کپتان ٹرمپ نہیں بلکہ ہیلری ہے


\"wisi-baba\"

کپتان کے مداح چمک اٹھے ہیں۔ انہیں لگا ہے کہ اگر ٹرمپ ایسا کر سکتا ہے تو کپتان کیوں نہیں۔ انگل پیچھے لگ لگ کے خجل ہو ہو کر کپتان کے برگر بچے آنٹی لوگ پھر پر امید ہیں۔ اس کے باوجود اب گاتے بجاتے دکھائی دے رہے کہ ابھی تو ان کے دھرنے کی پھوک سے نکلتی گونج تک ختم نہیں ہوئی۔ اس بار انہوں نے اپنی امید ڈونلڈ ٹرمپ کی بظاہر غیر متوقع جیت سے باندھ لی ہے۔

ٹرمپ نے ایسی انہونی کر دکھائی ہے کہ دنیا حیران ہے۔ دنیا کا طاقتور ترین میڈیا اپنا منہ کالا کرا بیٹھا ہے۔ تجزیہ کار بیٹھے اپنے آپ کو ملامت کر رہے ہیں۔ مائی ہیلری سوچ رہی ہے کہ جب سب کچھ میرے حق میں تھا تو اتنے ووٹ میرے خلاف کدھر سے پڑ گئے۔

کپتان اپنے انقلاب کو سونامی کہتا ہے سمندری طوفان اور اپنے ہر کارکن کو شیر کہتا ہے۔ وسی بابا کپتان کے ہر مداح کو لدھر کہتا ہے یعنی سمندری شیر۔ لدھر ہوتا بھی بڑا پیارا سا معصوم سا ہے شرارتی تو وہ لگتا ہی ہے انقلابی بھی ہر طرف سے لگتا ہے۔

کپتان کا ہر مداح ٹرمپ کے منہ کو سجے کھبے کر کے اس میں سے اپنے پیارے کپتان کا کا چہرہ نکال کر بیٹھا ہے۔ دل میں خوش ہے کہ اگلے الیکشن میں کپتان ٹرمپ کی طرح ہڈیاں ہلا دے گا نون لیگ کی۔ ہمارا کپتان کسی کی نوں دھی سے گھٹ نہیں ہے۔ پر لدھر اس میں اب ٹرمپ والی ساری حماقتیں ڈھونڈ ڈھونڈ کر ڈال اور دکھا رہے ہیں۔ کپتان کی مخالفت کرنے پر تو بندہ مجبور ہو سکتا ہے لیکن اس کے ساتھ اتنی زیادتی کرنا مناسب نہیں کہ اسے ٹرمپ سے ہی ملا دیا جائے۔

\"sea-lion-ludhar\"

کپتان کو پاکستانی میڈیا کی ویسی ہی حمایت حاصل ہے جیسی حمایت ہیلری کو امریکی میڈیا سے حاصل ہوئی۔ سوشل میڈیا پر ہیلری کو کپتان جیسی حمایت ہی حاصل تھی۔ اس مشترکہ قسم کی حمایت کے ساتھ نتیجہ بھی ویسا سا ہی آیا ہے۔ جیسا کپتان کے نامزد امیدواروں کا ضمنی انتخابات میں آتا ہے۔

ٹرمپ کا ٹویٹر اکاؤنٹ اس کی ٹیم نے بند کر دیا تھا۔ کپتان کی ٹویٹوں میں وقفہ کم ہی آتا ہے۔ الیکشن بحرحال ٹویٹوں سے نہیں ووٹوں سے جیتے جاتے ہیں۔

کپتان اور ٹرمپ میں ایک بہت بڑا فرق ہے۔ ٹرمپ نے اکثریتی ووٹر کے بلاک کو بالکل درست پہچانا۔ اس نے اکثریتی سفید فام ووٹر کو اپنا ٹارگٹ بنایا۔ اس ٹارگٹ کو سامنے رکھ کر ہر وہ بات کی جو ان کے دل کی بات تھی۔ ان کی سوچ کو زبان دی، ٹرمپ وہ سب کچھ کہتا رہا جو اس کا ٹارگٹ ووٹ سوچتا تھا۔ وہ ان کے مسئلوں کی وجہ وہی بتاتا رہا جو یہ ووٹر سمجھتا تھا۔ اس وجہ کے حل اس نے ایسے بتائے جو اس ووٹر کو سمجھ آئے۔

کپتان ایسا کچھ بھی کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہے۔

\"donald-trump-smiling\"

اب تک پاکستانی ووٹر یہ سمجھنے میں ناکام ہے کہ کپتان چاہتا کیا ہے۔ وہ ووٹر کے مسائل کو زبان دینے میں ناکام رہا ہے۔ جب مسئلہ نہیں جان پایا تو اس کا حل بھی نہیں دے سکا۔ یاد رہے کہ جب ہم ووٹر کی بات کر رہے ہیں تومسئلہ وہ ہے جس کو ووٹر مسئلہ سمجھتا ہے۔ حل بھی وہی ہے جو ووٹر کو سمجھ آتا ہے۔

کپتان نے تبدیلی کا نعرہ لگایا اس کو بھرپور رسپانس پنجاب سے ملا۔ حیران کن ووٹ اسے کراچی اور کے پی سے ملے۔ حکومت اس کی پارٹی نے کے پی میں حکومت بنائی۔ کراچی میں اس کی سپورٹ نے الطاف حسین کو بھی حیران پریشان کر دیا۔ اگر اپ نے حیران پریشان والا لطیفہ سنا ہوا ہے تو بھائی کی حیرانی کا ڈبل مزہ آئے گا۔

دو ہزار تیرہ کے الیکشن کے بعد کپتان کو آگے بڑھ جانا چاہیے تھا۔ بجائے آگے بڑھنے کے کپتان دوہزار تیرہ میں الیکشن ڈے میں ہی پھنسا کھڑا رہ گیا۔ بلکہ شاید پیچھے چلا گیا، الیکشن کے بعد لوگوں کو نئی بات سننی تھی جب کپتان نے دھاندلی کا مسئلہ چھیڑ لیا۔ ماضی کامسئلہ چھیڑ کر اس نے اپنا ایک قیمتی سال ضائع کیا۔ اس کے بعد دوبارہ پانامہ کا مسئلہ چھیڑا اپنی سیاست کو گولہ مارا۔ دوسرے مسئلے نے تو اس کی پارٹی کی بنیادیں تک ہلا دی ہیں۔

\"ClintonGunControl\"

کپتان کی جیت کا واحد دارومدار پنجاب میں اس کی کارکردگی پر ہے۔ اس کی پنجاب کی سیاسی ٹیم پرلے درجے کی نکمی اور نااہل ہے۔ یہی ٹیم تھی جس کا حسن انتظام تھا جس نے کپتان کی الیکشن کے اہم موقع پر قلابازی لگوا دی۔ اسی ٹیم کی وجہ سے ووٹر نے پنجاب میں اس کی سیاسی قلابازی بھی لگوا دی۔ اب جیسی بھی ہے یہی ٹیم ہے جس کو پرفارم کرنا ہے تو ہی ووٹ ملنا ہے۔

تازہ دھرنے والے کرتب نے کپتان کی سیاسی ٹیم میں طاقت کا توازن بگاڑ دیا ہے۔ پہلے پنجاب سے شاہ محمود قریشی اور جہانگیر ترین اہم تھے۔ اب صرف پرویز خٹک اہم ہیں، پرویز خٹک کی اہمیت بنتی بھی ہے۔ انہوں نے ہی دھرنے میں جان ڈالی تھی۔ ان کا حق ہے کہ اب وہ فیصلہ کن کردار ادا کریں۔ لیکن ادھر ایک مسئلہ ہے پرویز خٹک صوبائی حکومت چلا رہے ہیں۔ انہوں نے اگلے الیکشن میں ووٹ اپنی کارکردگی پر لینے ہیں۔

کے پی کے میں ووٹر کا مزاج ہے کہ وہ احتساب کرتا ہے اور اپنے نااہل نمائندے بدلتا ہے۔ پرویز خٹک ایک ہوشیار سیاستدان ہیں انہیں اپنی صوبائی حکومت کی کارکردگی معلوم ہے اور اپنے ووٹر کا مزاج بھی۔ اب وہ ایک قوم پرست کے طور پر نیا سیاسی جنم لینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ پرویز خٹک جب قوم پرستی کے نعرے لگائیں گے اپنے صوبے کا حق لیں گے تو ٹارگٹ پنجاب کو کریں گے۔

یہ پرویز خٹک اب کچھ ٹائم کپتان کے اہم ترین مشیر ہوں گے۔ پرویز خٹک اپنی سیاسی ضرورت کے تحت اچھی طرح پنجاب مخالف باتیں کریں گے۔ کپتان کے اس ووٹر میں کرنٹ چھوڑیں گے جہاں سے کپتان کو ووٹ لے کر جیتنا ہے۔ کپتان مکمل نقصان ہونے سے کچھ پہلے پھر سوچے گا اور پھر کوئی نیا گولہ اپنی پارٹی پر چلائے گا۔

\"imran

ٹرمپ سال ڈیڑھ پہلے سامنے آیا۔ اچھی طرح خجل ہوا اس نے اپنی زبان سے اپنے لئے خوب کام دیکھے۔ پر اپنے ووٹر کے حوالے سے بالکل فوکس رہا۔ کپتان بیس سال سے سیاست میں ہے۔ بیس سال میرے خیال میں کافی ہوتے ہیں۔ اتنے وقت میں اگر آپ کو وہ کام کرنا نہ آئے جو آپ کر رہے ہوں تو پھر بھی گھبرانا نہیں چاہیے بلکہ وہی کام کرتے رہنا چاہیے کامیابی وغیرہ کو بھول کر۔ دوبارہ کسی کام میں ناکامی کے بیس سال لگانے سے بہتر یہی ہے کہ جاری کام کو ہی جاری رکھا جائے۔

کپتان کے مداحوں، اس کے سمندری شیروں، یعنی لدھروں کو چاہیے کہ کپتان کو ٹرمپ کے ساتھ ملانا چھوڑیں۔ بس اتنا کریں کہ ٹرمپ نے الیکشن جیتنے کے لئے جو آؤٹ آف باکس ماڈل اپنایا اس کو سمجھنے کی کوشش کریں اور پاکستان میں اس کا دیسی ماڈل بنا کر استعمال کریں۔ ورنہ بظاہر تو اب یہی لگتا کہ کپتان ٹرمپ نہیں بن سکتا۔


وسی بابا

وسی بابا نام رکھ لیا ایک کردار گھڑ لیا وہ سب کہنے کے لیے جس کے اظہار کی ویسے جرات نہیں تھی۔

wisi has 407 posts and counting.See all posts by wisi