جناب اظہار الحق کا پی آئی اے پر کالم

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

نہایت قابل احترام جناب اظہار الحق نے پی ائی اے کی تباہی کی وجوہات پر مبنی ایک کالم لکھا ہے جسے ہم سب نے بھی شیئر کیا ہے۔ فاضل کالم نگار کو میرے خیال میں ان وجوہات بارے کچی پکی معلومات ہی حاصل ہوں گی جو انہوں نے اس طرح کی باتیں لکھی ہیں جن کا حقائق سے دور دور کا تعلق نہیں۔ ان کا زیادہ تر فوکس زیادہ ملازمین اور یونینز ایسوسی ایشنز کر کردار اور پھر کچھ سنی سنائی کہانیوں پر ہے۔ پی ائی اے کا موازنہ وہ دوسری ائر لائنز میں فی طیارہ ملازمین سے کرتے ہوئی بہت جذباتی ہو رہے ہیں آئیے دیکھتے ہیں کہ اس موازنے کی حقیقت کیا ہے۔

جن ممالک کی ائرلائنز کا موصوف حوالہ دے کر اپنے دلائل دے رہے ہیں ان ممالک میں چند ایک کے علاوہ ساری سروسز آؤٹ سورس ہیں یعنی ان کی کیٹرنگ، انجینئرنگ، ایچ آر، ریمپ سہولیات، ٹکٹنگ، ائرپورٹ سروسز سب کے سب دوسری ایجنسیز کرتی ہیں جبکہ پی ائی اے میں یہ سب کچھ خود پی آئی اے ملازمین کرتے ہیں۔

اب اس کے باوجود کہ وہ ائر لائنز فی جہاز سو سے دو سو ملازم فی جہاز رکھتی ہیں مگر ان کی ٹوٹل انکم کا تئیس سے ستائیس فیصد ملازمین کی تنخواہوں پر خرچ ہوتا ہے جبکہ پی آئی اے آج بھی پانچ سے چھ سو ملازم فی جہاز ہونے کے باوجود اپنی ٹوٹل انکم کا سترہ سے اٹھارہ فیصد اپنے ملازمین کو تنخواہوں کی مد میں ادا کرتا ہے۔

اب آئیے یونینوں اور ایسوسی ایشنوں کے کردار پر، جناب نے اس کی ساری ذمہ داری سیاسی حکومتوں پر ڈال دی ہے مگر وہ یہ بھول گئے ہیں کہ پی آئی اے اور ملک میں جب جب فوجی ادوار آئے ہیں تمام یونینوں اور ایسوسی ایشنوں پر پابندی عائد کر دی جاتی رہی۔ وہ ضیا الحق کا دس سالہ دور ہو، یا مشرف کا نو سالہ دور اس عرصے میں نہ صرف یہ تمام تنظیمیں مکمل طور پر بین رہیں بلکہ اس دوران ملازمین کی تنخواہوں اور دیگر الاؤنسوں میں کسی قسم کا کوئی اضافہ نہیں ہوا۔ بے شمار لوگوں کو نوکریوں سے نکالا بھی گیا مگر حالت نہ سدھر سکی۔ ننانوے میں جب نواز شریف کی حکومت ختم ہوئی اس وقت پی آئی اے بریک ایون پر تھا یعنی نہ کوئی منافع نہ خسارہ مگر مشرف کے آٹھ سال ختم ہونے پر پی ائی اے اڑتیس ارب کے خسارے میں جا چکی تھی۔

اس پر اظہار الحق صاحب کوئی بات کرتے نظر نہیں آتے، اگر تباہی کی وجہ یہ تنظیمیں ہی ہیں تو ان ادوار میں پی ائی اے کو زبردست ترقی کرنا چاہیے تھی۔

پھر انہوں نے گلگت، چترال، سکردو وغیرہ کے روٹس کا ذکر کیا ہے کہ وہاں کی فلائٹس کینسل کر دی جاتی ہیں۔ یہ وہی رویہ ہے جو ائر لائن کو مجبور کرتا ہے کہ خراب موسم کے باوجود فلائیٹ چلائی جائیں جو کسی بھی حادثے کا سبب بن سکتا ہے۔ خدا کا شکر ہے کہ ائرلائن نے ہمیشہ اس چیز پر سٹینڈ لیا ہے اور ایسے کسی بھی دباؤ کو اہمیت نہیں دی۔

ایک اور بات کہ جس پر پی ائی اے کی بھرپور تحسین ہونی چاہیے وہ یہ ہے کہ ان روٹس پر فلائٹس چلانا سراسر خسارے کا سودا ہوتا ہے کیونکہ ان کے کرائے حکومت وہاں کے لوگوں کی مالی حیثیت دیکھ کر مقرر کرتی ہے اور اس پر پی ائی اے کو کوئی سبسڈی بھی نہیں دیتی۔ اسی لیے پاکستان میں کئی ائرلائنز آئیں اور گئیں مگر کسی نے ان روٹس پر فلائٹس آپریٹ نہیں کیں۔ مگر پی ائی اے اپنے لوگوں کی سہولت کے لیے ہمیشہ ان روٹس پر پروازیں چلاتا رہا، کالم نگار نے اسے بھی پی ائی اے کی خرابیوں میں شمار کر دیا۔
تو کل ملا کے فاضل کالم نگار کا سارا کالم حقائق سے بالکل مطابقت نہیں رکھتا، اسے حقائق سے آگاہ کرنا نہیں کہتے۔

ہماری ایئر لائن کی تباہی کا احوال

سفر اب بائی ایئر یا بائی روڈ کریں؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
ناصر بٹ کی دیگر تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *