لداخ میں حالیہ چین بھارت فوجی کشیدگی کی وجوہات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

چین اور بھارت کے مابین جاری حالیہ فوجی کشیدگی کوئی غیر متوقع واقعہ نہیں ہے جب میں یہ تحریر کر رہا ہوں کہ یہ غیر متوقع واقعہ نہیں ہے تو اس سے میرا مقصد یہ نہیں ہے کہ اس کی اہمیت موجود نہیں ہے۔ اہمیت مسلمہ ہے بلکہ میرے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ لائن آف ایکچوئل کنٹرول پر یہ سلسلہ بدستور جاری ہے اور جاری رہے گا۔ اس جاری رہنے کی وجوہات میں سے اہم ترین وجہ چین اور پاکستان کے تعلقات بلکہ بڑھتے ہوئے تعلقات ہے جس کی اہم ترین نشانی سی پیک کی صورت میں سامنے آ رہی ہے حالانکہ بدقسمتی سے اس کی راہ میں وطن عزیز کے اندر سے بھی روڑے اٹکائے جا رہے ہیں اور جس نے ایٹمی دھماکوں سے لے کر سی پیک کی تعمیر کی ابتدا کی تھی ابھی تک اپنے ان ”جرائم“ کے سبب سے زیر عتاب بھی ہے۔

بہرحال یہ تو چین د معترضانہ جملے تھے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان اس سارے تنازعہ میں کہاں سے آ گیا۔ اگر ہم اس تصادم کے مقام کا نقشے پر جائزہ لے اور وہاں کیے جانے والے بھارتی اقدامات کا تجزیہ کریں تو یہ واضح ہوگا کہ بھارتی فوجی اقدامات دراصل اس والی جگہ کو ہمہ وقت اپنے نشانے پر رکھے جانے کی خواہش کی عملی تصویر ہے کہ جس جگہ پر پاکستان اور چین کی افواج کا زمینی طور پر رابطہ آسانی سے ممکن ہو سکتا ہے اور وہ علاقہ لداخ اور اس کے گرد و نواح کا ہے۔

لداخ کے اس علاقے پر کسی بھی قسم کی ایسی تعمیر جو چین اور پاکستان کے باہمی رابطے کے لئے دھمکی آمیز حیثیت رکھتی ہو چین کے لیے کسی طور بھی قابل قبول نہیں ہے۔ حالیہ کشیدگی کی وجہ یہ ہے کہ بھارتی فوج کا سب سیکٹر نارتھ ( ایس ایس این ) سیاچین گلیشیر کے مشرق میں واقع ہے اور اس علاقے میں بھارت یہ محسوس کرتا ہے کہ اس کا دفاعی انفرا اسٹرکچر بہت کمزور ہے اور جب سے اس پر اس علاقے کی تھانے داری حاصل کرنے کا جنون عملی طور پر سوار ہو چکا ہے اس وقت سے وہ اس علاقے میں ایسے انفراسٹرکچر کی تعمیرات کرنے کی کوششوں میں لگا ہوا ہے جس کے ذریعے وہ چین اور پاکستان کے انفراسٹرکچر کے لیے مستقل خطرات پیدا کر سکیں۔

سب سیکٹر نارتھ ( ایس ایس این ) بھارت کے لیے اس لیے بھی اہمیت رکھتا ہے کہ یہ وہ واحد علاقہ ہے کہ جہاں سے بھارت اکسائی چین تک رسائی رکھتا ہے۔ انڈیا نے اپنے تازہ عزائم کا فوجی اظہار 2007 میں شروع کر دیا تھا جب اس نے وہاں پر فوجی اہمیت کی حامل سڑکوں کی تعمیر شروع کر دی تھی اس میں سے پہلی سڑک کو وہ سرلا پاس تک تعمیر کرتا ہوا چلا آیا مگر سرلا پاس تک تعمیر کرنے کے باوجود یہ سارا سال تک بھارت کے کام نہیں آ سکتی کیونکہ برفباری کے موسم میں یہ سڑک سفید چادر اوڑھ لیتی ہے اور آمدورفت مکمل طور پر بند ہو جاتی ہے۔

اس کو سارا سال استعمال کرنے کی غرض سے بھارت ایک سرنگ بھی بنانا چاہتا ہے مگر تاہنوز وہ صرف یہ چاہ ہی سکتا ہے عملی طور پر نہیں کر سکتا۔ اس کے علاوہ بھارت نے ایک اور سڑک کی تعمیر بھی کی ہے یہ 255 کلومیٹر سڑک ہے اور اس دوسری سڑک کی نسبت اس کی خصوصیت یہ ہے کہ یہ سارا سال آمدورفت کے لیے میسر ہوتی ہے۔ یہ درپوک مرگو ڈسپانگ اور وہاں سے دریائے شیوک کے ساتھ ساتھ تیار کی گئی ہے۔ دریائے شیوک اور گلوان ندی کا سنگم لائن آف ایکچوئل کنٹرول سے صرف پانچ کلو میٹر کے فاصلے پر ہے۔

موجودہ تنازعہ اس وقت شروع ہوا جب انڈیا نے اس سڑک سے ملحق ایک اور سڑک کی تعمیر شروع کر دی۔ اکسائی چین تک پہنچنے کا دوسرا راستہ جنوب سے دریائے چانگ چینمو کی وادی سے ہوتا ہے۔ جہاں پر بھارت کی فوج صرف تین کلومیٹر کے فاصلے پر موجود ہے۔ بھارت نے یہاں بھی دریائے چانگ چینمو کے ساتھ ساتھ ایک سڑک کی تعمیر کی ہے اور اس سڑک کے ساتھ ملحقہ دیگر سڑکیں تعمیر کی ہیں جو اس کو اینیلا پاس تک رسائی دیتی ہے اور یہ رستہ سارا سال کھلا رہتا ہے اس تعمیر کے ذریعے بھارت پانگونگ ندی، سریجاپ اور کھرناک کے ذریعے چینی فوج کی پشت تک رسائی حاصل کر سکتا ہے۔

اس کے علاوہ آگے کے علاقے فنگرز کے نام سے جانے جاتے ہیں جس میں فنگر فور تک بھارت کا قبضہ ہے جبکہ وہ اپنی افواج کا گشت سریاب کے نزدیک فنگر آٹھ تک کرتا ہے۔ چین کی فوجی پوسٹ فنگر 8 پر ہے مگر وہ فنگر 2 تک علاقے کو اپنا علاقہ قرار دیتا ہے پاکستان کے لیے اس میں دلچسپ امر یہ بھی ہے کہ جب انیس سو ننانوے میں کارگل کا واقعہ ہوا تو چین نے اس وقت فنگر 5 تک سڑک تعمیر کر لی۔ اس کے علاوہ نگاری وہاں پر ایک اہم چینی فوجی اڈہ ہے اور یہ اڈا ڈیمچوک سے صرف 50 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

اگر ہم ان تمام جگہوں کو دیکھیں تو یہ واضح ہوگا کہ بھارتی اقدامات کا واحد مقصد یہی ہے کہ وہ اس تمام علاقے کو براہ راست نشانہ پر رکھنا چاہتا ہے جو کہ پاکستان اور چین کے زمینی روابط چاہے وہ اقتصادی پس منظر رکھتے ہو یا فوجی نقطہ نگاہ سے اہمیت رکھتے ہوں ان تمام کے لئے اپنے آپ کو ایک مستقل خطرہ بنائے رکھنا چاہتا ہے۔ اسی لئے 2013 میں بھی انہی مقامات پر چین اور بھارت کی افواج آمنے سامنے آ گئی تھی چین بھارت کی ان حرکتوں سے اچھی طرح ناصرف کے واقف ہے بلکہ وہ اس کے سدباب کے لئے سفارتی سطح کے علاوہ فوجی سطح پر بھی مکمل طور پر تیار دکھائی دیتا ہے۔

ویسے تو چین اور بھارت کی آزادی بات کی فوجی تاریخ کا مطالعہ کرنا ہی اس بات کو واضح کر دیتا ہے کہ چین کا پلہ کس حد تک بھاری ہے مگر اگر ہم چین کی فوجی تیاریوں کو مدنظر رکھنا چاہے تو سب سے پہلے ہماری نظر آج سے پندرہ برس قبل کی ان فوجی مشقوں پر جاتی ہے جو چین نے کی تھیں۔ ان فوجی مشقوں میں چین نے اکسائی چین اور سب سیکٹر نارتھ پر بھارت کی طرف حملہ کرنے کی مشقیں تھی کہ ایک ڈویژن فوج اور میکانائزڈ فورس کے ساتھ وہ اس علاقے میں بھارت پر کیسے حملہ آور ہو سکتا ہے۔

اس تمام صورتحال کا غیر جانبدارانہ تجزیہ کیا جائے تو یہ حقیقت کھل کر سامنے آتی ہے کہ آزادی کے دوسرے عشرے کے وقت سے بھارت اس علاقے میں مسائل پیدا کر رہا ہے مگر ہر بار وہ چین کی فوجی طاقت کے سبب سے شکست سے دوچار ہوا ہے۔ گزشتہ دو عشروں میں بھارت نے اقتصادی طور پر بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا جبکہ وطن عزیز کو پہلے آمریت اور پھر جمہوریت کے خلاف سازشوں نے گھیرے رکھا۔ نتیجتاً تقریباً چھ فیصد گروتھ ریٹ اب منفی تک میں جانے کی حالت میں آ گئی ہے۔ ان حالات میں بھارت کو دوبارہ پاؤں پسارنے کا موقع مل گیا ہے اور اپنے اسی زعم میں وہ چین کے بی آرآئی کے اہم ترین حصے سی پیک کو خطروں کی زد میں لانا چاہتا ہے اور جب چین کی فوجی طاقت تھی اس وقت بھارت کو اس کی اوقات میں چین واپس لے آیا تھا اور اب تو چین اقتصادی طاقت بھی بن چکا ہے

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *