لال خان مالی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اس سلگتی سہ پہر میں سب کچھ وہیں تھا۔ پیڑ، پودے، گھاس، مٹی، کیاریاں۔ کچھ نہیں تھا تو زندگی کا احساس۔ ایک مردنی سی تھی، جیسے کوئی نزاع کے عالم میں نڈھال ہچکیاں لیتے ہانپتا ہو۔ انجیر، جامن، انار، آم کے تینوں پیڑ اور وہ دو بڑے سے درخت جو دن بھر ہری ہری نبولیاں سی اپنے نیچے بچھی گھاس پر گرایا کرتے ہیں، یہ آٹھوں تو خیر ہوش و حواس میں تھے کہ ان کی جڑیں دور زمین کے اندر سے نمی تلاش لاتی ہیں مگر دھنیا، پودینہ، ہری مرچوں، بینگن، ٹماٹر اور کئی قسم کے آرائشی پھولوں کے نازک نازک پودے برے حال میں تھے۔ ان کے پتے اور پھول لاغر ہو کر زمین کے رخ سر نیہوڑائے ہوئے تھے۔ کیاریوں میں دھول اڑتی تھی اور گھاس کی پھیکی ہریاول کے بیچ بیچ سے پیاسی زمین جھانکتی تھی۔ نہ کوئی تتلی، نہ بھنورا، ویرانی تھی اور زندگی کی راہ دیکھتا اضمحلال۔ یہ عید کا تیسرا دن ہے اور میرے گھر کے چمن کا نقشہ۔

عید سے ایک دن پہلے تک لال خان مالی آتا رہا تھا۔ لال خان بھی کوئی خبطی ہے، نام دیو مالی کا دوسرا جنم۔ نام دیو سے آپ واقف ہیں نا؟ اورنگ آباد میں کسی مغل شہزادی کے مقبرے کا مالی جس کا تفصیلی تذکرہ مولوی عبدالحق نے لکھا ہے۔ مقبرے کا باغ مولوی صاحب کی نگرانی میں تھا۔ مولوی صاحب نے لکھا ہے کہ نام دیو ہمہ وقت اپنے کام میں مشغول، پودوں سے باتیں کرتا رہتا۔ ایک دفعہ سوکھا جو پڑا تو کنویں تک خشک ہو گئے، ایسے میں نام دیو دور دور سے پانی تلاش کر کے گھڑے میں بھر کے لاتا اور اپنے پودوں کو دیتا۔ سوکھے میں جہاں باغ کے دوسرے حصے ویران ہو گئے وہاں نام دیو کے حصے کا باغ ہرا بھرا تھا۔ سوکھا گزر گیا تو مولوی صاحب نے نام دیو کو نقدی کی صورت کچھ انعام دینا چاہا۔ اس نے لینے سے انکار کر دیا کہ اپنے بچوں کی پرورش کا بھی بھلا کوئی انعام لیتا ہے۔

لال خان بھی ایسا ہی ہے۔ میں جہاں رہتا ہوں وہاں گھر کی عمارت ایک ڈیڑھ فٹ بلند چوکی پر ہے جس کے تین اطراف یعنی جنوب، مشرق اور شمال میں چمن زار ہے۔ چوڑی کیاریاں جن میں آم، جامن کے جسیم پیڑوں سے لے کر موسم کے پھولوں کے نازک پودے موجود ہیں۔ چار برس ہوئے اس گھر میں رہتے۔ مالی پہلے دن سے رکھے مگر یہ چمن روکھا پھیکا ہی رہا۔ اب کوئی سات آٹھ ماہ ہوتے ہیں کہ لال خان نے اس چمن کو سنبھالا ہے۔ ذمہ داری جو اٹھائی تو گویا چیلنج بنا لیا۔

اس کا گھر یہاں سے چودہ کلومیٹر دور ہے۔ سائیکل پر روز آنا اور گھنٹوں کام میں جتے رہنا، اس کا معمول رہا۔ حتیٰ کہ اتوار کو بھی۔ چمن دن بدن نکھرتا گیا۔ ایک اتوار کے دن جب وہ پیروں کے بل ایک کیاری میں بیٹھا رمبا چلاتا تھا تو اسے دیکھ کر مجھے احساس ہوا کہ تنخواہ کے نام پر ہم لال خان کو جو رقم دیتے ہیں، وہ اس کے مقابلہ میں کہیں زیادہ کام کرتا ہے۔ میں نے اسے کہا بھلے آدمی تم کم از کم اتوار کو تو چھٹی کر لیا کرو، اتنا سائیکل چلا کر آتے ہو۔ وہ بولا ”صاحب! میں آپ کے لئے تھوڑا ہی آتا ہوں، میں تو اپنے ان پودوں کے لئے آتا ہوں“ ہم نے اس کی تنخواہ میں تھوڑا اضافہ کر دیا مگر پھر کبھی اس سے ہم دردی نہیں جتائی۔

ایک دن کسی عزیز کو خون دینے گیا، ٹیسٹ ہوا تو پتہ چلا کہ لال خان کو ہیپاٹائٹس ہے۔ اس دن کے بعد لال خان نے گھر سے کھانے پینے کی کوئی چیز بھجوائی جاتی تو لینے سے انکار کردیتا، ”ایک تو میں پرہیز پر ہوں دوسرا بچوں والا گھر ہے، میں گھر کا کوئی برتن استعمال نہیں کروں گا“ ۔ ایک روز لال خان اپنی جناتی قینچی سے ایک آرائشی پودے کی حجامت کر رہا تھا۔ حجامت سے کٹ کر پودے کی شاخوں میں الجھ جانے والے پتے جو اس نے مٹھیاں بھر بھر نکالنے شروع کیے تو کوئی نرم سے شے اس کے ہاتھ میں تھمے پتوں سے تڑپ کر نکلی اور زمین پر آن گری۔

یہ ایک ڈیڑھ فٹ کے قریب لمبا، پتلا سے زرد رنگ کا چمکیلا سانپ تھا۔ زمین پر گرتے ہی وہ دیوار کے ساتھ بنے ایک سوراخ میں گھس گیا۔ میں کچھ فاصلے پر کھڑا دیکھتا تھا، بے اختیار منہ سے خوف بھرا اوہ نکلا۔ لال خان مسکرایا ”صاحب! اللہ کا حکم نہ ہو تو کوئی موذی شے نقصان نہیں پہنچا سکتی۔ پھر یہ بھی تو اس چمن کا باسی ہے“۔

ہاں تو میں بتا رہا تھا کہ عید سے ایک دن پہلے لال خان آیا تھا، گھنٹوں مصروف رہا، جاتے ہوئے کہہ گیا میں شہر سے باہر جا رہا ہوں، عید کے چار روز بعد آؤں گا، پودوں اور گھاس کو پانی لگاتے رہئے گا۔ عید والے دن ہم سب گھر والے لیہ چلے گئے۔ عید کے دنوں میں گرمی بھی خوب پڑی۔ تیسرے روز دوپہر کو واپس پہنچے تو میں سو گیا۔ خدا کے ساتھ دیوار بیچ کی ہمسائیگی ہے۔ عصر کی اذان ہوتی تھی جب آنکھ کھلی۔ باہر نکلا تو چمن کا وہ عالم تھا جو ابتدائی پیراگراف میں مذکور آیا۔

میں نے لان کی دونوں ٹونٹیوں پر پائپ چڑھائے۔ ایک کو کیاری میں رکھ دیا، دوسرے سے پودوں کو نہلانے لگا۔ چند منٹوں بعد چمن میں زندگی بیدار ہونے لگی۔ سب سے پہلے بلبلوں کا وہ جوڑا جو انار کے پیڑ میں کہیں رہتا ہے، چمن میں اترا۔ پھر تو لائن لگ گئی، فاختاؤں کا جوڑا اور وہ جنہیں اردو میں پتہ نہیں کیا کہتے ہیں، سرائیکی میں لالی کہا جاتا ہے، چڑیاں۔ یہ سب کیاریوں میں یہاں وہاں جمع پانی میں پھدکنے لگیں۔ جن پودوں کو میں نہلاتا تھا، ان کے پتوں سے ٹپکتے قطروں تلے اچھل اچھل کر گرمی بھگانے لگیں۔

کیڑے مکوڑے، رنگ رنگ کی تتلیاں، بھنورے، شہد کی مکھیاں، بھڑ اڑتے تھے اور پانی کی ٹھنڈک کا مزہ لیتے۔ سب کچھ وہی تھا مگر اب منظر میں مردنی کے بجائے زندگی کا احساس تھا۔ ایک گھنٹہ بیس منٹ بعد جب خشکی سے تڑختے لان اور پودوں کو نہلا کر میں پائپ سمیٹ رہا تھا تو مسجد کے وضو خانہ کے ساتھ کھڑے پیپل کے بڑے گھیر والے پیڑ کی باسی وہ کوئل جو اکثر بارشوں میں بولا کرتی ہے، اس کی آواز بھی ہمارے چمن کے ایک درخت کے پتوں سے آتی تھی۔

پتے سر اٹھانے لگے، مرجھاتی ہریالی چمکنے لگی۔ پرندے اور تتلیاں مستی میں تھے اور پیڑ پودے جھومتے تھے۔ دھیرے دھیرے سر اٹھاتے اور تازگی بھری ہریاول اوڑھتے پتوں میں لال خان مسکراتا تھا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *