چودہ میں ریٹائر ہوئے۔ ریٹائرمنٹ سے تین مہینے پہلے انہوں نے یونیورسٹی آف ٹیکساس آسٹن میں قریب آٹھ ہزار طلبا سے ان کی گر یجوشن پہ خطاب کیا۔ بیس منٹ کی یہ تقریر بعد میں وائرل ہو گئی اورکچھ عرصہ قبل اسی تقریر سے متاثرایک مختصر اور دلچسپ کتاب منظرعام پر آئی جس کا نام تھا اپنا بستر درست کیجئے۔ نہایت مختصر سی یہ کتاب بآسانی ایک نشست میں ختم کی جا سکتی ہے۔ کتاب میں ایڈمرل نے کامیاب زندگی گزارنے کے دس نکات اپنی عسکری زندگی کے تجربات کی روشنی میں بیان کیے ہیں۔ کتاب میں بیان کردہ دس اسباق درج ذیل ہیں۔

اگر آپ دنیا کو بدلنا چاہتے ہیں تو صبح سویرے اٹھ کر اپنا بستر درست کرنے سے دن کا آغاز کیجئے۔ صبح اٹھ کر اپنا بستر درست کرنے جیسے سادہ کام سے آپ کو اپنا اگلا کام پورا کرنے کی تحریک ملے گی۔ اس کے بعد اگلا کام اور پھر اگلا کام۔ جب ہم نے عراق میں سن دو ہزار تین میں صدام حسین کو پکڑا تو اسے ایک چھوٹے سے کمرے میں رکھا جہاں اسے ایک فوجی طرز کی چارپائی دی گئی جس پر کمبل اور چادر بچھی ہوتی تھی۔ میں دن میں ایک دفعہ انتظامات وغیرہ کا جائزہ لینے کے لئے اس کے کمرے کا چکر لگاتا۔ مجھے سب سے عجیب بات یہ لگی کہ صدام حسین کبھی بھی اپنا بستر درست نہیں کرتا تھا۔ اس کی چادر اکثر بستر کے پاؤں کی جانب بے ترتیبی سے پڑی ہوئی ہوتی تھی۔

عسکری زندگی میں دوران تربیت یہ بات بھی سیکھی کہ کسی ہاتھ سے چلانے والی کشتی کی طرح آپ زندگی میں کوئی بھی کام اکیلے نہیں کر سکتے۔ آپ کو لوگوں کی ضرورت پڑتی ہے اور مشکل مرحلوں پر خود سے زیادہ طاقتور، ماہر اور تجربہ کار لوگوں کی رہنمائی اور مدد حاصل کرنی چاہیے۔ ہم میں سے کوئی بھی زندگی کے کے طوفانوں سے بچ کر نہیں رہ سکتا اور ایسے طوفانوں سے اپنی کشتی باہر نکالنے کے لئے دوسروں کی مدد کی ضرورت پڑتی ہے۔

زندگی کا تیسرا سبق دوسرے لوگوں کے حوالے سے ہے۔ کبھی بھی لوگوں کے متعلق اپنی رائے ان کے ظاہری حلیے، شکل و شباہت یا مال و دولت وغیرہ سے قائم نہیں کرنی چاہیے۔ نیوی کی تربیت کے دوران ہمارے ساتھ ایک پستہ قد کا کیڈٹ تھا جس کے متعلق سب کی راے یہ تھی کہ وہ اتنی سخت ٹریننگ سے نہیں گزر سکے گا۔ ایک بار کھلے سمندر میں تیراکی کا مقابلہ ہوا اور اس نے بڑوں۔ بڑوں کو پیچھے چھوڑ دیا۔ اس دن کے بعد سب لوگ اس کی عزت کرنے لگے کیوں کہ ظاہری شباہت سے ہٹ کر وہ اپنا آپ سب سے منوا چکا تھا۔

دوران تربیت یہ اہم بات بھی سیکھی کہ زندگی میں سب کچھ ٹھیک کبھی بھی نہیں رہتا۔ اکثر انسٹرکٹر ہمیں ایسی باتوں یاغلطیوں پر بھی سزا دے ڈالتے جو ہم سے سرزد ہی نہیں ہوئی ہوتی تھیں۔ ایک بار ایسی ہی ایک مشقت بھری سزا کاٹتے ہو ئے میرے استاد نے کان کے پاس آکر پوچھا ”تمہیں معلوم ہیں بغیر کسی وجہ کے تمہیں اتنی سخت سزا کیوں مل رہی ہے؟“ میں نے نفی میں سر ہلایا تو وہ اپنی مسکراہٹ پر قابو پاتے ہو ئے بولا، زندگی میں سدا اچھا وقت نہیں رہتا۔

پانچواں سبق یہ ہے کہ ناکامیاں، کامیابی کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے۔ دوران ٹریننگ شروع میں میں جسمانی لحاظ سے زیادہ مضبوط نہیں تھا۔ اس کے نتیجے میں مجھے زیادہ مشقت بھری سزائیں ملتی۔ کچھ عرصے بعد اتنی مشقت بھری سزائیں اٹھا اٹھا کر میں جسمانی لحاظ سے بہت سے دوسرے لوگوں سے زیادہ چست اور طاقتور ہو گیا۔

چھٹا سبق بلند ہمتی کا ہے۔ اگر کوئی مسئلہ یا رکاوٹ پیش ہو تو اس کا سامنا دیدہ دلیری اور بلند ہمتی سے کرنا چاہیے۔ دوران تربیت ایک تیس فٹ اونچے مینار سے رسی کے ذریعے نیچے آنے کے دو طریقے تھے۔ زیادہ تر لوگ سر اوپر اور پاؤں نیچے کے روایتی طریقے سے نیچے اترتے اس سے ڈر کم لگتا لیکن وقت زیادہ صرف ہوتا۔ ایک ہفتے کے بعد اپنے استاد کے ہمت دلانے پر میں نے سر نیچے اور پاؤں اوپر کا غیر روایتی طریقہ اپنایا اور لمحوں میں نیچے پہنچ گیا۔ تھوڑی سی ہمت نے کام آسان کر دیا۔

ساتواں سبق برے اور ڈرانے والے لوگوں کے سامنے ڈٹ جانے کا ہے۔ زندگی میں بہت سے لوگ آپ کو طرح طرح کے طریقوں سے ڈراتے دھمکاتے ہیں لیکن ایسی حالت میں تھوڑی دیر ڈٹے رہنے سے اکثر یہ لوگ الٹے پاؤں واپس ہو جاتے ہیں۔

آٹھواں سبق زندگی کے مایوس کن لمحوں میں ہمت نہ ہارنے کا ہے۔ دوران تربیت ہمیں ایک مشق میں سمندر میں دو کلومیٹر تیر کر ایک ڈوبے ہوئے بحری جہاز کو سمندر کی تہ میں تلاش کرنا اوراس میں بارودی سرنگ نصب کرنا تھی۔ یہ تربیت کے مشکل ترین مرحلوں میں سے ایک تھا۔ اتنا زیادہ تیرنا، پھر سمندر کی تہ میں جانا اور گھپ اندھرے میں احتیاط سے جہاز تک پہنچنا سب ناممکنات میں سے لگتا لیکن ان مایوس کن لمحوں میں بھی ہماری ٹیم نے ہمت نا ہاری اور کامیابی سے مشن پورا کیا۔

لوگوں کو امید دینا اور ان کی ہمت بندھانا۔ دوران تربیت ایک مشق میں ہمیں گردن تک کیچڑ میں اتر کر اپنا کام پورا کرنا تھا۔ کئی گھنٹوں کی مشقت کے باوجود جب کوئی بھی کامیاب نہ ہو سکا تو انسٹرکٹر نے آفر کی کہ اگر تم میں سے ایک بھی ہار مان کر باہر آ جائے تو سب کی جان چھوٹ سکتی ہے۔ کچھ لوگ تیار ہو گئے لیکن پھر ایک نے کہا کہ یا تو سب اکٹھے باہر نکلیں گے اور یا پھر کوئی بھی نہیں۔ ایک کے ہمت دلانے پر سب کے حوصلے بڑھ گئے اور آخر میں سب اکٹھے ہی اس مصیبت سے باہر نکلے۔

آخری سبق یہ کہ جتنا بھی مشکل وقت آ جائے کبھی بھی میدان چھوڑ کر نہیں بھاگنا۔ ٹریننگ کے دوران ایک اونچی جگہ پر بڑی سی گھنٹی لگی ہوتی تھی۔ اگر کوئی ہمت ہار جائے یا یہ سمجھتا کہ بس بہت ہو گئی تو وہ جا کر گھنٹی بجا سکتا تھا۔ یہ اس بات کا اعلان ہوتا تھا کہ وہ لڑکا اب مزید ہمت نہیں رکھتا اس کے بعد اسے کچھ نہیں کہا جاتا تھا اور کچھ دنوں بعد رخصت کر دیا جاتا۔ ہم ڈیڑھ سو کی جماعت نے تربیت کا آغاز کیا تھا۔ چھ مہینے بعد ان میں سے صرف تیس باقی رہ گئے تھے اکثر گھنٹی بجا کر اپنی شکست کا اعلان کر کے واپس لوٹ گئے تھے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply