اب امریکہ کیلئے وقت دعا ہے!


\"edit\"جمہوری انتخاب میں کسی نتیجے کو غیر متوقع قرار نہیں دیا جا سکتا لیکن جس اکثریت سے ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی انتخاب جیتا ہے، اس نے رائے عامہ کے تمام جائزوں اور مبصروں کے سب تبصروں کو غلط ثابت کر دیا ہے۔ وہ نہ صرف ری پبلکن پارٹی کی حمایت کرنے والی ریاستوں میں کامیاب ہوئے ہیں بلکہ انہوں نے پنسلوانیا اور وسکونسن جیسی ریاستوں میں بھی کامیابی حاصل کی ہے جہاں سے ان کی پارٹی کے کسی امیدوار کو گزشتہ تیس برس میں کامیابی حاصل نہیں ہوئی تھی۔ اسی طرح انہوں نے فلوریڈا ، اوہائیو اور نارتھ کیرولائینا جیسی ریاستوں میں بھی ہیلری کلنٹن کو شکست دی ہے جہاں دونوں امیدواروں میں زور دار مقابلہ تھا لیکن اکثر مبصروں کا خیال تھا کہ ہیلری کلنٹن فلوریڈا کے 29 مندوب حاصل کر کے ڈونلڈ ٹرمپ کے صدر بننے کے خواب کو منتشر کر سکتی ہیں۔ اس ریاست کے مندوبین کی تعداد کے علاوہ وہاں میکسیکو نژاد آبادی کی بڑی تعداد رہتی ہے اس لئے خیال تھا کہ میکسیکو کے لوگوں کے خلاف ٹرمپ کے توہین آمیز خیالات کی وجہ سے یہ ووٹ کثیر تعداد میں ان کے خلاف ووٹ دینے کیلئے باہر نکلیں گے۔ یہ سارے اندازے غلط ثابت ہوئے ہیں۔ چند ہفتے قبل واشنگٹن پوسٹ نے ٹرمپ کی 2005 کی ایک ویڈیو جاری کی تھی جس میں وہ خواتین کے بارے میں ہتک آمیز گفتگو کر رہے ہیں۔ یہ اسکینڈل بھی ان کی کامیابی کا راستہ روکنے میں ناکام رہا ہے۔ سفید فام مردوں اور عورتوں کی بڑی تعداد نے انہیں کامیاب بنوانے کیلئے ووٹ دیئے ہیں۔ اب امریکہ ہی نہیں پوری دنیا غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے۔ حصص کی قیمتوں میں کمی واقع ہوئی ہے اور نیٹو سے لے کر مسلمان ملکوں تک میں بے چینی محسوس کی جا رہی ہے کہ نیا صدر کیا حکمت عملی اختیار کرے گا۔

اس بے یقینی کی سب سے بڑی وجہ ڈونلڈ ٹرمپ کا طرز تکلم ، جارحانہ انداز ، غیر متوازن اور نعروں پر مبنی وعدے اور پالیسی امور پر غیر واضح موقف ہے۔ سال بھر پہلے انہوں نے سان برنارڈینو میں پاکستانی نژاد ایک جوڑے کی طرف سے دہشت گردی کے واقعہ کے بعد کہا تھا کہ وہ صدر بننے کے بعد امریکہ میں عارضی طور سے مسلمانوں کا داخلہ بند کر دیں گے۔ تا کہ حکومتی انتظام کو بہتر بنایا جا سکے اور ناپسندیدہ عناصر کے ملک میں داخلہ پر پابندی لگائی جا سکے۔ اس بیان پر بہت نکتہ چینی ہوئی تھی لیکن نہ انہوں نے یہ بیان واپس لیا اور نہ ان کی انتخابی مہم نے مسلمانوں اور اسلامی ملکوں کے بارے میں ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسی کی وضاحت کی۔ اس لئے اب ان کے صدر منتخب ہو جانے کے بعد امریکہ میں آباد مسلمان بھی سراسیمگی کا شکار ہیں لیکن انڈونیشیا سے لے کر پاکستان تک تمام مسلمان ملکوں میں بھی تشویش موجود ہے۔ متعدد مسلمان ملکوں کے باشندے یہ سوال کر رہے ہیں کہ کیا ٹرمپ کی صدارت میں امریکہ مسلمانوں کے خلاف ایک نئی جنگ کا آغاز کرے گا۔ کسی کے پاس اس بات کا جواب نہیں ہے۔ آج رات انتخاب جیتنے کے بعد تقریر کرتے ہوئے ٹرمپ نے یہ اعلان ضرور کیا ہے کہ وہ سب لوگوں اور سب اقوام کو ساتھ لے کر چلنے میں یقین رکھتے ہیں۔ صدارت سنبھالتے ہی سخت محنت کا آغاز کر دیا جائے گا تا کہ امریکہ کو عظیم بنایا جا سکے۔ لیکن انتخابی تقریروں کے مقابلے میں اس قسم کا مصالحانہ لب و لہجہ کتنی دیر برقرار رہتا ہے اور خارجہ پالیسی کے حوالے سے ڈونلڈ ٹرمپ کیا اقدامات کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں ، اس بارے میں کوئی بھی مبصر یقین سے کچھ کہنے کیلئے تیار نہیں ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی میڈیا کی مخالفت اور ری پبلکن پارٹی کے بعض زعما کی طرف سے شدید مزاحمت کے باوجود شاندار کامیابی حاصل کی ہے۔ انہیں 50 میں سے 28 ریاستوں میں کامیابی ملی ہے جبکہ ہیلری کلنٹن صرف 18 ریاستوں میں کامیاب ہو سکی ہیں۔ 4 ریاستوں کے نتائج آنا ابھی باقی تھے۔ اس طرح ٹرمپ اب تک 289 مندوبین حاصل کر چکے ہیں جبکہ ہیلری کلنٹن کو 218 مندوب مل سکے ہیں۔ مقبول ووٹوں میں بھی فی الوقت ڈونلڈ ٹرمپ آگے ہیں۔ حالانکہ رائے عامہ کے جائزوں نے گزشتہ ایک ماہ کے دوران مسلسل کلنٹن کی 6 سے ایک فیصد تک کی برتری دکھائی تھی۔ دو ہفتے قبل امریکی ایف بی آئی کی طرف سے ہیلری کلنٹن کی ای میلز کے معاملہ کی دوبارہ پڑتال کرنے کا اعلان کرنے کے بعد ہیلری کی مقبولیت میں اچانک کمی واقع ہوئی تھی لیکن اس دوران بھی انہیں اکثر جائزوں میں ایک سے 2 فیصد برتری حاصل رہی تھی۔ تاہم اب تک سامنے آنے والے نتائج کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کو 47.7 فیصد ووٹ ملے ہیں اور ہیلری کلنٹن کو 47.5 فیصد ووٹ ملے ہیں۔ اس طرح ان دو امیدواروں کو ملنے والے ووٹوں میں اعشاریہ 2 فیصد کا فرق ہے جو ایک لاکھ 50 ہزار کے لگ بھگ ووٹوں پر مشتمل ہے۔ چار ریاستوں کے نتائج سامنے آنے کے بعد ان میں کچھ تبدیلی رونما ہو سکتی ہے۔ اس طرح ہیلری کلنٹن نہ صرف ریاستوں کے مندوبین کی مناسب تعداد حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکیں بلکہ وہ مقبول ووٹ میں بھی برتری ثابت نہیں کر سکیں۔

یہ کہنا مشکل ہو گا کہ ایف بی آئی کی طرف سے تحقیقات کے اعلان کی وجہ سے کلنٹن کی مہم کو نقصان پہنچا ہے۔ ہیلری کی ناکامی اور ٹرمپ کی کامیابی کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ ملک کے نظام کے خلاف لوگوں کو ابھارنے اور ان کے خوف میں اضافہ کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔ اسی لئے 8 نومبر کو پولنگ کے دوران لوگوں کی بڑی اکثریت جوش و خروش سے ووٹ دینے کیلئے نکلی اور کئی کئی گھنٹے انتظار کر کے ووٹ دیا۔ نتائج سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ ٹرمپ اپنے حامیوں یعنی سفید فام ووٹروں کو گھر سے نکالنے اور اپنے حق میں ووٹ ڈالنے میں کامیاب رہے جبکہ ہیلری کلنٹن اپنے حامیوں کو ووٹ دینے کیلئے پولنگ اسٹیشن تک آنے پر آمادہ نہیں کر سکیں۔ اس کی ایک وجہ رائے عامہ کے جائزے بھی ہو سکتے ہیں جن میں ہیلری کو بہرحال فاتح دکھایا جا رہا تھا جبکہ ٹرمپ کی کامیابی کا امکان بہت کم تھا۔ صرف ڈونلڈ ٹرمپ آخری لمحے تک یہ اعلان کرتے رہے تھے کہ وہی کامیاب ہوں گے اور اس نظام کو گرا دیں گے۔ انہوں نے 8 نومبر کو امریکیوں کا یوم نجات بھی قرار دیا تھا۔ اب ان کے یہی اعلانات ان کیلئے سب سے بڑا چیلنج بھی بنیں گے۔ سادہ اور مقبول نعرے کی بنیاد پر ووٹ دینے والے ناراض اور مایوس امریکی ووٹر توقع کریں گے کہ ڈونلڈ ٹرمپ فوری طور سے اپنے وعدے پورے کریں جبکہ وائٹ ہاؤس میں داخل ہوتے ہی ٹرمپ کو یہ پتہ چل جائے گا کہ انتخابی مہم میں کئے گئے وعدوں کی چٹکی بجاتے عملی جامہ پہنانا آسان نہیں ہوتا۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے جو دعوے کئے ہیں اور جن پر عوام فوری عملدرآمد کی امید بھی لگائیں گے کیوں کہ انہیں ووٹ دینے والوں میں شدت پسند سفید فام ووٹروں کی بڑی تعداد شامل ہے ۔۔۔۔۔۔۔ ان میں سرفہرست میکسیکو اور امریکہ کے درمیان دیوار کی تعمیر ہے۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اس دیوار سے اسمگلنگ اور غیر قانونی طور سے میکسیکو کے لوگوں کی آمد کا سلسلہ بند ہو جائے گا۔ وہ یہ بھی دعویٰ کرتے رہے ہیں کہ وہ میکسیکو کو اس دیوار کے اخراجات برداشت کرنے پر مجبور کریں گے۔ اب دیکھنا ہو گا کہ وہ کب اور کیسے اس کام کا آغاز کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ انتخابی مباحث اور جلسوں کے دوران وہ ہیلری کلنٹن کو بدعنوان اور امریکہ کا دشمن قرار دے چکے ہیں۔ ایک مباحثہ میں انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا تھا کہ وہ صدر بنے تو ہیلری جیل میں ہوں گی۔ گو کہ کل رات تقریر میں انہوں نے کلنٹن کا سخت مقابلہ کرنے پر شکریہ ادا کیا ہے اور امریکہ کیلئے ان کی خدمات کا سراہا ہے لیکن ان کے حامی ضرور چاہیں گے کہ ای میلز اسکینڈل میں وہ ہیلری کے خلاف تحقیقات کروا کے حسب وعدہ انہیں قید کروانے میں کامیاب ہوں۔ وہ مسلمانوں کے امریکہ میں داخلہ پر پابندی کا اعلان کر چکے ہیں۔ امریکہ میں ٹرمپ کی انتخابی مہم کے دوران مسلمانوں کے خلاف نفرت اور تعصب میں اضافہ ہوا ہے۔ اس لئے ان پر اس وعدے کو پورا کرنے کیلئے بھی دباؤ ڈالا جائے گا۔

ری پبلکن پارٹی کے ایجنڈے کے حوالے سے ٹرمپ صدر باراک اوباما کے ہیلتھ انشورنس پروگرام جسے عرف عام میں اوباما کیئر کہا جاتا ہے، ختم کرنے کا اعلان کرتے رہے ہیں۔ وہ اس کی جگہ صحت کا بہترین منصوبہ متعارف کروانے کا وعدہ بھی کر چکے ہیں۔ تاہم ان کی دیگر باتوں کی طرح ان کے ہیلتھ پلان کے خدوخال بھی واضح نہیں ہیں۔ اب اگر وہ پارٹی کے تعاون سے اوباما کیئر کو ختم کرتے ہیں تو اس کا متبادل کیسے اور کیا فراہم کریں گے اور اگر انہوں نے ایک ایسے منصوبہ کو فوری طور پر منسوخ نہ کیا جس کے خلاف انہوں نے تند و تیز باتیں کی ہیں تو ان کے ارادوں اور فیصلے کرنے کی صلاحیت پر سوال اٹھائے جائیں گے۔ ٹرمپ شمالی امریکہ کے ملکوں کے ساتھ تجارتی معاہدے نافٹا NAFTA اور دیگر ملکوں کے ساتھ معاہدے ٹی ٹی پی TTP کو ختم کرنے کی بات بھی کرتے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان معاہدوں کی وجہ سے امریکی معیشت کو شدید نقصان پہنچا ہے اور ملک کا سرمایہ ان ملکوں میں منتقل ہو گیا ہے جو سستی لیبر فراہم کرتے ہیں اور پھر یہ مصنوعات کسی ٹیکس کے بغیر امریکہ بھیج دی جاتی ہیں۔ ان کے مطابق ان معاہدوں کی وجہ سے امریکی صنعت کو شدید نقصان پہنچا ہے اور بے روزگاری میں اضافہ ہوا ہے۔ اسی وعدے کی وجہ سے انہیں وسکونسن اور پینسلوینیا جیسی ریاستوں میں ووٹ ملے ہیں۔ اب دیکھنا ہے کہ وہ ان معاہدوں کو کیسے ختم کرتے ہیں اور ایسا قدم اٹھانے کی صورت میں عالمی منڈیوں میں بے چینی اور تجارتی شراکت دار ملکوں کے ساتھ جو تنازعات پیدا ہوں گے، ان سے کیسے نمٹا جائے گا۔ تاہم ان کے حق میں ان وعدوں کی بنیاد پر ووٹ دینے والوں کو سیاست و سفارت کی پیچیدگیوں سے غرض نہیں ہو گی۔ وہ تو اپنے لیڈر کے اس وعدے کو پورا ہوتے دیکھنے کے امیدوار ہیں کہ: ’’میں یہ کر سکتا ہوں‘‘۔

خارجہ پالیسی کے حوالے سے ڈونلڈ ٹرمپ داعش کے خلاف سخت فوجی کارروائی کرنے کے حامی ہیں۔ کیا اس کا یہ مطلب ہو سکتا ہے کہ امریکہ شام میں داعش کے خاتمہ کیلئے فوج اتارے یا ترکی کو شام میں فوج داخل کرنے کی اجازت دے۔ دونوں صورتوں میں براہ راست روس کے ساتھ تصادم کی صورت پیدا ہو سکتی ہے۔ دوسری طرف ٹرمپ روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن کی تعریف کرتے رہے ہیں اور ان کے ساتھ مل کر معاملات طے کرنے کی خواہش اظہار بھی کر چکے ہیں۔ دیکھنا ہو گا کہ وہ یہ گتھی کیسے سلجھاتے ہیں۔ اگر امریکہ روس کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے شام میں صدر بشار الاسد کی حکومت کو قبول کر لیتا ہے اور داعش کے خلاف کارروائی کے لئے شامی حکومت کی تائید و حمایت کرتا ہے تو اسے حلیف عرب ملکوں کے علاوہ اسرائیل کی مخالفت کا سامنا بھی کرنا پڑے گا۔ اسی طرح افغانستان میں امریکی فوجیوں کے بارے میں بھی انہیں فیصلہ کرنا ہو گا۔ ٹرمپ نے پاکستان کے بارے میں زیادہ بات نہیں کی ہے لیکن وہ بھارت کی دوستی کا دعویٰ کرتے رہے ہیں اور انتخابی مہم کے دوران امریکی ہندوؤں کی تقریب میں شرکت بھی کر چکے ہیں۔ انہوں نے مودی کو اپنی دوستی کا یقین بھی دلا رکھا ہے جبکہ ایک بار وہ یہ اعلان بھی کر چکے ہیں کہ صدر بنتے ہی وہ پاکستان سے کہیں گے کہ ڈاکٹر شکیل آفریدی کو رہا کیا جائے اور وہ رہا ہو جائیں گے۔

امریکہ اور دنیا میں 20 جنوری کو صدارت سنبھالنے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ سے اس قسم کے بہت سے کرتب دکھانے کی توقع کرنے والے لوگوں کی کمی نہیں ہو گی۔ یہ راز ڈونلڈ ٹرمپ کے سینے میں ہی دفن ہے کہ وہ یہ سب کام کیسے کریں گے۔ شاید اسی لئے واشنگٹن پوسٹ کی کالم نگار رتھ مارکوس نے ٹرمپ کی کامیابی کے بعد لکھا ہے کہ اب امریکہ اور دنیا کی بہبود اور ترقی کیلئے دعا ہی کی جا سکتی ہے۔

Facebook Comments HS

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 3148 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali