انسانیت سے پیار اور انسان سے نفرت؟

”کیا انسانیت سے پیار اور انسان سے نفرت ممکن ہے؟ جی ہاں، نہ صرف ممکن ہے بلکہ آج کل تو ممکن ہی یہی ہے۔ کیونکہ“ انسانیت ”ایک مثالی تصور ہے۔ ایک ایسا خواب جہاں سب برابر، مہربان، اور معصوم ہوتے ہیں۔ اس سے محبت کرنا آسان ہے، کیونکہ یہ ایک دور کی خوبصورتی ہے، ایک خیال، جس میں نہ کمزوریاں ہیں، نہ تضاد۔ لیکن انسان؟ وہ تو غلطیوں، حسد، غصے اور کمزوریوں کا پیکر ہے۔ انسان سے محبت قربانی مانگتی

Read more

متبادل دیکھ بھال: ماں یا باپ کے بغیر بچوں کے حقوق اور ہماری ذمہ داریاں

اکتوبر 2024 میں، میری پہلی ملاقات ڈاکٹر ایم اے صوفی فاؤنڈیشن لاہور کے توسط سے لاہور کے پانچ روزہ مطالعاتی دورہ پر صوبہ خیبر پختونخوا سے آئے والد کی اپنائیت سے محروم تقریباً ستر ( 70 ) بچوں سے ہوئی۔ یہ بچے ”متبادل دیکھ بھال کے گھروں“ سے باقاعدہ طور پر منسلک نہیں تھے بلکہ اپنی ماؤں یا قریبی رشتہ داروں کے ساتھ رہائش پذیر تھے، جبکہ ان کی تعلیم، صحت، اور دیگر ضروریات دونوں تنظیمیں (الخدمت فاؤنڈیشن، لاہور اور

Read more

سندھو دیش کی راج کماری سوریا، بنت داہر (ناول) میں

بنت داہر، دو لفظوں کی جڑت ہی نہیں، بلکہ دو تہذیبوں کی ایسی داستان ہے جس کے ہم سب صدیوں سے اسیر ہیں۔ یہ دو رویوں کی کہانی ہے جو ہمارے چاروں طرف بکھری ہوئی ہے۔ یہ دو سوچوں کے دھارے ہیں جو دریا کنارے پھلتے پھولتے تمدن کی روانی اور صحرائی معاشرے کی شدت اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ یہ دو تصور کائنات ہیں جو ایک دوسرے کی مخالف سمت میں رواں دواں ہیں۔ فاتح اور مفتوح کے درمیان

Read more

شادی، سول پارٹنرشپ اور روایتی شادی کے بغیر ساتھ رہنے والے جوڑے

پاکستانیوں کی ایک بہت بڑی تعداد برطانیہ میں مقیم ہے لہذا یہ مضمون ان تارکین وطن کے لئے قانونی نقطہ نگاہ سے وہاں کے خاندانی نظام کو سمجھنے میں بہت معاون ثابت ہو سکتا ہے۔ اس مضمون میں انگلش قوانین کے حوالے سے خاندان بنانے والے تین اداروں (شادی، سول پارٹنرشپ اور روایتی شادی کے بغیر ساتھ رہنے والے جوڑوں کے) بارے ابتدائی سطح کا تعارف پیش کیا گیا ہے تا کہ یہ معلوم ہو سکے کہ دور جدید میں

Read more

ذو صنفی انسان

1871 میں برطانوی حکومت نے قبائل کے مجرمانہ قانون کے ذریعے مختلف قبائل اور برادریوں کے ساتھ ساتھ ذو صنفی (ٹرانس جینڈر) کمیونٹی کو بھی جرائم پیشہ گروہ میں ڈال کر برصغیر ( پاک و ہندو بنگلہ) میں ٹرانس کمیونٹی کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالنے کی ناقابل معافی کوششوں کا حکومتی سطح پر باقاعدہ آغاز کیا تھا۔ 2018 میں پاکستان کی پارلیمنٹ نے ذو صنفی انسانوں کے آئینی اور قانونی حقوق کے تحفظ کے لئے ایک قانون پاس کر

Read more

ہمارے ادارے بالکل ہمارے جیسے ہیں

اچھا! تو پھر ہم کیسے ہیں؟ توبہ، استغفار، خدا کی پناہ، لا حول ولا قوۃ۔ ”وہ جو ہم نہیں ہیں، بہت خوبصورت ہیں“ ۔ پھر بھی آخر ہم ہیں کیا؟ معلوم تو ہونا چاہیے؟ اچھا، اپنے آپ کو جاننا چاہتے ہو۔ تو پھر اپنے قومی اداروں کو دیکھ لو۔ فی زمانہ اپنی پہچان، اپنے قومی اداروں سے ہی ہوتی ہے۔ ادارے، افراد کا ہی عکس ہوتے ہیں۔ جیسے ہم، ویسے ہمارے ادارے۔ کہتے ہیں کہ پہلے زمانے میں جو اپنے

Read more

فلسفہ، سائنس اور تہذیب

ہمارے ملک میں کتاب دوستی کا جائزہ ڈاکٹر ساجد علی کے اس جملے سے لیا جا سکتا ہے کہ ”اس ملک میں کسی ترجمے کا دوسرا ایڈیشن چھپنا بہرحال ایک واقعہ ہے“ ۔ یہ وہ فقرہ ہے جو انہوں نے کارل پوپر کے چند منتخب کردہ مضامین کا اردو میں ترجمہ کرتے ہوئے ایک کتاب بعنوان ”فلسفہ، سائنس اور تہذیب“ میں تحریر کیا ہے۔ معلوم نہیں 26 سال پہلے مترجم نے ان مضامین کا انتخاب کن بنیادوں پر کیا تھا۔

Read more

بارہ مسالے والی تحریک انصاف

الیکشن کمیشن آف پاکستان کے بارہ برجوں نے پاکستان تحریک انصاف کو بارہ باٹ کر دیا ہے یا نہیں،اس کا فیصلہ تو وقت ہی کرے گا۔ ہمیں تو یہ دیکھنا ہے کہ آخر اس بارہ دری کے اندر چھپا کیا ہے۔ یاد رہے کہ پاکستان ان 126 ممالک میں شامل ہے جنہوں نے اپنی سیاسی جماعتوں پر غیر ملکی افراد اور کمپنیوں سے عطیات لینے پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔ جبکہ فیصلے کے مطابق پی ٹی آئی نے اپنے

Read more

ایک سو تیس نمبری ریاست

ایک ایسا ملک جسے گنتی میں عدد ’واحد‘ سے لازوال محبت ہو اور جہاں محب الوطن ’نمبر ون اور ون پیج‘ کی تسبیح سوتے جاگتے الاپتے نہ تھکتے ہوں وہاں قانون کی حکمرانی کے حوالے سے ورلڈ جسٹس پراجیکٹ کی طرف سے 139 ممالک کی فہرست میں اسلامی جمہوریہ پاکستان کو 130 نمبر پر رکھنا یہود و ہنود کی عالمی اور گہری سازش نہیں ہے تو کیا ہے؟ حالانکہ روایتی پاکستانی انداز سے دیکھا سوچا جائے تو مملکت اللہ دتہ

Read more

سود در سود، انٹرسٹ اور یوزری – وفاقی شرعی عدالت کا تازہ ترین فیصلہ – تیسری قسط

تعین کردہ نکتہ نمبر 3 میں وفاقی شرعی عدالت نے اس سوال کا جواب دیا ہے کہ صرف مرکب ربا (بڑھتا اور چڑھتا سود) ہی منع نہیں ہے بلکہ سادہ/عام ربا بھی منع ہے۔ کیونکہ دلائل میں تاثر یہ دیا جا رہا تھا کہ سورۃ آل عمران کی آیت 130 کے مطابق صرف بڑھتا اور چڑھتا سود (الربا اضعافاً مضعفۃ) ہی منع ہے جبکہ جائز اور مناسب سود منع نہیں ہے۔ اس سوال کا جواب دیتے ہوئے وفاقی شرعی عدالت

Read more

آخر سود ہے کیا؟ وفاقی شرعی عدالت کا تازہ ترین فیصلہ – دوسری قسط

اس سلسلے کی پہلی قسط پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں فیصلے کا تعین کردہ نکتہ نمبر 1 وفاقی شرعی عدالت کے دائرہ اختیار و سماعت سے متعلقہ ہے جو کہ خالصتاً ایک آئینی اور قانونی بحث ہے، عام آدمی کے لئے شاید اتنی دلچسپی کا باعث نہ ہو۔ اور چونکہ آئین پاکستان کے تحت، کسی بھی قانون بارے یہ فیصلہ کرنا کہ وہ قرآن و سنت کے خلاف ہے یا نہیں، یہ اختیار وفاقی شرعی عدالت کے پاس ہے،

Read more

وفاقی شرعی عدالت اور مسئلہ ربا (تازہ ترین فیصلہ) پہلی قسط

وفاقی شرعی عدالت، جو کہ آئین پاکستان کے آرٹیکل 203 سی کے تحت 1980 میں قائم کی گئی تھی، نے اپنے فیصلے مؤرخہ 14 نومبر 1991 کے تحت ’ربا‘ کو، اپنی تمام شکلوں اور صورتوں میں، قرآن و سنت کی تعلیمات کے خلاف قرار دیا تھا۔ سپریم کورٹ کے شریعت ایپلیٹ بنچ نے اپنے فیصلے مؤرخہ 23 دسمبر 1999 کے ذریعے وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے کو درست قرار دیا اور یوں ربا/سود سے متعلقہ 8 مختلف قوانین کو مکمل

Read more

اے خدا، ہمیں عسکری راستے پر چلا!

بقول شخصے میرے دیس میں کام کرنے کے تین طریقے ہیں۔ صحیح، غلط اور عسکری۔ اب عام لوگ تو بس دو ہی طریقوں سے واقف تھے کہ یا تو طریقہ صحیح ہوتا ہے یا غلط۔ خاص آدمیوں نے سمجھایا کہ اس صحیح غلط کے بیچوں بیچ ایک نہیں کئی درمیانی راستے ہوتے ہیں۔ خاص الخاص بندوں نے تنبیہ کی کہ یہ صحیح غلط کچھ نہیں ہوتا، حالات و واقعات کے ساتھ ساتھ قوم، ملک، سلطنت کے وسیع تر مفادات ہی

Read more

ایک دفعہ پھر قوم کو چاند پر حکومت مبارک ہو!

اس کرہ ارض پر قریب دو سو ممالک میں صرف ایک ملک ایسا ہے جس کی فرماں روائی چاند تک ہے۔ تسخیر ارض و سما کی ایسی عملی مثال دنیا کے کسی اور ملک کے بس کی بات تھی بھی نہیں۔ آپ حیران نہ ہوں، یہ اعزاز صرف اور صرف وطن عزیز یعنی ارض پاکستان کو حاصل ہے۔ اور یہ خوش نصیبی کوئی اس سال سے نہیں ہے، بلکہ مملکت خدا داد کی تخلیق کے ساتھ ہی چندا ماموں پر

Read more

ہماری چھوٹی چھوٹی رنگا رنگ کائناتیں

انسان کی طرح انسان کے بنائے ہوئے ادارے بھی اپنا الگ تصور کائنات رکھتے ہیں۔ خوش نصیب ہیں وہ ممالک جنہوں نے ایسا اجتماعی انتظام بنایا جس میں ہر انسان کو اپنی کائنات بنانے اور سنوارنے کے بھرپور اور مساوی مواقع فراہم کیے۔ آج ہر ملک اپنے اپنے نظاموں اور اداروں کی بدولت مختلف قسم کی شخصی کائناتوں کو وجود بخش رہے ہیں۔ یہی اصول ہم مختلف گروہوں اور جماعتوں پر بھی لگا کر ان کی کائنات بخوبی سمجھ سکتے ہیں۔

Read more

مذہبی فکر پر سائنس اور فلسفہ کے اثرات

ہر زمانہ اپنا علم  لے کر آتا ہے۔ علم حاصل کرنے کے جتنے بھی بنیادی ذرائع ہیں ان سب میں انسانی حواس کا کسی نہ کسی درجے میں عمل دخل ہوتا ہے۔ اہل علم ان ذرائع کو استعمال میں لا کر کائنات کے رازوں پر سے پردہ اٹھاتے رہے ہیں۔ تاریخ میں ایسے لوگ بہت کم ہوئے ہیں، جو مختلف ذرائع علم کے بیک وقت ماہر رہے ہوں اور انہوں نے اپنی تحقیقات میں ایک سے زیادہ حصول علم کے

Read more

دائروں کی قیدِ مسلسل اور سالِ نو

دائروں کی قیدِ مسلسل اور سالِ نو
احمد سرفراز
ہم ویسے بھی دائرے بنانے میں ماہر ہیں۔ ہم پہلے نامعلوم دائرے بناتے ہیں اور پھر ان دائروں کا سرا ڈھونڈتے پھرتے ہیں۔ اب بھلا ہمیں کون سمجھائے کہ دائروں کا کوئی آغاز یا انجام نہیں ہوتا۔ دائروں میں سفر کرتے کرتے ہم نے زندگی کو بھی مختلف دائروں میں بانٹ کر رکھ دیا ہے۔ دائرہ وسیع ہوتا تو پھر بھی کوئی بات ہوتی لیکن یہاں تو ہر کوئی اپنے ننھے ننھے دائروں کو ہی پوری کائنات کہلوانے پر مصر ہیں۔ اور اس پر مستزاد یہ کہ ہر دم پھیلتی کائنات کو بھی اس میں قید کرنا چاہتے ہیں۔

Read more

فوجی بنیاد پر بنائی گئی مستقل سیاسی پارٹی کی تلاش

سیاست کسے کہتے ہیں؟ سیاسی جماعت کیا ہوتی ہے؟ سیاسی تربیت کیسے کی جاتی ہے؟ سیاسی شعور کیسے پنپتا ہے؟ مہذب دنیا میں اس کا مطلب بھلے کچھ بھی ہو۔ لغت میں اس بارے جو بھی لکھا ہو۔ پاکستانی ہجوم کا اس سے کچھ لینا دینا نہیں ہے۔ پاک سر زمین کے باسیوں کی اپنی لغت ہے۔ اپنی سوچ ہے۔ اپنا مطلب ہے۔ اپنا نظریہ ہے۔ لشکروں کی اپنی اصطلاحات ہوا کرتی ہیں۔ پاکستانی عوامی بولی میں، سیاست امیر لوگوں

Read more

کیا نیب ریٹائرڈ آرمی افسران کا احتساب کر سکتا ہے؟

فقیر راحموں کا قول ہے کہ کوئی فرد یا ادارہ چاہے جتنا بھی مقدس ہو، جو بھی سیاست کرے گا یا سیاسی عہدہ پر فائز ہو گا یا کسی بھی طرح کی عوامی خدمت کی ذمہ داری کا (نو آبادیاتی گندمی آدمی کا ) بوجھ اٹھائے گا، اسے اپنے آپ کو عوام کے سامنے جوابدہ ہونا پڑے گا۔ یہ ایک ایسا مسلمہ اصول ہے جس سے انحراف کی ذرا سی بھی گنجائش قوموں اور نسلوں کے لیے ظلم اور تباہی کا باعث بن سکتی ہے۔ اور یہ تو ہم سب اچھی طرح جانتے ہیں کہ حکومتیں کفر پر تو قائم رہ سکتی ہیں، لیکن ظلم پر ہرگز نہیں۔

مسلم تاریخ کے سب ادوار میں خلیفۂ وقت نہ صرف حکمران تھے بلکہ سپریم کمانڈر / سپہ سالار بھی ہوا کرتے تھے۔ تاریخ گواہ ہے کہ ان سب حضرات نے کبھی بھی اپنے آپ کو احتساب سے ماورا نہیں سمجھا۔ خود خلفائے راشدین جیسی عظیم شخصیات نے بھی اپنے آپ کو لوگوں کے سامنے احتساب کے لیے پیش کیا۔

Read more

ہمیں سردیوں میں جمہوریت اور گرمیوں میں صرف آم چاہیے!

جنرل ایوب خان کا خیال تھا کہ پاکستان کے لوگ اتنے غریب اور جاہل ہیں کہ انہیں بالغ رائے دہی کی بنیاد پر ووٹ کا حق نہیں دیا جا سکتا۔ آپ نے اسی لیے لوگوں کو ’بنیادی جمہوریت‘ کا سبق پڑھایا تھا۔ اسی طرح آپ یہ بھی فرمایا کرتے تھے کہ پاکستان جیسے گرم علاقوں کے لیے جمہوریت بالکل بھی مناسب نہیں ہے۔ جمہوریت تو صرف برطانیہ جیسے سرد علاقوں کو ہی راس آتی ہے۔ اب جمہوریت کا موسم گرما

Read more

ہم جیسا آزاد بھی کوئی کیا ہو گا!

14 اگست 1947 ہماری غلامی کا آخری دن تھا۔ آزادی پھیلنے کے کچھ عرصہ بعد ہمارے کرتا دھرتاؤں نے غلامی کے آخری دن کو یادگار کے طور پر اپنی آزادی کا پہلا دن منانے کا فیصلہ کیا۔ اور یوں یہ تاریخ غلامی کی آخری نشانی کے طور پر ہمارے ہاں ہر سال جشن آزادی کے طور پر منائی جانے لگی۔ آخر ایک آزاد ملک کو اتنا تو اختیار ہوتا ہی ہے کہ وہ یہ فیصلہ کر سکے کہ اسے اپنی آزادی کس دن منانی چاہیے۔ ( یاد رہے کہ انڈین انڈیپنڈینس ایکٹ 1947 کے تحت 15 اگست 1947 کو برصغیر کو دو نئی مملکتوں ( پاکستان اور ہندوستان) میں بانٹا گیا تھا۔ )

23 مارچ 1940 کو قرارداد لاہور منظور ہوئی اور 23 مارچ 1956 کو پاکستان کے پہلے آئین کے نفاذ کے دن کو ہم نے یوم جمہوریہ کے طور پر منانے کا فیصلہ کیا۔ لیکن اکتوبر 1958 کے کامیاب انقلاب کے بعد یوم جمہوریہ منانا ممکن نہیں رہا تو ہم نے 23 مارچ 1959 کو یوم پاکستان کے طور پر منانے کا اعلان کر کے ایک بار پھر سے اپنی آزادی کا لوہا (دیگر تمام دھاتوں سمیت) منوایا۔

Read more

استحصال کرنے والوں کے نام!

آج 5 اگست 2020ء جب کہ پاکستان میں سرکاری طور پر ’مقبوضہ کشمیر‘ کے ’مظلوم کشمیریوں‘ کے لیے ’یوم استحصال‘ ہر قسم کے جوش و خروش سے منایا جا رہا ہے۔ چند منٹوں کی خاموشی اختیار کی جارہی ہے۔ شاہراؤں کے نام بدلے جا رہے ہیں۔ ’نئے پاکستان‘ کے نقشے جاری کیے جا رہے ہیں۔ ’دشمن کی نیندیں اڑا دینے والے ان اقدامات‘ کے باوجود مجھے نجانے کیوں ’مظلوم پاکستانیوں‘ کی یاد ستانے لگی ہے۔ ’یادوں کی اس برات‘ کو

Read more

محبت نبوی ﷺ میں نفسانیت

قانون ہاتھ میں لینا، ایک ایسا جرم ہے جسے انسانی تہذیب کے کسی بھی دور میں ناقابل معافی جانا گیاہے۔ ممتاز قادری کیس کی سماعت کے دوران معزز عدالت نے کہا تھا کہ کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے کی اجازتت نہیں دی جا سکتی۔ حتیٰ کہ ایک ایسا مجرم جسے عدالت سے موت کی سزا سنائی جا چکی ہو، اس سزا پر بھی عملدرآمد ایک طے شدہ طریقہ کار کے مطابق ہوتا ہے۔ موت کی سزا سنائے جانے

Read more

قرارداد مقاصد: اعتراضات کے جوابات

چند روز ہوئے ’ہم سب‘ پر اپنے اک مضمون بعنوان ”پاکستان کا پہلا ’اسلامی قدم اور‘ کافروں ’کے اعتراضات“ میں قرار داد مقاصد پیش کیے جانے کے موقع پر دستور ساز اسمبلی کے ممبران کی طرف سے ترامیم کی صورت میں اٹھائے گئے اعتراضات کا لب لباب بیان کیا گیا تھا۔ چند ’معلوم صلاح کاروں‘ کی یہ ’پر زور فرمائش‘ تھی کہ چونکہ ہر ’شکوہ‘ کا اک ’جواب شکوہ‘ ہوتا ہے۔ اس لیے ان ’کافروں‘ کے اعتراضات کا جواب دینا

Read more

پاکستان کا پہلا ’اسلامی قدم‘ اور ’کافروں‘ کے اعتراضات!

’قرارداد مقاصد‘ پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی کی وہ واحد تخلیق ہے جسے آج بھی آرٹیکل ٹو۔ اے کے تحت (جنرل ضیا الحق کے اسلامی نظام اور جماعت اسلامی کے ’طفیل‘ ) ’آئینی تحفظ‘ حاصل ہے۔ خود آرٹیکل ٹو۔ اے کی اپنی کیا حیثیت ہے؟ اس کو اگر ایک جملے میں سمونا ہو تو ہم یوں کہنے کی جسارت کر سکتے ہیں کہ ’آئین پاکستان کے کسی ایک آرٹیکل کو آئین کے کسی دوسرے آرٹیکل پر کسی قسم کی

Read more

اورنگ زیب عالمگیر کے فرامین اور ہندو مندر

’پاک سر زمیں‘ کے دارالحکومت ’اسلام آباد‘ میں آج کل ایک ہندو مندر کی تعمیر بارے گفت و شنید زوروں پر ہے۔ ’مجاہدین اسلام‘ اورچند موقع پرست سیاسی جماعتیں اپنے اپنے تیر اور جگر آزمانے میں مصروف ہیں۔ ایک دفعہ پھر ’اسلام خطرے میں ہے‘ کی دہائی ہے۔ بہرحال، اس سارے قضیے میں اس بات پہ تو سب متفق دکھائی دیتے ہیں کہ ’اسلامی جمہوریہ پاکستان‘ میں غیرمسلموں کی عبادت گاہوں کا ہر لحاظ سے تحفظ کیا جانا چاہیے۔ تنازع

Read more

پاکستانی پارلیمنٹ پر ’خداؤں‘ کا سایہ ہے!

پارلیمنٹ کو کسی بھی جمہوری ملک میں ’اداروں کی ماں‘ کہا جاتا ہے۔ کیونکہ پارلیمنٹ ہی دیگر ریاستی اداروں کو وجود بخشتی ہے۔ پاکستان جیسے ملک میں پارلیمنٹ کی کیا حیثیت ہے، اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ایسے تمام مصنفین جنہوں نے پاکستانی ریاستی اداروں پر بہت کچھ لکھا ہے، انہوں نے پاکستانی پارلیمنٹ کو بطور ادارہ دیکھنا اور لکھنا مناسب نہیں سمجھا۔ اسی کمی کو ڈاکٹر محبوب حسین نے شدت سے محسوس کیا

Read more

آئیے، ہم سب مل کر اپنی جہالت دور کرتے ہیں!

’جاننا‘ ہر انسان کا بنیادی حق ہے۔ جاننے کے اس حق کی شروعات معلومات تک رسائی سے ہوتی ہے۔ ’انسانی حقوق کے عالمی اعلان‘ کے نعروں کی روح کے مطابق ’‘ معلومات کی فراہمی کا انکار ہی غیر منصفانہ حکومت کا اصل ہتھیار ہے“ ۔ جانکاری سے ہی تحقیق کے دروازے کھلتے ہیں اور انسان سچ اور جھوٹ میں تمیز کر پاتا ہے۔ جاننے کے عمل کا آغاز کسی بھی شے بارے دستیاب ’انفارمیشن‘ کوایک جگہ اکٹھا کرنے سے ہوتا

Read more

مولانا عبیداللہ سندھی کا ایک تعارف

کبھی کبھار یوں ہوتا ہے کہ زیست سے بھی مقدس منزلیں پاس بلا کر رخ موڑ لیتی ہیں۔ جان سے بھی پیارے خواب تعبیر کی کرچیوں میں بکھر کر دامن کو نئے ارمانوں سے بھر دیتے ہیں۔ اپنوں کے بھروسے پہ منتخب کردہ اک راہ نئی مسافتوں میں ڈھل جاتی ہے۔ نسلوں کے دشمن سے وقت کی کسی شبھ گھڑی میں ہاتھ ملانا پڑ جاتا ہے۔ اپنے سچ کے راستے پر چلتے چلتے زمانہ نئی حقیقتوں سے دوچار کر دیتا

Read more

کیا روح عصر پہچاننے والے ہی انسانی تاریخ میں کامیاب ٹھہرے ہیں؟

نوٹ: اس مضمون کے بنیادی خیالات ”ول اینڈ اریل دیورانت“ کی کتاب ”دی لیسنز آف ہسٹری“ سے ماخوذ ہیں۔

فلسفہ کیا ہے؟ ”کل کے تناظر میں جزو کو سمجھنے کی اک عمیق کوشش“ ۔ فلسفۂ تاریخ کیا ہے؟ ”لمحۂ موجود کو گزرے ہوئے پل کی روشنی میں جاننے کی اک ادنیٰ سی کاوش“ ۔ پورا سچ بھلا کون جان پایا ہے! ہمیں تو اپنے ادھورے سچ کے ساتھ ہی اپنا سفر جاری رکھنا ہے۔ گود سے گور تک سیکھنے کا اک مسلسل سفر۔ امکانات سے مزین اور غیر یقینی صورتحال سے آراستہ۔ شاید، خدا کو جمود پسند نہیں ہے۔ ہر اٹھنے والا قدم، ہماری بصارت اور بصیرت میں وسعت پیدا کرتا جائے گا۔ ہر آنے والا لمحہ، گزرے ہوئے لمحات سے بہتر ہوتا چلا جائے گا۔

Read more

کیا اسلامی انقلاب جیسی اصطلاحات بیسویں صدی کی اختراع ہیں؟

حال ہی میں شائع ہونے والی کتاب، ”مذہبی انتہا پسندی“ (اسلامی انقلاب و حکومت اور جوانی بیانیہ) از شمس الدین حسن شگری کی ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ اس میں مکتبہ خلافت ( اہل سنت) اور مکتبہ امامت ( اہل تشیع) دونوں مکاتب فکر کے قدیم اور جدید اہل علم کی آرا کو پیش کیا گیا ہے۔ کتاب کے پیش لفظ میں ڈاکٹر روش ندیم لکھتے ہیں کہ مسلم دنیا میں مقامی جدیدیت کا عمل سب سے پہلے

Read more

پرچم ستارہ و ہلال پہ سورج کیوں نہیں ہے؟

سورج ہو، یا چاند یا کوئی ستارہ، انسان کو ہمیشہ سے ان میں ایک عجیب سی کشش محسوس ہوتی رہی ہے۔ انسانی تہذیب کے مختلف مراحل میں اس آفاقی تثلیث نے زمین کے باسیوں کو افلاک کی بلندیوں سے جوڑا ہے۔

کسی ستارے سے چاند تک کا سفر ہو یا پھر چاند سے سورج تک کا یا پھر ان انجم ثلاثہ سے بھی آگے کا ان دیکھا انسانی ذہنی سفر ہو۔ تاریخ کی شہادت ہے کہ انسانی تہذیب اور سماج ہمیشہ سے ارتقا پذیر رہا ہے۔ اور شاید یہی بن دیکھے کا اثر ہے کہ آج کا انسان نے اپنے ہی پیدا کردہ بہ ظاہر وجود نہ رکھنے والے اداروں کا اسیر ہے۔

Read more