کعبے پر پڑی جب پہلی نظر (سفر نامہ حج ۔ 4)

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہم جمرات کو روانہ ہوئے تو باہر درجہ حرارت بہت ہی بلند تھا۔ ہم نے چھتریاں لے لیں۔ کل گرمی میں عرصے بعد اتنا لمبا پیدل سفر کی وجہ سے پاؤں میں ورم آ گیا تھا اور کچھ چھالے بھی پڑ گئے تھے یہی حال بیٹی کا تھا پھر بھی اس کا حوصلہ بہت بلند تھا۔ بہت جوش وخروش سے اس نے منی سے عرفات تک اور واپسی کے سارے مراحل طے کیے تھے۔ ایک دفعہ بھی اپنے تھکنے کا احساس نہیں ہونے دیا تھا۔ مجھے اس کا بہت خیال تھا۔ دھوپ میں اس کا رنگ سنہرہ ہو گیا تھا۔

ہم خیمے سے نکلے، تھوڑی دیر چل کر ہم ایک چھتے ہوئے راستے پر پہنچے جو کہ جمرات کی طرف جاتا ہے۔ کافی چوڑی سڑک تھی جس کے اوپر سٹیل کی چھت ڈال کر کور کیا گیا تھا تا کہ حجاج کو گرمی اور دھوپ سے بچایا جائے۔ سڑ ک کے ایک طرف وقفے وقفے سے طہارت خانے بنے ہوئے تھے اور دوسری طرف ٹھنڈے پانی کے کولر لگے ہوئے تھے۔ ہم نے آہستہ آہستہ چلتے ہوئے سفر جاری رکھا۔ جب کچھ تھک جاتے تو ایک طرف کھڑے ہو جاتے یا بیٹھ جاتے۔ جگہ جگہ حج رضاکار اور سعودی فوجی ڈیوٹیاں دے رہے تھے۔

ان میں سے کافی ساروں کے پاس چھوٹی چھوٹی سپرے گن تھیں جس سے وہ ٹھنڈا پانی حجاج کے چہرے پر سپرے کرتے تھے تا کہ گرمی کا احساس کچھ کم ہو۔ اب ہم جمرات کے بہت نزدیک پہنچ گئے تھے۔ پندرہ بیس سال پہلے تک جمرات میں کنکریاں مارنا ایک بہت مشکل مرحلہ ہوتا تھا۔ ایک ہی راستہ تھا۔ اسی راستے جا کر کنکریاں مار کر اسی راستے پر واپس آنے کی وجہ سے بہت بڑا ہجوم ہو جاتا تھا۔ اس بھیڑ کی وجہ سے کافی حادثات بھی ہوئے جس میں سینکڑوں کی تعداد میں حجاج کی اموات ہوئیں۔

اب سعودی حکومت نے یہا ں ایک تین منزلہ بہت بڑا کمپلیکس بنا دیا ہے۔ منی سے بہت سارے راستے جمرات کی طرف جاتے ہیں۔ کچھ لوگ دس ذوالحج کو مزدلفہ سے سیدھے جمرات کی طرف جاتے ہیں ان میں سے کچھ حجاج شیطان کو کنکریاں مار کر طواف زیارت کے لئے حرم شریف چلے جاتے ہیں۔ کچھ حجاج اس دن کنکریاں مار کر واپس منی اپنے خیموں میں آ جاتے ہیں اور طواف زیارت کو اگلے دن کے لئے موقوف کر دیتے ہیں۔

رب کریم نے حضرت ابراہیم اور اماں حاجرہ کی قربانی اور سنت کو قیامت تک حج کا حصہ بنا دیا ہے۔ حج پر قربانی کرنا۔ زوالحج کی دس۔ گیارہ اور بارہ کو شیطان کوکنکریاں مارنا اور حرم شریف میں صفہ اور مروہ کی سعی کرنا سنت ابراہیمی کو تازہ کرنا ہے۔ ان کی قربانی کی یہ یاد اور سنت قیامت تک ہر سال جاری رہے گی۔ منی سے کافی سارے راستے جمرات کو جاتے ہیں۔ اب ایسا انتظام کیا گیا ہے کہ آپ جس راستے جاتے ہیں اسی راستے واپس نہیں آ سکتے اور اگر آپ غلط سمت میں واپس ہوئے تو پھر راستہ بھول کر بہت خوار ہونا پڑے گا اس لیے بہت احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔

ہم نے پہلے ہی حج ایپلیکیشن سے واپسی کا راستہ ڈھونڈ لیا تھا۔ ہم پہلے جمرات پر پہنچے پہلے حصے میں بہت زیادہ رش تھی۔ جوں ہی ہم آگے آئے وہاں رش کم تھا میں نے پہلے اپنی اور پھر اپنی خاتون خانہ کی طرف سے کنکریاں ماریں۔ اس کے بعد چلتے ہوئے دوسرے شیطان کو کنکر مارنے کے بعد ہم تیسرے اور سب سے بڑے شیطان پر پہنچے۔ اس کو کنکریاں مار کر کے ہم بائیں جانب مڑے اور سیڑھیاں اتر کر بائیں جانے والی سڑک پر آ گئے۔ یہاں سے ہم نے واپس اپنے کیمپ کی طرف روانہ ہونا تھا۔

اس سڑک پر کوئی سایہ نہیں تھا اس لئے دھوپ میں چلنا پڑ رہا تھا۔ درجہ حرارت اڑتالیس سے زیادہ تھا۔ ہم نے حفظ ماتقدم کے طور پر چھتریاں ساتھ رکھ لی تھیں لیکن پھر بھی بہت گرمی تھی۔ ہم دونوں باپ بیٹی آہستہ آہستہ چل رہے تھے۔ رکتے بیٹھتے ہم مسجد خیف کے پاس پہنچے تو ظہر کی نماز ہو چکی تھی۔ اور مسجد بند ہو چکی تھی اس لئے وہاں نماز پڑھنے کا موقع نہ مل سکا۔ ہم نے واپس اپنے خیمے میں پہنچ کر کھانا کھایا۔ وضو کر کے ظہر کی نماز ادا کی اور آرام کے لئے لیٹ گئے۔

ڈاکٹر صاحب بھی مزدلفہ سے واپس آکر اپنی والدہ کہ میری خاتون خانہ کے پاس چھوڑ کرشیطان کو کنکریاں مارنے گئے ہوئے تھے۔ ۔ عصر کا نماز باجماعت ادا کی۔ قربانی کے لئے ہمیں عصر کا وقت دیا گیا تھا۔ قربانی کے بعد حلق کروایا جاتا ہے یعنی سر کے بل کٹوائے جاتے ہیں۔ احرام اتار کر دوسرے کپڑے پہن لیتے ہیں اور آپ پر احرام کی پابندیاں ختم ہو جاتی ہیں اورآپ حاجی بن جاتے ہیں۔ منی میں حجام تلاش کرنابھی ایک بہت بڑا مرحلہ ہے حلق کے لئے میں نے منی جانے سے پہلے ہی ڈسپوزایبل بلیڈز کا بندوبست کر لیا تھا۔

نماز کے بعد جبار صاحب نے میرا اور دو تین اور ساتھیوں کا ایک دوسرے کی مدد سے سر کے بال صاف کر دیے۔ میں نے مذاق میں ان سے کہا کہ آج کمائی کا دن ہے۔ ان کا شکریہ ادا کیا۔ اتنے میں ڈاکٹر صاحب بھی جمرات سے واپس آ گئے تھے۔ سب نے مغرب کی نماز باجماعت ادا کی۔ کھانا کھانے کے دوران مجید صاحب اور ڈاکٹر صاحب نے اگلے دن کا پروگرام پوچھا۔ تو میں نے انھیں بتایا کہ کل ہم یہاں سیزوال کے وقت اپنے خیمے سے روانہ ہوتے ہیں اور شیطان کو کنکریاں مار کر وہیں سے حرم شریف طواف زیارت کے لئے چلے جائیں گے۔ وہاں سے فارغ ہو کر شام کو واپس منی آ جائیں گے۔ یہ پروگرام ہم فائنل کر کے عشاء کی نماز پڑھ کر سو گئے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *