EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

ٹرمپ امریکہ کے نواز شریف ہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

\"Amjadگزشتہ چند دنوں سے میڈیائی تبصرے اور سوشل میڈیا کے بے لگام گھوڑے پر سوار تبصرہ نگار آج کچھ ٹھنڈے پڑ گئے ہیں کیونکہ ان سب کی پیشن گوئیاں غلط ثابت ہوئی ہیں۔ پاکستان میں بہت سے لوگ سخت گیر موقف کی وجہ سے ٹرمپ کو امریکہ کا عمران خان قرار دے رہے ہیں۔ لیکن میرے خیال میں ٹرمپ امریکہ کے نواز شریف ہیں۔ عمران خان اور ٹرمپ شاید بیانات کی حد تک ملتے جلتے ہوں گے۔ لیکن کسی کاروباری شخصیت اور خاندان کا اس طرح سیاست میں آنا اور پھر اقتدار حاصل کر لینا شریف خاندان سے زیادہ مماثلت رکھتا ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام کو سمجھنے والا ایک عام سا طالب علم بھی دونوں خاندانوں کی مماثلت کو بہتر انداز میں سمجھ سکتا ہے۔ اس تناظر میں، میں ٹرمپ کو امریکا کا نواز شریف کہ سکتا ہوں۔

مس یونیورس اور مس امریکہ کے مقابلے کروانے والی کمپنی کے سابقہ مالک اور 4 ارب ڈالر کے لگ بھگ ذاتی دولت رکھنے والے ڈونلڈ ٹرمپ امریکہ کے نئے صدر منتخب پو گئے ہیں۔ ان کی اٹھارہ مہینے کی الیکشن مہم ذاتی، سیاسی اور کاروباری سکینڈلز کے ساتھ کافی اتار چڑھاؤ کا شکار رہی۔ امریکی الیکشن کے بارے میں تمام اندازے، سروے اور میڈیا کے تبصرے غلط ثابت ہوئے اور بالآخر وہ صدارت کا الیکشن جیت گئے۔
ٹرمپ ایک کاروباری شخصیت ہیں اور عام خیال یہی ہے کہ ان کا سیاست سے واسطہ نہیں رہا۔ یہ بات شاید کسی حد تک غلط ہے۔ ٹرمپ اپنی زندگی میں مالی اور سیاسی طور پر مختلف سیاسی پارٹیوں کے ساتھ کسی نہ کسی طرح منسلک رہے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے ریپبلکن پارٹی کے صدارتی امیدوار رونالڈ ریگن سمیت چھ ڈیموکریٹ اور چار ریپبلکن صدارتی امیدواروں کو سپورٹ کیا ہے۔ 2001 سے لے کر 2008 تک ٹرمپ ڈیموکریٹ پارٹی سے منسلک تھے۔ لیکن 2009 میں انہوں نے اپنی پارٹی تبدیل کر دی اور ریپبلکن امیدوار کو طور پر سامنے آئے۔

یہ الیکشن اپنی نوعیت کے اعتبار سے منفرد تھا۔ کیونکہ اس میں دونوں امیدوار نامزدگی کے اعتبار سے متنازع رہے۔ دونوں کو اپنی ہی پارٹی کے کئی نمائندوں کی طرف سے تنقید کا نشانہ بنے۔ خواتین میں ہیلری کلنٹن سے پہلے بہت سی خواتین نے صدارتی الیکشن میں حصہ لیا۔ لیکن کامیابی کی امید کی جس منزل پر وہ پہنچی کوئی دوسری خاتون نہ پہنچ سکی۔ لیکن ڈونلڈ ٹرمپ، ہیلری کے مقابلے میں ایک ایسے امیدوار کے طور پر سامنے آئے جو اپنے بیانات کی وجہ سے بہت سے تنازعات کا شکار رہے۔ نسلی منافرت، مسلمانوں کے خلاف متعصب بیانات، میکسیکو کی سرحد پر دیوار لگانے سمیت مختلف عورتوں کے ساتھ جنسی سکینڈل بھی ان کی مہم کا خاصہ رہے۔ یہی وجہ تھی کہ ان کی پارٹی کے کئی ارکان ان کے خلاف تھے۔ باراک اوبامہ نے ان کو ایک نا معقول شخصیت قرار دیا۔ تمام اندازے اور سروے ان کا خلاف آئے۔ اور بظاہر یہی لگ رہا تھا کہ ہیلری الیکشن جیت سکتی ہیں۔ لیکن 1976 کے صدارتی الیکشن میں جمی کارٹر کی کامیابی کی طرح یہ الیکشن بھی غیر متوقع نتائج لے کر آیا۔ جارجیا کے گورنر جمی کارٹر اتنے غیر معروف تھے کہ انہیں اپنا تعارف یہ کہہ کر کروانا پڑا کہ میں جمی کارٹر ہوں اور صدارتی امیدوار ہوں۔

اس سے پہلے بھی امریکہ کے کئی صدارتی الیکشن کانٹے دار رہے۔ 1916 کے ڈیمو کریٹک کے ووڈرو ولسن اور چارلس ہیوز کا کافی سخت مقابلہ رہا۔ سن 2000 کے الیکشن میں جارج ڈبلیو بش اور ایلگور کا اتنا کانٹے دار مقابلہ تھا کہ اس میں بش فلوریڈا میں محض 537 ووٹوں سے جیت سکے۔ 2004 کے الیکشن میں بھی ڈیموکریٹ کے جان کیری اور جارج بش کے درمیان سخت مقابلہ ہوا۔ الیکشن سے کچھ دن پہلے اسامہ بن لادن کی ایک ویڈیو جس میں جارج بش کے فیصلوں کا مذاق اڑایا گیا تھا۔ بش کے لئے کامیابی کی نوید ثابت ہوئی۔

ہزارہ یونیورسٹی میں سیاسیات کے استاد ڈاکٹر عادل سیماب کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کی جیتنے کی کئی وجوہات ہیں۔ ایک تو امریکہ کے جمہوری نظام کا روایتی ڈھانچہ ہے جس میں ہر چار یا آٹھ سال کے بعد دوسری پارٹی کو کامیابی ملتی ہے۔ دوسری وجہ ان توقعات کا ادھورا رہ جانا ہے جو لوگ ایک پارٹی سے لگا کر رکھتے ہیں۔ جب کہ تیسری وجہ \’\’تھرڈ پارٹی\’\’ ووٹ بھی رہا۔ جو ان دونوں امیدواروں کو نااہل سمجھتے تھے۔

ڈاکٹر عادل کے خیال میں ٹرمب نے میڈیا کارڈ کو بھی بہت کامیابی سے کھیلا۔ وہ اپنی صدارتی مہم کے دوران کسی نہ کسی طرح میڈیا کی خبروں کی زینت بنتے رہے۔ جو نوجوان نسل کے لئے زیادہ کشش کا باعث تھا۔ عادل کے مطابق ٹرمپ کے جیتنے سے امریکہ کی داخلی و خارجہ پالیسی پر کوئی نمایاں فرق نہیں پڑے گا۔ کیونکہ امریکی نظام انتخاب اور فیصلوں کے انتخاب میں وہاں کے ادارے اتنے مضبوط ہیں کہ اس میں انفرادی نظریات اور فیصلوں کی کوئی خاص گنجائش نہیں ہے۔ صدر اوبامہ کی ہیلتھ کئیر پالیسی پر جدوجہد اس کی ایک مثال ہے۔ امریکہ کا آئین، قانون، کانگریس، اور عدالتیں شخصیات سے بالاتر ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکہ نے جمہوریت کا لمبا سفر طے کیا ہے اس لئے امریکہ، اس کے لوگ اور ادارے اپنے نظام کو کسی ایک شخص کی نسلی منافرت اور مذہبی جنون کی بھینٹ نہیں چڑھنے دیں گے۔ ویسے بھی سیاسی نعرے عملی فیصلوں سے مختلف ہوتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے