ارطغرل سے عقیدت اور عثمانی سلطنت کا دوسرا چہرہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

برصغیر میں ترک ڈرامے ارطغرل کی مقبولیت دیکھ کر یاد آیا کہ عثمانی سلطنت سے ہماری محبت کوئی نئی بات تھوڑی ہے۔ اس سلطنت (جسے خلافت بھی کہا جاتا ہے ) کو بچائے رکھنے کی کوشش میں اپنے کئی بزرگوں نے خوب جان کھپائی ہے۔ جس وقت ہم پر انگریزوں کا قبضہ تھا اور عوام میں آزادی کے لئے زبردست اضطراب تھا اس وقت مسلمانوں کی قیادت کا ایک حصہ اسی سلطنت عثمانیہ کی فکر میں گھلا جا رہا تھا۔ اس سلطنت کی بحالی کے لئے دنیا کے باقی ملکوں کے مقابلے کہیں زیادہ شدت سے ہمارے یہاں مطالبات شروع ہوئے۔ اس پوری مہم کو تحریک خلافت کا نام دیا گیا۔ ہمارے کچھ قائدین کے ذریعہ مسلمانوں کو بتایا گیا کہ خلافت کو بچانے کی مہم میں شرکت ضروری ہے۔ حالات یہ تھے کہ اس وقت کے عینی شاہدین نے لکھا ہے کہ عورتوں نے اپنی چوڑیاں بالیاں تک خلافت کمیٹیوں کو سونپ دیں۔

اب ذرا سا اسی مرحلہ پر ٹھہرئیے اور بتائیے کہ کیا کبھی اس شدت کی کوئی تحریک مسلمانوں میں تعلیم کے فروغ کے لئے چلائی گئی؟ واقعہ یہ ہے کہ اس وقت برصغیر کے مسلمان اپنے مسائل سے اتنے فرصت میں نہ تھے کہ انہیں خلافت عثمانیہ کی بحالی جیسے کام پر لگایا جاتا۔ عثمانی سلطنت کوئی خلافت راشدہ بھی نہ تھی جس کے لئے جان لڑانا کوئی شرعی فریضہ ہو۔ یہ تو ایک سلطنت تھی جس کے زیر اثر دیگر علاقوں کے ساتھ ساتھ نجد و حجاز بھی تھے اور بس اسی لئے اس کو خلافت کا درجہ عطا فرما دیا گیا۔ یہ دیکھ کر حیرانی ہوتی ہے کہ مولانا ابوالکلام آزاد جیسا روشن فکر اسکالر اور لیڈر عثمانی سلاطین کو تمام مسلمانوں کا امام قرار دے دیتا ہے۔ اپنی کتاب مسئلہ خلافت میں مولانا فرماتے ہیں کہ ”سلطان سلیم اول کے عہد سے لے کر آج تک بلا نزاع سلاطین عثمانیہ ترک تمام مسلمانان عالم کے خلیفہ و امام ہیں“ ۔

مولانا سعید اکبر آبادی نے اپنی کتاب ’اسلامی تاریخ: مسلمانوں کا عروج و زوال‘ میں تفصیل سے لکھا ہے کہ کس طرح عثمانی سلطنت میں اسلامی قوانین کی کھلے عام خلاف ورزیاں ہوئیں۔ جس عثمانی سلطنت کو خلافت کا غلاف اڑھانے کے لئے مولانا آزاد جیسے افراد کتابیں لکھ رہے تھے اس سلطنت میں ذرا سا جھانک کر دیکھنے کی ضرورت ہے۔ یہ ہماری ترجیحات کا بحران ہی تو تھا کہ ہمیں اس عثمانی سلطنت کے لئے تحریک چلانے پر لگا دیا گیا جو اپنی عمومی روش میں بادشاہت سے قطعی مختلف نہ تھی۔ اس سلطنت کی شاہی روش اور عادتوں نے ہی اس کی بساط سمیٹنے میں اہم کردار ادا کیا۔ عثمانی سلطنت میں ہر ایک سلطان کے بعد اس کا بیٹا تخت کا وارث بنتا تھا اور دوسرے بھائی زیادہ اہل ہونے کے باوجود زہر کا گھونٹ پی کر رہ جاتے۔ کئی ایک نے دعویداری جتائی تو ان کی گردنیں اتار لی گئیں۔

سلطان محمد فاتح نے اپنے بھائی کو ڈبو کر مار ڈالا۔ وہ اتنے پر ہی نہیں تھمے اور اصول قائم کیا کہ جو کوئی اقتدار میں آئے وہ تخت کے دعویدار بھائیوں کو قتل کر دے۔ اسلامی اقدار تو چھوڑئیے معمولی انسانی اخلاقیات بھی اس اصول کا جواز نہیں بن سکتی لیکن شاہوں کے حکم جواز کے محتاج نہیں ہوا کرتے۔ بھائیوں کی گردن زنی کا سلسلہ عثمانی سلطنت نے خوب دیکھا۔ سلطان مراد ثالث نے اپنے پانچ بھائیوں کو اس اندیشے میں موت کے گھاٹ اتار دیا کہ وہ تخت کے دعویدار بن سکتے ہیں۔ مراد ثالث کا بیٹا اپنے ابا سے کئی قدم آگے نکل گیا۔ اس نے اپنے 19 بھائی اس لئے قتل کیے کہ کہیں وہ تخت کے دعویدار نہ بن جائیں۔

اس طالب علم کی یہ باتیں آپ کا منہ کڑوا کرنے کے لئے نہیں ہیں بلکہ گزارش یہ ہے کہ افراط وتفریط کو اپنے مزاج کا حصہ بنا لینا دانشمندی نہیں۔ سوشل میڈیا کے آئینہ میں دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ ارطغرل ڈرامہ دیکھنے کو بھی کچھ بھائیوں نے رمضان کی عبادات کا جزو سمجھ لیا ہے۔ تاریخی واقعہ کے طور پر ارطغرل یا کسی اور پر ڈاکیومینٹری یا سیریئل تیار کرنا ہرگز غلط نہیں لیکن کسی سلطنت سے عقیدت میں اتنا غلو بھی مناسب نہیں کہ کل جب اس کو اسلام کا نمائندہ مان کر کوئی سوالات کرنے شروع کرے تو ہمارے پاس نکلنے کی راہ ہی نہ ہو۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مالک اشتر ، دہلی، ہندوستان

مالک اشتر،آبائی تعلق نوگانواں سادات اترپردیش، جامعہ ملیہ اسلامیہ سے ترسیل عامہ اور صحافت میں ماسٹرس، اخبارات اور رسائل میں ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے لکھنا، ریڈیو تہران، سحر ٹی وی، ایف ایم گیان وانی، ایف ایم جامعہ اور کئی روزناموں میں کام کرنے کا تجربہ، کئی برس سے بھارت کے سرکاری ٹی وی نیوز چینل دوردرشن نیوز میں نیوز ایڈیٹر، لکھنے کا شوق

malik-ashter has 107 posts and counting.See all posts by malik-ashter

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *