مسافر طیارے کا حادثہ: ذمہ دار کون؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پی آئی اے کی پرواز پی کے 8303 آج کراچی کے نزدیک حادثہ کا شکار ہوگئی۔ پندرہ برس پرانے ایئر بس 320 طیارے پر 91 مسافر اور عملہ کے آٹھ افراد سوار تھے۔ کورونا وائرس کی وجہ سے سماجی دوری یقینی بنانے کے لئے کم تعداد میں مسافروں کو ٹکٹ جاری کئے گئے تھے۔ عام طور سے اس قسم کے طیارے پر ڈیڑھ سو کے لگ بھگ مسافر سفر کرتے ہیں۔ رات گئے تک 66 افراد کی لاشیں تلاش کی جاچکی تھیں جبکہ دو افراد کے معجزانہ طور پر زندہ بچنے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔

فوج، سول ایسوسی ایشن اور صوبائی حکومت کی امدادی ٹیموں کے علاوہ متعدد رضاکار بھی طیارے کا ملبہ ہٹانے اور زندہ بچنے والے مسافروں یا یا لاشوں کو تلاش کرنے کا کام جاری رکھے ہوئے تھے۔ سندھ حکومت کے ترجمان کے مطابق جائے حادثہ پر ہیوی ڈیوٹی جینریٹر پہنچائے گئے ہیں تاکہ رات کے دوران بھی متاثرین کی تلاش کا کام جاری رکھا جاسکے۔ یہ طیارہ کراچی ائیر پورٹ کے نزدیک ماڈل کالونی پر گر کر تباہ ہؤا۔ اس کی وجہ سے زمین پر رہائشی مکان بھی اس کی لپیٹ میں آگئے۔ اس آبادی میں تنگ گلیوں کی وجہ سے بھی امدادی سرگرمیوں میں دشواری کا سامنا تھا ۔ ان مشکلات پر امدادی ٹیموں نے مل کر قابو پایا۔ تاہم ملبہ ہٹانے اور طیارہ پر سوار تمام لوگوں کو تلاش کرنے کا کام ایک دو روز تک جاری رہ سکتا ہے۔ مرنے یا زخمی ہونے والوں میں مقامی باشندے بھی شامل ہیں اس لئے رات گئے تک اس بات کا تعین نہیں ہوسکا تھا کہ جائے حادثہ سے برآمد ہونے والی لاشوں میں سے کتنے لوگ حادثے کا شکار ہونے والے بدنصیب طیارے پر سوار تھے اور کتنے لوگ مقامی باشندے تھے۔

حادثہ کا شکار ہونے والا طیارہ اگرچہ پندرہ برس پرانا تھا لیکن پی آئی اے نے اسے 2014 میں حاصل کیا تھا۔ سول ایویشن کے متعلقہ شعبہ سے ہر سال یہ سرٹیفکیٹ حاصل کیا جاتا تھا کہ تکنیکی لحاظ سے طیارہ پرواز کے قابل ہے۔ حادثہ کا شکار ہونے والے طیارے کو یہ سرٹفکیٹ گزشتہ سال نومبر میں جاری کیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ گزشتہ ماہ پی آئی اے کے چیف انجینئر نے ایک سرٹیفکیٹ میں طیارے کو پرواز کے لئے محفوظ قرار دیا تھا۔ تاہم پاکستان میں طیاروں کی دیکھ بھال اور اس میں برتی جانے والی کوتاہیوں کے پس منطر میں یہ کہنا دشوار ہے کہ اس طیارے کی تکنیکی حالت کیسی تھی اور اسے اچانک یہ حادثہ کس وجہ سے پیش آیا ہے۔ پاکستان میں محکمہ سول ایویشن کی بے چارگی کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ گزشتہ دو برس سے اس ادارے کا کوئی مستقل سربراہ یا ڈائیریکٹر جنرل موجود نہیں رہا۔ پی آئی اے میں عملہ کی زیادتی اور کثیر سرکاری وسائل صرف ہونے کے باوجود سروس کے علاوہ طیاروں کی دیکھ بھال سے چشم پوشی کی مثالیں سامنے آتی رہتی ہیں۔

وفاقی حکومت نے حادثہ کی تحقیقات کے لئے فوری طور سے چار رکنی کمیٹی قائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس کی سربراہی ائیر کرافٹ ایکسیڈنٹ اینڈ انویسٹیگیشن کے صدر ائیر کموڈور محمد عثمان غنی کریں گے۔ حکومت نے ایک ماہ کے اندر حادثہ کی ابتدائی رپورٹ فراہم کرنے کا حکم دیا ہے ۔ پی آئی اے کے سربراہ ائیرمارشل ارشد ملک نے یقین دلایا ہے کہ لواحقین کو حادثے کے بارے میں تمام حقائق سے آگاہ کیا جائے گا۔ لیکن پاکستان میں فضائی حادثات اور ان کی تحقیقات کی تاریخ کے تناظر میں اس حادثہ کی اصل وجہ کبھی سامنے نہ آنے کا زیادہ امکان ہے۔ خاص طور سے جب پی آئی اے کے حکام نے حادثہ کے فوری بعد طیارے کی تکنیکی صحت کے بارے میں یقین سے دعوے کرتے ہوئے یہ کہا ہے کہ طیارہ ہر طرح سے فٹ تھا اور اس میں کوئی نقص نہیں تھا۔

ائیر مارشل ارشد ملک نے آج صبح حادثہ کے بعد اسلام آباد سے کراچی روانگی کے وقت ہی اپنے بیان میں بالواسطہ طور سے بدنصیب طیارے کے پائیلٹ کو ذمہ دار قرار دینے کی کوشش کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ’پائیلٹ نے حادثہ سے فوری پہلے کنٹرول ٹاور کو بتایا تھا کہ اسے ٹیکنیکل مسئلہ کا سامنا ہے۔ اسے بتایا گیا کہ دو رن وے تیار ہیں ۔ وہ لینڈ کرلے لیکن پائیلٹ نے لینڈ کرنے کی کوشش کرکی بجائے فضا میں چکر لگانا شروع کردیا‘۔ ارشد ملک کے بقول اس کا تعین بلیک بکس ملنے اور تفصیلات سامنے آنے کے بعد ہوسکے گا کہ ایسا کیوں ہؤا۔ یہ امر حیرت انگیز ہونا چاہئے کہ پی آئی اے کے سربراہ نے جائے حادثہ پر پہنچنے، کنٹرول ٹاور کے عملہ سے ملاقات کئے بغیر اور اس حوالے سے کسی قسم کی رپورٹ دیکھنے سے قبل ہی ایک المناک سانحہ کے بارے میں قیاس آرائیوں کی بنیاد پر ایک ٹھوس رائے دینا ضروری سمجھا۔ اس سے صرف یہی نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ پی آئی اے کسی بھی تحقیقات سے قبل خود کو بری الذمہ قرار دینے کا اعلان کررہی ہے۔ اور کسی ممکنہ غلطی کی وجہ پائیلٹ یا حادثاتی تکنیکی سانحہ کو قرار دینا چاہتی ہے۔

 روزنامہ ڈان نے حادثہ کا شکار ہونے والے پائیلٹ کے ساتھ کنٹرول ٹاور کی آخری گفتگو کا جو متن شائع کیا ہے، اس سے ائیر مارشل ارشد ملک کے اس بیان یا قیاس کی تصدیق نہیں ہوتی کہ پائیلٹ نے لینڈ کرنے کی بجائے ہوا میں چکر لگانے کو ترجیح دی تھی۔ اس رپورٹ کے مطابق پائیلٹ اور کنٹرول ٹاور کے درمیان ہونے والا آخری مکالمہ یہ تھا:

پائیلٹ: ’ہم براہ راست لینڈ کررہے ہیں۔ ہمارا ایک انجن ضائع ہوچکا ہے‘

کنٹرول ٹاور: ’کنفرم کریں کہ آپ بیلی لینڈنگ کی کوشش کررہےہیں‘

پائیلٹ: سر۔ مے ڈے مے ڈے مے ڈے پاکستان 8303‘

رپورٹ کے مطابق یہ پائیلٹ کے آخری الفاظ تھے ۔ اس کے بعد رابطہ ٹوٹ گیا۔

متعدد عینی شاہدین نے بھی میڈیا کو بتایا ہے کہ طیارے نے حادثہ کا شکار ہونے سے پہلے دو مرتبہ لینڈ کرنے کی کوشش کی لیکن کامیاب نہیں ہوسکا اور تھوڑی ہی دیر میں وہ قریبی آبادی پر گر کر تباہ ہوگیا۔ اسی حوالے سے پاکستان ائیر لائینز پائیلٹس ایسوسی ایشن کے ترجمان طارق یحیی نے جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ کنٹرول ٹاور سے ہونے والی مواصلت سے اندازہ ہوتا ہے کہ طیارے میں رن وے تک پہنچنے کی طاقت نہیں تھی۔ طیارہ گلائیڈ کررہا تھا لیکن رن وے تک نہیں پہنچ سکا‘۔ پائیلٹس ایسوسی ایشن کے ترجمان کا یہ بیان بھی پی آئی اے کے سربراہ کے بیان سے مماثلت نہیں رکھتا۔ ارشد ملک نے کراچی پہنچ کر پریس کانفرنس میں بھی طیارے کے محفوظ ہونے کی یقین دہانی کروائی اور اس امکان کو مسترد کردیا کہ طیارے میں بھی کوئی خرابی ہوسکتی ہے۔ حادثہ کا سامنے کرنے والی ائیرلائن کے سربراہ کے ایسے بیانات اطمینان کی بجائے شبہات کو تقویت دیتے ہیں۔

امید کی جاسکتی ہے کہ تحقیقاتی کمیٹی اس حادثہ کے اصل اسبا ب کا سراغ لگائے گی تاکہ قومی ائیر لائن اگر کثیر وسائل صرف کرنے کے باوجود طیاروں کی دیکھ بھال میں کوتاہی کی مرتکب ہورہی تو اصلاح احوال کے لئے اقدامات کئے جاسکیں۔ تاہم ماضی قریب میں ہونے والے حادثات کے بعد سامنے آنے والی رپورٹیں قابل اعتبار ثابت نہیں ہوئی تھیں۔ پاکستان میں گزشتہ دس برس کے دوران کسی ائیر لائن کے مسافر طیارے کو پیش آنے والا یہ چوتھا بڑا حادثہ ہے۔ دسمبر 2016 میں چترال سے اسلام آباد آنے والا پی آئی اے کا اے ٹی آر 42 طیارہ تباہ ہوگیا تھا اور اس پر سوار تمام 48 مسافر جاں بحق ہوگئے تھے جن میں مقبول مبلغ اور گلوکار جنید جمشید بھی شامل تھے۔ 20 اپریل 2012 کو بھوجا ائیر کی ائیر بس کراچی سے اسلام آباد آتے ہوئے حادثہ کا شکار ہوئی اور 127 افراد جاں بحق ہوئے۔ اسی طرح 28 جولائی 2010 کو ائیر بلیو کی ائیربس 321 کراچی سے اسلام آباد پہنچ کر لینڈ کرنے میں کامیاب نہیں ہوئی اور قریبی پہاڑیوں سے ٹکرا کر تباہ ہوگئی۔ طیارے پر سوار 152 افراد لقمہ اجل بن گئے۔

حادثات کی اس افسوسناک تاریخ کو دیکھتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ پاکستان میں طیاروں کی دیکھ بھال کےطریقہ کو بہتر بنانے کے علاوہ ہوئی اڈوں پر کنٹرول کے طریقہ کار اور متعلقہ نظام میں خامیوں کو دور کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ کراچی میں ہونے والے حادثہ کے نتیجہ میں صرف اس ایک حادثہ پر توجہ مبذول کرنے اور اس کی رپورٹ کو پی آئی اے کی اعلیٰ کارکردگی کا سرٹیفکیٹ بنانے کی بجائے پی آئی اے اور سول ایویشن کے طریقہ کا راور قواعد و ضوابط اور ان پر عمل درآمد کے طریقہ کار کو پرکھنے اور ان میں مناسب تبدیلیاں کرکے ہی مستقبل میں پاکستان میں ہوائی سفر کو قابل اعتبار اور محفوظ بنایا جاسکتا ہے۔

اس حادثہ کے بعد یہ حقیقت ایک بار پھر سامنے آئی ہے کہ حادثہ کے فوری بعد فوج، فضائیہ اور بحریہ کی امدادی ٹیموں کو امدادی کام کی ذمہ داری قبول کرنا پڑی۔ ملک کا کوئی سول ادارہ یا وفاقی و صوبائی حکومت اس پوزیشن میں نہیں ہے کہ وہ کسی حادثہ سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتی ہو۔ ملک کی سول حکومتوں کے لئے یہ صورت حال افسوس اور شرم کا سبب ہونی چاہئے۔ اگرچہ فوج اور فضائیہ بھی پاکستان ہی کے ادارے ہیں اور مشکل وقت میں سول اتھاریٹیز کی مدد کرنا ان کی ذمہ داری بھی ہے ۔ لیکن اس مقصد کے لئے قومی وسائل سے قائم کئے گیے سول ایوی ایشن جیسے ادارے کیوں کر سفید ہاتھی بن چکے ہیں جو کسی بھی موقع پر اپنی ذمہ داری پوری کرنے سے قاصر رہتے ہیں؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 1683 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali

Leave a Reply