کشمیر پر اقوام متحدہ کی قراردادیں فرسودہ اور ناکارہ ہو چکی ہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاک فوج نے اس بار مقبوضہ کشمیر کے عوام سے اظہار یک جہتی کے لئے عید الفطر متانت اور سادگی سے منائی۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے عید کی نماز لائن آف کنٹرول پر پاکستانی فوجیوں کے ساتھ مل کر ادا کی۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھارت کسی بھی قسم کی جارحیت سے باز رہے ورنہ پاک فوج اس کا پوری شدت اور قوت سے جواب دے گی۔

 کشمیری عوام کے لئے پاکستانی عوام اور پاک فوج کی وابستگی کسی شک و شبہ سے بالاتر ہے لیکن اس سال مقبوضہ کشمیر کی صورت حال کی وجہ سے ہی نہیں بلکہ ملک میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کی خطرناک صورت حال اور عید سے دو روز پہلے کراچی میں پی آئی اے کے المناک حادثہ کی وجہ سے بھی یہ موقع خوشی و انبساط سے زیادہ رنج و الم اور پریشانی کا سبب بن چکا تھا۔ مقبوضہ کشمیر کا معاملہ ایک ایسا ناسور ہے جس کا کوئی حل دکھائی نہیں دیتا۔ گزشتہ اگست میں بھارت نے یک طرفہ کارروائی کرتے ہوئے مقبوضہ علاقے کو بھارتی فیڈریشن کا حصہ بنانے کے علاوہ کشمیریوں کو حاصل تمام خصوصی حقوق ختم کردیے تھے۔ کشمیری قیادت کو گرفتار کرنے کے علاوہ پوری مقبوضہ وادی میں لاک ڈاؤن کردیا گیا تھا اور میڈیا یا انسانی حقوق کی تنظیموں کو وہاں جا کر حالات کا جائزہ لینے یا کشمیری شہریوں سے بات چیت کا موقع دینے سے انکار کیا جا رہا ہے۔

بھارت کی اعلیٰ ترین عدالت بھی کشمیریوں کو خاص طور سے اور مسلمانوں کو عام طور سے تحفظ فراہم کرنے اور مودی حکومت کے جابرانہ انسانیت سوز اقدامات اور غیر انسانی قوانین سے نجات دلانے کے لئے کوئی کارروائی کرنے پر تیار نہیں ہے۔ دنیا پہلے بھی کشمیر کے مسئلہ پر صرف بیان کی حد تک ہی پاکستانی مؤقف یا کشمیریوں کے انسانی حقوق کی بات کرتی تھی لیکن اس سال کے شروع سے کورونا وائرس پھیلنے اور دنیا بھر میں لاک ڈاؤن اور اقتصادی مشکلات کی وجہ سے ہر ملک اپنے مسائل میں اتنا الجھا ہے کہ اسے کسی کو دور دراز علاقے میں لوگوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے غیر انسانی سلوک کے بارے میں غور کرنے یا بیان کی حد تک ہی انہیں مسترد کرنے کی فرصت نہیں ہے۔

کورونا وائرس سے پیدا ہونے والی سماجی تبدیلیوں اور اس کے معاشی و سیاسی مضمرات کی روشنی میں متعدد ماہرین ابھی سے مابعد کورونا عہد میں نئے ورلڈ آرڈر اور دوررس سیاسی، سماجی، معاشی اور اسٹریٹیجک تبدیلیوں کی باتیں کرنے لگے ہیں۔ کورونا بحران سے پیدا ہونے والے خلا میں بھارتی حکومت کو کشمیریوں کے علاوہ ملک میں اقلیتوں اور بطور خاص مسلمانوں کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کا موقع میسر آیا ہے۔ مودی حکومت نہایت ڈھٹائی اور سنگدلی کے ساتھ ہندوتوا کا ایجنڈہ نافذ کرنے میں مصروف ہے۔ بھارت کی ہندو اکثریت کو نفرت پھیلانے اور عقیدے کی بنیاد پر تعصب برتنے کی مکمل آزادی دی گئی ہے۔ ہندو گروہ نوجوانوں کے جتھے بنا کر اقلیتوں کے خلاف مسلح جرائم کا ارتکاب کرتے ہیں اور پولیس ہی نہیں ملک کی انتظامی، عدالتی و سیاسی اسٹبلشمنٹ بھی ان کی پشت پناہی کرتی ہے۔

بھارتی حکومت اور فوج نے اس دوران نہ صرف مقبوضہ کشمیر میں اپنی جابرانہ کارروائیوں کو درست قرار دیا ہے اور نہایت بے شرمی سے کشمیری عوام کے بنیادی حقوق مسترد کرنے کو اپنا اندرونی معاملہ قرار دیا ہے بلکہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے کچھ حصے اور گلگت بلتستان کو بھی اب بھارت کا جائز اور قانونی علاقہ قرار دینے کا اعلان کرنا شروع کیا ہؤا ہے۔ بھارتی کمانڈروں کی طرف سے یہ دعویٰ بھی کیا جاتا ہے کہ سیاسی حکومت کا اشارہ ملتے ہی بھارتی فوج آزاد کشمیر کو ’واگزار‘ کروانے اور بھارت کا حصہ بنانے کے لئے ٹھوس کارروائی کرے گی۔ اس کے علاوہ بھارتی قیادت پاکستان کے زیر انتظام علاقوں میں ’سرجیکل اسٹرائیک ‘ کرنے کی دھمکیاں بھی دیتی رہتی ہے جو اس کے بقول پاکستانی علاقوں میں دہشت گردوں کے تربیتی مراکز کو تباہ کرنے کے لئے کی جاسکتی ہیں۔

گزشتہ برس کے شروع میں ایسی ہی ایک کوشش کے نتیجہ میں پاکستانی اور بھارتی فضائیہ کے درمیان جھڑپ بھی ہوئی تھی ۔ پاکستانی فضائی نے اس جھڑپ میں بھارت کے دو فائٹر طیارے مار گرائے تھے اور ایک پائیلٹ کو گرفتار بھی کرلیا گیا تھا۔ وزیر اعظم عمران خان نے اس پائیلٹ کو انسانی ہمدردی اور جذبہ خیر سگالی کے طور پر فوری طور سے رہا کرنے کا اعلان کیا تھا۔ تاہم بھارتی حکومت نے اس جذبہ کو مثبت طور سے قبول کرنے کی بجائے پاکستان کے خلاف دہشت گردوں کی سرپرستی کا دیرینہ پروپیگنڈا جاری رکھا۔

اس پس منظر میں پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کی گفتگو قابل فہم ہے۔ فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے جنرل باجوہ کی گفتگو کے بارے میں متعدد ٹوئٹ پیغامات جاری کئے ہیں۔ آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستانی فوج کے سربراہ نے کہا کہ ’مقبوضہ کشمیر کو گزشتہ برس غیر قانونی طور سے بھارت کا حصہ بنانے اور وہاں غیر انسانی لاک ڈاؤن، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور مظالم کی روشنی میں کشمیری عوام کے ساتھ اظہار یک جہتی کے لئے عیدالفطر متانت سے منائی گئی ہے‘۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ بھارت لائن آف کنٹرول پر معصوم شہریوں پر گولہ باری کرکے مقبوضہ کشمیرکی صورت حال سے عالمی توجہ ہٹانا چاہتا ہے۔ وادی ایک متنازع علاقہ ہے۔ اس کی حیثیت تبدیل کرنے کی کوئی بھی کوشش یا پاکستان کے خلاف سیاسی اور فوجی جارحیت کا جواب پوری فوجی قوت سے دیا جائے گا۔ جنوبی ایشیا میں اسٹریٹیجک استحکام کو نقصان پہنچانے کی کسی بھی کوشش کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ پاک فوج ان خطرات سے آگاہ ہے اور وہ قومی امنگوں کے مطابق اپنی ذمہ داری پوری کرنے کے لئے تیار ہے۔

جنرل باجوہ نے نے امید ظاہر کی کہ عالمی برادری مقبوضہ علاقے میں اقوام متحدہ کے مبصرین کی آزادانہ نقل و حرکت کو یقینی بنانے کے لئے اثر و رسوخ استعمال کرے گی۔ تاکہ وادی میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں سلامتی کونسل کے نوٹس میں لائی جاسکیں۔ ’بھارتی افواج کبھی بھی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق ریفرنڈم کے ذریعے اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کے لئے بہادر کشمیریوں کی آواز دبا نہیں سکیں گی‘۔

پاکستانی وزیر اعظم عمران خان اور وزیر اطلاعات شبلی فراز نے بھی عید الفطر کے موقع پر کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لئے ٹوئٹر پیغامات کا سہارا لیا۔ عمران خان نے کشمیریوں کو خاص طور سے عید کی مبارک باد دیتے ہوئے بھارتی استبداد کے مقابلے میں ان کے صبر اور جرات کی توصیف کی۔ شبلی فراز نے ایک ٹوئٹ میں پاکستانیوں کو تاکید کی کہ وہ کشمیری بھائیوں کی حالت زار کو فراموش نہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ’ ہندو بالادستی کے لئے کام کرنے والی مودی سرکار نہایت ڈھٹائی سے مقبوضہ کشمیر میں بدترین جنگی جرائم کی مرتکب ہورہی ہے۔ بھارتی حکومت کا یہ رویہ عالمی ضمیر کے لئے براہ راست چیلنج ہے‘۔

پاکستانی سول و فوجی قیادت کے یہ بیانات قومی آواز ہونے کے باوجود معروضی حالات سے مطابقت نہیں رکھتے۔ کشمیر کے بارے میں پاکستان کی حکمت عملی اب بھی ستر برس قبل منظور کی گئی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے متن پر استوار ہے۔ ہر سرکاری بیان میں ان قراردادوں کا حوالہ دیتے ہوئے بھارت کو قابض فوج قرار دینے کی کوشش کی جاتی رہی ہے۔ اس دوران بھارت کے ساتھ متعدد جنگوں کے باوجود پاکستان کی سفارتی پوزیشن میں بظاہر کوئی تبدیلی دکھائی نہیں دی۔ اس کے برعکس بھارت نے 1948 میں یکے بعد دیگرے منظور کی گئی دو قراردادوں کو تسلیم کرنے کے باوجود ان سے انکار کرنا شروع کیا اور کشمیر کو عالمی مسئلہ کی بجائے دو ملکوں کا باہمی تنازعہ کہنا شروع کردیا ۔ اس سلسلہ میں 1972 کے شملہ معاہدہ کا حوالہ دیا جاتا رہا ہے۔ اس دوران بھارت نے پہلے کشمیر کو بھارت کا اٹوٹ انگ قرار دینا شروع کیا ۔ البتہ گزشتہ برس اگست میں کئے گئے اقدامات کے بعد اسے باقاعدہ بھارتی فیڈریشن کا علاقہ قرار دیا گیا ہے۔ نئے ڈومیسائل قانون کے تحت بھارتی شہریوں کو مقبوضہ علاقے میں آباد ہونے کا موقع دے کر کشمیر کی آبادیاتی صورت حال تبدیل کرنے کا راستہ ہموار کیا گیا ہے۔ اس طرح بھارت نے ان برسوں میں کشمیر کو کسی حجت کے بغیر بھارتی علاقہ قرار دینے اور عالمی طور سے تسلیم کروانے کی راہ ہموار کی ہے۔

اقوام متحدہ یا عالمی طاقتیں ان بھارتی اقدامات کو مسترد کرنے میں ناکام رہی ہیں۔ یوں بھی 1948 کی قراردادوں میں بین الاقوامی کمیشن بنانے اور دونوں ملکوں کی مشاورت سے مسئلہ حل کرنے کی بات کی گئی تھی۔ سلامتی کونسل کی ایک قرارداد کے مطابق پاکستان کو پہلے کشمیر سے اپنی فوج نکالنا ہوگی پھر بھارت کشمیر سے فوجی انخلا کرے گا۔ 72 برس قبل منظور کی گئی یہ قرار داد ہوسکتا ہے کہ اس وقت کے حالات میں قابل عمل ہوتی لیکن اگر پاکستان کے نقطہ نظر سے بھی دیکھا جائے تو ان قراردادوں پر من و عن عمل درآمد پاکستانی پوزیشن اور اسٹریٹجک مفاد کے خلاف ہوگا۔ اس لئے اقوام متحدہ کی قراردوں پر اصرار کرنے کی بجائے معروضی حالات کے مطابق سفارتی حل تلاش کرنے اور اس تنازعہ کو کسی بڑے تصادم کے بغیر حل کرنے کا راستہ کھوجنے کی ضرورت ہے۔

سب جانتے ہیں کہ جنگ کشمیر کیا پاکستان اور بھارت کے درمیان کسی بھی مسئلہ کا حل نہیں ہے۔ جب فوجی طاقت کا استعمال مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا تو اس کا ذکر کرنا یا جنگ بندی لائن پر پبلک گیلری کے لئے ’زور آزمائی‘ کرنا کسی طور مناسب نہیں۔ کورونا وائرس کی وجہ سے دونوں ملکوں کے ناقص نظام صحت اور سماجی ابتری کی حالت سے یہ بھی واضح ہؤا ہے کہ برصغیر میں فوجی تیاری پر وسائل صرف کرنے کی بجائے سماجی بہبود کے لئے وسائل فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ کام اسی صورت میں ممکن ہوسکتا ہے جب دونوں ملک ایک دوسرے پر توپوں کے علاوہ بیانات کے ذریعے گولہ باری کا سلسلہ بند کرکے عدم تصادم کے کسی معاہدہ کی طرف پیش قدمی کرسکیں گے۔ بصورت دیگر دونوں ملکوں کے عوام غربت و افلاس کی چکی میں پستے رہیں گے اور جو وسائل عوام کی ضرورتیں پوری کرنے پر صرف ہونے چاہئیں ، انہیں ایک ایسی جنگ کی تیاری پر صرف کیا جاتا رہے گا جس کا کبھی کوئی نتیجہ نہیں نکل سکتا۔

کورونا وائرس کا پاکستان اور بھارت کی قیادت کو ایک ہی پیغام ہے کہ نفرت اور ضد کی دیوار گرائی جائے اور دھمکی اور تصادم کی بجائے مفاہمت اور فراخدلی سے ایک دوسرے کے وجود کو قبول کرنے کی راہ ہموار کی جائے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 1547 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *