کیا صدر ٹرمپ پاکستان اور اسلام دشمن ہی رہیں گے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

\"adnan-khan-kakar-mukalima-3\"

ڈانلڈ ٹرمپ نے 2012 میں ایک ٹویٹ کی تھی، ’’پاکستان اسامہ بن لادن کو چھے سال تک محفوظ پناہ گاہ فراہم کرنے پر ہم سے کب معافی مانگے گا۔ کیا کمال کا ’اتحادی‘ ہے‘‘۔

انتخابی مہم کے دوران انہوں نے پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں کی صلاحیت کو امریکہ کے لئے ایک بڑا مسئلہ بتایا۔ لاہور کے گلشن اقبال پارک میں دھماکے پر انہوں نے کہا کہ بطور صدر صرف وہی اس مسئلے کو حل کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب میں نے دیکھا کہ دہشت گردوں نے ایک ایسے پارک میں دھماکہ کیا جہاں زیادہ تر کرسچن موجود تھے گو کہ بہت سے دوسرے بھی مارے گئے، تو میں نے سوچا کہ یہ تو ایک بہت خوفناک خبر ہے۔ لیکن ان کو اسلامی انتہا پسند دہشت گردی سے بڑا مسئلہ ہے اور وہ اسے حل کرنا چاہتے ہیں۔

بھارتی ٹی وی نے کہا کہ اگر پاکستان نے اپنے ایٹمی ہتھیاروں سے جان نہ چھڑائی تو وہ اس کی امداد کو فوری طور پر ختم کر دیں گے۔ ’وہ ہمارے دوست نہیں ہیں۔ ہم سب کو علم ہے کہ پاکستان میں بہت سے دہشت گرد موجود ہیں‘۔

پاک بھارت تعلقات پر ڈانلڈ ٹرمپ کا یہ کہنا ہے کہ وہ دونوں ملکوں کے درمیان اچھے تعلقات کے خواہاں ہیں اور وہ ان دونوں ممالک کے درمیان ثالثی کرانے میں خوشی محسوس کریں گے۔

\"18-25-year-voters\"

امریکہ بھر سے ڈانلڈ ٹرمپ کے خلاف مظاہروں کی خبریں موصول ہو رہی ہیں۔ ان ہنگاموں کا زیادہ زور یونیورسٹیوں میں ہے۔ یہ بات نہایت دلچسپ ہے کہ 18 سے 44 سال کی عمر کے بیشتر ووٹروں نے ہیلری کلنٹن کو ووٹ دیا تھا۔ جبکہ 18 سے 25 سال کے ووٹروں کا معاملہ اس سے بھی زیادہ دلچسپ ہے۔ صرف پانچ امریکی ریاستیں ایسی تھیں جہاں 18 سے 25 سال کے ووٹروں کی اکثریت نے ڈانلڈ ٹرمپ کے حق میں ووٹ ڈالا تھا، اس طرح اس سیگمنٹ کو دیکھا جائے تو ہیلری کلنٹن کو 504 اور ٹرمپ کو 23 الیکٹرورل ووٹ ہی مل پاتے۔ کئی مشہور شخصیات نے الیکشن کے دوران اعلان کیا تھا کہ اگر ٹرمپ جیتے تو وہ ملک چھوڑ جائیں گے۔ ٹرمپ کے جیتنے پر دنیا بھر کی سٹاک مارکیٹوں کے علاوہ کینیڈا کی امیگریشن ویب سائٹ کے کریش ہونے کی بھی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

\"trumppeople\"

انتخابی مہم میں انہوں نے جذبات بڑھا کر الیکشن جیتنے پر توجہ دی تھی۔ ان کے اس رویے کو بظاہر ایک جعلی پوسٹ کے ذریعے نمایاں کیا گیا ہے جو انٹرنیٹ پر وائرل رہی ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ ٹرمپ نے 1998 میں پیپل میگزین کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھ کہ ’اگر میں صدارتی دوڑ میں شامل ہوا تو ایسا میں بحیثیت ریپبلکن کروں گا۔ وہ ووٹرز کا احمق ترین گروہ ہیں۔ ان کو فوکس ٹی وی پر جو بھی دکھا دیا جائے، اس پر وہ یقین کر لیتے ہیں۔ میں جھوٹ بول سکتا ہوں اور وہ اسے ہضم کر لیں گے۔ میں شرط لگاتا ہوں کہ (میرے ووٹوں کے) نمبر کمال کے ہوں گے‘۔

اب دوڑ ختم ہوئی ہے تو ان کے رویے میں تبدیلی کے آثار نمایاں ہو رہے ہیں۔ ڈانلڈ ٹرمپ نے امریکہ کا صدر منتخب ہونے کے بعد تقریر میں کہا ہے کہ وہ سب کے صدر بن کر کام کریں گے۔

ڈانلڈ ٹرمپ بظاہر ایک متعصب شخص دکھائی دیتے ہیں مگر اس کے ساتھ ساتھ وہ ایک کامیاب کاروباری شخصیت بھی ہیں۔ ایک مشہور انگریزی ضرب المثل ہے کہ جب پیسے کی بات آتی ہے تو سب کا ایک ہی عقیدہ ہوتا ہے۔ اب وہ الیکشن کی جذباتی فضا سے نکل کر کاروبار حکومت میں عملی فیصلے لیں گے جن سے ان کو فائدہ ہو۔ اس کی پہلی مثال ان کا مسلمانوں کے بارے میں بیان ہے۔

\"usa-election-states\"

ڈانلڈ ٹرمپ نے اپنی ویب سائٹ پر دسمبر 2015 میں کہا تھا کہ ’ڈانلڈ جے ٹرمپ اس بات کر مطالبہ کرتے ہیں کہ مسلمانوں کی امریکہ پر آمد پر مکمل پابندی لگائی جائے جب تک کہ ہمارا ملک یہ حساب نہ لگا لے کہ آخر ہو کیا رہا ہے‘۔ صدر منتخب ہونے کے بعد یہ بیان ان کی ویب سائٹ سے ہٹا دیا گیا ہے۔

الیکشن مہم میں وہ صرف سفید فام ووٹر کو ٹارگیٹ کر کے اسے جذباتی کر کے ووٹ لینے پر فوکس کیے ہوئے تھے اور اس مقصد کے لئے مسلمانوں، سیاہ فاموں، بھارتیوں، چینیوں اور نیٹو کے اپنے یورپی اتحادیوں سمیت سب ہی کے خلاف متنازعہ بیانات جاری کر رہے تھے۔

\"usa-election-cartoon\"

اب ان کو جیت کا ہدف حاصل ہو چکا ہے تو وہ اگلے ہدف کی طرف بڑھیں گے، اور وہ ہے ایک کامیاب صدر بننا۔ وہ ایک سخت قسم کے مذاکرات کار ثابت ہوں گے جو کہ اپنا مقصد پانے کے لئے کسی حد تک بھی جا سکتا ہے مگر ایک کامیاب تاجر کے طور پر وہ ایسا ہرگز نہیں کریں گے جس سے مقصد فوت ہو جائے۔ ایک اچھا تاجر ’پورا جاتے دیکھیو تو آدھا دیجو بانٹ‘ کا قائل ہوتا ہے اور سو فیصد نقصان سے بچتا ہے۔

وہ کوئی ایسی کارروائی نہیں کریں گے جس سے امریکہ سے بڑی تعداد میں سرمایہ اور قابل افراد باہر بھاگیں۔ کاروبار استحکام چاہتا ہے اور بے یقینی سے بھاگتا ہے۔ ٹرمپ کسی صورت بھی کاروبار کو نقصان نہیں پہنچائیں گے کہ اس کی زد امریکہ کے علاوہ ان کی اپنی جیب پر بھِی پڑے گی۔

ڈانلڈ ٹرمپ سے نمٹنے میں ہمارے مذاکرات کاروں کو شدید قسم کے چکر تو ضرور آئیں گے، مگر توقع یہی ہے کہ بطور صدر ٹرمپ اتنے خوفناک ثابت نہیں ہوں گے جتنا کہ سب ان سے ڈرے ہوئے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 1391 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *