جانور راج! باکسر کی یاد میں عشائیہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تین روز بعد یہ اعلان کیا گیا کہ وہ ڈھپئی کے شفا خانے میں، ایک گھوڑے کو جیسی توجہ دی جا سکتی ہے، وہ سب ملنے کے باوجود، باکسر مر گیا۔ چیخم چاخ سب کو خبر دینے آیا۔ اس نے کہا کہ وہ باکسر کے آخری وقت میں اس کے پاس موجود تھا۔

”وہ دلگداز منظر تھا کہ عمر بھر ایسا منظر نہ دیکھا“ ۔ چیخم چاخ نے کھر سے آنسو پونچھتے ہوئے کہا۔ ”میں آخر تک اس کی پٹی پکڑے ہوئے تھا۔ اور آخر دموں پہ، بالکل ڈوبتی سانسوں میں اس نے بدقت میرے کان میں سرگوشی کی کہ اسے بس یہ ہی دکھ ہے کہ وہ پون چکی کی تعمیر مکمل ہونے سے پہلے مر رہا ہے۔ ’آگے بڑھو کامریڈز!‘ اس نے سرگوشی کی۔ ’قدم بڑھاؤ، انقلاب کے نام پہ، جانور راج زندہ باد، کامریڈ نپولین پائندہ باد! نپولین ہمیشہ درست کہتا ہے۔‘ یہ تھے اس کے آخری الفاظ کامریڈز!“ ۔

یہاں آ کے چیخم چاخ کا رویہ بالکل بدل گیا۔ وہ ایک لمحے کو خاموش ہوا اور اس سے پہلے کہ وہ مزید کچھ کہتا اس کی چنی چنی آنکھیں مشتبہ انداز میں ادھر سے ادھر گھومیں۔

اس نے کہا کہ اس کے علم میں آیا تھا کہ جب باکسر کو لے جایا جا رہا تھا تو ایک احمقانہ اور شر انگیز افواہ پھیلائی گئی تھی۔ کچھ جانوروں نے دیکھا کہ باکسر کو لے جانے والی ویگن پہ، ”وڈ قصائی“ لکھا ہوا تھا اور یہاں سے انہوں نے یہ تک نتیجہ نکال لیا کہ باکسر کو قصائی کے حوالے کر دیا گیا تھا۔ چیخم چاخ نے کہا کہ یہ بات ناقابل یقین ہے، کوئی بھی جانور اس قدر احمق کیسے ہو سکتا ہے۔ وہ مارے طیش کے روتے ہوئے، ادھر سے ادھر پھدکتے، اپنی دم ہلاتے ہوئے بولا، یقیناً، وہ اپنے ہر دلعزیز لیڈر نپولین کو ایسا سمجھتے تھے؟ مگر وضاحت بہت سادہ تھی۔ گاڑی پہلے قصائی کی ملکیت تھی پھر سلوتری نے خرید لی تھی اور ابھی پرانا نام مٹوایا نہیں گیا تھا۔ یہاں سے ساری بات بگڑی۔

جانور یہ سن کے بڑے سکھ میں آ گئے۔ اور جب چیخم چاخ باکسر کے بستر مرگ کی مزید منظر کشی کر رہا تھا کہ اسے کیسی قابل رشک توجہ ملی، اور وہ مہنگی دوائیں جن کی ادائیگی کرتے ہوئے نپولین نے ایک بار بھی ان کی قیمت کے بارے میں نہ سوچا، تو ان کے آخری شبہات بھی فرو ہو گئے اور اپنے کامریڈ کی موت پہ جس دکھ سے وہ دوچار تھے وہ اس سوچ سے دب سا گیا کہ کم سے کم وہ مرا تو سکون سے تھا۔

اس اتوار، نپولین، جلسے میں بنفس نفیس موجود تھا اور اس نے باکسر کے اعزاز میں ایک مختصر تقریر کی۔ ان کے مرحوم ساتھی کی باقیات کو تدفین کے لئے فارم پہ لانا تو ممکن نہ تھا مگر اس نے فارم کے باغیچے میں اگنے والے پھولوں کا ایک بڑے سے گلدستہ بننے کا کہا تھا جو باکسر کی قبر پہ رکھے جانے کے لئے بھیج دیا گیا تھا۔ اور چند ہی روز میں سؤر باکسر کے اعزاز میں ایک یادگاری عشائیہ دینا چاہتے تھے۔ نپولین نے اپنی تقریر باکسر کے دو پسندیدہ اقوال پہ ختم کی، ”میں مزید محنت کروں گا“ ، اور ”کامریڈ نپولین ہمیشہ درست کہتے ہیں“ ۔ اقوال، جو کہ اس نے کہا، ”ہر جانور کو اپنا لینے چاہئیں۔“

ضیافت کے روز، ایک کنجڑے کی گاڑی ڈھپئی سے آئی اور ایک بڑی سی لکڑی کی پیٹی، فارم ہاؤس پہ دے گئی۔ اس رات وہاں، گانوں کا غل تھا جس کے بعد ایک زور دار جھگڑے کا شور جو کہ گیارہ بجے کے قریب ایک بڑے سے چھناکے پہ ختم ہوا۔ اگلے روز دوپہر سے پہلے کوئی فارم ہاؤس میں ہلا تک نہیں اور یہ بات پھیل گئی کہ سؤروں نے کہیں سے وہسکی کی ایک اور پیٹی منگوانے کے لئے رقم حاصل کی تھی۔

اس سیریز کے دیگر حصےجانور راج: انقلابی ہیرو باکسر، قصاب کو بیچ دیا گیاجانور راج! – فارم کیسا بن گیا؟
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *