حرف انکار اور دیوار پر لکھی تحریر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہم عجب قوم ہیں، جذبات سے زیادہ جذباتیت ہماری شناخت بن چکی ہے۔ سنی سنائی باتوں پر ایسے پہرہ دیتے ہیں ’جیسے کسی نوشتۂ دستاویز پر! تاریخ کا معاملہ ہو یا جغرافیائی حقیقت‘ معروضی انداز فکر ہمارے اندر پنپنے کا نہیں۔ کبھی اپنے دین دار بادشاہ سے ٹوپیاں سلواتے ہیں اور کبھی تاریخ کے جھروکوں سے اسے قرآن کی کتابت کرتے ہوئے دکھاتے ہیں۔ مسلمان بادشاہوں کی تاریخ کو اسلام کی تاریخ کہنے پر مصر ہیں۔ ۔ ۔ ان کی کشور کشائی اور محاذ آرائی کو نظریاتی معرکہ آرائی قرار دیتے ہیں۔

ہماری قوت شامہ اس قدرزود حس ہے کہ ہر شعبۂ حیات میں ہم سازش اور سیاست کی بو سونگھ لیتے ہیں۔ سازش تھیوری ہماری مرغوب ترین تھیوری ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس میں کرنا کچھ نہیں پڑتا بس الزام دھرو اور بری الذمہ ہو جاؤ۔ بیماری و صحت کے معاملات ہوں یا یا پھر سماجیات کا کوئی مسئلہ درپیش ہو ہماری زود فہمی ہمیں فوراً بتا دیتی ہے کہ اس کے پیچھے ہنود کا ہاتھ ہے یا یہود کا۔ ہم دیوار دیکھتے ہیں نہ نوشتۂ دیوار۔ ۔ ۔ لیکن دیوار کے پار قیاس آرائیاں ہماری بزم آرائیوں کا حصہ ہے۔

لاہور کے ایک نسبتاً پوش علاقے میں کلینک کرتا ہوں، یہاں تعلیمی و معاشی دونوں اعتبار سے خوشحال طبقے سے واسطہ پڑتا ہے، یہاں کا حال یہ ہے کہ ابھی تک میرے مریض مجھ سے رازدارانہ انداز میں پوچھتے ہیں ”ڈاکٹر صاحب! یہ کرونا ورونا ہے بھی۔ ۔ ۔ یا۔ ۔ ۔ ؟“ ان پڑھ لکھ جانے والے لوگوں کو مجھے یہ بتاتے ہوئے صبح سے شام ہوتی ہے کہ خدا کا خوف کرو میاں یہاں ڈاکٹر مر رہے ہیں، پیاری پیاری نرسیں بیچاری اللہ کو پیاری ہو رہی ہیں، لیکن معاملہ وہی ڈھاک کے تین پات۔

۔ ۔ یعنی یہ غیروں کی سازش ہے یا پھر اپنی حکومتوں کا ہتھکنڈہ ہے، قرضے لینے اور معاف کروانے کا دھندہ ہے۔ ہر دوسرا مریض اس سازش تھیوری کے ساتھ دس بیس سال پرانی فلموں کا حوالہ دینا نہیں بھولتا کہ فلاں فلم میں بھی کرونا کا ذکرتھا۔ مخاطب اگر مصنف یا ادیب ہو تو اسے سمجھایا جاسکتا ہے کہ انسان کی قوت متخیلہ اس کے رب کی طرف سے عطا کردہ ایک بہت بڑی قوت ہے۔ یہ مستقبل کو حال کے نقشے میں کھینچ لاتی ہے۔ جن کے ہاں تحقیق کا چلن ہے ’وہ اپنے افسانے کو حقیقت کے اس قدر قریب کھینچ لاتے ہیں کہ حقیقت کا گمان ہونے لگتا ہے، جس موضوع پرقلم اٹھاتے ہیں‘ اس پر قلم توڑ دیتے ہیں، اس پر سائنس کو خوب کھنگالتے ہیں، اوربعینہٖ وہی اصطلاحات استعمال کرتے ہیں جو اس شعبے کے ماہرین کے ہاں مستعمل ہوتی ہیں۔

فلو قبیلے کا کرونا وائرس پہلے سے دریافت شدہ ہے، بس کرونا لفظ استعمال کرنے کی ایک غلطی ہوئی فلم ڈایئریکٹر سے کہ ابھی تک ڈاکٹر بھی بھگت رہے ہیں۔ ظاہر کا انکار کرنے والے ’ظاہر پر تحقیق کیسے کریں گے؟ جب تک کسی مسئلے کی گمبھیرتا کا اعتراف ہی نہ کیا جائے‘ اس کی تشخیص اور پھر علاج کا مرحلہ کیسے طے ہوگا۔

کم و بیش یہی رویہ ہمارا دین کے بارے میں ہے۔ اسلام دین فطرت ہے، دین فطرت پر چلنے والوں پر فطرت کے اصولوں کی نگہبانی ایک فرض کی طرح لازم ہے۔ انفرادی طور پر باصلاحیت افراد کی کمی نہیں ’لیکن ہم اجنماعی رویے کی بات کر رہے ہیں۔ ہمارا عمل بالعموم دوسروں کے عمل کا رد عمل ہوتا ہے۔ عمل کی بجائے رد عمل اختیار کرنے کی روش ہمیں اس راہ اعتدال پر نہیں رہنے دیتی‘ جسے دین ایک نصاب زیست کے طور پر مقرر کرتا ہے۔ بس ادراک کا کوئی ٹکڑا ہاتھ لگ جائے تو ہم فوراًپنساری کی دکان کھول لیتے ہیں۔ ہم بھول جاتے ہیں کہ دین کے دسترخوان پر ہم سب مہمان ہیں، اور کسی مہمان کے لئے مناسب نہیں کہ وہ میزبان بننے کی کوشش کرے۔ دعوت میں ہر شخص ہی میزبان بن جائے، قافلے میں ہر شخص ہی لیڈر بن تو قافلۂ عمل جادہ پیما کیسے ہوگا۔

خیال رہے کہ خیال ہمارے عمل کا امام ہوتا ہے۔ اگر امام بے وضو ہو ’تو مقتدا کیسا، اور اقتدا کیسی؟ طہارت کو نصف ایمان کہا گیا ہے۔ ۔ ۔ اور طہارت صفائی کے بعد کا مرحلہ ہے۔ اگر ظاہری گندگی لگی ہوتو کلمہ پڑھ کر بھی کپڑا صاف نہیں ہوتا۔ کنویں سے مردہ کتا نہ نکالا جائے تو فتوے کے مطابق پانی کے ڈول بہانے سے پانی پاک نہیں ہوتا۔ اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ ظاہری عارضے کا اپائے کس قدر ضروری ہے۔ ایک بندۂ مومن کو ظاہری صفائی کا اہتمام بھی ایسی ہی تندہی سے کرنا ہوتا ہے‘ جیسے باطنی پاکیزگی کا۔

ہم ظاہر سے باطن کی طرف جاتے ہیں۔ باطن سے ظاہر کی طرف آنا صرف فرستادہ پیغمبروں کا منصب ہوتا ہے۔ ۔ ۔ وہی ﷺ ہیں ’جو وحی کی روشنی میں اہل ظاہر سے مخاطب ہوتے ہیں۔ ہمارے پاس قرآن لفظوں کی صورت میں پہنچا ہے، ان ﷺ کے پاس وحی تھی، وہ لفظوں کے محتاج نہ تھے۔ ہم امتی ہیں، خاک سرشت ہیں، خاک پائے نقوش کف پا ہونا ہی ہماری سعادت ہے۔ ہم لفظ سے معنی کی طرف جائیں گے۔ لفظ ظاہر ہے، اوراس کے معانی باطن میں ہیں۔ اہل باطن ظاہر کے عارف ہوتے ہیں، وہ ظاہر کا علم پہلے حاصل کرتے ہیں اور اس کے بعد ظاہر کی باطنی جہت کی پرتیں کھولتے ہیں۔ بڑے بڑے مستوار، سکر میں ڈوبے ہوئے قلندروں کی سوانح بتاتی ہے کہ وہ مروجہ ظاہری علوم پر بھی حاوی تھے۔ مرشدی واصف علی واصفؒ فرمایا کرتے، ہر عالم عارف نہیں ہوتا لیکن ہرعارف عالم ضرور ہوتا ہے۔

”حفظ مراتب نہ کنی ’زندیق شود“ حفظ مراتب میں ظاہر کا مرتبہ پہلے ہے‘ خواہ وہ علوم میں ہو یا احکامات میں۔ زکوٰۃ، روزہ، نماز اور حج ظاہری عبادتیں پہلے ہیں، ان کے باطنی اسرار بعد میں کھلنے والی برکتیں ہیں۔ منہ بند کیے بغیر کوئی روزے کی حقیقت تک نہیں پہنچتا۔ نماز پڑھے بغیر نماز قائم نہیں ہوتی۔ مال خرچ کیے بغیر زکوٰۃ ادا نہیں ہوتی۔

اس آزاد فطرت انسان پر قوانین فطرت کا پہرہ ہے، قوانین فطرت پر ان کے پروٹوکول کے مطابق چلنے والوں کو راستہ ملے گا۔ مادی قوانین کی طرح اخلاقی اور روحانی قوانین بھی اٹل ہیں، ان قوانین کی پاسداری کرنے والے ہی اپنے جسم کو آفت سے دور اور عافیت کے قریب رکھ پائیں گے، وہی اپنی روح کو فرحان کر سکیں گے!

Latest posts by ڈاکٹر اظہر وحید (see all)
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply