ایں سعادت بزورِ بازو نیست

سویرے سویرے طبیعت مکدّر ہوگئی تھی اور بوجھل بھی، پچھتاوے اور موقع گنوادینے کے احساس سے بوجھل۔ سچ ہے کہ کوئی بھی سعادت بزورِبازو نیست۔ سعد گھڑی تو مقدر کے ذیل میں آتی ہے۔ کو شش اور تردّد کے باوجود بھی بسا اوقات نہیں ملتی اور نصیب ہو تو جھولی میں آن پڑتی ہے۔ پسِ…

Read more

خودکش اور شارٹ کٹ

عمومی وتیرہ ہمارا یہ ہے کہ جب برسرِ محفل سخن آرا ہوتے ہیں تو خود کو معصوم عن الخطا کی مسند پر بٹھا کر دوسروں پر نکتہ چینی اور ان کی عیب جوئی کیا کرتے ہیں۔ ساری خرابیاں وہاں سے شروع ہوتی ہیں جہاں ہمارا جسمانی و فکری حدود اربعہ ختم ہوتا ہے۔ یہ دائرہ…

Read more

ہیپی فادر ڈے

ہوش کی آنکھ کھولتے ہی جس ہاتھ کو ہمیشہ سہارا پانے کی آس میں تھاما ہو ’اس کو سہارا دینا روح کے پٹھوں میں تشنج پیدا کردینے والا کام ہے۔ کچھ ہاتھ تو آپ کی زندگی میں آتے ہی اس لئے ہیں کہ جب آپ لڑ کھڑا ئیں اور دنیا کے دھکے آپ کے قدموں کو زمین کی پشت سے اکھاڑ دینے کو ہوں تو وہ ہاتھ بڑھا کر آپ کو تھام لیں۔ صوفی نے تو خیر براہِ راست مالک کو مخاطب کر ڈالا تھا کہ

میں انہا تے تلکن رستہ ’
کیوں کر ہووے سنبھالا
دھکے دیون والے بَوتے ’
توں ہتھ پکڑن والا

Read more

ٹاہلی والا لیٹر باکس

جہاں میں رہتا ہوں، یہاں چوبیس برس بعد واپسی ہوئی ہے۔ اب اس واپسی کو بھی تین برس ہونے کو ہیں۔ یادش بخیر! مدتوں قبل اباجی نے ملتان نام کے اس اجنبی شہر میں ایک کمرے کا چوبارہ کرائے پر لے کر بود و باش اِختیار کی۔ تب ہماری آپی جو خیر سے اب تین بچوں کی نانو ہیں، فقط ایک ہی برس کی تھیں۔ میں پہلے بھی ان کالموں میں لکھ چکا ہوں کہ وہ ”بھاگاں“ جو بیس برس سے گلگشت کے قبرستان میں زمیں اوڑھے سوتی ہے، اس کے بھاگ اباجی کے ہم رکاب تھے۔ سو ملتان شہر کا پہلا بے مہر موسم گرما قدیر آباد کے چوبارے میں برقی پنکھے کے بغیر گذارنے والے اس سہ رکنی خاندان نے اگلے چند برس میں محلہ اشرف آباد میں دس مرلے کا اپنا مکان بنا لیا جس کے فرش ابتدا میں چک تیرہ سے ہجرت کر کے آئی بھاگاں اپنے ہاتھوں لیپا کرتی تھی۔

Read more

ناسٹیلجیا میں لپٹی رات

یہ وقت کیا شے ہے اور کس جنس کا نام۔ ؟ سیانے کہتے ہیں کہ اس نے مادے کے ساتھ ہی جنم لیا۔ اب مادہ خبر نہیں کب سے ہے۔ سنتے ہیں کہ مادے کا ایک بہت بڑا گولا تھا، اتنا بڑا کہ یہ ”بہت بڑا“ کی اصطلاح اس کے لئے بہت چھوٹی ہے۔ یہ گولا بگ بینگ میں پھٹا اور پھر خلا میں اس کے کھرب ہا ذرات بکھر گئے۔ یہی ذرات سیارے، ستارے کہلائے اور انہی سے مل کر کہکشائیں بنیں، نظام ہائے شمسی بنے۔ زمین بھی اس عظیم الجثہ گولے کا ایک حقیر ذرہ ہے۔اسی مادے کی حالت میں آنے والی تبدیلیوں کو ماپنے کا جو غیر مادی آلہ ہے، اسے وقت کہتے ہیں۔ کچھ سیانے یہ بھی کہتے ہیں کہ وقت کوئی شے نہیں اور نہ یہ گزرتا ہے۔ سیارے، ستارے اپنے مدار میں گھومتے ہیں، سورج روز اپنا چکر مکمل کرتا ہے، تین سو پینسٹھ چکر پورے کر کے پھر اسی جگہ آجاتا ہے، اس سب میں کہاں ہے وقت؟ یہ تو گھن چکر ہے اور بس۔

Read more

تسلیم فاضلی نے محبت اور عبادت میں کیسے فرق کیا؟

اگر میں آپ سے پوچھوں ”کیا آپ اظہار انور کو جانتے ہیں؟ “ تو میرا خیال ہے سو فی صد پڑھنے والوں کا جواب نفی میں ہوگا اور جو یہ دریافت کروں کہ ”تسلیم فاضلی کے نام سے کوئی جان پہچان ہے؟ “ تب بھی ننانوے اعشاریہ نو فی صد کا جواب شاید دائیں بائیں…

Read more

واردات ہائے نیم شب

مسلسل تیسری رات ہے کہ شب کا بدن دونیم ہوتا ہے تو اِک بوجھل بے چینی کے ساتھ آنکھ کھل جاتی ہے۔ بوجھ ہٹانے کی کوشش میں اِدھر اُدھر دو چار کروٹیں اور پھر مکمل بیداری۔ تھکی ہوئی، ہانپتی، لمبے لمبے سانس لیتی بیداری۔ یوں لگتا ہے کوئی پکارتا ہے، صدا دیتا ہے کہ اٹھ چھوڑ یہ صحت و آسودہ حالی کا ٹھاٹھ اور رختِ سفر باندھ لے۔ ”چل میلے نوں چلئے“۔ وہ میلہ جو ازل سے لگا ہے، جہاں سے لوگ نکالے جاتے ہیں اور پھر لوٹا دیے جاتے ہیں۔ دونوں ہی مرتبہ مجبور و لاچار ہوتے ہیں۔

نا حق ہم مجبوروں پر یہ تہمت ہے مختاری کی
چاہتے ہیں سو آپ کریں ہیں، ہم کو فقط بدنام کیا

Read more

کاغذ کا لمس اور ٹچ سکرین پر کتاب

قاری اور لکھنے والے کا رشتہ اور رابطہ بھی عجب ہے۔ اک دوجے سے دُور ہونے کے باوصف اِس میں ایک لمس ہے جو محسوسات کی ترسیل کرتا ہے۔ کسی مضمون کا خیال میں آنا، پھر اس کا لفظوں میں، فقروں میں ڈھلنا اور پھر قرطاس پر اتر آنا۔ اس کا کاتب یا کی بورڈ…

Read more

اباجی

ٹائم اینڈ سپیس کی اس دنیا میں' مٹی' پانی اور ہوا کے اس عالم میں سبھی کچھ وافرہے اور مادے کی تینوں شکلیں بہ درجہ اُتم۔ سپیس بھی بہت ہے۔ قرآن نے تو خیر کب کا کہہ رکھا ہے' اب تو سائنس بھی مان گئی کہ یہ کائنات پھیل رہی ہے۔ یہ وسیع و عریض…

Read more