بیرون ملک مقیم پاکستانی، حکومتی بے حسی، گدھ اور ہم

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایسی بھی کیا اندھیر نگری، ایسا بھی کیا چوپٹ راج! بیرون ملک مقیم محنت کشوں کی بوٹیاں نوچنے اور ان کی حق حلال کی کمائی میں سے اپنا ”حصہ“ بٹورنے کے لیے ہمارے ہی وطن عزیز کے کچھ باسی خود رو مگر بدبودار، بد ذائقہ اور قابل تلف پودوں کی طرح نمودار ہو گئے ہیں۔ ایسی بھی کیا ہوس مال و دولت جب کہ دنیا خود کا وجود ہی فانی ٹھہرا، حاصل مال مزید تگ و دو حاصل مال پہ منتج ہوا، اور کثرت مال کو خسارہ سے تشبیہ دی گئی۔ جب مٹی میں ہی مل جانا مقدور ٹھہرا گیا تو یہ سب مارا ماری اور لوٹ کھسوٹ کیوں؟

ہوائی سفر کی مد میں لاچار محنت کشوں سے کئی گنا زیادہ پیسے وصول کر کے کتنا کچھ کما لیں گے آپ! غضب خدا کا، پردیس میں مقیم محنت کش غربت کی لکیر سے نیچے اور استحصالی نظام کی کوکھ سے جنم لینے والی گہرائیوں کی تاریکی میں زندگی کی قید مشقت کاٹنے والے کروڑوں ”اشرف المخلوقات“ کے نمائندے ہیں جنہوں نے اپنی زندگی اپنے اہل و عیال کی ذمہ داریوں سے نبرد آزما ہوتے اور ریاست کی دہائیوں پر محیط بے حسی کی فصل کاٹتے ہوئے گزاری۔

ذرا غور سے دیکھئے۔ یہ سایہ دار اور تن آور پیڑ کی مانند مضبوط نظر آنے والے انسان خدا جانے کب سے امید اور مایوسی کے بیچ دیوار پہ آویزاں گھڑیال کے پنڈولم کی طرح وقت کی ڈور سے بندھے ہوئے ہیں۔ اور یہی میرے وطن کے ہر غریب کا حال ہے۔ امید اور مایوسی کے بیچ کا سفر۔ نہ رکنے والا۔ نہ بدلنے والا۔ بالکل دیوار پہ لٹکی ہوئی گھڑیال کے پنڈولم کی طرح۔

ارے بھائی، یہ لوگ ”فارن“ میں نہیں بلکہ پردیس میں رہتے ہیں۔ یہ ہمارے کالے انگریزوں میں سے نہیں جو ہماری اشرافیہ کے طے شدہ احساس برتری کے اصولوں کے مصداق محض عیاشی کے نت نئے روپ دیکھنے کے لیے سات سمندر پار کر جاتے ہیں اور جو ہر طرح کے کالے کرتوتوں میں منہ کالا کرنے کے باوجود پوری آب و تاب کے ساتھ باگ ڈور سنبھالے دیانتداری کے بھاشن دیتے نہیں تھکتے۔ طبقاتی تفریق کے سرخیل اور مردار کھانے والے گدھ کے پیرو، ان قانون کو گھر کی لونڈی سمجھنے والوں تک آپ کی پہنچ کہاں کہ ان کی اپنی پہنچ بہت دور تک ہے۔ آپ تو ان پردیس میں پسنے والے محنت کشوں کی کمائی کے درپے ہیں کہ جن کے پسینے کی بو کو خوشبو سے تعبیر کیا گیا۔

ریاست تو جو کرے سو کرے آپ اپنے تئیں حتی المقدور سعی کریں کہ کہیں اشرف المخلوقات کی شان بالا سے تنزلی پا کر آل گدھ میں ہی آپ کا نام نہ لکھ دیا جائے۔ ان کے بازو مروڑ کر آخر کتنا کچھ کما لیں گے آپ!

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
عنایت اللہ خٹک کی دیگر تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *