امریکہ سے سیکھیں ایک بات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

(مرزا عباس بیگ)

\"abbas-baig\"1۔ جمہوریت کی روح یہ ہے کہ کسی بھی ملک کے انتظام چلانے کا حق وہاں کے عوام کا اجتماعی حق ہے، انسانوں نے یہ بات آسمانی ہدایت کے علاوہ بہت دھکے کھا کھا کر سیکھی ہے۔

2۔ عوام کے حقِ حکمرانی کی عمل پذیری کے نتیجے میں اجتماعی بصیرت بروئے کار آتی ہے جس کا منطقی یا لازمی نتیجہ بہتر نظامِ حکومت و ریاست ہے۔ کسی بھی ملک کے بہتر نظام حکومت و ریاست کا مطلب عوام کی بہتری اور خوشحالی ہے۔

3۔ اگر فردِ واحد کے ذریعے نظامِ حکومت چلانے کے نتیجے میں عوام کی بہتری اور خوشحالی کا زیادہ امکان ہوتا تو آج بھی دنیا میں اسی نظامِ کہنہ کا سکَہ رائج ہوتا یا آج جس جس ملک میں بادشاہت یا جرنیلی حکومتیں ہیں وہ دنیا کی قیادت کرنے والے اور اپنے عوام کے حقوق کی زیادہ سے زیادہ رکھوالی کرنے والے ممالک شمار ہوتے۔

4۔ اہلِ امریکہ نے جمہوریت کی روح کو پانے کے لیے اپنے مخصوص حالات کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے اپنے ملک کے لیے ایک آئین ترتیب دیا ہے، جس میں ملکی نظام چلانے کے بنیادی اصول درج ہیں۔ تاہم ماضی میں جب جب زمینی حقائق بدلے تو انھوں نے اپنے آئین میں ضروری تبدیلیاں بھی کیں۔

5۔ جمہوریت کی روح کو پانے کے لیے امریکی عوام اپنے بنائے ہوئے آئین یا بنیادی اصولوں و ضوابط پر مسلسل عمل کرتے آ رہے ہیں جس کی وجہ سے وہاں جمہوریت کی روح اور ان کے عملِ اجتماعی میں فاصلہ کم سے کم ہوتا جا رہا ہے جس کے نتیجے میں عوام کی حالت مقابلتاْ بھتر ہے۔

6۔ پاکستان میں بھی جمہوریت کی روح کو پانے کے لیے بہت تگ و دو کے بعد عوام ایک اچھے نظمِ حکومت کے بنیادی خدوخال یا 1973 کے آئین پر متفق ہو کر اپنا سفر شروع کر چکے ہیں۔

7۔ پاکستان کے بدلے ہوئے حالات میں اگر 1973 کے آئین میں کوئی ایسی چیز ہے یا نہیں ہے جس کی موجودگی یا نہ ہونے کی وجہ سے عوام کے حقِ حکمرانی میں رکاوٹ آتی ہے تو اسے تبدیل کیا جانا چاہیے۔

9۔ پاکستان کے عوام کو ماضی میں جمہوری اصول کی بار بار پامالی کو ذہن میں رکھتے ہوئے، اپنی زبوں حالی کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے اور جمہوری اصولوں کو اپنی حرزِ جان بنانے والے ملکوں کی خوشحالی و سربلندی کو دیکھتے ہوئے جمہوریت سے کم کسی بھی صورتحال کو قبول نہ کرنے کے عہد کی تجدید کرنی چاہیے۔

جمہوریت یا جمہوری اصول کے ساتھ وابستگی کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ جمہوری کے تسلسل کے نہ ہونے کی وجہ سے نظامِ حکومت و ریاست میں جو خرابیاں در آئی ہیں ان کو اپنا مقدر تسلیم کرکے اصلاحِ احوال کی کوشش نہ کی جائے۔

10۔ حکومت و ریاست کے نظام میں خرابیوں کی تشخیص پہلا کام، ان خرابیوں کو اپنے زبان و قلم سے نمایاں کرنا دوسرا کام۔ ان خرابیوں کا حل کرنا تیسرا کام اور ان کے حل کے لیے کوشش کرنا چوتھا کام ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان کی صحافت کا ایک حصہ مسائل شماری کو ہی سب کچھ خیال کرتا ہے اور وہ اپنے اس ناقص، نامکمل اور غیرمتوازن طرزِ عمل سے مسائل میں پھنسے عوام کو مزید ابہام اور انتشار میں مبتلا کر رہا ہے۔

11۔ جب جمہوریت کا مدعا ایک بہتر نظامِ حکومت ٹھرا اور بہتر نظامِ حکومت سب کے فائدے میں ہے تو اس کا بنیادی تقاضا ہے ریاستی اور غیرریاستی ادارے نہ صرف اپنا اپنا کام کریں بلکہ ان کے کام کا معیار کارکردگی کے اعلیٰ معیار کو چھونے والا ہونا چاہیے۔

12۔ امریکہ کے نظامِ حکومت کے علاوہ بھی بہت سی باتیں ہیں جن کا سیکھنا پاکستان کے عوام کے لیے مفید بھی ہے اور دلچسپ بھی، بہرحال اگر پاکستان کے عوام امریکی عوام کی ایک بات یعنی جمہوریت یا جمہوری اصول کے ساتھ وابستگی اور اس پر عمل کو اپنا لائحہِ عمل بنا لیں تو ان کے اردگرد پھیلے سلگتے مسائل جنہیں ناقابلِ حل تصور کیا جا رہا ہے وہ حل ہونا شروع ہو جائیں گے اور پاکستان عازمِ سفر تیز ترقی ہوگا، جس کے نتیجے میں قیامِ پاکستان کا خواب شرمندہ تعبیر ہو گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

2 thoughts on “امریکہ سے سیکھیں ایک بات

  • 13/11/2016 at 7:42 am
    Permalink

    جنگل کی دھوپ کی کرنیں جب کبھی آکاش کا کوئی پیغام فرش کو تھماتی ھیں ۔ تو وھاں موجود کوئی بیج اس کو اپنی کوکھ میں چپھا کے کسی انمول سی گھڑی میں پنھاں ھو کے پیغام سبحانی کی نمو پاتا ھے ۔
    مرزا عباس بیگ جنگل کی وہ زرخیز زمین ھے جو ان کرنوں کو اپنے اندر چپھائے ھوۓ قیمتی سچے بیجوں تک رسائی دیتا ھے ۔ اور اس سے پھر اس زندہ تحریر جیسی کونپلیں آشکار کرتا ھے ۔ جو اپنی خوبصورتی کی آپ مثال ھوتی ھیں ۔
    مجھے اس دھرتی سے اپنی محبت اور
    عقیدت پر ناز ھے ۔ عقیدت مند ظفر مغل

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *