سانس چلنے تک ساتھ چلنا ہے

دل ٹوٹ گیا ہے۔ آنکھیں سوکھ گئی ہیں۔ یوسف و یعقوب کے رب کی قسم، بھائی کنویں میں گرا آنے والے، بھیڑیے کو کھلا آنے والے، کربلا سے پہلے کربلا مچانے والے، سب دندناتے پھر رہے ہیں۔ پر یہ یوسف و حسین کے وارث صبر جمیل کی صدائیں بلند کرتے نہیں تھکتے۔ ان کی مائیں بہنیں ہیں کہ آج بھی پکارتی ہیں کہ خدا نے کوئی لمحہ راحت سے دور نہیں رکھا۔ کس مٹی کے بنے ہیں یہ لوگ؟ کون

Read more

ارشد شریف کا اپنی ماں کے نام خط

اماں، سلام۔ اماں، بھائی خوش ہے، ابا بھی بہت راضی ہیں۔ مجھے آتے ہی گلے لگایا اور کہنے لگے ابھی بیٹھے تمہاری ہی بات کر رہے تھے۔ یوں لگ رہا تھا جیسے میرا ہی انتظار کر رہے تھے۔ میں نے پوچھا بابا آپ کو کیسے پتہ تھا میں آ رہا ہوں؟ کہنے لگے، بیٹا جن کی مائیں دلیر ہوں، وہ سچ کے لیے سر کٹا تو سکتے ہیں سر جھکا نہیں سکتے۔ اور پھر تم تو زیادہ دیر ماں کے

Read more

کیا شرم سے ڈوب مرنے کا وقت آ گیا ہے؟

ہم نے کئی بار سڑکوں پر ٹائر جلتے دیکھے۔ آنسو گیس کی شیلنگ، بہیمانہ گولیوں کی بوچھار، بچوں کی گود میں ماؤں کا قتل، لاٹھیوں کی بوچھاڑ، عوام اور ریاست کی رسہ کشی، جلاؤ گھیراؤ، اور سر بکف ”مردان حر“ ۔ کئی بار دیکھا کہ جن عوام کے حفظ و امان کا حلف ریاست کے مستکبرین اٹھاتے رہے ہیں، اسی عوام پر زمین تنگ کرنے کی ریت بھی نبھاتے رہے ہیں۔ مگر عوام ہر حال میں ناموس رسالت کے نام

Read more

کامیاب نوجوان

آنکھیں بند کیجیے، من کا شور خاموش کیجیے، غور کیجیے، فرض کیجیے، آپ بالآخر کامیاب ہو گئے ہیں۔ زندگی بیس سال آگے آ گئی ہے۔ تمام رنجشیں، تکلیفیں، آزمائشیں ختم ہو چکی ہیں۔ اور آپ ایک کامیاب انسان بن چکے ہیں۔ آگے پڑھنے سے پہلے کسی کاغذ پر ذرا لکھ ڈالیے کہ ذہن میں کیا خاکہ بنا ہے۔ آپ خود کو کیسا دیکھ رہے ہیں؟ پہناوا کیا ہے، سواری، گھر، ہمسفر، سب کیسا نظر آ رہا ہے؟ اور یہی مشق

Read more

بچوں کی تربیت کیسے کریں

جب آپ بولتے ہیں، زیادہ سے زیادہ آپ وہی بول سکتے ہیں جو آپ جانتے ہیں۔ مگر جب آپ سنتے ہیں، عین ممکن ہے آپ کچھ ایسا سن لیں جو پہلے آپ کے علم میں نہ تھا۔ یوں آپ کے علم میں، فہم میں، اور ممکنہ طور پر فراست میں فراخی آ جاتی ہے۔ اور یہی بچوں کی تربیت کا کلیہ ہے۔ والدین ہمیشہ چاہتے ہیں، ان کا بچہ انجنیئر، ڈاکٹر، پائلٹ بنے۔ اس کے مستقبل کی فکر کرتے ہیں۔

Read more

ضدی بچوں کا علاج

کچھ زمانہ پہلے تک اکثر مغرب یا عشاء کی نماز کے بعد لوگ امام صاحب کے پاس دم درود کے لیے بیٹھ جایا کرتے تھے۔ چھوٹے موٹے درد اور تکلیف کے لیے بس دعا ہی سے دوا کا کام لے لیا جاتا تھا۔ ایک روز ہم یونہی عصر کے بعد قاری صاحب کے پاس بیٹھ گئے کہ اپنی نظریاتی الجھنوں کا کچھ مداوا کیا جا سکے۔ مسجدوں کے خطباء سے اختلافی سوالات اس زمانے میں بھی شدید برہمی کا سبب

Read more

کیا ڈاکٹر عبدالقدیر خان ہمارے ہیرو نہیں؟

لکھاری منٹو کے ادبی مذہب کا ہو یا یوسفی کے، معاشرے کا آئینہ ہوتا ہے۔ معاشرے میں دکھ، تکلیف، رنج دیکھے گا تو سطروں میں بھی شادیانے نہیں بجا سکے گا۔ پھر وزیراعظم چاہے کتنا ہی ہینڈسم ہو، ادارے کتنے ہی وفا شعار ہوں، لکھاری رنج ہی لکھے گا۔ کتنے ہی وظیفے پڑھ پھونکیے، شراب کی بوتل سے دودھ نہیں نکلے گا، آگ راحت نہیں بخشے گی، نیم شہد نہیں اگلے گا۔ آپ جیسا بیج بوئیں گے ویسا ہی پھل

Read more

خط بنام وزیر اعظم عمران خان

دنیا کے خوبصورت ترین اور بہترین کتوں کے مالک، ہمارے ہینڈسم اور ایماندار وزیر اعظم جناب محترم عمران خان نیازی صاحب کی خدمت میں اس بے وجہ اور بے شعور عوام کے ایک بے نام باسی کا سلام بصد احترام عرض ہے۔ جناب والا غالب کہہ گئے کہ خط آدھی ملاقات ہے۔ مگر ٹویٹر پر آپ کے برجستہ ملفوظات کے باعث بندۂ نا چیز کو لگتا ہے کہ اب ملاقات بذریعہ خط آپ کی حکومت کی طرح آدھی سے بھی

Read more

کشمیری نوجوان کا سوال اور میری بے بسی

ہم بچپن سے کشمیر میں ہونے والی بربریت کا سنتے آئے ہیں۔ لڑکپن میں ہمارا بھی خون کھولتا تھا۔ جی چاہتا تھا بھارتی فوج کی کھال کھینچ لیں مگر ہم بڑے ہو گئے۔ چار کتابیں پڑھیں، یونیورسٹی میں روشن خیال پروفیسروں سے ملے تو معلوم ہوا ہمارے اپنے ہاتھ بھی صاف نہیں ہیں۔ ٹی وی شوق سے دیکھتے تھے۔ علم بغاوت نامی گیت سنتے تھے۔ 9 بجے کے خبرنامے میں بھارت کا ظلم دیکھتے تھے۔ خود کو کشمیری بہنوں کا

Read more

ایک حجام کا پاکستان تعلیمی نظام پر تبصرہ

کڑوی بات یہ تھی کہ ہمارے ہاں تعلیم کا مطلب سوائے پچاس سال پرانی کتابوں کے ازبر کر لینے کے کچھ بھی نہیں ہے۔ جامعات میں تعلیم کے نام پر فقط فیسیں بٹوری جا رہی ہیں۔ بازار سے پیسے دے کر نقلی ڈگری خریدنا گناہ کبیرہ سمجھا جاتا تھا مگر پورے ملک کی یونیورسٹیوں کے طلبا جانتے ہیں کہ گزشتہ دو سمسٹرز میں، آن لائن تعلیم کے نام پر فقط مذاق کیا گیا ہے۔ پاس ہونے کی فقط ایک ہی شرط تھی، فیس کی ادائیگی۔ آپ کے پاس کمپیوٹر اور انٹرنیٹ نہیں بھی ہیں تو بھی کسی نہ کسی طرح آپ کو پاس کر دیا جائے گا۔

Read more

چار کتابیں پڑھنے والے لبرل: جاہل کون ہے؟

کچھ دوست ہمارے گزشتہ کالموں میں ابولکلام آزاد کا ذکر اپنی منشا کے برخلاف پا کر بہت سیخ پا ہوئے ہیں۔ آج کل سوشل میڈیا پر پھر سے یہ بار بار بتایا جا رہا ہے، یونیورسٹیوں میں اس کا پرچار کیا جا رہا ہے، ہم جیسوں کہ سمجھایا جا رہا ہے کہ ابوالکلام آزاد نے کہا تھا اگر پاکستان بنا تو مسلمانوں کے الگ ملک میں خرابیاں ہوں گی۔ مشرقی پاکستان الگ ہو جائے گا۔ حقوق کی پامالیوں کے علاوہ

Read more

وقت کی ریت

آپ کتنی ہی طاقت کے ساتھ مٹھی بند کر لیجیے، وقت کی ریت ہاتھوں سے پھسل ہی جاتی ہے۔ آپ بادشاہ ہوں، وزیر اعظم ہوں، کیوٹ ہوں، کتے پالتے ہوں، یا ورلڈ کپ جیت جائیں، آپ وقت کی ریت کو قید نہیں کر سکتے۔ آنکھیں بند کر لینے سے دھوپ چلی نہیں جاتی۔ اور دائروں میں بھاگنے سے فاصلے طے نہیں ہوتے۔ گزشتہ ہفتے ملک کی عدالتی تاریخ کے بہترین فیصلوں میں اضافہ ہوا۔ بالآخر ہمارے پسماندہ اسلامی ملک میں

Read more

دکھ کا اک اور باب

جب کفن سازوں کا کاروبار ترقی پذیر ہو، گور کن روزانہ مرغ مسلم کھاتے ہوں، جنازگاہیں آباد ہونے لگ جائیں، سمجھ لیجیے قوم کے افراد سے پہلے قوم کا ضمیر مر چکا ہے۔ جان جائیے کہ حکمران حکومت کے سوا سب کچھ کرنے کو تیار ہیں۔ مان لیجیے کہ معاشرے سے رحم کی صفت ختم ہو چلی ہے۔ سمجھ جائیے کہ برکات اٹھنے لگی ہیں۔ اور اس سب کا سبب ملت کے افراد ہیں۔

یہی دیکھ لیجیے۔ کشمیر سے برآمد ہونے والا دریائے سندھ ہر نگر خون دکھاتا گزر رہا ہے۔ مگر یہ دنیا داری کہ ہمارے ہاں اس پر آواز اٹھانا بھی مشکل نظر آنے لگا ہے۔ فرانس کے مسلمان بچوں کے ساتھ ہٹلر کے سے سلوک کی دہائی دیتیں وزیر صاحبہ کے بالوں میں ہر رنگ نظر آتا ہے، مگر کشمیر کا رنگ انہیں پسند نہیں۔ فرانس معافی کا مطالبہ کر سکتا ہے، ہم فرانس سے معافی کے مطالبہ گروں کا مطالبہ بھی چھپاتے پھرتے ہیں۔

Read more

ہم اللہ کو کم از کم اپنے جیسا ہی مان لیں

سلیم طویل سفر طے کر کے جب درگاہ پہنچا تو بابا جی کو سینکڑوں مریدوں میں بیٹھا پایا۔ پاس جا کر سلام عرض کرتے ہی بولا، حضور میں تین سو میل کا سفر طے کر کے آیا ہوں۔ آپ کا بہت نام سنا ہے۔ سنا ہے آپ کھوٹے کو کھرا، کوئلے کو ہیرا، اور ذرے کو ستارہ بنا دیتے ہیں۔ مجھ پر بھی کچھ نظر کیجئے، کوئی نصیحت کوئی فصیحت عطا فرما دیجئے۔

Read more

کامیابی کا راز

آپ سب نے کچھوے اور خرگوش کی کہانی سن رکھی ہے۔ سب جانتے ہیں کہ خرگوش راستے میں سو جاتا ہے اور کچھوا ریس جیت جاتا ہے۔

مگر ٹھہریئے۔ یہیں رک جائیے۔ غور کیجئے۔ تخیل کے گھوڑے کو واپس لے آئیے۔ ذرا ریس شروع ہونے سے پہلے، خط آغاز پر واپس آئیے۔ ابھی ریس شروع نہیں ہوئی۔ کسی کو معلوم نہیں کہ خرگوش راستے میں سو جائے گا۔ کچھوا اور خرگوش لکیر سے پیچھے کھڑے ہیں۔ آپ سب کچھوے اور خرگوش کی چال سے واقف ہیں۔ غور کیجئے اور اپنی امانت داری کے ساتھ فیصلہ کیجئے، کیا پورے جنگل کا کوئی ایک جانور بھی کچھوے کے جیتنے پر امید لگا سکتا ہے؟ ایسی بھی کوئی دنیا، کوئی کائنات ہے جہاں کچھوا چیت سکے؟

Read more

میں نے ہر آب رواں گرتا ہوا دیکھا ہے

ایک عزیز کو نعش کی شناخت کے لئے ہسپتال جانا پڑا۔ سرد خانے کے دروازے پر ہی دو افراد نے اسے گھیرنے کی کوشش کی۔ پہلے نے کارڈ تھما کر کہا ہمارے ہاں قبر کشائی اور تدفین کا کام تسلی بخش کیا جاتا ہے۔ دوسرے نے کہا پھول ہم سے بہتر کوئی بھی قبروں پر نہیں چڑھاتا۔ ہم تو قبر پر معمولی پیسوں میں اتنے پھول ڈال دیتے ہیں کہ قبر کا نشان بھی نظر نہیں آتا۔ ہمیں غصہ آ

Read more

ماں: میکسم گورکی سے ساجد گوندل تک

ساجد گوندل کی ماں رو رہی ہے۔ آسمان کانپ رہا ہے کہ نہیں، ارباب اختیار بت بنے بیٹھے ہیں۔ مان لیا کہ گوندل کو ریاست کے کسی ادارے نے اغوا نہیں کیا۔ مان لیا کہ حساس ادارے بے حس نہیں، بلکہ انتہائی حساس ہیں۔ اتنے حساس کہ کوئی ”اوئے“ کی آواز بھی لگا دے تو ان کا دل دکھ جاتا ہے، اور آنسو آ جاتے ہیں۔ یہ ہر وقت قوم کی خدمت میں رہتے ہیں۔ جان بھی دیتے ہیں۔ جان

Read more

ناصر خالد: بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رت ہی بدل گئی

ناصر خالد کی والدہ ابھی 30 سال سے بھی کم عمر تھیں کہ ایک دن اچانک گھر کا کام کرتے ہوئے شوہر کی شہادت کی خبر آئی۔ شوہر پر دیوار گری، اور بیوہ پر آسمان۔ چار چھوٹے چھوٹے بچے گود میں لیے بے بسی کی تصویر بنی رہ گئی۔

Read more

کسی فوجی کو سویلین پر اور کسی سویلین کو فوجی پر کوئی فوقیت نہیں

زمانے کے ساتھ لفظوں کے مطلب بھی بدل جاتے ہیں۔ لفظ ”یار“ کو ہی دیکھ لیجیے۔ صدیق سے آشنا، آشنا سے دوست، اور دوست سے بے وقعت اور بے روح شناسائی کا سفر اس لفظ نے ہماری آنکھوں کے سامنے طے کیا۔ یہی حال ”قوم“ کا بھی ہے۔ کسی دور میں اس سے مراد امت لیا جاتا تھا۔ پھر یہ سرحد کی قید سے ہوتا ہوا ذات اور شغل روزگار بنتا گیا۔ ”فوقیت“ کا بھی یہی حال ہے۔ اگلے زمانوں

Read more

پشاور کی ماں کا، ملک کی مٹی کے نام خط

پاکستان 73 برس کا ہونے کو ہے۔ اس ملک نے ان تہتر برسوں میں بہت اتار چڑھاؤ دیکھے ہیں۔ کئی مارشل لاء لگے۔ سیاست کے نام پر کرپشن ہوئی۔ جاگیر داروں نے استحصال کیا۔ قوم کی ماں کو غدار وطن گردانا گیا۔ جگر کاٹ کر الگ ملک بنا دیا گیا۔ وزراء اعظم کے قتل ہوئے۔ عالمی طاقتوں کا میدان جدل سجا۔ اسی کی زمین سے اڑنے والے طیاروں نے اسی کی زمین پر بم برسائے۔ مگر کوئی بھی دکھ ہمیں

Read more

اللہ کی رضا

اختلاف اور مخالفت میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ اختلاف اخلاص کی نشانی ہے، جبکہ مخالفت دشمنی کا پہلا زینہ ہے۔ اگر کوئی اختلاف کا اظہار نہیں کر رہا، تو کم سے کم وہ اپنی سمجھ بوجھ کے مطابق بہترین مشورہ دینے کے بجائے خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے۔ یعنی اس کا ذہن، اس کا فکر اسے بتا رہا ہے کہ کچھ غلط ہو رہا ہے، مگر وہ اس قدر مخلص نہیں کہ ناراضی کا رسک لے کر اپنے وجدان

Read more

قائد اعظم کے لئے پاکستان کا مطلب یہ نہیں تھا

5 جولائی کو مزار قائد پر جانے کا اتفاق ہوا۔ رات کا وقت تھا۔ روشنیوں کے شہر میں اکثر آنکھیں روشنیوں سے چندھیا جاتی ہیں۔ دروازے تک بآسانی پہنچ گئے۔ دیکھا تو جناح ایک مرقد میں آرام کرنے کے بجائے دروازے کے باہر کھڑے افق پر چھائے اندھیرے کو تک رہے ہیں۔ خوب سنجیدہ سوچ میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ سیاہ شیروانی، سفید پائجامہ، جناح کیپ، اور ہاتھ پیچھے باندھے ہوئے، بڑے بوجھل معلوم پڑ رہے تھے۔ ہماری چشم تصرف کو

Read more

وصال یار ترا شوق کتنا بھاری ہے

”ایک شعر کہنے میں کتنا وقت لگتا ہے؟“ میں نے ایسے ہی گفتگو جاری رکھنے کے لیے پوچھ لیا۔ ”پتر، یہ شعر جو ابھی تو نے سن کر واہ واہ کی ہے، اسے لکھنے میں تریسٹھ برس لگے ہیں۔“ میں نے حیرت سے کہا، ”بابا جی، اتنی تو آپ کی عمر بھی نہیں ہے۔ ایسی کیا خاص بات ہے اس شعر میں کہ تریسٹھ برس ہی لگ گئے۔ اقبال تو چلتے پھرتے شعر کہہ جایا کرتے تھے۔ آپ کو اگر

Read more

دجلہ کنارے کا پیاسا کتا

ہم نے ہمیشہ جانا کہ لکھنا کتھارسس کا ایک بہترین ذریعہ ہے۔ جب بھی کسی کو پریشان حال دیکھا تو یہ مشورہ دیا کہ اپنے دل کا غبار کاغذ کو سونپ دو۔ دل جب بھی دھڑکتا ہے، خون بہتا ہے۔ یہ پر سوز خون لفظ بن کر ہمارے قلم کی سیاہی کے ذریعے کاغذ تک پہنچتا ہے۔ یوں ہم کسی حد تک کتھارسس کر پاتے ہیں۔ مگر عجیب معاملہ ہے، لگتا ہے دکھ بڑھ جانے سے شریانوں میں کلاٹ بن

Read more

وائٹ ہاؤس کے کتے

بوقت تحریر، امریکہ کے کئی شہروں میں کرفیو نافذ ہو چکا ہے۔ وجہ وہ لاکھوں مظاہرین ہیں، جو جارج فلوئیڈ کے قتل پر سیخ پا ہیں۔ جارج فلوئیڈ کو شک کی بنا پر گرفتار کیا جا رہا تھا۔ شک یہ تھا کہ اس نے دکان دار کو 20 ڈالر کا نقلی نوٹ تھمایا تھا۔ جارج فلوئیڈ کو گرفتاری کے دوران مبینہ مزاحمت کے پیش نظر زمین پر لٹا کر اس کی گردن پر گھٹنا رکھا گیا۔ یہ 8 منٹ 46

Read more

کتابیں پڑھنے کا نقصان

”علم کتابوں سے نہیں، استادوں سے حاصل ہوتا ہے“ ۔ ہم اس نو جوان کی بات سن کر سمجھنے کی کوشش میں تھے کہ وہ دوبارہ گویا ہوا، ”آپ مسلمان ہیں۔ آپ قرآن کے ہر حرف پر ایمان رکھتے ہیں۔ آپ کو یقین ہے کہ یہ اللہ کا کلام ہے اور اس میں جو بھی لکھا ہے، وہ حق اور سچ ہے۔ پھر آپ غور کیوں نہیں کرتے کہ اسی قرآن میں اللہ کہتا ہے کہ اس قرآن کو پڑھ

Read more

خدا کہاں ہے؟

سینکڑوں خداؤں کو ماننے والے آج ایک نقطے پر متفق ہیں۔ ایک خدا کو ماننے والے کیوں منتشر ہیں؟ یہ سوال جب سے سنا ہے، پریشانی کے مارے قلم اٹھانے کی ہمت نہیں ہو رہی۔ جواب کے لیے خدا کے گھر کا رخ کیا۔ ہمارے ہاں خدا کا گھر بنام مسجد ایک ایسے احاطے کو کہتے ہیں جہاں پیسے والوں کی اجارہ داری ہے۔ سڑک پر اور ہسپتال میں پھر بھی شاید امیر غریب کی تفریق میں کوئی خیانت ہو جاتی ہو، مگر ہمارے ہاں مساجد میں امیر غریب کی تمیز کا خوب خیال رکھا جاتا ہے۔ حاجی صاحب کے لیے پہلی صف میں اے سی کے ساتھ، جبکہ غربا کے لیے آخری صف میں جگہ مختص ہے۔ حاجی صاحب جلدی آئیں یا دیر سے، ان کی جائے نماز اولین صفوں میں ہی ہے۔ غریب چاہے موذن سے بھی پہلے آ جائے، امرا سے آگے جگہ حاصل نہیں کر سکتا۔

Read more

کاروبار کیسے کریں

مرشد ایک روز مریدوں میں بیٹھے ہوئے تھے، اچانک ایک مرید سے سوال پوچھا، حاجی صاحب، بچے کو کتنی سمجھ آ جائے تو وہ کاروبار کے قابل ہو جاتا ہے۔ حاجی صاحب بولے، حضور، بس حساب کتاب آ جائے تو کاروبار کر سکتا ہے۔ مرشد جی نے پوچھا، حاجی صاحب، کتنا حساب کتاب آجائے تو کاروبار کر سکتا ہے؟ حاجی صاحب لاجواب تھے۔ مرشد مسکرائے اور بولے، حاجی صاحب، بچہ بس 2 + 2 = 4 سمجھ جائے تو کاروبار

Read more

کرونا وائرس کا انٹرویو

ہم انٹر ویو لینے کے لیے کہاں جائیں، اسی سوچ میں گُم تھے کہ ہر گلی، ہر کوچے سے کرونا کا شور سنائی دینے لگا۔ سو زیادہ دور جانے کے بجائے، قریبی محلہ میں ہی ایک گھر میں ملاقات کے لیے چلے گئے۔ میڈیا کے ساتھیوں نے کرونا سے اِس قدر ڈرایا ہوا ہے کہ ہم تو کیا، ہمارے کیمرے اور مائیک بھی پلاسٹک میں لپٹے ہوئے تھے۔ داخل ہوتے ہی عادتًا سلام عرض کرتے کرتے رُک گئے۔ ارے بھائی،

Read more