اکیسویں صدی کے اکیس سبق: موزارت بمقابلہ مشین

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کم ازکم فی الحال مصنوعی ذہانت اور روبوٹ ٹیکنالوجی سے ساری صنعتوں کے مکمل طور پر ختم کرنے کا امکان نہیں ہے۔ صرف چند ایک نوکریاں جنہیں چلانے کے لیے خاص مہارت کی ضرورت ہوتی ہے بس انہیں ہی خود کار کیا جا ئے گا۔ لیکن انسانوں کو معمول کی ایسی نوکریوں میں مشینوں سے بدلنا مشکل ہوگا۔ یہ ایسی نوکریاں ہوں گی جو بیک وقت مہارت کا وسیع پیمانے پر استعمال کیے جانے کی بات کرتی ہیں اور اس میں غیر متوقع منظرناموں سے نمٹنا شامل ہے۔

مثال کے طور صحت کی دیکھ بھال کا شعبہ لے لیں۔ اکثر ڈاکٹر دستیاب معلومات پر فوکس کرتے ہیں، وہ ان طبی اعداد و شمار کا تجزیہ کرتے ہیں اور مرض کی تشخیص کرتے ہیں۔ اس کے برعکس، تکلیف دہ انجکشن لگانے، مرہم پٹی کو بدلنے یا پھر غصے بھرے مریضوں کو سنبھالنے کے لیے دماغی اور جذباتی صلاحیتوں کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ اس لیے شاید ہمارے پاس قابل اعتماد نرس روبوٹ رکھنے سے کئی دہائیاں پہلے ہی اسمارٹ فون پہ مصنوعی ذہین فیملی ڈاکٹر موجود ہوگا۔

انسانی صحت کی دیکھ بھال کرنے کی صنعت (جو بیماروں، نوجوانوں اور بوڑھوں کی نگہداشت کرتی ہے ) طویل عرصے تک انسانی ہراول دستہ بنے رہنے کی قوی امید ہے۔ بلاشبہ جوں جوں لوگ زیادہ لمبے عرصے تک زندہ رہتے ہیں اور ان کے بچے کم ہوتے ہیں تو ان بوڑھوں کی دیکھ بھال شاید انسانی لیبرمارکیٹ میں تیزی سے ترقی کرنے والے شعبوں میں سے ایک ہوگی۔

دیکھ بھال کے شعبہ کے ساتھ ساتھ تخلیقی صلاحیتوں کے میدان میں بھی آٹو میشن کے لیے خاص طور پر مشکلات کھڑی ہوتی ہیں۔ موسیقی کی فروخت کے لیے ہمیں مزید انسانوں کی ضرورت نہیں ہے۔ بلکہ ہم اسے آئی ٹی ٹیونز اسٹور سے براہ راست ڈاؤن لوڈ کر سکتے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ موسیقار، گلوکار اور ڈی جے ابھی بھی انسان ہی ہیں۔ موجود ہ وقت میں، ہم ان تخلیقی صلاحیتوں پر صرف نیا میوزک تیار کرنے کے لیے انحصار نہیں کرتے ہیں بلکہ پہلے سے موجود موسیقی کی وسیع رینج میں سے موزوں ترین انتخاب کے لیے انہیں کی مدد لیتے ہیں۔

اس کے باوجود آخر کار کوئی بھی کام مکمل طور پر آٹو میشن سے محفوظ نہیں رہے گا۔ حتی کہ آرٹسٹ حضرات کو بھی اس سلسلے میں غور کرنا چاہیے۔ جدید دنیا میں آرٹ کا تعلق انسانی جذبات سے جڑا ہوتاہے۔ ہم سوچتے ہیں کہ یہ فنکار اندرونی نفسیاتی قوتوں کو زیر استعمال لاتے ہیں اور فنون کا مقصد ہمیں ہمارے جذبات کے ساتھ جوڑنا ہے یا پھر ہمارے اندر نئے احساسات کو پیدا کرتا ہے۔ جس کے نتیجے میں جب ہم آرٹ کی قدر کرنے کی بات کرتے ہیں تو ہم سامعین پر اس کے جذباتی اثرات کی بنا پر فیصلہ کرتے ہیں۔ تاہم اگر فنون کو انسانی جذبات سے جوڑا جا تاہے تو اس وقت کیاہوگا جب الگورتھم اس قابل ہو جائے گا کہ وہ انسانی جذبات کو شیکسپیر، فریدہ کہلو یا بیونس سے بھی بہتر انداز میں سمجھنے لگے گا؟

بہرحال، جذبات کوئی صوفیانہ چیز کانام نہیں ہیں بلکہ یہ بائیوکیمیکل عمل کا نتیجہ ہیں۔ اس لیے وہ وقت دور نہیں ہے جب مشین لرننگ الگورتھم آپ کے جسم کے اوپر اور اندر سے سینسرز کی مدد سے بائیومیٹرک ڈیٹا کا تجزیہ کر سکتی ہے۔ جس کی بدولت اس بات کا تعین کرنا آسان ہو جائے گا کہ آپ کس قسم کی شخصیت کے مالک ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ آپ کے بدلتے مزاج اور اس بات کا اندازہ بھی لگایا جا سکے گا کہ کس قسم کا گانا (یہاں تک کہ موسیقی کی کون سی دھن) آپ پر کس قسم کے جذباتی اثرات چھوڑے گا۔

فنون کی تمام تر اقسام میں سے شاید موسیقی بگ ڈیٹا تجزیہ کے لیے سب سے زیادہ آسان عمل ہے کیونکہ اس کی ان پٹ اور آؤٹ پٹ دونوں ہی انتہائی ریاضیاتی اصولوں کی مانند ہوتی ہیں۔ ان پٹ آواز کی لہروں کی ریاضیاتی ترتیت کا نام ہے اور آؤٹ پٹ نیوراتی اتار چڑھاؤ کے الیکٹروکیمیکل ترتیب کی مانند ہیں۔ چند دہائیوں کے اندر ایک الگورتھم جو موسیقی کے لاکھوں سے زائد تجربات سے گزرتا ہے، وہ اس قابل ہو سکتا ہے کہ وہ پتہ چلا سکے کہ کس طرح سے مخصوص ان پٹ مخصوص آؤٹ پٹ کو جنم دے سکتی ہے۔

فرض کریں کہ آپ کی اپنے بوائے فرینڈ کے ساتھ لڑائی ہوگئی ہے۔ اس سے آپ کے ساؤنڈ سسٹم کے انچارج الگورتھم کو فوری طور پر آپ کے اندرونی جذباتی ہیجان کا پتہ چل جائے گا۔ اس وقت الگورتھم بالعموم انسانی نفسیات اور بالخصوص آ پ کی نفسیات کو مدنظر رکھتے ہوئے ایسا گانا چلا دے گا جس سے آپ کے تھمے ہوئے جذبات کو باہر نکلنے کا موقع ملے گا اور آپ اپنی افسردگی کو کسی حدتک سنبھالنے کے قابل ہوجائیں گے۔ شاید یہ مخصوص گانے باقی لوگوں کے لیے موزوں نہ ہوں مگر یہ آپ کی شخصیت کے مطابق ہوں گے۔ اپنی ذات سے گہرائی میں جا کر رابطہ کروانے کے بعد الگورتھم وہ گانا چلائے گا جس سے آپ کے خوش ہونے کا امکان ہے۔ شاید آپ کے لاشعور کو بچپن کی کسی ایسی خوشگوار یادوں سے جوڑ دیتا ہے جس کے بارے میں بظاہر آپ کو بھی خبر نہیں۔ کسی بھی انسانی ڈی جے سے اس طرز کی مصنوعی ذہانت کا مقابلہ کرنے کی امید نہیں ہے۔

آپ کو اعتراض ہو سکتا ہے کہ مصنوعی ذہانت آپ سے اتفاق سے کوئی نیا اور دلنشیں ہاتھ لگ جانے والے خوبصورت گانے یا دھن کے موقع کو چھین لے گا اور آپ کی سابقہ پسند اور ناپسند کے حساب کتاب کے مطابق ڈیٹا کی مدد سے ہمیں انتہائی تنگ خول میں بند کردے گا۔ موسیقی کے نئے ذوق اور انداز کو دریافت کرنے کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ یہ تو کوئی مسئلہ ہی نہیں ہے۔ اس کا سادہ سا جواب یہ ہے کہ آپ الگورتھم کو اس طرح ایڈجسٹ کر لیں کہ وہ آپ کے لیے جو بھی ڈیٹا تلاش کرے اس میں سے پانچ فیصد سرچ مکمل طور پر کسی سابقہ معلومات سے مبرا ہو۔

یقین کریں الگورتھم آپ کے سامنے غیر متوقع طور پر ’انڈونیشی گیملان کا جوڑا‘ ، ایک ’روسینی اوپرا‘ کے تازہ ترین ہٹ گانوں کی ریکارڈنگ نکال دے گی اور یوں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ آپ کے ردعمل کی نگرانی کرتے ہوئے مصنوعی ذہانت بے ترتیبی سے کام کرنے کی مثالی سطح کا تعین کر سکتی ہے، جو بنا کسی جھنجھٹ کے ریسرچ کے عمل کو بہتر بنادے گا۔

ایک ممکنہ اعتراض یہ ہو سکتا ہے کہ یہ واضح نہیں ہے کہ الگورتھم اپنا جذباتی مقصد کیسے قائم کر سکتاہے؟ یعنی اگر آپ کی اپنے بوائے فرینڈ سے لڑائی ہوگئی ہے تو اب الگورتھم کا مقصد آپ کو افسردہ کرنا ہے یا خوش کرنا؟ کیا یہ آنکھیں موندھ کر اچھے ’جذبات‘ اور ’برے جذبات‘ کے طے کردہ سخت پیمانوں پر مشتمل ہوگا؟ شاید زندگی میں ایسے مواقع بھی آئیں جب دکھ محسوس کرنا اچھی بات ہو؟ یقیناً یہی سوال انسانی موسیقاروں اور ڈی جے کے لیے بھی کیا جاسکتاہے۔ لیکن پھر بھی الگورتھم کے پاس ان پہیلیوں کے بہت سے دلچسپ حل ہیں۔

اس کا ایک آپشن اسے صرف صارف پہ چھوڑ نا ہے۔ یعنی آپ جس طرح چاہیں اپنے جذبات کا اندازہ کر سکتے ہیں اور الگورتھم آپ کے حکم کی تعمیل کرے گا۔ اب یہ آپ پہ منحصر ہوگا کہ آپ اپنی ناکامی کے احساس کو محسوس کرتے رہیں یا خوشی سے اچھلیں کودیں، الگورتھم دونوں صورتوں میں انتہائی سرعت رفتاری سے آپ کی سوچ کی پیروی کرے گا۔ بلاشبہ الگورتھم آپ کو واضح طور پر آگا ہ کیے بغیر آپ کی خواہشات کی تعمیل کرنا سیکھ سکتا ہے۔

اس کے متبادل آپشن کے طور پر اگر آپ کو خود پر بھروسا نہیں ہے تو آپ جس ماہر نفسیات پر بھروسا کرتے ہیں، الگورتھم کو اس ماہرنفسیات کے حکم کی پیروی کرنے کی ہدایت کر سکتے ہیں۔ اگر آپ کا بوائے فرینڈ آپ کو پریشان حال چھوڑ دیتا ہے تو الگورتھم پانچ مستند طریقوں سے آپ کے غم کو کم کرنے کی کوشش کرے گا۔ پہلی کوشش میں وہ آپ کے ذہن کو اس حقیقت کو قبول کرنے والا بنانے کی تگ و دو کرے گا کہ جو ہوگیا سو ہوگیا۔ اس لیے وہ آپ کو بوبی فیریز کا گانا ”ڈونٹ ووری، بی ہیپی“ سنائے گا، دوسری کوشش میں وہ آپ کے غصے کو باہر نکالنے کے لیے اظہار کا راستہ مہیا کرے گا اور آپ کو الانیس موریسیٹ کا گانا ”یو آؤٹا نو“ سنائے گا، تیسری کوشش میں وہ آپ کا حوصلہ بڑھائے گا اور آپ کو جیک بریل کا گانا ”نی می کیوٹ پاس“ سنا کر سودے بازی پر اکسائے گا، چوتھی کوشش میں پال ینگ کا گانا ”کم بیک اینڈسٹے“ سنائے گا، ایڈلی کے ”سم ون لائک یو“ اور ”ہیلو“ کی طرح آپ کو مایوسی کے گڑے میں گرادے گا اور پھر آخر کار آپ کو اس صورتحال کو قبول کرنے کے قابل بننے میں معاون بنتے ہوئے گلوریہ گانور کا گانا ”آئی ول سر وائیو“ سنائے گا۔

الگورتھم کے لیے اس سے اگلا قدم گانوں اور دھنوں میں خود ہی معنی خیز تبدیلیاں کرنا اور انہیں آپ کی پسند کے مطابق ڈھالنا ہے۔ عین ممکن ہے کہ آپ ایک چھوٹی سی مخصوص خامی کی بنا پر ایک شاندار گانے کو پسند نہ کر رہے ہوں۔ الگورتھم اس بات کو جانتا ہے، کیونکہ جیسے ہی آپ گانے کا وہ غصہ دلانے والا حصہ سنتے ہیں آپ کا آکسی ٹوسن تھوڑا سا کم ہوجاتا ہے ۔ اس لیے الگورتھم ان غصہ دلانے والی دھنوں یا الفاظ کو دوبارہ لکھ سکتا ہے یا اس میں ترمیم کر سکتا ہے۔ آخر کار، الگورتھم انسانوں کے جذبات پر کھیلتے ہوئے پوری دھنیں تحریر کرنا سیکھ جائے گا۔ الگورتھم آپ کا بائیومیٹرک ڈیٹا استعمال کرتے ہوئے، بالخصوص آپ کے لیے دھنیں بھی ترتیت دے سکتا ہے۔

اکثر یہ کہا جاتا ہے کہ لوگ خود کو فنون کے ساتھ اس لیے جوڑتے ہیں کیونکہ انہیں اپنی ذات کا عکس اس میں ملتا ہے۔ شاید یہ حیران کن اور کسی حد تک خطرناک نتائج کا باعث بنے۔ اگر یہ کہا جائے کہ فیس بک آپ کے بارے میں مکمل جانکاری رکھنے کی بنیاد پر آرٹ بنانا شروع کر سکتا ہے، تو یہ کہنا غلط نہ ہوگا۔ اگر آپ کا بوائے فرینڈ آپ کو چھوڑ دیتا ہے تو فیس بک آپ کو اس مخصوص کمینے شخص کے بارے میں گانا سنائے گا، نہ کہ کسی ایسے اجنبی شخص کے بارے میں جس نے ایلینس مورسٹر یا ایڈیلا کا دل توڑا۔ یہاں تک کہ یہ گانا آپ کو آپ کے تعلق سے جڑے ان حقیقی حادثات کی یاد دلائے گا جن کے بارے میں دنیا میں کوئی اور نہیں جانتا ہے۔

یقیناً ذاتی نوعیت کا فن کبھی بھی گرفت میں نہیں آ سکتا ہے۔ کیونکہ عام لوگ ہٹ فلموں کو ترجیح دیتے رہیں گے (جنہیں ہر کوئی پسند کرتا ہے ) ۔ آپ دودوست کس طرح ایک دھن پر گاتے اور ڈانس کرتے ہو یہ آپ دونوں کے علاوہ کوئی بھی نہیں جانتا ہے۔ لیکن الگورتھم ذاتی کوششوں کے مقابلہ میں عالمی سطح کے کامیاب نمونوں میں زیادہ مہارت حاصل کر سکتاہے۔ بڑے پیمانے پر لاکھوں لوگوں سے حاصل کردہ بائیومیٹرک ڈیٹا بیس کا استعمال کر کے الگورتھم جان سکتا ہے کہ عالمی سطح پر ہٹ فلم بنانے کے لیے کون سے بائیوکیمیکل بٹن دبائے جائیں جس کی بدولت ڈانس فلور پر ہر شخص دیوانہ وار ناچنے لگے۔ اگر واقعی آرٹ انسانی جذبات کو متاثر کرنے کے بارے میں ہے تو انتہائی کم موسیقاروں کو الگورتھم کا مقابلہ کرنے کا موقع ملے گا، کیونکہ انسانی بائیوکیمیکل سسٹم کو سمجھنے والے اتنے بڑے نظام کا وہ مقابلہ نہیں کر سکتے ہیں۔

کیا یہ سب کچھ عظیم فن کا نتیجہ ہوگا؟ اس کا انحصار فن کی تعریف پر ہے۔ اگر خوبصورتی واقعتاسننے والے کے کانوں میں ہوتی ہے اور اگر صارف ہمیشہ درست ہوتاہے تو بائیومیٹرک الگورتھم تاریخ کا سب سے بہترین آرٹ تیار کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ ہاں اگر آرٹ انسانی جذبات سے کافی گہری چیز کا نام ہے؟ سچائی ہمارے بائیوکیمیکل کی حرکات و سکنات سے باہر کی بات ہے تو شاید بائیومیٹرک الگورتھم بہت اچھے فنکارنہیں بنا سکتا۔ لیکن بیشترانسان ایسا نہیں کرتے ہیں۔ فنون کی دنیا میں داخل ہونے اور بہت سے انسانی اداکاروں کو اپنی جگہ سے ہٹانے کے لیے الگورتھم کو فوری طور پر ’پرچائکوسکی‘ کو پیچھے چھوڑنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اگر وہ ’برٹنی سپیرز‘ کو ہی پیچھے چھوڑ دیں تو یہی کافی بات ہوگی۔

نوٹ: تحریر میں استعمال ہوئے الفاظ اور اصطلاحات کی مختصر وضاحت
موزارت: آسٹریا کے ایک موسیقار، جو اپنے دور کی تمام اقسام کی کلاسیکل دھنوں کے ماہر تھے

شیکسپئر: انگریزی شاعر، ڈرامہ نگار اور اداکار، اسے انگریزی زبان کا سب سے بڑا مصنف اور ڈرامہ نگار سمجھا جاتا ہے

فریدہ کہلو: میکسیکو کی ایک مصورہ، جس نے اپنے پورٹریٹ بنانے کے فن کے ذریعے شخصی شناخت، انسانی جسم اور موت جیسے موضوعات کو پیش کیا۔

بیونس: بیونس امریکی گلوکارہ، نغمہ نگار، ریکارڈ پروڈیوسر، ڈانسر اور اداکارہ ہیں
ایلینس مورسٹر: کینیڈا سے تعلق رکھنے والی امریکی گلوکارا، نغمہ نگار، ریکارڈ پروڈیوسر
ایڈیلا: امریکی گلوکارہ

چائیکوسکی: رومانوی دور کا روسی موسیقار، آپ پہلے موسیقار تھے جن کی موسیقی نے بین الاقوامی سطح پر دیر پا اثر قائم کیا

برٹنی سپئیرز: امریکی گلوکارہ، نغمہ نگار، رقاصہ اور اداکارہ

اس سیریز کے دیگر حصےجب آپ جوان ہوں گے تو آپ کے پاس کوئی روزگار نہیں ہوگایوول نوح حراری: اکیسویں صدی کے اکیس سبق (قسط نمبر6)۔
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *