کیا اسلامی انقلاب جیسی اصطلاحات بیسویں صدی کی اختراع ہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

حال ہی میں شائع ہونے والی کتاب، ”مذہبی انتہا پسندی“ (اسلامی انقلاب و حکومت اور جوانی بیانیہ) از شمس الدین حسن شگری کی ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ اس میں مکتبہ خلافت ( اہل سنت) اور مکتبہ امامت ( اہل تشیع) دونوں مکاتب فکر کے قدیم اور جدید اہل علم کی آرا کو پیش کیا گیا ہے۔

کتاب کے پیش لفظ میں ڈاکٹر روش ندیم لکھتے ہیں کہ مسلم دنیا میں مقامی جدیدیت کا عمل سب سے پہلے ہندوستان میں اکبر کے عہد میں شروع ہوا تھا۔ اس جدید روایت کا پہلا بڑا دانشور شاہ ولی اللہ تھے جنہوں نے اپنے معاشی تصورات کے ذریعے سے آنے والے دور کی فکری پیش بندی کی تھی۔ یورپی طاقتوں کے ورلڈ ویو کی عالمی فتح زرعی مسلم قوتوں کے لیے ایک کائناتی چیلنج بن کر سامنے آئی۔ لیکن جب نوآبادیاتی جبر کے ذریعے مقامی جدیدیت کے ارتقا کو روکا گیا تو چند مفکرین نے اسلامی تعلیمات اور یورپی جدیدیت کے بے جوڑ ادغام سے مقابلہ کرنے کی کوشش کی۔ لیکن ایسے تمام اقدامات کا فائدہ مسلم ممالک سے زیادہ یورپ کوہی ہوا۔ کیوں کہ ان افکار کی بنیاد پر مسلم دنیا میں اسلامی نظام، اسلامی حکومتوں اور اسلامی انقلاب کی تحریکوں کا آغاز ہوا۔ اور اس طرح مسلم معاشروں میں مکمل سماجی، سیاسی، معاشی اور سائنسی تبدیلی کے لیے کسی باقاعدہ کوشش سے صرف نظر کیا گیا۔

ابتدائیہ میں ہی مصنف ڈس کلیمر دیتے ہیں کہ اس کتاب میں شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کے افکار و خیالات سے صرف نظر کیا گیا ہے (ویسے بھی ”شاہ ولی اللہ کی علمی و سیاسی تحریک“ الگ تفصیلی مضامین کی متقاضی ہے)۔ اسی طرح سید جمال الدین افغانی، محمد عبدہ، سر سید احمد خان وغیرہ کا تذکرہ بھی نہیں کیا گیا۔ کیوں کہ ان حضرات نے اسلامی ریاست کے قیام کو بطور نصب العین یا فرض عین بنا کر پیش نہیں کیا۔

بیسویں صدی چونکہ انقلابات اور نظاموں کی لڑائی کا صدی تھی۔ اور چونکہ خلافت عثمانیہ کا خاتمہ ہو چکا تھا۔ اس لیے اس صدی میں مسلمان احیا خلافت کے لیے اٹھے اور اسلام کو بطور نظام کے متعارف کروانے لگے۔ اسلام کی اس تعبیر کو اہل علم ”اسلام کی سیاسی تعبیر“ سے موسوم کرتے ہیں۔

مصنف کتاب کا مقصد واضح کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ”نصوص کے فہم میں ہمیشہ اختلاف رہا ہے اور یہ اختلاف فکر و نظر بہت ہی قابل قدر اور قابل تحسین بات ہے۔ البتہ اختلاف فکر و نظر اور اختلاف رائے کی بنیاد پر ایک دوسرے کی تکفیر، تفسیق، تضلیل، غیر علمی رویہ اور انتہا پسندی ہے جس سے دہشت گردی جنم لیتی ہے جو کہ نہایت ہی قابل مذمت فعل ہے“ ۔

مصنف نے کتاب کو چار ابواب میں تقسیم کی ہے۔ پہلا باب ”اسلام بطور نظام: اسلام کی سیاسی تعبیر“ کے عنوان سے قائم کیا گیا ہے۔

مصنف مختلف خطوں اور مکاتب فکر کے اہل علم کے اقتباسات سے یہ واضح کرتے ہیں کہ اسلام کی سیاسی تعبیر یا خدا کی سیاسی حاکمیت کا نظریہ سب سے پہلے سید ابو الاعلیٰ مودودی نے پیش کیا اور پھر سید قطب نے ان سے یہ تصور اخذ کیا۔ اس کے بعد تیسرا بڑا نام امام خمینی کا ہے۔

آگے چل کر مصنف لکھتے ہیں کہ ”قدیم کتابیں خدا کی سیاسی حاکمیت کی بحث اور اس کو مسلمانوں کے نصب العین اور بعثت انبیا، کا مقصد قرار دینے سے خالی نظر آتی ہیں۔ جب کہ جدید اہل علم کا سارا زور اس بنیادی نقطہ پر مرکوز نظر آتا ہے کہ اسلامی حکومت کا قیام انبیا، کی بعثت کا مقصد اولین اور ایک مسلمان کا نصب العین ہے“ ۔

ذرا آگے جا کر قدما، کا نظریہ تقرر خلیفہ یا نصب الامام اور جدید مفکرین کا تصور اقامت حکومت الہٰیہ کا فرق بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ”قدیم فقہا، کے ہاں یہ فقہی مسئلہ صرف اس حد تک در پیش تھا کہ ایک موجود اور قائم نظام میں کسی شخص کا بطور خلیفہ یا امام مقرر کرنا شرعاً کیسا ہے؟ یعنی اس موجود نظام میں تقرر خلیفہ کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ وہاں یہ سوال نہیں تھا کہ ایک موجود نظام کو الٹا کر جو کفر پر مبنی نظام ہے، اسلامی نظام کو کیسے قائم کرنا ہے یا اس کی شرعی حیثیت کیا ہے؟“ اور پھر جدید مسلم مفکرین کا مسئلہ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ خلافت عثمانیہ کے زوال کے بعد ہی اقامت دین، حکومت الہٰیہ، اسلامی نظام، اسلامی ریاست کی اصطلاحیں وجود میں آئیں اور قرآن و سنت سے استنباط کا دور شروع ہوا۔

باب دوم یعنی ”حکومت الہٰیہ یا اقامت دین کی استدلالی آیات“ میں مصنف شروع میں ہی رقم دراز ہوتے ہیں کہ چوں کہ خدا کے نام پر حکومت و ریاست قائم کر کے انسانوں کے ہاتھوں اس کے نفاذ کا قرآن اور احادیث میں کوئی واضح، صریح اور دو ٹوک حکم نہیں ہے، اس لیے ان حضرات کو یہ مسئلہ استنباط سے اخذ کرنا پڑا۔ اور بقول مصنف ایسا کرتے ہوئے ان جدید اہل علم حضرات نے مختلف آیات کی تفہیم کے لیے سیاق و سباق اور پورے تاریخی تناظر کو نظر انداز کیا۔

پھر آگے جا کر لکھتے ہیں کہ ”اگر آپ نے پہلے ایک نظریہ یا عقیدہ بنا لیا اور پھر آپ نے قرآن پڑھنا شروع کیا تو آپ کی کوشش ہو گی کہ ہر آیت سے اس عقیدہ کی حمایت حاصل کی جائے اور دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ عقیدہ یا نظریہ قرآن سے ثابت بھی ہو جائے گا“ ۔ مزید لکھتے ہیں کہ ہمارے ان جدید مسلم مفکرین نے خدا کی حاکمیت اور الوہیت و ربوبیت والی آیات سے بھی یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ جس طرح کائنات میں خدا کا حکم جاری و ساری ہے اسی طرح انسانی معاشرے میں بھی اس کا حکم جاری رہنا چاہیے اور یہ حکم انسانوں کے ہاتھوں جاری ہو گا۔

اسی لیے ان جدید اہل علم کو جہاں بھی کوئی لفظ قرآن و سنت ملا جس کے معانی میں حکم یا اطاعت کا معنی پایا جاتا ہے، اس سے فوراً خدا کی سیاسی حاکمیت کا مفہوم اخذ کر لیتے ہیں اور پھر پوری امت سے اس سیاسی حاکمیت کے غلبے کے لیے جدوجہد کا مطالبہ کرتے ہیں اور ایک مومن یا مسلمان کی زندگی کا نصب العین ہی اسی کو قرار دیتے ہیں۔

مصنف پھر یہ بھی دعویٰ کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ ”مذہب کی سیاسی تعبیر پر جتنا زیادہ اس دور میں ہوا ہے اس کی مثال مسلمانوں کی پوری علمی تاریخ میں نہیں ملتی“ ۔

انہوں نے وہ آیات جو مذہبی معنوں میں خدا کی حاکمیت سے بحث کرتی ہیں ان سے سیاسی معنوں میں حاکمیت مراد لی۔ بات صرف اتنی ہے کہ اللہ تعالٰی کے حاکم ہونے کا انکار کوئی نہیں کر سکتا اور نہ کسی نے کیا ہے۔ یہاں زیر بحث موضوع یہ ہے کہ کیا کسی انسان یا انسانوں کے کسی گروہ کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ خدا کے نام پر حاکمیت کا اعلان کرے۔ ہمارے ان جدید مسلم مفکرین کا خیال ہے کہ انسان کی حکومت انسان پر حرام ہے، الا یہ کہ خدا خود یہ حق حاکمیت کسی کو عطا کرے۔ پھر آگے جا کر اس تلخ حقیقت کو بھی بے نقاب کرتے ہیں کہ امت جن لوگوں کے تقویٰ اور پرہیز گاری کی قائل ہے، ان میں سے اکثریت کے ساتھ ان حکومتوں نے کوئی اچھا سلوک نہیں کیا۔

اسی طرح ان جدید مفکرین نے مختلف قرآنی آیات سے اپنا مطلب نکالتے ہوئے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ خدا کی سیاسی حاکمیت قائم کی جائے، دیگر نظاموں کو یا تو بالکل ختم کیا جائے یا پھر اسلام کے ماتحت لایا جائے۔ ایسا کرتے وقت ہمارے یہ مفکرین بغیر یہ بتائے کہ سابقہ اہل علم نے ان آیات کا کیا مفہوم لیا ہے، اپنی رائے بلا جھجک پیش کرتے ہیں اور اس انداز سے نے بپیش کرتے ہیں کہ گویا یہی متفق علیہ مفہوم ہے۔ اور اوپر سے ان حضرات کے نزدیک جو لوگ ان آیات سے ان کا متعین کردہ مفہوم نہیں لیتے وہ قرآن و سنت سے بے بہرہ، فہم قرآن سے عاری اور غلطی اور گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں۔

اویس پاشا قرنی کا حوالہ دیتے ہوئے مصنف لکھتے ہیں کہ ان کے خیال میں بھی یہ دین کی ایک جدید تعبیر اور تشریح ہے۔ اس تعبیر کا تعلق اس زمانہ سے ہے جب مسلمان سیاسی طور پر مغلوب ہو گئے تھے۔ یہ نظاموں کی لڑائی کا زمانہ تھا جس کے لیے اسلام کی ایک ایسی تعبیر کی ضرورت تھی جس میں اسلام بطور نظام پیش کیا گیا ہے۔ لیکن موصوف کے نزدیک اصل بات یہ ہے کہ ہمارے فقہا، کرام نے ایسے ایسے مسائل اور موضوعات پر بھی بحثیں فرمائی ہیں جن کا وجود آج بھی نہیں ہے۔ یعنی وہ مسائل آج تک پیش نہیں آئے ہیں۔ فقہا، کرام نے قرآن، سنت اور قیاس (عقل) یعنی مصادر شریعت سے مسائل کا استنباط کیا ہے۔ اس لیے اگر قرآن و سنت میں یہ مسئلہ بایں طور پر زیر بحث آیا ہوا ہوتا یا اس طرف اشارے ہوتے تو وہ ضرور اس کو موضوع بحث بناتے۔ ایسا ہو نہیں سکتا کہ کوئی کام امت کا نصب العین اور اس کے وجود کی بنا، ہو اور فقہا، اس پر خاموشی اختیار کر لیں۔ اگر ہم یہ مانتے ہیں کہ یہ جدید تعبیر ہے اور متقدمین کے ہاں یہ بحث نہیں پائی جاتی تو پھر یہ بھی بھی ماننا پڑے گا کہ یہ موضوع سرے سے قرآن و سنت میں موجود نہیں ہے۔ ۔ اور یہ دین کی ایک نئی تعبیر اور تشریح ہے۔

کتاب کے باب سوم کا عنوان ”اقامت دین یا اسلامی نظام کے قیام کا طریقہ کار“ ہے۔ اس میں موصوف لکھتے ہیں کہ قدیم اہل علم کے نزدیک یہ مسئلہ زیر بحث تھا ہی نہیں۔ جب کہ جدید اہل علم کے لیے مسئلہ درپیش یہ تھا کہ پہلے اسلامی نظام کا قیام عمل میں لایا جائے، تقرر خلیفہ (اہلسنت) یا فقیہ یا مجتہد کا بطور حاکم یا ولی (اہل تشیع) کا مرحلہ بعد میں آئے گا۔ اس کے لیے انہوں نے تین طریقوں کی نشاندہی کی ہے : 1 سیاسی، جمہوری اور انتخابی جدوجہد، 2 مسلح جدوجہد اور 3 احتجاج کا طریقہ کار۔ اس کے بعد مصنف مختلف ذیلی عنوانات قائم کر کے اسلام کے تصور جہاد و قتال، مسلم حکمرانوں کے خلاف جدوجہد اور معاصر تحریکات کے نقطہ نظر کا اہل سنت اور اہل تشیع کے متقدمین اور متاخرین اہل علم کی تشریحات کی روشنی میں مختلف ذیلی عنوانات و سوالات کے تحت جائزہ لیتے دکھائی دیتے ہیں۔

کہ ہمارے مسلم اہل علم کا اس بات پر اختلاف رہا ہے کہ اسلام میں اقدامی یا ابتدائی جہاد کے کیا مقاصد ہیں؟ جہاد صرف دفاعی ہے یا اقدامی بھی؟ کیا جہاد و قتال کے کچھ احکامات کا تعلق خاص حضور اکرم ﷺ اور خلفاء راشدین سے ہے؟ دور جدید میں اقوام متحدہ کی ممبر ریاستوں کے وجود پذیر ہونے کے بعد، جہاں عقیدہ کی آزادی بطور انسانی حق تسلیم کر لیا گیا ہے، جہاد کی عملی صورت کیا ہو گی؟ جزیہ کے بارے کیا احکامات ہیں؟

اسلام کی اصل حالت جنگ کی ہے یا امن کی؟ کیا مسلم حکمرانوں کے خلاف مسلح جدوجہد کی جا سکتی ہے؟ خروج کفر کے خلاف ہو گا یا ظلم کے خلاف؟ کیا اہل تشیع کے ہاں امام معصوم کی غیبت میں جہاد سے منع کیا گیا ہے؟ کیا قیام امام م حسین سے ظالم حکمران کے خلاف خروج پر استدلال کیا جا سکتا ہے؟ کیا قیام حسین کا مقصد ظالم حکومت کا خاتمہ اور عادل حکومت کا قیام تھا؟ امام حسین کے بعد کسی بھی امام نے خروج کی تحریک کیوں نہیں چلائی؟ اس طرح کے انتہائی حساس موضوعات پر دونوں طرف کی آرا پیش کر کے مصنف یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ آج کے جدید اہل علم (اہل سنت اور اہل تشیع) کی آرا قدیم اہل علم کی آرا سے بالکل مختلف دکھائی دیتی ہے۔

کتاب کے چوتھے اور آخری باب یعنی ”مذہبی انتہا پسندی کا بیانیہ: چند مزید نکات“ میں اس بات پر زور دیتے ہیں کہ تمام مسالک کو درست تسلیم کیا جائے، اختلاف فکر و رائے کو احترام کی نظر سے دیکھا جائے اور ہر مسلک والا دیگر مسالک کے امتیازی مسائل پر کبھی کبھار عمل بھی کرے تا کہ یہ تصور ہی ختم ہو جائے کہ، صرف ایک یا چار تعبیر دین درست ہیں اور باقی غلط۔ جب کہ ریاست کو چاہیے کہ وہ مذہب کو اپنے مفاد اور مقاصد کے لیے استعمال نہ کرے اور نہ ہی اس مقصد کے لیے چند شخصیات یا تنظیموں کی سرپرستی کرے۔ اسی طرح اجتہاد کے دروازے کو کھولا جائے۔ اور مذہب کی صوفیانہ تعبیر کو اپنایا جائے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
احمد سرفراز کی دیگر تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *