14 اگست 1947 ہماری غلامی کا آخری دن تھا۔ آزادی پھیلنے کے کچھ عرصہ بعد ہمارے کرتا دھرتاؤں نے غلامی کے آخری دن کو یادگار کے طور پر اپنی آزادی کا پہلا دن منانے کا فیصلہ کیا۔ اور یوں یہ تاریخ غلامی کی آخری نشانی کے طور پر ہمارے ہاں ہر سال جشن آزادی کے طور پر منائی جانے لگی۔ آخر ایک آزاد ملک کو اتنا تو اختیار ہوتا ہی ہے کہ وہ یہ فیصلہ کر سکے کہ اسے اپنی آزادی کس دن منانی چاہیے۔ ( یاد رہے کہ انڈین انڈیپنڈینس ایکٹ 1947 کے تحت 15 اگست 1947 کو برصغیر کو دو نئی مملکتوں ( پاکستان اور ہندوستان) میں بانٹا گیا تھا۔ )
23 مارچ 1940 کو قرارداد لاہور منظور ہوئی اور 23 مارچ 1956 کو پاکستان کے پہلے آئین کے نفاذ کے دن کو ہم نے یوم جمہوریہ کے طور پر منانے کا فیصلہ کیا۔ لیکن اکتوبر 1958 کے کامیاب انقلاب کے بعد یوم جمہوریہ منانا ممکن نہیں رہا تو ہم نے 23 مارچ 1959 کو یوم پاکستان کے طور پر منانے کا اعلان کر کے ایک بار پھر سے اپنی آزادی کا لوہا (دیگر تمام دھاتوں سمیت) منوایا۔
Read more