’’ات خدا دا ویر‘‘

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وہ لاہور شہر جس پر ماضی کے بے رحم نشان مٹانے کا عزم لے کر سردار عثمان بزدار وزیر اعلیٰ پنجاب منتخب ہوئے۔ پرانے زخموں سے نڈھال ہے۔ واقعہ ہربنس پورہ لاہور کا ہے۔1122سروس والوں نے سڑک کنارے سے ایک ادھ موئے آدمی کو اٹھا کر سروسز ہسپتال منتقل کیا۔ زخمی کے بدن پر کئی کاری وار تھے۔ بہت سا خون نکل چکا تھا۔ زخمی کے لواحقین کا کہنا ہے کہ سی آئی اے نے آصف کے بھائی کے خلاف روپے کے لین دین کا مقدمہ بنایا مقدمہ ختم کرنے کے لئے 385000 روپے رشوت لی گئی۔

آصف نے رشوت ستائی کے محکمہ کو سی آئی اے اہلکاروں کے خلاف درخواست دیدی۔ اینٹی کرپشن کی انکوائری کے دوران اہلکاروں نے 113000روپے واپس کر دیے مگر باقی رقم کی واپسی میں ٹال مٹول سے کام لیا۔ اس دوران معطل اہلکاروں نے آصف کو اغوا کر کے سبق سکھانے کا فیصلہ کیا۔ سی آئی اے کے سپرنٹنڈنٹ اس سارے معاملے کو غلط بتا رہے ہیں۔

امریکہ کی ریاست منی سوٹا میں سفید فام پولیس اہلکاروں نے ایک سیاہ فام کو قتل کر دیا۔ صدر ٹرمپ کے اقتدار میں سفید فام انتہا پسند کھل کر سیاہ فاموں سے نفرت کا اظہار کر رہے ہیں۔ اس واقعہ کے بعد پوری ریاست میں فسادات بھڑک اٹھے ہیں۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ منی سوٹا نیشنل گارڈز کو پوری طرح متحرک ہونے کا حکم دیا گیا ہے۔پانچ دن سے مارکیٹیں جلائی جا رہی ہیں۔ پولیس پر حملے ہو رہے ہیں منی پولیس‘ نیو یارک شہر اٹلانٹا اور واشنگٹن تک پرتشدد مظاہرے ہو رہے ہیں۔

امریکہ میں اقلیتی حقوق کے تحفظ پر سوال اٹھایا جا رہا ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس فساد کے پیچھے منشیات فروش اور نسل پرست گروہ ہیں جو دوسرے علاقوں سے آ کر دنگا کر رہے ہیں۔ جنوبی افریقہ میں نسل پرست سفید فام کیا کچھ کرتے رہے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کی چیف رپورٹر برائے جنوبی ایشیا اور میری عزیز دوست ڈونابرسن نے اس پر ایک کتاب ’’بلیک اینڈ وائٹ‘‘ لکھی ہے امریکہ میں سیاہ فاموں کی آمد اور پھر وہاں کی سوسائٹی میں ان کا خود کو منوانا ایک تاریخی واقعہ ہے۔

کسی نے ناول کی شکل میں یہ شاہکار سماجی تاریخ پڑھنا ہو تو ’’روٹس‘‘ کا مطالعہ کرے۔ یو ٹیوب پر اس ناول پر بنی فلم بھی موجود ہے۔ سیاہ فام افریقہ کے دور دراز علاقوں سے غلام بنا کر امریکہ لائے گئے۔ فرار ہونے کی کوشش پر ان کے پائوں کلہاڑے سے کاٹ دیے جاتے۔ ان کے تعاقب میں خونخوار کتے چھوڑ دیے جاتے۔ ان کی خدمات کا اعتراف تک نہ کیا جاتا۔ ان کے بچوں کو منافع کی چیز سمجھ کر فروخت کر دیا جاتا۔ اس بھیانک شکل والے امریکہ میں غلامی کا خاتمہ ہوئے ابھی بمشکل دو سو سال ہوئے ہیں۔

جس روز رسول اللہ ؐ نے خطبہ حجتہ الوداع فرمایا اس روز سود اور غلامی کا خاتمہ بھی کر دیا گیا۔ ہندوستان میں رام اور راون کی کہانی یہاں کے سماج کے رویے کا عکس ہے۔ رام سرخ سپید ‘ ستواں ناک اور چمکتی آنکھوں والا دانشمند جنگجو ہے جبکہ دراوڑ نسل کے اوصاف والا راون سانولا اور خوفناک چہرے والا کردار دکھایا گیا ہے۔ ہزاروں سال سے رام لیلا سجانے والے فنکار اس کو اس قدر سچ سمجھنے لگے ہیں کہ اب وہ یہ تصور بھی نہیں کر سکتے کہ راون بھی خوبصورت ہو سکتا ہے۔

دوسری طرف جب اپنا ہی ایک ہیرو کنہیا سانولا نکلتا ہے تو اسے دنیا کی ہر خوبصورت شے کو اس کا پرتو کہہ دیا جاتا ہے۔ اس کے رنگ پر گیت لکھے جاتے ہیں۔ نوجوان لڑکیوں سے اس کی چھیڑ چھاڑ کو لطف سے سنا جاتا ہے۔ سماج اپنی آبادی کی رنگت سے ہی نہیں اوصاف سے جانا جاتا ہے۔ مصر سے ملنے والی ممیوں پر تحقیق کی گئی ہے۔ زیادہ تر کا تعلق سیاہ فام نسل سے نکلا ہے لیکن مصریوں کی پہچان ان کا تمدن اور رہنے سہنے کا شاندار طریقہ ہے۔

پنجاب یا لاہور کی بات کریں تو ایک عجیب معاملہ دکھائی دیتا ہے۔ یہ علاقہ متواضع مزاج رہا ہے۔ یہاں کے لوگوں نے ہمیشہ اس حکمران کو عزت دی جس نے امن قائم کیا۔ سلاطین کا زمانہ ہو‘ مغل گورنروں کی بات ہو۔ سکھ دور ہو یا پھر انگریز کا عہد۔ عزت اسی کو ملی جس نے شہریوں کو احساس تحفظ فراہم کیا۔ ثقافتی اور فنی زندگی کے لئے امن ضروری ہے‘ جنگیں تشدد اور ہنگامے کاروبار تباہ کر دیتے ہیں۔ معیشت کے پھیپھڑے زخمی ہو جاتے ہیں۔

شہباز شریف کا ایک ہی اصول تھا۔ بندے مار پولیس اہلکاروں کی سرپرستی۔ ان سے اچھا برا ہر کام لیا جاتا۔ کئی پولیس افسران ایسی کہانیاں سناتے ہیں۔ہو سکتا ہے ہربنس پورہ میں سی آئی اے کے ہاتھوں خون میں نہلایا گیا آصف اور اس کے لواحقین غلط ہوں لیکن چونکہ ہم ابھی امریکہ نہیں بنے‘ ہمارے محروم اور کم حیثیت شہری ابھی پولیس سے قانونی جنگ لڑنے کے قابل نہیں ہو سکے، اس لئے اہل لاہور کو آزادی کا احساس دلایا جانا ضروری ہے۔

پولیس کے خلاف شکایات کو جس طرح نمٹایا جاتا ہے سب اس عمل سے واقف ہیں۔ دنیا جس قدر مہذب ہو رہی ہے اس کا ردعمل بھی سخت ہوتا جا رہا ہے۔ ات خدا دا ویر ہوندا اے(ظلم خدا سے بیر لینا ہوتا ہے)

بشکریہ روزنامہ نائنٹی ٹو

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *