خدا کہاں ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سینکڑوں خداؤں کو ماننے والے آج ایک نقطے پر متفق ہیں۔ ایک خدا کو ماننے والے کیوں منتشر ہیں؟ یہ سوال جب سے سنا ہے، پریشانی کے مارے قلم اٹھانے کی ہمت نہیں ہو رہی۔ جواب کے لیے خدا کے گھر کا رخ کیا۔ ہمارے ہاں خدا کا گھر بنام مسجد ایک ایسے احاطے کو کہتے ہیں جہاں پیسے والوں کی اجارہ داری ہے۔ سڑک پر اور ہسپتال میں پھر بھی شاید امیر غریب کی تفریق میں کوئی خیانت ہو جاتی ہو، مگر ہمارے ہاں مساجد میں امیر غریب کی تمیز کا خوب خیال رکھا جاتا ہے۔ حاجی صاحب کے لیے پہلی صف میں اے سی کے ساتھ، جبکہ غربا کے لیے آخری صف میں جگہ مختص ہے۔ حاجی صاحب جلدی آئیں یا دیر سے، ان کی جائے نماز اولین صفوں میں ہی ہے۔ غریب چاہے موذن سے بھی پہلے آ جائے، امرا سے آگے جگہ حاصل نہیں کر سکتا۔

حاجی صاحب سے مراد ہمارے ہاں حج کرنے والے افراد نہیں ہیں۔ نہیں نہیں، وہ دور تو پرانا ہو گیا جب غریب بھی کچھ سال پیٹ کاٹ کر حج کر لیا کرتے تھے۔ اب تو غریب اپنا گردہ بیچ کر بھی حج کرنے نہیں جا سکتا۔ جانا تو دور کی بات، اب تو حج یا عمرے کا سوچنا بھی غریب کے لیے ممکن نہیں رہا ہے۔

شکر ہے کورونا وائرس آ گیا۔ کچھ عرصے کے لیے ہی سہی، مسجد سے امیر غریب کی تمیز تو ختم ہوئی۔ اب کوئی امیر ہو کہ غریب، مسجد میں سب کا داخلہ برابر بند ہے۔ اب تو

؎ ایک ہی صف سے نکالے گئے ہیں محمود و ایاز
مسجد میں نہ کوئی بندہ ہے، نہ ہی کوئی بندہ نواز

خیر، حاجی صاحب سے مراد اب ایک ایسا توند زدہ آدمی ہے کہ جس کے پاس رزق کی فراوانی ہے۔ اور اس قدر فراوانی ہے کہ مسجد کے خطیب اور امام صاحب بھی اس کے رزق کے حلال ہونے کی گواہی اسی زور سے دینے کے لیے تیار ہیں کہ جس زور سے وہ اپنے رب کے ایک ہونے کی گواہی دیتے پھرتے ہیں۔ یعنی حاجی صاحب وہ شخص ہیں، کہ جن کے پاس سعودی عرب کا سرٹیفیکیٹ ہے جو یہ بتاتا ہے کہ جناب یہ آدمی محض دکھاوا نہیں کر رہا ہے، اس کے پاس باقاعدہ اتنے پیسے ہیں کہ ہم اس کے لیے حرم کے دروازے کھولتے ہیں۔

خیر، مسجد ہم یہ گمان لے کر گئے تھے کہ کورونا کے پیش نظر مسجد تقریباً خالی ہو گی۔ مگر دروازے پر پہنچے تو حیران رہ گئے۔ مسجد کے دروازے تک نمازی موجود تھے۔ ہم نے چونکہ ماسک اور دستانے پہن رکھے تھے، اور وضو گھر سے کر کے گئے تھے، بے دھڑک دروازے سے داخل ہو گئے۔ سوچا کہ اگر کوئی ہمیں انجان جان کر روک کر پوچھے گا کہ میاں کدھر چلے؟ تو دھڑلے سے کہہ دیں گے کہ جس خدا کا یہ گھر ہے، اسی کے ہم بندے ہیں، اور اسی سے ملنے آئے ہیں۔

اندر داخل ہوئے تو ہماری حیرت جو کہ دروازے کے باہر گم ہو چکی تھی، واپس لوٹ آئی۔ معلوم ہوا کہ ہمارا پہلا گمان ہی درست تھا۔ مسجد میں نمازی وہی فجر کی جماعت والے ہی تھے، بس آپس میں اس قدر دوری اختیار کیے ہوئے تھے کہ جیسے ہر کسی کا خدا ایک مگر نماز الگ ہے۔ اسی وجہ سے بات دروازے تک آن پہنچی تھی۔ سب کے منہ پر ماسک نہیں تھے۔ اب ہمیں احساس ہوا کہ ہم نے بھی ماسک کورونا سے ڈر کر نہیں پہنا ہوا، بلکہ ہمیں ڈر تھا کہ ماسک کے بغیر داخل ہونے کی کوشش کی تو گارڈ اندر جانے نہیں دے گا۔ شاپنگ مالوں پر تو ایسا ہی دیکھا تھا۔ پھر شکر کیا کہ ماسک پہن ہی آئے ہیں۔ کیونکہ خدا کو منہ دکھانے کے کی ہمت ویسے بھی نہیں ہو رہی تھی۔

مسجد میں خطیب صاحب کا بیان، اور بیان پر شاعرانہ مجالس جیسی واہ واہ آج نظر نہیں آ رہی تھی۔ خطیب صاحب قدرے رنجیدہ معلوم ہو رہے تھے۔ کم بولے، مگر گرج چمک کے ساتھ بولے۔ مسلمانوں کے ایمان، اور حکومت کے انتظام کی خوب خبر لی۔ لوگوں کو ڈرایا اور دھمکایا کہ اللہ کے سوا کسی سے حاجت روائی اختیار نہیں کی جا سکتی۔ کورونا یہودی سازش ہے۔ اور مسجدوں کا خالی کروانا اس کا مقصد۔ خبر دار، رب کے در کے سوا کسی کے پاس کچھ بھی نہیں ہے۔

خطیب صاحب کی ایسی جامع اور مدلل باتیں سن کر بے اختیار ہمارے منہ سے نعرہ تکبیر بلند ہونے ہی والا تھا کہ اچانک وہ خطیب صاحب جو ہمیں درس دے رہے تھے کہ حاجت روائی صرف خدا کی طرف منسوب ہو، وہ خود ہم سے ہی چندہ مانگنے لگ گئے۔ پھر بقیہ آدھا بیان اس بات پر گزرا کہ مسجدیں تو مخیر حضرات کے دم سے چلتی ہیں۔ حاجی صاحب نے ہاتھ اٹھا کر چندے کا اشارہ دیا، خطیب صاحب نے رب کے بعد حاجی صاحب کی تعریفوں کے پل باندھے، جماعت کرائی، اور آرام فرمانے چلے گئے۔ (اس خاکے کا حکومت سے مماثلت اختیار کر لینا فقط اتفاق ہے، اور کچھ بھی نہیں ) ۔

بالآخر وہ وقت آ گیا جس کا ہمیں انتظار تھا۔ اب مسجد میں ہمارے اور مسجد کے مالک، یعنی رب کے علاوہ کوئی بھی نہ تھا۔ ہم نے بھی پھر خود کو اقبالؔ سمجھ کر خوب شکوہ سرائی کی۔ کشمیر کا دکھ کھولا تو کبھی فلسطینیوں کی آہیں۔ کبھی گھر کی آگ کا ذکر چھیڑا تو کبھی یہ ناراضی کہ تو تو کربلا میں بھی خاموش تماشائی بنا رہا۔ ہمارے آنسو تھے، ہماری اقبال والی روح، اور مسجد کی چار دیواریں۔ شکر ہے خطیب صاحب نہیں تھے۔ ورنہ کافر کہہ کر کم سے کم گردن تو ہماری اتار کر مسجد کے باہر لازماً لٹکاتے۔

خیر، خدا تو خدا ہے۔ اس کا انداز ہی نرالا ہے۔ ہم اپنی یک طرفہ گفتگو میں مگن تھے کہ مسجد کا دروازہ کھلا، اور حاجی صاحب کی کرخت آواز برآمد ہوئی، ”مولوی!“ مسجد کے ایک طرف جو امام صاحب کا کمرہ ہے، فوراً امام صاحب اس میں سے برآمد ہوئے اور گرتے پڑتے بھاگ کر ”جی حاجی صاحب“ کی آواز لگاتے ہوئے دروازے کی طرف روانہ ہو گئے۔ حاجی صاحب نے نہ جانے کیا کہا، امام صاحب نے کہا، ”میں ابھی لا دیتا ہوں،“ اور روانہ ہو گئے۔ فوراً ہماری عقل پر پڑا پردہ کھلا، اور سمجھ گئے، کہ ایک خدا کو ماننے والے ایک نقطے پر متفق کیوں نہیں ہوتے۔

قصور خدا کا، یا خدا کی مسجد کا نہیں، قصور مسجد کے امام کا ہے۔ قصور معاشرے کے استاد کا ہے۔ قصور ہمارے کمزور ایمان کا ہے۔ ہمیں ایک خدا اور خاتم النبیین ﷺ کی ساری باتیں امام اور خطیب بتایا کرتے ہیں۔ ان صاحبان کی تنخواہ مقرر ہوتی ہے، جسے مساجد کی انتظامیہ ادا کرتی ہے۔ حیف، یہ لوگ اکثر خود کو اللہ کے بجائے اس انتظامیہ میں موجود حاجی صاحبان کا نوکر سمجھ بیٹھتے ہیں، اور ان کے آگے نوکروں سا رویہ ہی رکھتے ہیں۔

انہیں لگتا ہے یہ مسجد کی بلڈنگ یا حاجی صاحب کے محتاج ہیں۔ مسجد کی بلڈنگ جماعت کے لیے امام کی محتاج ہے۔ امام جماعت کے لیے مسجد کی بلڈنگ کا محتاج نہیں ہے۔ امام جہاں مصلیٰ بچھا لے، وہیں جماعت قائم ہو سکتی ہے۔ ہمارے بچے ان کی ایسی صورت دیکھ کر کیوں کر ان کی کسی بات کا اعتماد کریں گے؟ کیوں کر وہ خدا پر یقین محکم اور عمل پیہم اختیار کریں گے؟ اداروں کے احاطے اور کلاس روم اساتذہ کے محتاج ہیں، اساتذہ تو علم کے وہ چشمے ہیں، جہاں پھوٹ بہیں، علم جاری ہو جاتا ہے۔

کشمیر میں، ایک معذور بچے کو دہشت گرد قرار دے کر بہیمانہ تشدد کے بعد شہید کر دیا گیا ہے۔ سینکڑوں خداؤں کو ماننے والے ایک نقطے پر جمع ہیں، مسلمانوں کو مار بھگاؤ۔ ایک خدا کو ماننے والے کب انتشار سے نکل کر مظلوموں کی مدد کریں گے؟ عربوں کی رقم کی مودی کے ساتھ تجارت کرنے والے کب سمجھیں گے کہ خدا ایک ہے، اور اس کا نام پیسہ نہیں ہے، اور وہ کسی چار دیواری میں نہیں رہتا ہے۔ وہ مظلوم کے بہتے آنسوؤں میں ہے۔ اس خدا کو حاصل کرنا ہے تو مظلوم کے آنسو گرنے سے بچانے ہوں گے، ناحق بہتا لہو اپنی پلکوں پہ رکھنا ہو گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *