سائنس اپنی جگہ، رویت لازمی شرط ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میں عالم تو نہیں لیکن ان خوش قسمتوں میں سے ضرور ہوں جنھیں علما کرام کی صحبت نصیب ہوئی ہے اس لئے کچھ باتیں ایسی ضرور جان چکا ہوں جنھیں میں نہایت تیقن کے ساتھ کہہ سکتا ہوں جن میں سے ایک بات رمضان اور عیدین کے چاند کی رویت کے متعلق بھی ہے۔

پاکستان میں رمضان اور عید الفطر کے چاند ہو نے یا نہ ہو نے کا مسئلہ ہمیشہ اختلافات کا شکار رہا ہے جس کی وجہ سے 24 مئی 2020 کی عید کے علاوہ کوئی عید بھی ایسی نہیں ہے جو اہل پاکستان نے پوری یک جہتی کے ساتھ منائی ہو۔ اس میں کوئی شک نہیں امسال ہونے والی عید پاکستان کے سارے مسلمانوں نے ایک ساتھ ہی منائی لیکن اس کا کریڈٹ بھی سرکار ہی کو جاتا ہے کیونکہ پشاور کی مسجد کے مفتی پوپل زئی نے تو شہادتوں کی بنیاد پر 23 مئی 2020 کو عید منانے کا باقاعدہ اعلان کر دیا تھا لیکن وزیر مذہبی امور اور ”مفتی اعظم“ پاکستان کی بر وقت ملاقات و مداخلت نے حیرت انگیز طور پر مفتی پوپل زئی کو پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار اپنے کانوں سے سنی 40 سے زیادہ ”شہادتوں“ کو رد کرتے اور شہادتیں دینے والی ہستیوں کی قسموں کو جھٹلاتے ہوئے تاریخ میں پہلی بار وہ سارے افراد جو پوپل زئی کو اپنا ”امام“ تسلیم کرتے ہیں، رمضان کے پورے 30 روزے بھی رکھوا کر ایک نئے اور انوکھے باب کا اضافہ کیا۔ جس وقت یہ ملاقات ہو رہی تھی اس وقت اس بات میں کسی قسم کا کوئی ابہام رہ ہی نہیں گیا تھا 23 مئی بمطابق 29 رمضان کو ہلال عید پاکستان کے کسی نہ کسی افق پر طلوع ہو کر ہی رہے گا۔

دلچسپ سوال یہ ہے کہ پاکستان میں ہر وہ چاند جو 29 شعبان کا ہو یا 29 رمضان کا، ہمیشہ شہادتوں کی بنیاد پر ہی کیوں اعلان کیا جاتا ہے۔ پورے ملک کے طول و عرض میں چاند کمیٹی کے اراکین کا جم غفیر ہر صوبے میں ہر اس مقام پر بیٹھا ہوتا ہے جو اس صوبے اور شہر کا سب سے زیادہ مناسب مقام ہوتا ہے اور ان کے پاس جدید ٹیکنالوجی بھی موجود ہوتی ہے لیکن اس کے باوجود 29 کا چاند ہونے کی کوئی ایک شہادت کمیٹی کی فوج ظفر موج کے کسی ایک سپاہی کی بھی موجود نہیں ہوتی۔ ایسی ساری شہادتیں زیادہ تر ان دور دراز علاقوں کی ہوا کرتی ہیں جہاں پہنچنے کے لئے کم از کم پاکستان کے کے پاس ایسی کوئی سواری میسر ہی نہیں جس کی مدد سے ان علاقوں میں پہنچ کر شہادت دینے والوں کا چہرہ مہرہ دیکھا جا سکے۔

اس مرتبہ بھی یہی کچھ دیکھنے میں آیا، جن علاقوں سے شہادتیں موصول ہوئی تھیں (سوائے کرنل صاحب کے) وہ سب ایسی علاقوں کی تھیں جن تک پہنچنے کی کوشش میں کئی علما جام شہادت نوش کر سکتے تھے لہٰذا کرنل صاحب کے ناتے وہ سب کے سب بھی معتبر مان لئے گئے۔

اب آتے ہیں رویت کے مسئلے کی جانب تو مسئلہ یہ نہیں کہ سائنس کے حساب کتاب کے مطابق چاند ”پیدا“ ہو چکا ہے یا نہیں، بات یہ ہے کہ کیا چاند کی رویت ضروری بھی ہے؟ بات بہت ہی سیدھی اور سادی سی ہے کہ نہ صرف رویت ضروری ہے بلکہ اگر آسمان ہر قسم کے گرد و غبار اور بادلوں سے پاک صاف ہو تو رویت اتنی عام ہونی چاہیے جس کا انکار نہ کیا جا سکے۔ ایسی رویت کو اصلاحاً رویت عام کہا جاتا ہے۔

شرط یہ نہیں کہ چاند افق پر موجود نہیں ہے بلکہ شرط اسے دیکھ لیا جانا ہے۔ چاند افق پر موجود ہے، جدید حساب کتاب کی رو سے بھی چاند کا آسمان پر موجود ہونے کا واضح اشارہ مل رہا ہے لیکن مطلع ابر آلود یا گرد آلود ہے اور اس کا دیکھ لیاجانا کسی طور ممکن نہیں تو اس کے ہونے کا اعلان کیا ہی نہیں جا سکتا۔ حضور (ص) کا فرمان ہے کہ ”چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور چاند دیکھ کر عید کرو“ ۔ آسمان پر چاند ہے، سائنس کے حساب کتاب کی روشنی میں بھی آسمان پر چاند موجود ہے لیکن کسی سبب دکھائی نہیں دے سکتا تو اس بات کی اجازت ہی نہیں ہے کہ روزہ رکھا جائے یا عید منائی جائے۔ آپ (ص) نے یہ اصول قیامت تک کے لئے بنادیا اور اب ہر مسلمان اسی اصول کا پابند ہے۔

شہادتوں کے بہت سارے اصولوں میں سے ایک اصول یہ بھی ہے کہ مطلع ابر آلود ہونے یا گرد آلود ہونے کی صورت میں بیشک ایک معتبر شہادت بھی کافی ہے لیکن اگر اس قسم کا کوئی عذر مانع نہیں ہے تو پھر چند شہادتوں کا قابل قبول ہونا بھی عقل و فہم سے باہر کی بات لگتی ہے اس لئے کہ 22 کروڑ افراد کی 44 کروڑ آنکھیں بینائی سے محروم نہیں گنی جا سکتیں۔ ایسی صورت میں رویت عام ہونا ہمیشہ سے اصول رہا ہے۔ 22 کروڑ میں سے 30 یا 35 افراد کی گواہیاں کیسے معتبر بنا لی گئی ہیں، اس بات پر تو ہمارے مفتیان کرام ہی روشنی ڈال سکتے ہیں۔ ہم جیسے لوگ تو، منھ میرا کعبے شریف کی طرف، پیچھے امام کے ”اللہ اکبر“ کہنے والوں میں سے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *