ٹرمپ کا ڈر تھا۔ ٹرمپ تو ہو گا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

\"khalid-mehmood-rasul\"

شباب ختم ہوا اک عذاب ختم ہوا۔ ڈیڑھ سال سے جاری امریکی صدارت کے لیے مہم بڑے بڑے جغادریوں کی توقعات کے برعکس ڈونلڈ ٹرمپ کی فتح پر ختم ہوئی۔ ووٹنگ سے قبل تجزیوں میں دور و نزدیک کی کیا کیا کوڑیاں نہ لائی گئیں، اپنے اپنے ممدوح کے لیے زمین و آسمان کے کیا کیا قلابے نہ ملائے گئے۔ یہ پول وہ پول، پول پر پول مگر جب بیلٹ باکس کھلے تو ان پولز کا اپنا پول یوں کھلا کہ بڑھ بڑھ کر باتیں کرنے والوں سے بات بنائے نہ بنے، نا اہلی چھپائے نہ چھپے۔ تجزیہ کاری مگر فن ہی کچھ ایسا ہے کہ ہیلری کلنٹن کی فتح کے لیے اعداؤ شمار کے ماڈل سمجھانے والے اپنی ہزیمت کو چند ہی گھنٹوں میں سلا کر پھر سے کمر بستہ ہو گئے۔ یوں نہ ہوا ہوتا تو یوں ہوتا، یوں ہوتا تو کیا ہوتا لیکن ایک بات پر کھسیانی ہنسی کے ساتھ بہت سے ماہرین نے اقرار کیا کہ یہ پول اب اعتبار کھو چلے ہیں۔

ایسا کیا ہوا کہ بات بات پر پول یعنی عوامی رائے کے سروے کے ذریعے دنیا کو با خبر رکھنے والے اتنے بے خبر نکلے کہ چار پانچ پوائنٹس کی سبقت لینے والی ہیلری کلنٹن کی بجائے جیت ڈونلڈ ٹرمپ کے حصے میں آئی۔ جتنے مونہہ اتنی باتیں، ابن انشاء یاد آئے

کل چودہویں کی رات تھی، شب بھر رہا چرچا ترا
کچھ نے کہا یہ چاند ہے، کچھ نے کہا چہرہ ترا
ہم بھی وہیں موجود تھے، ہم سے بھی سب پوچھا کیے
ہم ہنس دیے، ہم چپ رہے، منظور تھا پردہ ترا

اپنی اپنی ذہانت اور دانش کا پردہ رکھنے کے لیے دیکھتے ہی دیکھتے ان ہی جغادری تجزیہ کاروں کی اکثریت نے ڈونلڈ ٹرمپ کی اس غیر متوقع کامیابی پر ایک کے بعد ایک نکتہ آفرینی شروع کر دی۔ انگریزی میں مشہور کہاوت ہے کہ کامیابی کے بہتیرے باپ مگر ناکامی کا وارث کوئی نہیں ہوتا۔ جن باتوں کا ذکر انتخابی مہم کے افسانے میں کہیں نہ تھا وہی باتیں اب حاصل افسانہ ٹھہریں۔ امریکہ کی سفید فام مڈل کلاس نے واشنگٹن کی اسٹیبلشمنٹ کے خلاف غصے کا اظہار کیا ہے۔ اسکول سے تعلیم یافتہ سفید فام مڈل کلاس نے اپنے گرتے ہوئے لائف اسٹائل اور بے روزگاری کے خلاف احتجاج کیا ہے۔ دیہی علاقوں سے قدامت پسند خیالات رکھنے والوں نے بڑھ چڑھ کر ڈیموکریٹس کی سالہا سال کے لبرل خیالات پر ناراضگی کی مہر لگائی ہے۔ گلوبلائزیشن سے ملازمتوں کے بکھر جانے اور سالہا سال انتظار اور متبادل ٹریننگ کے باوجود ملازمتیں نہ ملنے والوں نے گلوبلائزیشن پر سوال کھڑا کر دیا ہے۔ امیگریشن کے تسلسل نے ملازمتوں، سیکیورٹی اور معاشی ابتری نے سفید فام مڈل کلاس کو جنجھوڑ دیا ہے، انہیں امریکہ اور میکسیکو کے درمیان دیوار کی مضحکہ خیز تجویز میں بھی عافیت نظر آئی۔ ۔ لہٰذا وہ ہو گیا جس کے ہونے کا امکان بہت موہوم سا تھا۔

امریکی مین اسٹریم سیاست میں معاشی نا ہمواری یعنی Inequality کو موضوع کے طور پر زیر بحث لانے سے گریز ہی کیا گیا۔ گو معیشت دان سالہا سال سے اس موضوع پر لکھ اور بو ل رہے ہیں لیکن کارپوریٹ میڈیا اور سیاست دان اسے ایک خاص طبقے کی سوچ قرار دے کر اس موضوع کو ہوا میں اڑا دیتے رہے ہیں۔ اس بار امریکی صدر کے امیدواروں کی نامزدگی کی دوڑ شروع ہوئی تو اس میں ڈیموکریٹس امیدواروں کی دوڑ میں ایک صاحب شامل تھے، سینیٹر برنی سینڈرز۔ انہوں نے کیپیٹل ہل کی سیاست کا حصہ ہونے کے با وجود معاشی ناہمواری سمیت ایسے موضوعات کو اپنی نامزدگی کے لیے آگے رکھا تو جغادری سیاست دانون اور میڈیا نے قدرے تمسخر سے ان کی طرف دیکھا۔ سینیٹر برنی سینڈرز خود کو ڈیموکریٹ سوشلسٹ کہتے ہیں، انہوں نے معاشی ناہمواری کے ساتھ چند اور موضوعات بھی چھیڑ دیے جو واشنگٹن کی سیاسی اشرفیہ کو نا پسند رہے ہیں۔ انہوں نے امراء پر ٹیکس بڑھانے، امیر اور غریب کا فرق کم کرنے، ورکرز کے حقوق اور حالات کار بہتر بنانے، تعلیمی اصلاحات، سیاست میں پیسے کے اندھا دھند عمل دخل، ہیلتھ کئیر اور Climate Change جیسے نکات کو بنیاد بنا کر مہم شروع کی تو خلاف توقع امیدواروں کی کثرت کے باوجود ان کی آواز سنی گئی۔ گو وہ ہیلری کلنٹن کے مقابلے میں نامزدگی حاصل نہ کر سکے لیکن انہوں نے بائیس ریاستوں میں برتری حاصل کی۔

معاشی ناہمواری کو زیر بحث لانے سے امریکہ کی سیاسی اشرافیہ ڈیموکریٹس ہوں یا ری پبلکن دونوں ہی گریزاں کیوں؟ بنیادی وجہ یہ ہے کہ سیاست اور سیاسی اشرافیہ پر امراء، طاقتور کارپوریٹ طبقے اور ان کے لیے لابی کرنے والوں کا غیر معمول کنٹرول ہے۔ بے تحاشا ہائی پروفائل واقعات کے باوجود گن کنٹرول پر قانون سازی نہیں ہو سکی۔ کیوں کہ گن لابی اس قدر مضبوط اور الیکشن مہم میں سرمایہ دینے والا با اعتبار گروہ ہے۔ صحت کے میدان میں انشورنس، مہنگی دوائیوں اور دیگر مسائل کے باوجود کچھ نہیں ہو پاتا کہ فارما سوٹیکل کمپنیوں کی لابی اور عطیات کا وزن بہت بھاری ہے۔ صدر اوبامہ نے اوبامہ کیر کے نام سے لاکھ جتن کیا لیکن کانگرس نے ان کی تمام کوششوں کو بلاک کیا۔ امریکہ کی سیاست میں پیسے کا عمل دخل اس قدر بڑھ چکا ہے کہ جن امیدواروں پر سرمایہ کار سرمایہ نہیں لگاتے، وہ ابتدائی دوڑ ہی میں فارغ ہو جاتے ہیں۔ اس بار ہیلری کلنٹن کی مہم کے لیے 1۔ 3 ارب ڈالر اکتوبر تک جمع کیے گئے۔ دوسری طرف ڈونلڈ ٖ ٹرمپ کی مہم کے لیے فقط نصف کے لگ بھگ یعنی 795 ملین ڈالرز جمع کیے گئے۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت ڈیموکریٹس کی ہو یا ری پبلکن کی، گذشتہ تیس سالوں میں واشنگٹن میں سکہ ان انتہائی امراء اور بڑی کارپوریشنوں کا ہی چلتا ہے۔ عالمی تجار تی معا ہدے ہوں یا ٹیکس پالیسیاں، تمام پالیسیوں کی جان مارکیٹ اکونومی اور گلوبلائزیشن کے پنجرے میں آسودہ ہے۔

گلوبلائزیشن کا عمل تیس سال قبل شروع ہوا تو دنیا کو باور کروایا گیا کہ سب خوشحال ہوں گے لیکن اس کے نتیجے میں امریکہ سے دھڑا دھڑ صنعتیں ایشیاء سمیت دوسرے ممالک میں منتقل ہونے لگیں۔ بے روزگاری بڑھنے لگی تو معیشت دانوں نے صبر کا مشورہ دیا کہ گلوبلائزیشن کا پہیہ گھومنے کی ابتدائی کوفت ہے۔ لیکن کوفت ختم ہونے کی بجائے بڑھتی گئی۔ مڈل اور ورکنگ کلاس کے لیے ڈھنگ کی نئی ملازمتیں مفقود ہی رہیں۔ ایک بہت بڑی تعداد کو دو دو نوکریاں کرنے کی مشقت اٹھانا معمول ہو گیا۔ اور یہ نوکریا ں بھی کیا؟ زیادہ تر فی گھنٹہ کے حساب سے اور مستقل ملازمت کی کوئی گارنٹی نہیں۔ دوسری طرف اجرتوں کایہ عالم کہ 1970 سے لے کر 2015 کے درمیان ٹاپ ایک فی صد کی آمدنی میں138 فی صد اضافہ ہوا جبکہ نچلے نوے فی صد کی آمدنی میں صرف پندرہ فی صد اضافہ ہوا۔ اس دوران لیبر کی پیداواری صلاحیت میں 74 فی صد اضافہ ہوا لیکن مجموعی طور پر لیبر اجرتوں میں اضافہ فقط نو فی صد ہوا۔ افراط زر کا اثر نکانے کے بعد حقیقی اجرتیں 1970 کے لیول پر ہی ہیں۔ دوسری طرف معاشی تفاوت یوں پھیلا کہ ٹاپ کارپوریٹ ایگزیکٹو اور مزدور کے درمیان آمدن کا تناسب ایک تیس سے برھ کر ایک اور 243 کا ہو گیا ہے۔ ارتکاز دولت کے اعدادوشمار چونکا دینے والے ہیں لیکن ارتکاز دولت کی رفتار اس سے بھی زیادہ حیران کن ہے۔ چند سال پہلے شروع ہونے والی تحریک ہم 99 فی صد ہیں بے وجہ نہیں تھی اور اس تحریک کو میڈیا اور حکومتی سطح پر بے وجہ ہی نہیں دبایا گیا کہ یہ ڈھکن اگر ایک بار کھل گیا تو اشرافیہ کیلیے بڑی مشکل ہوگی۔

مشکل تو تمام تر راستے بند کرنے کے باوجود آن کھڑی ہوئی۔ ایسا نہیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ سوشلسٹ ہیں یا وہ سفید فام ورکنگ مڈل کلاس کے ابتر حالات کے لیے بے چین تھے۔ وہ ایک تیز طرار، شاطر اور سخت گیر کاروباری ہیں۔ بقول ان کے اپنے انہوں نے ہمیشہ بزنس میں یہی سیکھا کہ کہاں گنجائش ہے یعنی potential کہاں ہے۔ ایک کاروباری اس گنجائش کو ہوشیاری کے ساتھ اپنے فائدے کے لیے استعمال کرتا ہے۔ اور وہی انہوں نے کیا۔ مزید یہ کہ وہ کیسینو ز کے گھاگ کھلاڑی ہیں۔ انہیوں نے بھانپ لیا کہ جیت کے لیے کیا کیا چالیں ممکن ہیں اور کہاں کہاں یہ چالیں چلنا ہیں۔ امریکی سیاست میں ری پبلکن اور ڈیموکریٹس اشرافیہ نے ہمیشہ اپنے مفادات کے مطابق سیاسی ایجنڈا سیٹ کیا جس کا بہت کم حصہ مشکل میں مبتلا طبقے کے دلوں کے تار چھیڑنے کی صلاحیت رکھتا تھا۔ امریکی صدارتی انتخابات میں ایک سے گھڑے گھڑائے نعرے اور جذباتی بیانیہ دونوں پارٹیوں کا شعار رہا ہے۔ یوں ٹاپ ایک فی صد امراء اور سیاسی اشرافیہ کا کام ہمیشہ خوب چمکا۔ ان کی دولت میں سپر سانک سپیڈ سے اضافہ ہوا لیکن ایک کثیر طبقے کے اوقات جو کبھی بھلے چنگے ہوا کرتے تھے، مسلسل تلخ ہوتے گئے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک کامیاب کاروباری ہونے کے ناطے ان تاروں کو چھیڑا جسے دونوں پارٹیوں کی اشرافیہ دانستہ چھیڑنے سے گریزاں تھی۔ سفید فام مڈل کلاس جو تارکین وطن کی مسلسل بڑھتی طاقت سے خائف اور نالاں تھے، گلوبلائزیشن جس سنے امریکہ کے مثالی صنعتی ڈھانچے کو دوسرے ملکوں میں دھکیل دیا اور یہاں کی ورکنگ کلاس گھر دیوالیے، دو دو نوکریاں اور بے روزگاری کے عذاب جھیلنے کے لیے رہ گئیں۔ دونلڈ ٹرمپ نے ان کے دکھڑوں کے تار چھیڑے تو وہ جوق در جوق بیلٹ باکس تک پہنچے اور تمام پولز کو غلط ثابت کر ڈالا۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا وعدہ ہے کہ وہ ملازمتیں دوبارہ واپس لائیں گے، عالمی تجارتی معاہدوں پر نظر ثانی کریں گے، بالخصوص میکسیکو اور چین کے ساتھ، بڑے پیمانے پر ٹیکس میں کمی کریں گے اور امیگریشن پر سختی اپنائیں گے۔ نسخہ ان کا یہ ہے کہ انفراسٹرکچر منصوبے شروع کریں گے اور اقتصادی ترقی دو گنا کریں گے۔ کیسے؟ وہ آفس سنبھالیں گے اور اپنی ٹیم کا انتخاب کریں گے تو خدو خال واضح ہوں گے۔ کانگریس میں ری پبلکن کی اکثریت کے باوجود ٹرمپ ہیں تو سیاسی اشرافیہ کے لیے اجنبی اور در انداز۔ یوں آسانی سے تو واشنگٹن کی سیاسی اشرافیہ، بڑی کارپوریشنیں اور ان کے lobbyists ان کی تابعداری کرنے سے تو رہے! امتحان تو اب شروع ہوا ہے۔ اس مہم میں جو ڈر تھا وہ سامنے آ گیا، ٹرمپ کا ڈر تھا ٹرمپ تو آ گیا۔ اب دیکھتے ہیں آگے آگے ہوتا ہے کیا؟

 

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply