اپنی بات کو آگے بڑھانے سے پہلے ایک عرض ضرور گوش گزار کرنا چاہتا ہوں کہ جذبات کی رو میں بہہ جانے کے بجائے زمینی حقائق کو ذہن میں رکھ کر تحریر پڑھ لیجیے، ورنہ یہیں رد کیجئے۔ راقم نہیں چاہتا کہ کڑوا سچ سنتے ہوئے آپ کے جذبات مزید بھڑک اٹھیں اور راقم کو اپنے معزز قارئین سے الجھنے کی نوبت آ جائے۔
قارئین کرام! یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ من حیث القوم ہم اپنی ذاتی مفاد کو قومی اور اجتماعی مفاد پر ترجیح دیتے ہیں، جو بعد میں نہ صرف ملکی مسائل کو بڑھا دیتے ہیں، بلکہ ہماری انفرادی نقصان کا سبب بھی بنتے ہے۔ ایک لمبی تمہید باندھنے سے اپنے موضوع سے ہٹ جانے سے بہتر ہے سیدھا اپنے اصل مدعا کی طرف آتے ہیں۔
قارئین کرام! آپ بخوبی جانتے ہیں کہ ہماری خوبصورت وادی سوات کس طرح پے در پے آفتوں اور مصیبتوں کی زد میں ہے، لیکن ہم مشکلات سے نکلنے کی کوششیں تو ضرور کرتے ہیں، مگر سیکھنے کی تھوڑی سی بھی زحمت نہیں کر پاتے۔ سوات میں دہشت گردی، فوجی آپریشن، سیلاب، وبائی امراض اور اسی طرح کی دوسری مصیبتوں کا ہم نے بڑی ہمت اور حوصلے کے ساتھ مقابلہ کیا۔
Read more