کورونا وائس کے عالمی معیشت پر اثرات

کورونا وائرس کی وجہ سے دنیا کے ہر ملک کی معیشت کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ اس وائرس سے سب سے زیادہ ترقی پذیر ممالک کی معیشت متاثر ہوئی ہیں۔ ورلڈ بینک کی رپورٹ کے مطابق 1930 یعنی 90 سال کے بعد پہلی بار عالمی معیشت کو اتنا بڑا جھٹکا پہنچا ہے۔ کورونا وائرس کی وجہ سے دنیا میں 20 کروڑ سے زائد افراد بے روزگار ہوچکے ہیں جب کہ غربت کی شرح میں میں 1998 کے بعد پہلی بار اتنا اضافہ ہوا ہے۔ غربت کے عالمی انڈیکس کے مطابق غربت کی شرح % 7.5 سے بڑھ کر % 8.5 فیصد ہوچکی ہے۔

عالمی مالیاتی فنڈ نے موجودہ صورتحال کو 1930 کے گریٹ ڈپریشن کہلانے والی کساد بازاری سے اب تک کا سب سے بڑا اقتصادی بحران قرار دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اگر کورونا وائرس ایک سال تک رہا تو دنیا میں غربت کی شرح % 10 تک بڑھنے کا خدشہ ہے۔ سب سے زیادہ افریقہ اور ایشیا براعظم متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ عالمی مارکیٹ میں اشیا کی قیمتیں بہت زیادہ گرچکی ہیں جس کی وجہ خریدار کا نہ ہونا ہے تیل اس کی سب سے بڑی مثال ہے۔ اس کی طلب میں زبردست کمی ہوئی ہے کیونکہ کورونا وائرس لاک ڈاؤن کی وجہ سے ٹرانسپورٹ کے لیے ایندھن کی طلب کم ہوئی ہے۔ اس ایندھن کا 90 فیصد سے زائد خام تیل سے بنایا جاتا ہے۔ اسی وجہ سے تیل کی عالمی قیمت اپریل کے آخر میں منفی تک گر گئی تھی۔

صرف برطانیہ میں تیس لاکھ، جرمنی میں ساٹھ لاکھ اور امریکا میں ایک کروڑ چالیس لاکھ افراد بے روزگار ہوئے۔ معاشی ابتری کی وجہ سے عالمی تجارت کا مجموعی حجم 50 فی صد سے بھی زیادہ تنزل کا شکار ہو گیا۔ اشیائے خورد و نوش کی گرانی، حالات کی بے یقینی اور لگاتار پریشانیوں نے بے شمار لوگوں کو خودکشیوں پر مجبور کر دیا ہے۔ بہت سی انڈسٹریز تباہی کے دہانے پر پہنچ گئی ہیں۔ ائر لائنز کی 95 فیصد بکنگ کم ہوگئی ہیں۔ ڈزنی ورلڈ اور تھیم پارکس بند پڑے ہیں۔

ہالی وڈ اور فلم انڈسٹری میں الو بول رہے ہیں۔ صحت اور میک اپ میں 25 فیصد زوال آیا ہے۔ انٹرٹینمنٹ میں 22 فیصد، ریسٹورنٹ میں 30 فیصد، ٹرانسپورٹ کے بزنس میں 45 فیصد، شاپنگ میں 60 فیصد، کرائے کی گاڑیوں میں 80 فیصد، معدودے چند کاروبار کے علاوہ ہر کاروبار پر بحران آ چکا ہے۔ خام تیل کی قیمتیں 70 ڈالر فی بیرل سے کم ہوکر 18 ڈالر تک آچکی ہیں، کیونکہ جہازوں اور گاڑیوں کے نہ چلنے کی وجہ سے کھپت میں نمایاں کمی ہوئی ہے۔

پاکستان میں تقریباً تین کروڑ افراد بے روزگار ہوچکے ہیں جب کہ معیشت دوبارہ سے تنزلی کی جانب گامزن ہے۔ کراچی اسٹاک انڈیکس 4 مہینے دنیا کی سب سے ایمرجنگ مارکیٹ رہنے کے بعد شدید مندی کی زد میں ہے۔ غربت کی شرح میں ہوش ربا اضافہ ہوچکا ہے۔ ملک میں بے روزگاری پہلے ہی عروج پر تھی جس کے بعد کورونا وائرس تباہی مچارہا ہے۔ اسی وجہ سے حکومت پاکستان نے لاک ڈاؤن ختم کرنے کا فیصلہ کیا۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد میں بہت تیزی سے اضافہ ہورہا ہے ایسے میں اگر لاک ڈاؤن نہ کھولا جائے تو لوگ بھوک سے مرجائیں گے۔

پڑوسی ملک بھارت میں بھی صورتحال کچھ مختلف نہیں ہے اس وبا نے اتنی تباہی مچائی ہے کہ کروڑوں لوگ بے روزگار ہوچکے ہیں۔ دنیا کے پچاس فیصد انتہائی غریب لوگ پانچ ممالک میں رہتے ہیں جن میں بھارت بھی شامل ہے تقریباً 30 کروڑ افراد غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں ایسے میں یہ تعداد کورونا وائرس کی وجہ سے 50 کروڑ تک پہنچ چکی ہے۔ بنگلہ دیش جو کہ بہت گنجان آباد اور غریب ملک ہے ایک چھوٹا سا ملک جس کی آبادی 20 کروڑ کے قرہب ہے اس وبا سے کافی زیادہ متاثر ہوا ہے۔

اس تباہی سے بچنے کے لیے بروقت اقدامات کی ضرورت ہے ورنہ یہ صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے۔ یہ فیصلہ تو وبا ختم ہونے کے بعد ہی کیا جاسکے گا کہ لاک ڈاؤن کرنا ٹھیک تھا یا غلط البتہ کورونا وائرس ترقی پذیر ممالک کے لیے ایک ڈراؤنا خواب ثابت ہورہا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words
ملک عبدالرحمان علی کی دیگر تحریریں