زندگی کا سفر اور ملال

مہاتما کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہیں اپنے سارے جنم یاد تھے۔ انتظار حسین اور آصف فرخی نے جاتک کہانیاں کے نام سے جو کتاب مرتب و ترجمہ کی ہے، اس میں وہ کہانیاں شامل ہیں جو مہاتما بدھ اپنے پیروکاروں کو سنایا کرتے تھے۔ بھکشو تمام دن جنگلوں، پہاڑوں، وادیوں، بستیوں میں پتہ نہیں کیا تلاش کرتے پھرتے۔ وہ مانگتے کسی سے نہ تھے، تاہم کوئی کھانے پینے کی شے دے دیتا تو انکار بھی نہ کرتے۔

Read more

ٹائم تھوڑا ہے

اس نے کہا ”ٹائم تھوڑا ہے ہم سب کے پاس، اسے ضائع نہ کرو۔ زینب، زہرا، امامہ اور اُن کی اماں کے ساتھ وقت گزارو، کتابیں پڑھو، نورجہاں کے گانے سنو اور بس۔ جو ناراض ہوتا ہے ہونے دو۔ وقت نہیں ہے لوگوں کو منانے کا اور جو تمہارے ساتھ ناراض ہونے کا عذر نکال سکتا ہے، اسے منانے کا کوئی فائدہ نہیں، وہ پھر کوئی نیا عذر تراش لے گا۔ اور ہاں تھینک یو کہنا نہ بھولو۔ تمہیں یاد

Read more

نیند کیوں رات بھر نہیں آتی

سب کچھ اتنا سادہ نہیں ہے جتنا بتایا جاتا ہے۔ غالب جیسا عالی دماغ پریشاں ہے کہ جب موت کا ایک دن معین ہے تو نیند کا نہ آنا چہ معنی۔ دو سوال ہیں کہ سوچنے والوں کو پریشان رکھا کرتے ہیں۔ ایک یہ کہ ہم یہاں کیوں ہیں؟ کیا کرنے آئے ہیں؟ دوسرا سوال کہ کہاں جائیں گے؟ یہاں جب آنکھ بند ہوگی تو کہاں کھلے گی؟ علت و معلول کے روز مرہ کا عادی دماغ وجہ تو پوچھتا

Read more

عمر خضر

"یار اک کَم کر “ ”ہاں جی، دَسو“ ”میرے پرس وچوں پیسے لے جا تے کِتیوں مَوت خرید لیا“ میں ہنس پڑا ”یار تیری اینی واقفیت اے، کِتیوں تے لَبھ ای جائے گی“ ذرا دیر کا سکوت، اگلا جملہ ”اب میں نہ زندوں میں ہوں نہ مُردوں میں۔ کسی ایک طرف ہونا چاہیے۔ زندوں میں بہت رہ لیا، اب اپنی اماں بابے کے پاس جانا چاہتا ہوں“ کم و بیش چوہتر برس ہوتے ہیں، اللہ نے ابا جی کو دینے

Read more

اپنا اپنا دن

ایک ایرانی لوک کہانی ہے جو بہت پہلے کسی کالم میں نقل کی تھی، آج پھر سن لیجیے۔ کسی بادشاہ نے ایک عالم سے کہا کہ میرے لئے دنیا کی تاریخ لکھو، آغاز سے اب تک۔ شاہی حکم تھا، عالم نے دس سال تک دن رات ایک کر دیے اور دنیا کی تاریخ پر دفتر کے دفتر رقم کر دیے۔ دس اونٹوں پر یہ کتابیں بار ہوئیں اور عالم انہیں لے کر دربار میں حاضر ہوا۔ بادشاہ نے عالم کا

Read more

محمد علی: مسجد سے فلم سٹوڈیوز تک

فصیل میں مقید ملتان شہر میں داخل ہونے کو چھ دروازے ہیں۔ ان میں ایک لوہاری دروازہ بھی ہے۔ وجہ ہائے تسمیہ اس دروازے کی دو بتائی جاتی ہیں۔ ایک تو یہ کہ اس کے اندر داخل ہوتے ہی آہن گروں کی بستی تھی جہاں دن رات لوہا ڈھالا جاتا تھا، چناں چہ لوہا کی نسبت سے اسے لوہاری گیٹ کہا جانے لگا۔ دوسری وجہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ لاہور کو جانے والا راستہ اسی دروازے کی دہلیز

Read more

محمود شام کے ”روبرو“

ایک زمانہ تھا جب اخبار نویس صرف واقعات ہی رپورٹ نہیں کیا کرتے تھے بلکہ صاحب اسلوب انشا پرداز بھی ہوا کرتے تھے۔ زبان و بیان کا چٹخارہ اور عبارت آرائی، اخباری تحریروں کا خاصہ ہوا کرتے تھے۔ اب خال خال کوئی صحافی نظر آتا ہے جس کی تحریر میں ادیبانہ شان ہو، جیسے وجاہت مسعود، یا پھر گئے وقتوں کی کوئی کوئی نشانی باقی ہے۔ جناب محمود شام بھی انہی بھلے وقتوں کی نشانی ہیں جب صحافی حضرات صاحب

Read more

کالم ہوتل بابا کے: رضی الدین رضی کا نگار خانہ

ملتان میں یوں تو استاد شاگرد کے تعزیے مشہور ہیں جن کی رونمائی سال بہ سال ایام عاشور میں ہوا کرتی ہے تاہم ان دنوں شہر میں ”استاد شاگرد“ کے ادبی کالموں کا چرچا ہے۔ پروفیسر انور جمال اور رضی الدین رضی کے ادبی کالموں کے مجموعے علی الترتیب ”ملتان رنگ“ اور ”کالم ہوتل بابا کے“ آگے پیچھے طبع ہو کر مارکیٹ میں آئے ہیں۔ یہ بھی ہمیں انہی مجموعہ ہائے کی ورق گردانی سے معلوم ہوا کہ رضی الدین

Read more

جب ملکہ ترنم نورجہاں نے فیض کی خاطر افسروں سے ٹکر لی

دسمبر 1954 ء کے ابتدائی ایام تھے۔ کچھ لوگ ملکہ ترنم میڈم نورجہاں کے پاس حاضر ہوئے اور کہا ”ہم قائد اعظم کے یوم پیدائش پر ایک چیریٹی شو کر رہے ہیں اور 6 لاکھ کی ٹکٹیں فروخت کرنے کا ہدف رکھا ہے۔ آپ تشریف لائیں اور نغمہ سرا ہوں تو یہ ایک قومی خدمت ہوگی“ ملکہ ترنم نے حامی بھر لی۔ 25 دسمبر 1954 ء ویک اینڈ کا دن تھا، یعنی ہفتے کے شام۔ ملکہ ترنم نور جہاں وقت

Read more

چک پیراں کا جسا: کتاب پر تبصرہ

کچھ کہانیاں آپ سے چمٹ جاتی ہیں۔ جیسے بھوت پریت، آسیب چمٹ جاتے ہیں۔ چھوڑتی ہیں نہیں آپ کو جب تک کہ اپنے آپ کو پورا نہ پڑھوا لیں۔ اثرات بعد میں بھی نہیں جاتے۔ ویسے میرا ماننا ہے کہ کہانی کبھی مکمل نہیں ہوتی۔ کہانی، ایک سے دوسرے واقعہ کی طرف سفر کا نام ہے اور یہ سفر کبھی ختم نہیں ہوتا۔ سو کہانی بھی کبھی ختم نہیں ہوتی۔ ہاں! کہانی کہنے /لکھنے والا تھک کے کسی موڑ پہ

Read more

آپ کا جسم آپ کی مرضی، مگر۔ ۔ ۔

جب سے عمر عزیز نے پچاس کا ہندسہ پار کیا ہے، مجھے لگتا ہے میں کسی قدر خبطی سا ہو گیا ہوں۔ پہلے جن معاملات کو دیکھ کر یونہی کڑھتا اور دل میں برا بھلا کہتا گزر جایا کرتا تھا، اب ان پر لوگوں کو ٹوکنے روکنے لگا ہوں۔ گویا بزعم خود سماج سدھار کا خبط۔ جب کوئی ایسی حرکت کر بیٹھتا ہوں تو بعد میں کبھی ڈر بھی لگتا ہے کہ کسی روز سر راہ خمیازہ ہی نہ بھگتنا

Read more

ایک درویش کی کہانی

زندگی آغاز اور اختتام کے کناروں میں مقید ہے۔ ان کناروں کے بیچ بہتی وقت کی ندی کا پاٹ کیسا ہی چوڑا کیوں نہ ہو بالآخر طے ہو کے رہتا ہے۔ محقق، مترجم، افسانہ نگار، سفر نامہ نگار، صحافی ڈاکٹر حنیف چودھری دس اکتوبر 1929 ء کو اس ندی میں اترے اور پانچ اکتوبر 2023 ء کو دوسرے کنارے پر پہنچ گئے۔ وہ کنارا جو لاعلمی کی دھند میں لپٹا ہے اور ہنوز انسان کا علم اور ذہن کوئی ایسا

Read more

شکریہ کہنے کی عادت اپنائیں

یہ ستمبر کے ابتدائی دنوں میں سے ایک گرم دن تھا۔ لو یا سورج کی تپش والی گرمی نہ تھی۔ فضا میں بخار سا رچا ہوا تھا جو جسم کے پور پور سے عرق نمکین کشید کرتا تھا اور ہوا دم سادھے ہوئے تھی۔ بوسن روڈ پر جہا‌ں ایجوکیشن یونیورسٹی اور ایمرسن یونیورسٹی پہلو بہ پہلو نشست کیے ہوئے ہیں، ان کے سامنے سڑک پار کر کے جو دو بینک ہیں، یہ انہی میں سے ایک بنک کے اے ٹی

Read more

لوگ کہتے تھے عید کارڈ اسے!

شرقاً غرباً لیٹی ہوئی ایک سڑک ہے جو شہر کے قدیمی بوہڑ دروازے کی قدموں سے پھوٹتی ہے اور چھاؤنی کی طرف نکل جاتی ہے۔ اسی سڑک پر ایک بچے کھچے مگر تیزی سے اجڑتے سینما گھر کے سامنے وہ وسیع عمارت ہے۔ ایک مستطیل جو اپنے طول میں سڑک کے ساتھ ساتھ چلی گئی ہے۔ جنوبی ضلع پر تعمیرات میں جبکہ شمالی جانب بڑا سبزہ زار ہے۔ عمارت میں بہت سے کمرے ہیں اور کچھ چھوٹے بڑے ہال۔ عمارت

Read more

کبھی یوں بھی تو ہو

پورے چاند کی رات میں کبھی دریا دیکھا ہے آپ نے؟ ساحل کی فضا کوئی ماورائی روپ اوڑھ لیتی ہے۔ رومان بھرا، اس زمین سے باہر کا کوئی رنگ۔ میں جب بھی جاوید اختر کی یہ نظم جگجیت کی آواز میں سنتا ہوں تو مجھے پتہ نہیں کیوں وہ شب ماہ یاد آجاتی ہے۔ کبھی یوں بھی تو ہو دریا کا ساحل ہو پورے چاند کی رات ہو اور تم آؤ۔ کبھی یوں بھی تو ہو پریوں کی محفل ہو

Read more

عبادت

میں جس کمرے میں بیٹھا یہ سطریں لکھتا ہوں وہاں جنوبی دیوار کے ساتھ کتابوں کی شیلف تلے ایک براون رنگ کا صوفہ پڑا ہے۔ اس کی پشت پر براون رنگ کی ایک جانماز تہ کی رکھی ہے اور اس کے اوپر ایک ہرے اور گلابی پرنٹ والا دوپٹہ۔ جانماز اور دوپٹہ کل رات سے یہیں پڑے ہیں۔ شب گزشتہ، دس بجے سے کچھ وقت اوپر تھا جب زہرا نے عشا پڑھ کے یہ جانماز اور دوپٹہ یہاں ڈال دیے تھے۔

Read more

تنہائی اور جدید گیجٹ

سہ پہر ڈھل گئی اور دن نے چوتھے پہر میں قدم دھر دیا تو میری آنکھوں، ماتھے اور سر میں تھکن کی ٹیسیں بہت بڑھ گئیں۔ چنانچہ میں نے فون کو بیڈ پر اچھال دیا، نظر کی عینک اتار کر ہاتھوں سے آنکھوں کو سہلایا اور باہر لان میں آ گیا۔ چارپائی پر چت لیٹ کر آنکھیں موند لیں۔ سوچا کہ اب کچھ دیر یا تو آنکھیں بند رکھوں گا اور اگر کھولیں تو بس فطرت کو دیکھوں گا۔ نیچر

Read more

شاہنواز ارشد: اساں ول آونڑا کوئی نہیں

کل سے مجھے نظیر اکبر آبادی کا یہ شعر بے طرح یاد آ رہا ہے۔ یوں جانیے کہ اس کے مفاہیم ہی کچھ کل سے آشکار ہوئے ہیں۔ جتنے سخن ہیں ’سب میں یہی ہے سخن درست اللہ آبرو سے رکھے اور تندرست غالب گو کہ یگانہ روزگار شاعر تھا مگر کسی شدید نوعیت کی بیماری سے اس کا واسطہ تازیست نہ پڑا۔ وہ تو بس عمر بھر عسرت و تنگدستی سے پنجہ آزما رہا۔ اسی لئے اس نے تندرستی

Read more

دُم پر پاؤں اور لوک دانش

بارہویں شب کا چاند آسمان پر تیرتی سفید رنگ کی چھوٹی چھوٹی آوارہ بدلیوں سے کھیل رہا تھا۔ اگست کا حبس فضا کا دم گھونٹے ہوا تھا اور ہوا بھی دم بخود تھی۔ میرے بدن کا پور پور پسینہ اگلتا تھا اور کانوں میں مہدی حسن، فراز کی غزل کا یہ شعر الاپ رہے تھے ”پہلے سے مراسم نہ سہی پھر بھی کبھی تو۔ رسم و راہ دنیا ہی نبھانے کے لئے آ“ میرا خیال اور توجہ مہدی حسن کے

Read more

ادب عالی اور ادب عامی

کسی فن پارے، خاص کر ناول کا بنیادی وصف اس کی ریڈ ایبلٹی ہوتی ہے۔ یعنی ایک متوسط ذہن کے قاری سے فن پارہ خود کو پڑھوا سکے۔ ایک مدت سے اس تلاش میں تھا کہ کوئی ناول ایسا ملے جو نشست سے چپکا کے رکھ دے۔ جس کی فضا میں جذب ہو کر اس کا حصہ بن جاؤں۔ جو ایسا اسیر کرے کہ جب تک خواندگی مکمل نہ ہو جائے، سوتے جاگتے کا ساتھی ہو۔ اپنی نا اہلی، کم

Read more

بجلی کا سرکاری بیوپاری جو انڈر ورلڈ کے کسی ڈان سے بھی بڑھ کے ہے

فرض کریں کہ ایک شام آپ گھر بیٹھے ٹیلی وژن پر کوئی ٹاک شو دیکھ رہے ہیں اور غیض سے بھرے کف بہ دہن تجزیہ نگاروں سے ملکی مسائل کا حل سن کر محظوظ ہو رہے ہیں۔ اتنے میں دروازے کی گھنٹی بجتی ہے۔ آپ اٹھ کر باہر جاتے ہیں تو آپ کے محلے کی بڑی مارکیٹ والا کریانہ فروش کھڑا ہے، وہی جس سے آپ ہر ماہ راشن خریدا کرتے ہیں۔ آپ کو دیکھتے ہی کہتا ہے ”میاں! گزشتہ

Read more

قاسمی صاحب اور میں

* * گزشتہ دنوں جناب حامد میر کا کالم پڑھ کے پتہ چلا کہ اشفاق احمد صاحب، جناب عطاءالحق قاسمی کو اردو کا سب سے بڑا کالم نگار قرار دے چکے ہیں۔ جناب قاسمی کو ان کا دیرینہ قاری ہونے کی بنا پر ایک مدت سے اسی قسم کا ایک ٹائٹل یہ کم ترین بھی دے چکا ہے لیکن ظاہر ہے جو قبولیت عامہ اور وزن راجہ بھوج کی طرف سے دیے خطاب کا مقدر ہے وہ گنگوا تیلی کے

Read more

بجلی کا بل آیا تو فطرت کا قرب پایا

جون کی آخری سے پہلی شب ہے اور دس بجنے کو ہیں۔ میرے گردا گرد پھیلی فضا کا بدن تپ رہا ہے۔ کوئی بھولا بھٹکا ہوا کا جھونکا کبھی آ نکلتا ہے تو بدن کے نم مساموں کو قدرے راحت دے جاتا ہے۔ برقی رو تعطیل پر ہے۔ دیوار کے ساتھ کھڑے آم اور جامن کے پیڑ اور ان کے پیچھے دیواروں پر چڑھی بیلوں کے پتے دم بہ خود ہیں۔ کسی جھونکے کے منتظر جو دن بھر کی تمازت

Read more

میلا مر گیا، جنجر اداس ہے

میلا مر گیا، جنجر اداس ہے، بہت زیادہ اداس۔ سر ڈالے پڑا ہے۔ نہ بولتا ہے، نہ بلانے پر جواب دیتا ہے اور نہ کچھ کھا پی رہا ہے۔ پتہ نہیں آپ کو میلا، جنجر، ہارنلڈ یاد بھی ہیں کہ نہیں۔ چار مہینے پہلے ان پر ایک کالم لکھا تھا ”ایک بلے کی کہانی“ کے عنوان تلے۔ کہاں یاد ہوں گے بھلا۔ جس ملک میں نہرو کی دھوتیوں سے زیادہ وزیراعظم بدلتے ہوں اور پے در پے حوادث و واقعات

Read more

قبراں اڈیکدیاں مینوں

آج پنجابی کے نام ور جوان مرگ شاعر شیو کمار بٹالوی کی انچاسویں برسی ہے، اس موقع پر ایک تحریر۔ تحریر میں پنجابی شاعری بغیر ترجمے کے دی گئی ہے، اور صرف پنجابی جاننے والے افراد ہی اس سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔ لفظ بے جان ’بے صوت اور بے حس نہیں ہوتے اور نہ ہی منافق۔ ان کے اندر جذبے سانس لیتے ہیں۔ لفظوں اور جملوں کو جنم دیتے وقت لکھنے والا جس نفسیاتی کیفیت میں ہوتا ہے

Read more

پروفیسر صاحب

پروفیسر خالد سعید بھی چلے گئے. ایک عالم کی رحلت ہوئی. شہر خالی ہوتا چلا جا رہا ہے. ان کے ساتھ ایک نشست کا احوال چند برس پہلے قلم بند کیا تھا جو میری کتاب "ادھوری کہانیاں” میں شامل ہے. دیکھئے کیسی قیمتی شخصیت ہم سے جدا ہوئی ہے۔ ٭٭٭      ٭٭٭ جناب خالد سعید سراپا پروفیسر ہیں ’از موئے سر تا بہ انگشت ہائے پا۔ ہمہ وقت کھلے ہاتھوں سے علم بانٹتا ہوا پروفیسر۔ ان سے مل کر اور ان

Read more

ملتان کا بازار حسن: ایک گم شدہ منظر

سورج چھپ چکا ہے ’شام دھیرے دھیرے گہری ہو رہی ہے۔ ملتان شہر کے حرم دروازے کے باہر ڈھلان پر خاصا ہجوم ہے۔ بازار بند ہو رہے ہیں۔ قرب و جوار اور شہر سے جو لوگ خریداری کو آئے تھے‘ وہ اب واپسی کے لئے سواریاں تلاش کر رہے ہیں۔ تانگوں کے پہیوں کے دھرے اک دوجے سے رگڑ رہے ہیں۔ کوچوان یوں آوازیں لگاتے ہیں کہ کان پڑی آواز سنائی نہیں دے رہی۔ زیادہ تانگوں کا رخ بیرون دولت

Read more

ایک عید کارڈ پا کر

کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ ہم کس قدر تیزی سے بے لمس زندگی کی طرف بڑھ رہے ہیں، غیر مرئی قسم کی بے روح زندگی۔ لوگ بڑے فخر سے بتاتے ہیں کہ ہم جس دفتر میں کام کرتے ہیں وہاں Penless ماحول ہے۔ میرے جیسے ناسٹلجیا کا شکار لوگ سوچتے ہیں کہ انگلیوں کا قلم کے لمس سے محروم ہو جانا فخر کی بات ہے یا المیہ۔ میرا ایج گروپ وہ نسل ہے جس نے سرکنڈے کی قلم گھڑ کے

Read more

خوشبو میں بسا ناسٹیلجیا

کبھی کبھی یوں ہوتا ہے کہ قلم کو قرطاس کی روشوں پر رواں رکھنے والا خیالات کا ایندھن قلت کا شکار ہوجاتا ہے۔ ایندھن نہ ملے تو دو چار جھٹکے کھا کر قلم کی گاڑی رک جاتی ہے، لاکھ دھکے لگاؤ، سٹارٹ نہیں ہوتی۔ گزشتہ دنوں کچھ ایسا ہی معاملہ درپیش رہا اور کئی ہفتے آپ سے ملاقات نہ ہو سکی۔ یہ دورانیہ ممکن ہے مزید طویل ہوجاتا مگر پھر ایک بھولی بسری خوشبو نتھنوں سے ٹکرائی اور تعطیل پر

Read more

قاضی عابد صاحب، یہ کوئی جانے کے دن تھے بھلا؟

فروری کے اکیسویں روز کی دوپہر ہے، آم کے تین پیڑ ہیں جن کے قدموں میں سبزے کا فرش ہے اور پتوں کو چھیڑتی وہ ہوا جو بہار کے کاروان کا ہراول ہوا کرتی ہے۔ ایسے میں وہاں موت کی بو رچی ہے۔ پتہ نہیں مرنے والے کو وہ بو کیسی لگتی ہے مگر زندگی جیتے لوگ اس بو کو شامہ کی قوت سے نہیں دلوں کے بوجھل پن سے محسوس کرتے ہیں۔ قلوب کو بھاری اور مکدر کرتی ہوئی

Read more

زندگی اور موت کے درمیان ادھوری تحریر

خواہشیں ختم بھی ہو جائیں تو باقی رہتی ہیں۔ سوچ کے کسی کونے کھدرے میں سسکتی ہوئی بظاہر نہ دِکھنے والی خواہشیں۔ جیسے میں چاہتا ہوں کہ جب میرا وقت آئے تو زیادہ دیر نہ لگے۔ اذیت کے یا بےخودی کے لمحے طویل نہ ہوں۔ حالانکہ میں خواہشات سے اوپر نکل آیا ہوں، اب میری نہ کوئی خواہش باقی ہے نہ کوئی آرزو۔ یہ جو میں زندہ ہوں تو خواہش کے تحت نہیں بلکہ مجبوری سے، موت نہ آنے کی

Read more

ایک بِلے کی کہانی

مجھے نہیں پتہ بلیوں کے ان رنگوں کو کیا کہا جاتا ہے تاہم یہ جو اورنج سے رنگ کا ہے اسے ہم "جنجر” کہتے ہیں اور جو دوسرا  گرے سا ہے، اس کا نام "مَیلا” ہے. ابھی اس بات کو ایک سال پورا نہیں گذرا جب یہ ہمارے گھر آئے تھے. جنجر اور اس کا ایک روئی کے گالے ایسا سفید رنگ کا بھائی تھا جسے ہم "ہارنلڈ” کہتے تھے. ان ننھے بلونگڑوں کی ماں منہ میں دبائے انہیں ہمارے

Read more

مسافر۔ اک جہان حیرت

زندگی حرکت سے عبارت ہے اور سفر زندگی کا استعارہ ہے۔ سفر اپنے اندر کا ہو یا بیرون کا، مسافر پر حیرت کے در وا کرتا ہے۔ تین سو چھتیس صفحات کو محیط ”مسافر“ کے تجربات بھی پڑھنے والے کو جا بہ جا حیران کرتے ہیں۔ دیکھے ہوئے مناظر کے ان دیکھے پہلو دکھاتے ہیں۔ یوم الست جب بھی طلوع ہوا تھا، اسی وقت سے انسان سفر میں ہے یا شاید اس سے بھی پہلے کا سفر نصیب۔ اس کی

Read more

صبح بخیر زندگی!

میں جس بستی میں رہتا ہوں، اس کے گردا گرد گنجان آباد محلے ہیں اور ان محلوں میں جا بہ جا مساجد۔ آپ جانتے ہیں کہ لوئر مڈل کلاس آبادیوں کی مساجد میں لاؤڈ سپیکر کا استعمال بے دریغ ہوا کرتا ہے۔ چندا مانگنے سے لے کر مذہبی تہواروں کی رسومات تک، سبھی لاؤڈ سپیکر پر طے پاتی ہیں۔ ایک آدھ مسجد میں تو کبھی یہ اعلان بھی سننے کو ملتا ہے کہ جماعت کھڑی ہونے میں دو تین منٹ

Read more

تم جیسے گئے ایسے تو جاتا نہیں کوئی

کوئی ہے جو اسپ زماں کو مہمیز کرے۔ کوئی تو سبب ہو کہ ایک دم بہت سارا وقت گزر جائے۔ اس وقت سے سبھی کو تیز رفتاری کا گلہ رہا کرتا ہے مگر آج تو لگتا ہے جیسے اس سے سست کوئی اور شے ہے ہی نہیں۔ ہے کوئی تیمور جس کی ایڑ سے وقت کا یہ شبدیز بہت سارے ماہ و سال کی زقند بھر جائے! حادثے کا وقت پیچھے کہیں دور رہ جانے پر کچھ تو درد کم

Read more

اخبار، سکرین اور تبدیلی

آپ کے خیال میں کیا وجہ ہے کہ وقت کے میدان میں لگی دوڑ میں سافٹ کاپی کے مقابلہ میں ہارڈ کاپی ہانپ رہی ہے۔ کیوں رفتہ رفتہ ہارڈ کاپی یہ مقابلہ ہار رہی ہے؟ یہ ویسا ہی معاملہ ہے جو مادے سے بوجھل جسم اور روح کے مابین ہے۔ روح کو مادے کے بوجھ تلے دے کر محدود کر دیا گیا ہے وگرنہ اس کی پرواز تو زمان و مکاں سے مبرا ہے۔ سافٹ کاپی بھی مادے کے بوجھ

Read more

صدقے کا نوٹ

ابھی لڑکا آرڈر لے کر آیا نہ تھا کہ ڈیرا اڈہ کی طرف سے ایک چشمہ پوش بابا جی ’جن کی چھوٹی چھوٹی سفید داڑھی تھی‘ آتے ہوئے دکھائی دیے۔ چھوٹے چھوٹے قدموں والی دھیمی چال۔ وہ گاڑی کے پاس سے گزر کر کچھ آگے چلے گئے تھے کہ پھر پلٹے اور مجھ سے مخاطب ہوئے ”صدقے دے کجھ پیسے ودن؟“ (صدقے کے لئے پیسے ہیں آپ کے پاس) میں نے پوچھا ”خیریت! کیا کریسو“ ۔ بابا جی بولے ”صدقے دے پیسے ہوون تاں ڈیو چا ’گھر کوئی شے گھدی ویساں“ ۔ ان کے لہجے اور انداز میں گداگروں والی کوئی بات نہ تھی۔ بیگم نے کہا ”فوزیہ والا صدقہ دے دوں؟ کب سے لئے پھررہی ہوں“ ۔ میں نے کہا دے دو‘ بابا جی نے تو مانگا ہی صدقہ ہے۔

Read more

22 لوگ، سجاد پرویز اور اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور

یہ کتاب اچانک شروع ہو جاتی ہے۔ آپ نے جلد اٹھائی تو اک ملائم سیاہ خالی ورق ہے۔ اس کو پلٹیے تو رضا علی عابدی کا مضمون سامنے رکھا ہے۔ نہ اِنر ٹائٹل، نہ ضابطہ، انتساب اور نہ ہی فہرست۔  یہ سب کچھ آپ کو چودہ ورق الٹنے کے بعد ملے گا۔ ان چودہ اوراق یا اٹھائیس صفحات میں رضا علی عابدی، وجاہت مسعود، عقیل عباس جعفری، عرفان جاوید، آمنہ مفتی اور چند دیگر احباب کی تاثراتی تحریریں ہیں اور

Read more

غنیمت ہے یہ اک لمحہ حضوری کا

انسان بڑا مفاد پرست ہے، خود غرض اور اپنے مطلب کا یار، جب سر پہ پڑی ہو تو گڑگڑاتا ہے، بلکتا ہے اور عجز و انکسار کی اخیر کر دیتا ہے، مطلب نکل جائے اور مانگا ہوا مل جائے تو غافل ہوجاتا ہے میں اپنے آپ میں پچھلے ڈیڑھ دو ہفتے کے دوران یہ سب مشاہدہ کر چکا ہوں۔ مشاہدہ کیا تجربہ، اب کہ مشکل دن اللہ کے فضل سے گزر گئے ہیں تو وہ خشوع و خضوع نہیں رہا۔

Read more

کورونا: پڑیے گر بیمار

یہ سطریں لکھتا ہوں تو دوسری شب اتر آنے کو ہے، اپنے گھر والوں سے دور ہوں۔ گھر کی اوپری منزل میں ایک کمرہ ہے جہاں میرا بسرام ہے۔ بیٹیاں اور اہلیہ دن میں کئی بار اوپر آتی ہیں مگر ان کو سختی سے روک رکھا ہے کمرے میں آنے سے۔ اس گھر میں پہلے ”ہم“ رہتے تھے، اب دوسرا دن ہے کہ وہ اور میں رہتے ہیں۔ فریقین نے ماسک چڑھایا ہوتا ہے، دروازہ کھول دیا جاتا ہے، وہ چھے فٹ دور رکھی کرسی پر بیٹھ جاتی ہیں اور میں کمرے میں قریب چھے سات فٹ اندر۔ یوں بارہ چودہ فٹ کے فاصلے سے ہم کلام کرتے ہیں۔ گپ شپ اور حال احوال۔

Read more

کتاب، سکرین اور رومانس

یادش بخیر! یہ سلسلہ سن دو ہزار چار پانچ میں شروع ہوا۔ کتابیں تو پہلے بھی لیتا رہتا تھا مگر اپنی لائبریری بنانے کا خیال انہی برسوں میں آیا جن کا اوپر ذکر ہوا۔ میرے ذخیرے کی اولین کتاب ”علی پور کا ایلی“ تھی جو الحمرا میں لگے ایک کتاب میلے سے پچاس فیصد رعایت پر خریدی تھی۔ تھوڑی سی تنخواہ ہوتی تھی اور لاہور میں قیام۔ چنانچہ یوں ہوا کہ مال روڈ پر واقع فیروز سنز کے اس وسیع

Read more

شاہ جمال کا مجاور

بہت دن ہوئے وہ مجھے افغان حملہ آور احمد شاہ ابدالی کے نام سے موسوم سڑک پر سر راہ اس جگہ ملا جہاں خواتین کا ہسپتال ہے۔ ہم دونوں ہی کسی سرکاری نوکری کے لئے تحریری امتحان دے کر نکلے تھے۔ حیرت ہے کہ یونیورسٹی میں ایک ہی سیشن اور ایک سے ”مشاغل“ ہونے کے باوصف ہم کبھی اک دوجے سے نہ ملے تھے۔ اس اتفاقی ملاقات کے بعد یہ تعلق انتہا سے بڑھی ہوئی بے تکلف دوستی میں بدل

Read more

72 منٹ کی فون کال کا ہینگ اوور

کہتے ہیں کہ ایک لہر ہوتی ہے، چودہویں شب کے چاند کو چومنے کے ہیجان میں مبتلا سمندر کی لہروں میں ایسی لہر اور ایک لمحہ کلائمکس کا، جو انسان کو اپنے ہاتھوں اپنی جان لینے ایسے بظاہر ناممکن فعل پر عمل درآمد کروا دیتا ہے۔ اگر وہ لمحہ گزر جائے اور جوار پر آئی لہر بھاٹے کو لوٹ جائے تو خود کی جان لینا ممکن نہیں رہ جاتا۔ کسی بھی جان دار کی جبلت اپنی جان کی حفاظت کے

Read more

داستان جاری ہے

واقعہ یہ ہے کہ کوئی بھی کتاب پڑھی نہیں جاتی بلکہ خود کو پڑھوایا کرتی ہے۔ جناب ابوالحسن نغمی کی کتاب ”داستان جاری ہے“ مجھ پر طاری ہی تو ہو گئی جیسے کسی کنواری پر آسیب۔ پیہم ایک ماہ اس کو میں نے تھوڑا تھوڑا پڑھا۔ روزانہ شب بستر پر لیٹ کے بس آٹھ دس صفحے کہ ختم نہ ہو جائے۔ گزری صدی کی پچاس والی دہائی کے لاہور کی سیر تھی جو میں روز رات دیکھتا رہا۔

Read more

دو واقعات اور سپینوزا کا خدا

گزشتہ سے پچھلے اتوار کی دوپہر تھی۔ بچوں نے کہا بور ہو رہے ہیں، کہیں لانگ ڈرائیو پر چلتے ہیں۔ بالکل ہی اچانک پروگرام بن گیا اور ہم یونہی بلامنزل، بلا ارادہ باہر نکلے۔ چھاؤنی سے ہوتے ہوئے سیدھے شجاع آباد روڈ پر نکل گئے۔ موٹر وے کا انٹرچینج آیا تو گاڑی ایم فائیو یعنی ملتان سکھر موٹر وے پر چڑھا لی۔ پروگرام یہ بنا کہ کسی ریسٹ ایریا پر رکیں گے، دھوپ میں بیٹھ کر کافی وغیرہ پئیں گے۔ موٹروے پر چڑھنے کے پندرہ سولہ کلومیٹر بعد ایک بڑا ریسٹ ایریا آیا مگر بچوں نے کہا کہ یہاں نہیں ذرا لمبی ڈرائیو کرنی ہے۔ قریب ساٹھ کلومیٹر مزید چل کر جلال پور انٹرچینج سے پہلے جو ریسٹ ایریا آیا وہ بہت ہی ویران اور چھوٹا سا تھا۔ بچوں نے کہا یہ تو بورنگ سی جگہ ہے۔ انٹرچینج سے واپس ہوئے اور ڈھلتی سہ پہر میں اسی ملتان سے پندرہ سولہ کلومیٹر دور والے سروس ایریا پر رکے۔

Read more

اپنی گمشدہ پہلی کتاب سے ملاقات

مظہر کلیم ایم اے کے عمران سیریز کا ان دنوں طوطی بولتا تھا، ہم بھی ان کے تیر قلم کے گھائل تھے۔ مظہر کلیم صاحب مرحوم وکیل ہونے کے ناتے اباجی کے دوست تھے، آٹھ نمبر چنگی پر ان کا اور اباجی کا دفتر پہلو بہ پہلو تھے۔ ان کو مل کر مسودہ بہ صد خلوص و عجز و نیاز و احترام پیش کیا۔  مسودہ لیتے وقت ان کی پیشانی پر حوصلہ افزائی کی کوئی لکیر ابھری اور نہ مہینے بھر کے بعد واپس کرتے ہوئے انہوں نے اشارے کنائے میں بھی کوئی حوصلہ افزا بات کی۔

Read more

چوتھی ریشم دلان ملتان کانفرنس

وہ بولتے تھے اور ماحول نے اک پاکیزگی اوڑھ لی تھی۔ سننے والوں کی آنکھیں نم تھیں اور دل وفور جذبات سے شرابور۔ ملتان ٹی ہاؤس کے ہال کی دم بخود فضا کبھی کسی ہلکی سسکی اور کبھی نتھنوں میں اترتے پانی کو اوپر کھینچنے جیسی آوازوں سے ارتعاش زدہ ہوجاتی۔ لفظوں کا جادو سر چڑھ کے بولتا اور علامہ کا مصرع گویا مجسم ہو کر ہال میں ٹہلتا تھا کہ ”بات جو دل سے نکلتی ہے، اثر رکھتی ہے“

Read more

خاک بسر پیوند خاک ہو گیا

مجھے جب اس کا خیال آیا تو اسے مرے دوسرا سال تھا۔ شاید اب بھی نہ آتا اگر دسمبر کی پہلی بارش کے بعد اگلے دن کی چمکیلی سویر میں شاہ شمس روڈ سے گزرتے ہوئے دسمبر کی وہ بھیگتی ٹھٹھرتی شب نہ یاد آجاتی۔ گھوڑوں کو نعل لگانے والے کی دکان پر بیٹھے بابا مہتاب حسین سے جب میں نے اس کا پوچھا تو بابا نے بتایا ”وہ تو مرگیا۔ سال ڈیڑھ سال ہو گیا، کوئی پتہ نہیں دو

Read more

بچیوں کی تعلیم اور چڑیوں دا چنبہ

زندگی اک نیا موڑ مڑ رہی ہے جس کے آگے نئے مناظر منتظر ہیں۔ ان نئے مناظر کا عادی ہونے میں، ان سے مانوس ہونے میں کچھ تو وقت لگے گا۔ ابھی تو بے کلی سی ہے، ایک خوش گوار راہ سے گزر چکنے کے بعد مسرت بھرے ملال جیسی بے چینی۔ جیسے انسان بیک وقت ایک کام کرنا اور نہ کرنا چاہتا ہو مگر کیے بنا چارہ بھی نہ ہو۔ جمشید رضوانی کہتا ہے جس روز آپ بیٹی کو

Read more

کیونکر کہوں کہ کوئی تمنا نہیں مجھے

بھوک کا ختم ہونا، موت کی پہلی اور قوی علامت ہے۔ بھوک، خواہش کا دوسرا نام ہے اور خواہش جب رخصت ہوتی ہے تو زندگی کو ساتھ لے کر۔ غالب نے کہا تھا۔

گو ہاتھ کو جنبش نہیں آنکھوں میں تو دم ہے

رہنے دو ابھی ساغر و مینا میرے آگے

گویا زندگی سے جڑے رہنے کی آخری کوشش۔ مجھے علم نہیں تھا کہ اپنے دانش ور دوست رانا اعجاز سے آخری ملاقات کر رہا ہوں۔ وہ بیمار تھے اور اس بستر پر دراز جس سے موت نے ان کو اٹھایا۔ عرض کیا ”رانا صاحب! جلدی سے ٹھیک ہوجائیں، محکمانہ ترقی آپ کی منتظر ہے“ ۔ بڑی بے رنگ اور بے مزہ مسکراہٹ تھی ان کے ہونٹوں پر۔ کہا ”! جہاں میں ہوں، وہاں یہ سب بے معنی ہے، قطعی بے حقیقت“ ۔ ان کی بھوک ختم ہو چکی تھی۔ تب مگر میں یہ سوچنا بھی نہیں چاہتا تھا کہ موت ان کی دہلیز لئے بیٹھی ہے اور اگلے ہی روز رانا صاحب کو انگلی سے پکڑ کر ساتھ لے جائے گی۔

Read more

استاد کی کہانی

دھرتی سے اگا بدن، جب پھر سے دھرتی میں جا ملے، تو مادی دنیا کے قرطاس پر لکھی جانے والی کہانی مکمل ہو جاتی ہے۔ ایک اور کہانی مکمل ہو گئی۔ شخصیات کے احوال و تذکرہ پر مبنی کتاب جب چھپنے جا رہی تھی، تو میں نے اس کا نام ”ادھوری کہانیاں“ اسی لئے رکھا تھا کہ زمیں کے سینے پر جب تک انسان موجود ہو، اس کی کہانی ادھوری رہتی ہے۔ تکمیل تو موت کرتی ہے۔ کچھ سن گن رکھنے والے کہا کرتے ہیں کہ کہانی موت کے بعد بھی جاری رہتی ہے۔ رہتی ہو گی، تاہم ظاہری حواس سے بعد کی کہانی کو دیکھا، سنا، پڑھا اور محسوس نہیں کیا جا سکتا۔ سو موت کی نیند، کہانی کے اختتام ہی کا نام ہے۔ انگریز تمثیل نگار کے مطابق دنیا کے سٹیج سے اپنے حصے کا کردار مکمل کر کے اتر جانے کا نام ہے۔ ادھوری کہانیاں کتاب کا ایک اور کردار استاد بلے خاں بھی اپنی کہانی مکمل کر گئے، ان کا کردار بھی تمام ہوا۔ استاد کی کہانی کا آخری پیراگراف دربار موسیٰ پاک شہید کے سائے میں، گزشتہ سوموار کی صبح نو بجے پڑھا گیا۔

دربار حضرت موسیٰ پاک شہید کے پہلو میں محلہ گیلانیاں ہے اور استاد بلے خاں کا خاندان صدیوں سے یہاں مقیم۔ استاد کا تعلق نقارہ بجانے والے خاندان سے تھا۔ نقارہ بر صغیر کا قدیمی ساز ہے۔ نقارے کی کہانی بھی ختم ہونے کو ہے، اب خال ہی کہیں نظر آتا ہے۔ استاد کے پر دادا میاں اللہ ڈیوایا نقارے کے حوالے سے بر صغیر کے بڑے ناموں میں شمار ہوتے تھے۔ یہ فن اس خاندان میں نسل در نسل چلا۔ استاد کے والد خلیفہ رحیم بخش بھی معروف نقارچی تھے۔

Read more

اک ستارے میں ہے مکاں میرا

انہوں نے اپنے ساتھ بچھی چارپائی کی طرف اشارہ کر کے کہا ”یہاں آجاؤ میرے پاس۔“ میں نے اپنی کرسی ہٹا دی اور چارپائی کھینچ کر ان کی چارپائی کے اور قریب کرلی۔ وہ سیدھے لیٹے تھے، نظریں دور کہیں آسمان کی پہنائیوں میں گم تھیں۔ بجلی تعطیل پر تھی۔ کشادہ آنگن میں چار سو تاریکی تھی، نہ خنک نہ گرم، پھیکی پھیکی سی بدمزہ تاریکی۔ ہوا بند تھی۔ دیواروں کے پار گلی اور دیگر مکانوں کی بتیاں بھی بے

Read more

کیا شرعی حلیہ محض میک اپ ہے؟

سیانے کہتے ہیں، میاں بیوی گھر کی گاڑی کے دو پہئے ہوتے ہیں۔ ہمارے گھر کی گاڑی کے دونوں پہئے سرکار دربار کی ملازمت میں ہیں لہذا ہفتے بھر کا سبزی گوشت چھٹی والے دن اکٹھا خرید لاتے ہیں۔ اس مہم میں میرا کام فقط ڈرائیور کا ہوتا ہے۔ دکان سے اشیا خریدنا بیگم کی ذمہ داری ہے۔ گلگشت کالونی میں ایک جگہ ہے جہاں سبزی اور چکن کی پانچ سات بڑی بڑی دکانیں پہلو بہ پہلو آراستہ ہیں۔ یہ کوئی باقاعدہ دکانیں نہیں۔ ایک پارک کی دیوار ہے جس کے ساتھ ساتھ پنجرے اور پھٹے لگے ہیں۔ ساری کی ساری دکان داری سڑک پر ہوتی ہے۔ یہ سب گویا بلدیاتی اداروں کے ”کرایہ دار“ ہیں۔ خیر، اب کے اتوار اس ہفتہ وار خریداری کے لئے پہنچے تو بیگم نے کہا گرمی بہت ہے، جب تک میں سبزی لیتی ہوں، آپ دو چکن تلوا کر صاف سا گوشت بنوا لیں۔ مجھے دو جگہ کھڑا نہیں ہونا پڑے گا۔

Read more

سجناں نوں کنڈ کرئیے، اللہ پاک نراض ہوندا

مجھے آپ کو ایک قصہ سنانا ہے، سو آج شاید بات کچھ لمبی ہو جائے گی۔ یہ ایک تکون کی کہانی ہے، انسانی تکون جس کے تینوں اضلاع اب بکھر چکے۔ تاہم چوں کہ وہ سب حیات ہیں اور اپنے جوان بچوں کے ساتھ اپنی اپنی زندگی میں مصروف، سو میں کوئی نام نہ لکھوں گا اور مقامات کے نام بھی سب فرضی ہوں گے۔ ان کے نام ہم الف، بے اور جیم فرض کر لیتے ہیں۔ جیم چونکہ مؤنث

Read more

محمد رفیع: آؤ اک سجدہ کریں۔۔۔

پتہ نہیں آپ کا تقدیر پر یقین ہے کہ نہیں؟ کسی ایسی لوح سے واقف ہیں یا نہیں جس پر نصیب کے واقعات تحریر ہوچکے ہیں۔ اگر آپ مانتے ہیں تو مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا اور اگر نہیں مانتے تب بھی میری صحت پہ کوئی مضر اثرات مرتب نہیں ہوتے۔ میں نہ تقدیر کے ماننے والوں کا وکیل ہوں، نہ ان کے مخالفوں کا۔ اس ضمن میں اپنی ایک رائے ضرور رکھتا ہوں مگر اس کو دوسروں پر نافذ

Read more

سب رنگ کہانیاں اور ڈائجسٹ

کتنی ساری دوپہریں تھیں اور کتنی ہی بھیگتی راتیں جو ڈائجسٹوں کے ساتھ بسر ہوئیں۔ الیاس سیتا پوری، محی الدین نواب، عبدالقیوم شاد اور کیسے کیسے نام تھے جو پڑھنے والے کو اس کے محل وقوع سے اغوا کرکے اپنے قلم کے اعجاز سے پیدا کردہ دنیاؤں میں لے جاتے۔ یہ وہ زمانہ ہے جب رشید آباد والی اختر لائبریری اور شاہ شمس روڈ والے سہیل بک سنٹر سے کرائے پر ملنے والی ٹارزن، آنگلو بانگلو، چلوسک ملوسک، عمرو عیار

Read more

رانا اعجاز محمود سے آخری ملاقات

سوموار کے دن کا دوسرا پہر تمام ہوتا تھا جب ہم بہاولپور کے سرکٹ ہاؤس سے ملحقہ اس گھر میں پہنچے جس کے ایک کمرے میں رانا صاحب اس پلنگ پر لیٹے تھے جس کے بائیں جانب آکسیجن کے تین بڑے بڑے سلنڈر دھرے تھے۔ الٹے ہاتھ کی انگشت شہادت اس چھوٹے سے میٹر کے جبڑے میں تھی جو جسم میں آکسیجن کی سطح بتایا کرتا ہے۔ ہمارے بیٹھنے کے تھوڑی دیر بعد ہی میٹر نے واویلا کیا کہ آکسیجن

Read more

ہمارے رانا اعجاز محمود صاحب

علم کیا ہوتا ہے اور دانش کون چڑیا کا نام ہے، ان معاملات سے اب بھی اس کالم نگار کا کچھ لینا دینا نہیں لیکن جن دنوں کا یہ ذکر ہے تب تو پھولوں اور رنگوں اور تتلیوں کے سوا کچھ سوجھتا ہی نہ تھا۔ قوت شامہ ہواؤں میں وہ خوشبوئیں ڈھونڈ لیتی تھی جو بیک وقت اجنبی تھیں اور شناسا۔ تپتی دوپہروں پر رومان کے خواب سایہ کرتے تھے اور ٹھٹھرتی رتیں خیال کی آنچ سے آسودہ رہتیں۔ مطالعہ

Read more

بے یقینی سے بے یقینی تک

بہت دنوں کی بات ہے ’اتنے بہت دنوں کی کہ اب شمار کرنا چاہوں تو نہ کرسکوں۔ تب بڑا ہی سکون تھا، اطمینان اور یکسوئی۔ تب مجھے یہ بھی پتہ نہ تھا کہ شمار کرنا کیا ہوتا ہے، گنتی کسے کہتے ہیں۔ دنوں کا تعلق وقت سے ہے نا‘ جب وقت کا ہی نہ ہو تو دنوں اور ان کے شمار کا کیا سوال؟ وہ وقت سے خالی جگہ تھی۔ نہ صبح تھی ’نہ شام‘ رات اور دوپہر۔ نہ سورج

Read more

میرے ابا جی اور میاں محمد بخش سے آشنائی

ذکر کرنا ہے میاں محمد بخش سرکار کا اور ان کی سیف الملوک کا۔ مجھے نہیں پتہ شہزادہ سیف الملوک کون تھا اور وہ پری بدیع الجمال کیا ہوئی۔ مجھے تو بس میاں صاحب کے ان چند شعروں سے غرض ہے جن کے مصرعوں میں میرا بچپن پرویا ہوا ہے۔ وہ دن جب میرا لڑکپن تھا اور ابا جی جوان تھے۔ اول حمد ثنا الٰہی ’جو مالک ہر ہر دا اس دا نام چتارن والا کسے میدان نہ ہردا کام

Read more

اصلی گل محمد بخشا، وچوں گئی اے مک

اب کے بار گرمی کو تاخیر ہوئی۔ ملتان کا روایتی موسم جون کے دوسرے ہفتے یہاں پہنچا۔ چمکیلی دوپہریں، بھاپ کی سی ہوائیں، سلگتی سہ پہریں، بجھ چکی آگ کی بچی کھچی چنگاریوں پر چڑھی راکھ کی سی حدت چھوڑتی شامیں اور نرم گرم ٹکور کرتی فضا والی راتیں۔ یہی تو حسن ہے ہمارے خطے کا اور اس شہر قدیم کا ۔ ان دوپہروں، سہ پہروں، شاموں اور راتوں سے شناسائی بہت پرانی ہے۔ تب سے ہی جب سے ہوش کی آنکھ کھولی۔

یہی شہر قدیم تھا، جس کی پہچان میں گرد، گدا اور گورستان کے ساتھ ساتھ امیر خسرو نے ”گرما“ کا نگینہ مستقل ٹانک دیا اور ایسی ہی جلتی ہوئی دوپہریں۔ گلیوں بازاروں میں ویرانی کا جن پھر جاتا، انسانی زندگی چھتوں اور دیواروں کی آڑ لے کر دبک جاتی۔ مجھے وہ بڑا سا مستطیل کمرہ یاد آتا ہے جو لمبائی کے رخ شرقاً غرباً تھا۔ مشرقی دیوار میں ایک کھڑکی تھی جس میں خوش بو دار خس والا بڑا سا ائر کولر نصب تھا۔ اس کولر کے آگے لکڑی کے دو مضبوط نواری پلنگ پہلو بہ پہلو لیٹے تھے۔

Read more

ایویں مار نہ شاکر قسطاں وچ

عجیب زمانہ ملا ہے ہمیں جینے کو۔ اطلاعات ہیں کہ مینہ کی طرح برستی ہیں۔ اب کس کس خبر کی تحقیق کی جائے کہ سچ ہے یا جھوٹ۔ سچ یہ ہے کہ جھوٹ بھی جب کانوں سے ٹکراتا ہے تو سننے والے پر اثرات بہرحال مرتب کرتا ہے۔ بہرحال انفرمیشن کا یہ برستا پانی جب خوف اور اندیشوں کی آنچ پر کھولتا ہے تو عجیب عجیب خیالوں کی بھاپ اٹھ کر حواس کو گھیرنے لگتی ہے۔ کیا بنی آدم کا

Read more

لال خان مالی

اس سلگتی سہ پہر میں سب کچھ وہیں تھا۔ پیڑ، پودے، گھاس، مٹی، کیاریاں۔ کچھ نہیں تھا تو زندگی کا احساس۔ ایک مردنی سی تھی، جیسے کوئی نزاع کے عالم میں نڈھال ہچکیاں لیتے ہانپتا ہو۔ انجیر، جامن، انار، آم کے تینوں پیڑ اور وہ دو بڑے سے درخت جو دن بھر ہری ہری نبولیاں سی اپنے نیچے بچھی گھاس پر گرایا کرتے ہیں، یہ آٹھوں تو خیر ہوش و حواس میں تھے کہ ان کی جڑیں دور زمین کے اندر سے نمی تلاش لاتی ہیں مگر دھنیا، پودینہ، ہری مرچوں، بینگن، ٹماٹر اور کئی قسم کے آرائشی پھولوں کے نازک نازک پودے برے حال میں تھے۔ ان کے پتے اور پھول لاغر ہو کر زمین کے رخ سر نیہوڑائے ہوئے تھے۔ کیاریوں میں دھول اڑتی تھی اور گھاس کی پھیکی ہریاول کے بیچ بیچ سے پیاسی زمین جھانکتی تھی۔ نہ کوئی تتلی، نہ بھنورا، ویرانی تھی اور زندگی کی راہ دیکھتا اضمحلال۔ یہ عید کا تیسرا دن ہے اور میرے گھر کے چمن کا نقشہ۔

Read more

کچھ دور اپنے ہاتھ سے جب بام رہ گیا

جتنے منہ ہیں، اگر گنے جاسکیں تو اتنی ہی باتیں۔ سوشل میڈیا کی والز پر وہ بھی طیارہ گرنے کے اسباب پر تکنیکی آراء دے رہے ہیں جنہوں نے کبھی جہاز چھو کر نہیں دیکھا۔ پائلٹ کی غلطی تھی، اڑان کی اجازت دینے سے قبل، سینتالیس ہزار ایک سو آٹھ گھنٹے پرواز کر چکنے والے طیارے کی مناسب پڑتال نہیں کی گئی، پرندے وجہ بنے یا کوئی دیگر معاملہ تھا، ان سب امور پر تحقیقات ہونی چاہئیں اور تادیب کی کارروائیاں بھی مگر ایک اور پہلو بھی بڑا اہم ہے۔

Read more

وبا کے دنوں کا رمضان

ایک زمانہ ہونے کو ہے آوارہ گردی اور بیٹھکوں کا شوق موقوف ہوئے۔ اب گھر میں سوا قرار ملتا ہے اور آسودگی۔ وگرنہ کوئی دن تھے کہ ملتان نامی اس شہر قدیم کی شب کا دوسرا، تیسرا پہر ہمیں شہر کی راہوں، شاہ راہوں کا سینہ روندتے پاتا یا پھر کسی شب زندہ دار چائے خانے کی نیم شکستہ کرسیوں اور بنچوں کی پشت پر۔ دو تین وجوہات ہیں اس کایا پلٹ کی۔ ایک تو وہ جو ندیم ہائے دیرینہ تھے اور راز داران شب و روزینہ، پتہ نہیں انہیں کیا جلدی تھی کہ قریباً سب کے سب ہی موت کا جام چڑھا گئے۔ اب آوارہ گردیوں میں قدم سے قدم ملانے والا کوئی نہیں رہا ماسوائے ملک فیاض اعوان کے، اللہ پاک اسے صحت و تندرستی کے ساتھ تادیر سلامت رکھے۔

Read more

ایک مکالمہ: کیا تم اگلی زندگی پر یقین رکھتے ہو؟

انسان جب موت کو لبیک کہتا ہے تو کیا ہوتا ہے؟ وہ کہاں چلا جاتا ہے؟ کیا پھر سے کسی صورت میں کوئی زندگی اس کی منتظر ہوتی ہے؟ یہ ایسے سوال ہیں جن کے جواب انسانی عقل و دانش ایک مدت سے تلاش کررہی ہے۔ اتنے طویل علمی سفر کے بعد تین چار بڑے بڑے نظریات سامنے آئے ہیں۔ ایک تو مذہبی ہے جو زرتشت سے لے کر ادیان ابراہیمی تک مماثل چلا آتا ہے کہ دنیا دارالامتحان ہے، یہاں اپنے عمل سے جو لکھا اس کے نتائج ایک خاص دن کو نکلیں گے جب پھر سے زندہ کر کے اٹھایا جائے گا، پھر جنت یا جہنم کی مکانیت اور ایک لامحدود زندگی۔

Read more

روزے: گر قبول افتد۔ ۔ ۔ ۔ ۔

یہ سطریں آپ کی نظروں کا التفات پاتی ہیں تو رمضان اپنا نصف سفر مکمل کرچکنے کو ہے۔ ایک اور رمضان بیت جانے کو ہے اور میں اپنا گریبان کھولے اندر جھانکتا ہوں۔ یہ سینہ کبھی بے بال تھا، پھر اس کے مساموں سے بال پھوٹے اور اب تو ان بالوں کو وقت کی دھوپ سہتے اتنی مدت ہوگئی کہ ان میں سے اکثر کا رنگ زائل ہوکر سفید پڑگیا ہے مگر اس ڈھیر سارے دورانیے میں آنے والے اتنے سارے رمضان ہائے کی وہ قدر مجھ سے نہ ہوسکی جو ان کا حق تھا۔

Read more

اعتماد کا قتل

سنتے ہیں کہ زمانہ ماقبل تاریخ میں مادرسری نظام ہوا کرتا تھا کہ جس میں عورت حکمراں تھی اور مرد محکوم۔ ہوتا ہوگا، جو زمانہ ریکارڈ پر ہی نہیں اس کے بارے جو جی میں آئے کہتے رہئے، مگر معلوم تاریخ بتاتی ہے کہ مرد کا ہر روپ جبر سے عبارت ہے۔ خاوند، باپ، بھائی سب کے سب استحصالی اور مفاد پرست۔ ان کے استحصال کا سب سے بڑا نشانہ ہے عورت۔ زور زبردستی سے، جذبات کے بل پر بلیک

Read more

کرونا، لاک ڈاؤن اور اذانیں

ملک میں لاک ڈاؤن کو دو دن اوپر ایک ماہ پورا ہو چکا ہے۔ پابندی کی زنجیریں پڑی ہوں تو وقت بھی جیسے رک سا جاتا ہے۔ یوں لگتا ہے کہ ساری عمر گویا اسی کیفیت میں گزر گئی۔ وہ دن زندگی کا حصہ ہی نہیں لگتے جب ہم آزادانہ گھوما کرتے تھے، ہر سطح کا بے خوف و خطر لمس لیا کرتے تھے۔ بازاروں میں، عوامی مقامات پر کھوے سے کھوا چھلا کرتا۔ شادی بیاہوں میں، تقریبات میں اک

Read more

ہم بڑے ہو گئے

مسکراہٹ، تبسم، ہنسی، قہقہے سب کے سب کھو گئے ہم بڑے ہو گئے ذمہ داری مسلسل نبھاتے رہیں بوجھ اوروں کا خود ہی اٹھاتے رہیں اپنے دکھ سوچ کر روئیں تنہائی میں محفلوں میں مگر مسکراتے رہیں کتنے لوگوں سے اب مختلف ہو گئے ہم بڑے ہو گئے اور کتنی مسافت ہے باقی ابھی زندگی کی حرارت ہے باقی ابھی وہ جو ہم سے بڑے ہیں سلامت رہیں ان سبھی کی ضرورت ہے باقی ابھی جو تھپک کر سلاتے تھے

Read more

اللہ کریسی چنگیاں

مجھے نہیں پتہ کہ قضا و قدر بارے آپ کے خیالات کیا ہیں اور قسمت، نصیب ایسی اصطلاحات پر آپ کس قدر یقین رکھتے ہیں۔ تاہم میں نصیب کو مانتا ہوں۔ یہ مجھے میرے تجربات نے سکھایا ہے۔ ہمارے ایک کالم نگار دوست کا تو فتویٰ ہے کہ انسان سب کچھ کتابوں سے سیکھتا ہے اور تمام مسائل کی جڑ کتابوں سے لاتعلقی ہے۔ تاہم میرا خیال ہے کہ پانچوں حسوں سے انسان علم حاصل کرتا ہے۔ کتاب تو فقط

Read more

بھاگتے چور کی لنگوٹی

ٹائم ایند سپیس کی اس دنیا میں، مٹی، پانی اور ہوا کے اس عالم میں سبھی کچھ وافر ہے اور مادے کی تینوں شکلیں بہ درجہ اتم۔ سپیس بھی بہت ہے، قرآن نے تو خیر کب کا کہہ رکھا ہے، اب تو سائنس بھی مان گئی کہ یہ کائنات پھیل رہی ہے، یہ وسیع و عریض لامنتاہی خلا مسلسل بڑھ رہا ہے۔ مادہ بھی شکلیں تبدیل کرتا ہے مگر ختم نہیں ہوتا۔ اس سارے منظر نامے میں تیزی سے کچھ

Read more

ایں سعادت بزورِ بازو نیست

سویرے سویرے طبیعت مکدّر ہوگئی تھی اور بوجھل بھی، پچھتاوے اور موقع گنوادینے کے احساس سے بوجھل۔ سچ ہے کہ کوئی بھی سعادت بزورِبازو نیست۔ سعد گھڑی تو مقدر کے ذیل میں آتی ہے۔ کو شش اور تردّد کے باوجود بھی بسا اوقات نہیں ملتی اور نصیب ہو تو جھولی میں آن پڑتی ہے۔ پسِ منظر اس تمہید کا یوں ہے کہ ہفتے، دو ہفتے بعد کبھی کبھی بازار کا ناشتہ کرنے کو دل چاہتا ہے۔ مسلم سکول والا جیرا

Read more

خودکش اور شارٹ کٹ

عمومی وتیرہ ہمارا یہ ہے کہ جب برسرِ محفل سخن آرا ہوتے ہیں تو خود کو معصوم عن الخطا کی مسند پر بٹھا کر دوسروں پر نکتہ چینی اور ان کی عیب جوئی کیا کرتے ہیں۔ ساری خرابیاں وہاں سے شروع ہوتی ہیں جہاں ہمارا جسمانی و فکری حدود اربعہ ختم ہوتا ہے۔ یہ دائرہ ابنِ خلدون کے نظریہ عصبیت کے تحت پھیلتاچلاجاتا ہے۔ شخص، خاندان، گروہ، ہم پیشہ، برادری سے لے کر ہم زبان حلقوں تک۔ ہمیشہ اپنی وابستگی

Read more

ہیپی فادر ڈے

ہوش کی آنکھ کھولتے ہی جس ہاتھ کو ہمیشہ سہارا پانے کی آس میں تھاما ہو ’اس کو سہارا دینا روح کے پٹھوں میں تشنج پیدا کردینے والا کام ہے۔ کچھ ہاتھ تو آپ کی زندگی میں آتے ہی اس لئے ہیں کہ جب آپ لڑ کھڑا ئیں اور دنیا کے دھکے آپ کے قدموں کو زمین کی پشت سے اکھاڑ دینے کو ہوں تو وہ ہاتھ بڑھا کر آپ کو تھام لیں۔ صوفی نے تو خیر براہِ راست مالک کو مخاطب کر ڈالا تھا کہ

میں انہا تے تلکن رستہ ’
کیوں کر ہووے سنبھالا
دھکے دیون والے بَوتے ’
توں ہتھ پکڑن والا

Read more

ٹاہلی والا لیٹر باکس

جہاں میں رہتا ہوں، یہاں چوبیس برس بعد واپسی ہوئی ہے۔ اب اس واپسی کو بھی تین برس ہونے کو ہیں۔ یادش بخیر! مدتوں قبل اباجی نے ملتان نام کے اس اجنبی شہر میں ایک کمرے کا چوبارہ کرائے پر لے کر بود و باش اِختیار کی۔ تب ہماری آپی جو خیر سے اب تین بچوں کی نانو ہیں، فقط ایک ہی برس کی تھیں۔ میں پہلے بھی ان کالموں میں لکھ چکا ہوں کہ وہ ”بھاگاں“ جو بیس برس سے گلگشت کے قبرستان میں زمیں اوڑھے سوتی ہے، اس کے بھاگ اباجی کے ہم رکاب تھے۔ سو ملتان شہر کا پہلا بے مہر موسم گرما قدیر آباد کے چوبارے میں برقی پنکھے کے بغیر گذارنے والے اس سہ رکنی خاندان نے اگلے چند برس میں محلہ اشرف آباد میں دس مرلے کا اپنا مکان بنا لیا جس کے فرش ابتدا میں چک تیرہ سے ہجرت کر کے آئی بھاگاں اپنے ہاتھوں لیپا کرتی تھی۔

Read more

ناسٹیلجیا میں لپٹی رات

یہ وقت کیا شے ہے اور کس جنس کا نام۔ ؟ سیانے کہتے ہیں کہ اس نے مادے کے ساتھ ہی جنم لیا۔ اب مادہ خبر نہیں کب سے ہے۔ سنتے ہیں کہ مادے کا ایک بہت بڑا گولا تھا، اتنا بڑا کہ یہ ”بہت بڑا“ کی اصطلاح اس کے لئے بہت چھوٹی ہے۔ یہ گولا بگ بینگ میں پھٹا اور پھر خلا میں اس کے کھرب ہا ذرات بکھر گئے۔ یہی ذرات سیارے، ستارے کہلائے اور انہی سے مل کر کہکشائیں بنیں، نظام ہائے شمسی بنے۔ زمین بھی اس عظیم الجثہ گولے کا ایک حقیر ذرہ ہے۔اسی مادے کی حالت میں آنے والی تبدیلیوں کو ماپنے کا جو غیر مادی آلہ ہے، اسے وقت کہتے ہیں۔ کچھ سیانے یہ بھی کہتے ہیں کہ وقت کوئی شے نہیں اور نہ یہ گزرتا ہے۔ سیارے، ستارے اپنے مدار میں گھومتے ہیں، سورج روز اپنا چکر مکمل کرتا ہے، تین سو پینسٹھ چکر پورے کر کے پھر اسی جگہ آجاتا ہے، اس سب میں کہاں ہے وقت؟ یہ تو گھن چکر ہے اور بس۔

Read more

تسلیم فاضلی نے محبت اور عبادت میں کیسے فرق کیا؟

اگر میں آپ سے پوچھوں ”کیا آپ اظہار انور کو جانتے ہیں؟ “ تو میرا خیال ہے سو فی صد پڑھنے والوں کا جواب نفی میں ہوگا اور جو یہ دریافت کروں کہ ”تسلیم فاضلی کے نام سے کوئی جان پہچان ہے؟ “ تب بھی ننانوے اعشاریہ نو فی صد کا جواب شاید دائیں بائیں سر ہلانے کی صورت دیکھنا پڑے۔ چند ایک مجھ ایسے بڈھے ٹھڈے ممکن ہے بتا پائیں ”ہاں میاں، جانَت ہیں، پاکستانی فلموں کو کیا کیا

Read more

واردات ہائے نیم شب

مسلسل تیسری رات ہے کہ شب کا بدن دونیم ہوتا ہے تو اِک بوجھل بے چینی کے ساتھ آنکھ کھل جاتی ہے۔ بوجھ ہٹانے کی کوشش میں اِدھر اُدھر دو چار کروٹیں اور پھر مکمل بیداری۔ تھکی ہوئی، ہانپتی، لمبے لمبے سانس لیتی بیداری۔ یوں لگتا ہے کوئی پکارتا ہے، صدا دیتا ہے کہ اٹھ چھوڑ یہ صحت و آسودہ حالی کا ٹھاٹھ اور رختِ سفر باندھ لے۔ ”چل میلے نوں چلئے“۔ وہ میلہ جو ازل سے لگا ہے، جہاں سے لوگ نکالے جاتے ہیں اور پھر لوٹا دیے جاتے ہیں۔ دونوں ہی مرتبہ مجبور و لاچار ہوتے ہیں۔

نا حق ہم مجبوروں پر یہ تہمت ہے مختاری کی
چاہتے ہیں سو آپ کریں ہیں، ہم کو فقط بدنام کیا

Read more

کاغذ کا لمس اور ٹچ سکرین پر کتاب

قاری اور لکھنے والے کا رشتہ اور رابطہ بھی عجب ہے۔ اک دوجے سے دُور ہونے کے باوصف اِس میں ایک لمس ہے جو محسوسات کی ترسیل کرتا ہے۔ کسی مضمون کا خیال میں آنا، پھر اس کا لفظوں میں، فقروں میں ڈھلنا اور پھر قرطاس پر اتر آنا۔ اس کا کاتب یا کی بورڈ پر اُنگلیوں کی پوروں کی لطیف ضربات لگاتے کمپوزر کے ہاتھوں بارِدگر لکھا جانا اور پھر کاغذ پر چھپ کر اخبار، رسالے یا کتاب کی

Read more

اباجی

ٹائم اینڈ سپیس کی اس دنیا میں’ مٹی’ پانی اور ہوا کے اس عالم میں سبھی کچھ وافرہے اور مادے کی تینوں شکلیں بہ درجہ اُتم۔ سپیس بھی بہت ہے۔ قرآن نے تو خیر کب کا کہہ رکھا ہے’ اب تو سائنس بھی مان گئی کہ یہ کائنات پھیل رہی ہے۔ یہ وسیع و عریض لامتناہی خلا بڑھ رہا ہے، مسلسل و پیہم۔ مادہ بھی شکلیں بدلتا ہے مگر ختم نہیں ہوتا۔ اس سارے منظر نامے میں تیزی سے کچھ

Read more