کون ہیں یہ لوگ؟


اس تفصیل میں جانے کی چنداں ضرورت نہیں کہ حالیہ وبا نے کس طرح غریب طبقہ کو ایک ایک نوالے کا محتاج بنا دیا۔ حالات سب کے سامنے ہیں۔ لیکن اس وبا نے ہماری آنکھیں کھول دی ہیں۔ ہمارے وہ خدام جو ووٹ اور اقتدار کی جنگ میں ہماری چڈی بنیان تک دھونے سے بھی انکار نہیں کرتے تھے، وہ ”ایک وائرس کے ساتھ جنگ“ میں ہمارا ساتھ دینا تو دور کی بات، ہم سے نظر ملانا بھی گوارا نہیں کر سکتے۔

کسی شاعر نے خوب کہا ہے
اپنی غرض تھی جب تو لپٹنا قبول تھا
بانہوں کے دائرے میں سمٹنا قبول تھا

لیکن اب کی وائرس تو حکمرانوں کے لئے ایک بڑا جواز بھی ساتھ لے کر حملہ آور ہوچکی ہے کہ ”فاصلہ رکھیں اور مصافحہ سے پرہیز کریں۔”
بس عالمی ادارہ صحت کی ہدایت تھی کہ تمام حکمران کوارنٹائین دفتروں میں محفوظ ہوگئے اور غریب طبقہ منہ تکتا رہ گیا۔

اس وبا بہت سے حقائق آشکار کر دیے۔ حالیہ صورت حال میں ہم ان گمنام ہیروز کو پہچان گئے جو ووٹ اور نوٹ کے بغیر صرف اور صرف خدمت خلق کا جذبہ لے کر بے یار و مددگاروں کے لئے اپنا تن من دھن قربان کر رہے ہیں۔

دور جانے کی ضرورت نہیں۔ ہمارے سوات کوہستان میں ایسے درجن بھر نوجوانوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھا جو دن بھر ایک ایک روپیہ اکٹھا کرتے ہیں اور رات کی تاریکی میں غریب اور بے بس دیہاڑی دار طبقہ کے ہاں راشن پہنچاتے ہیں۔

ایک اور مثال ملاحظہ ہو۔
اپنا ایک قریبی دوست جو کہ نہ کسی سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں، نہ کوئی بڑا بزنس رکھتے ہیں اور نہ کوئی امرا کا نیٹ ورک رکھتے ہیں۔ ہاں! سماجی کاموں میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ انہوں نے رمضان سے قبل بیٹھے بیٹھے ایک تجویز پیش کی کہ کیوں نہ ہم اپنے ان چھوٹے کاروباری دوستوں کی مدد سے فوڈ پیکجز تیار کرکے ضرورت مندوں میں تقسیم کریں۔

میں نے صرف دل رکھنے کے لئے ہاں میں ہاں ملا دی۔ کچھ دنوں بعد کھلے چہرے کے ساتھ نمودار ہوئے اور پندرہ گھرانوں میں راشن کی تقسیم کی نوید سنا دی۔ میں نے مزید حوصلہ دیا کہ مشن جاری رکھا جائے۔

پچھلے دنوں دوبارہ ملاقات ہوئی تو فرمانے لگے کہ رمضان بھی ہے اور آگے عید بھی آنے والی ہے، سوچ لیا ہے کہ کیوں نہ فوڈ آئٹمز کچھ زیادہ کرکے مزید پیکجز بنا دیے جائیں۔

میں نے سوال اٹھایا کیا چندہ دینے والے مزید سکت رکھتے ہیں؟
تو انہوں نے اطمینان کے ساتھ جواب دیا کہ ہاں بہت سے ”گمنام“ لوگ ہیں جن کے کاروبار تو بہت چھوٹے ہیں، مگر دل سمندر سے بھی بڑے ہیں۔

اگلے دن دریافت کیا تو خوشخبری سنا دی کہ ایک دوست نے مبلغ تیس ہزار، ایک نے دس اور اسی طرح بہت کچھ ملا ہے۔
میں نے عرض کیا کہ کون ہیں یہ لوگ؟

بتا دیا کہ وہی لوگ ہیں جن میں بہت سوں کو آپ کنجوس کا خطاب دیتے ہیں کیوں کہ وہ یاریوں دوستوں اور احسان مندیاں جتانے پر ایک کوڑی بھی ضائع نہیں کرتے، بلکہ انہی کے جیبوں سے بہت سے غریبوں کے چولہے بجھ نہیں پاتے۔

ہم بھی اگر ان گمنام ہیروز کی تقلید کرتے ہوئے ایک کوڑی کو بھی فضول خرچی میں ضائع ہونے سے بچانے کی بجائے اس کو جمع کر علیحدہ کر رکھیں تو اس عید میں ان بے آسرا لوگوں کو ایک عدد سوٹ اور عید کی مٹھائی خرید کر دے سکتے ہیں۔

Facebook Comments HS