کیجئے اور سوالات نہ ذاتی مجھ سے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ابھی تک شادی کیوں نہیں ہوئی؟ تنخواہ کتنی ہے؟ بچے کیوں نہیں ہوئے؟ شادی کے بعد نوکری کیوں کررہی ہو؟ طلاق کیوں ہوئی؟ دوسروں کی نجی زندگی میں مداخلت کی چند مثالیں ہیں۔

مان لیا تجسس ایک فطری امر ہے لیکن کسی کی ذاتی زندگی کے متعلق سوال کرنے سے آپ کو کیا حاصل ہو تا ہے؟

دوسروں کی ٹوہ لینا، یہ جاننے کی کوشش کہ دوسرے کیا کر رہے ہیں، ان کی نجی زندگی میں کیا ہو رہا ہے اور کیوں ہو رہا ہے؟ لوگ اس میں بے تحاشا دلچسپی لیتے ہیں۔ دوسروں سے ان کی نجی زندگی کے متعلق سوالات کرنا، ان کے معاملات میں مداخلت کرنا ان کا وتیرہ ہو تا ہے اور شان بے نیازی دیکھئے انہیں اپنی اس خوبی کا احساس تک نہیں ہو تا۔

یونیورسٹی میں میری ایک جونئیر تھی، اس کی زندگی کا مقصد ہی یہ ہے کہ وہ آنکھیں مٹکا مٹکا کر اور چہرے پر معصومیت طاری کر کے آپ سے کسی بھی موقع پر، دس بارہ لوگوں کے درمیان کچھ بھی پو چھ سکتی ہے۔

جب بھی کبھی اس سے سامنا ہو جائے، پوچھے گی، باجی! آپ کی شادی نہیں ہوئی؟ آپ کا کوئی رشتہ نہیں آیا؟ آپ کی تنخواہ کتنی ہے؟ آپ اپنی تنخواہ کا کیا کرتی ہیں؟ مطلب وہ آپ کی پرائیویسی کا تیاپانچہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتی۔ ٹھیک ہے مان لیا تجسس ایک فطری امر ہے لیکن اس طرح ٹوہ لینے کا مطلب کسی کی نجی زندگی میں مداخلت، اس کے رازوں تک رسائی اور پھر اسکینڈل بنانا اور مزے لینے سے آپ کو کیا حاصل ہو تا ہے، اس کا جواب فی الحال مجھے نہیں ملا۔

ایسے لوگ آپ کو جگہ جگہ نظر آئیں گے، آپ بس میں بیٹھی ہیں ساتھ جو خاتون بیٹھی ہو گی، اسے آپ زندگی میں پہلی بار بھی مل رہی ہوں وہ آپ کی نجی زندگی کی ٹوہ میں ہو گی، پہلا سوال ہی یہ ہو گا شادی ہوگئی؟ شومئی قسمت جواب نفی میں ہوا تو وجہ پوچھی جائے گی کیوں نہیں ہوئی؟ کس برادری سے ہو؟ باپ کا کیا نام ہے، پیشہ کیا ہے؟ گھر کدھر ہے؟ روزانہ سفر کرتی ہو؟ اور اگر آپ کے منہ سے ہاں نکل گیا تو بھی جاں بخشی نہیں ہونے والی ، بچے ہو گئے؟

نہیں ہوئے تو ہائے ہائے کیوں نہیں ہوئے؟ کیا تم چاہتی نہیں بچے ہوں؟ علاج کروایا؟ حالانکہ اس عورت نے کبھی بھی زندگی میں آپ کو دوبارہ نہیں ملنا ہو تا۔ مگر اس کا مقصد یہی ہو تا ہے کہ بھری بس میں آپ کی نجی زندگی کے متعلق تمام معلومات وہ با آواز بلند پہنچا دے۔

عموماً خاندان میں شادیوں پر حالات تو بعض اوقات ناقابل برداشت ہو جاتے ہیں، بڑی بوڑھیاں، آنٹیاں اور شادی شدہ کزنز، سب کو آپ کی درست عمر جاننے کا شوق ہو تا ہے، آپ کی تنخواہ کتنی ہے؟ آپ کی شادی کیوں نہیں ہو رہی؟ شادی کے بعد نوکری کیوں کر رہی ہو؟ آپ کی اولاد کیوں نہیں ہو رہی؟ آپ اپنے بچے کو اپنا دودھ کیوں نہیں پلا رہیں؟ آپ خاموش کیوں ہیں؟ شوہر کا رویہ آپ کے ساتھ کیسا ہے؟ گھر کے حالات کیسے ہیں؟ اگر معاشی مسائل کا سامنا ہے تو گزارہ کیسے ہو تا ہے؟ طلاق ہوئی تو کیا وجہ رہی؟ طلاق کے بعد کا کیا ارادہ ہے؟ آپ چہک کیوں زیادہ رہی ہیں؟ مطلب آپ زندہ ہیں تو کیوں ہیں؟

پھر محلے والی آنٹیوں کی نظر بھی اس پر ہوتی ہے کہ آپ گھر سے کتنے بجے جا رہی ہیں؟ کتنے بجے واپس آ رہی ہیں؟ کس کے ساتھ جا رہی ہیں اور کس کے ساتھ آ رہی ہیں؟ گھر سے نکلتے ہوئے دوپٹہ اوڑھتی ہیں یا نہیں؟ اگر نہیں اوڑھتی تو ا س کی وجہ کیا ہے؟ یعنی لوگ کوئی بھی موقع نہیں چھوڑتے جب آپ کو زچ کرنے کا موقع ہاتھ سے جانے دیں۔

دفتر میں خواتین کے لئے الگ کیفے ہے تاکہ کھانا کھاتے ہوئے ان کی پرائیویسی برقرار رہے لیکن آپ کو یہ پڑھ کر حیرانی ہو گی کہ وہ چند خواتین جو دفتر کا کھانا کسی وجہ سے نہیں کھاتیں، اور گھر سے لنچ لانے کو ترجیح دیتی ہیں انہیں روزانہ دیگر خواتین کے سامنے جواب دہ ہو نا پڑتا ہے، اور باقی خواتین کچھ اس قسم کے سوال کرتی ہیں، ”ارے آپ یہاں کا کھانا نہیں کھاتی ہیں؟“ کیوں نہیں کھاتی ہیں؟ آپ ذرا اس غریب کی حالت کا تصور کریں جو اپنی مرضی سے گھر سے لایا ہو ا کھانا بھی سکون سے نہ کھا سکے۔

میری بہنو اور بھائیوں! ، سمجھنے کی بات یہ ہے کہ دنیا میں ایک چیز کا نام پرائیویسی بھی ہے، مہذب معاشروں میں جس کے تحت دوسرے لوگ کسی انسان کی زندگی میں مداخلت نہیں کرتے اور اسے اپنی زندگی اپنی مرضی سے گزارنے کا حق دیتے ہیں۔ پرائیویسی ہر انسان کا بنیادی حق ہے لیکن ایک دیسی معاشرے میں ایسے لوگ شاید کم ہی ہوں گے جو کسی کی پرائیویسی کا خیال رکھتے ہوں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply