کیا اجتماعی خود کشی کرنا بھی جائز ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہم سنتے آئے ہیں کہ موت برحق اور ایک اٹل سچائی ہے۔ جو جان پیدا ہوئی ہے اس نے اک دن مرنا ہے اور زندگی دراصل پیدا ہونے سے لے کر موت کی طرف سفر کے درمیانی عرصہ کا نام ہے وغیرہ وغیرہ۔ لہذا جب تک موت کا تریاق ڈھونڈ نہیں لیا جاتا تب تک تو اسی اصول کو سچ مان کر چلنا پڑے گا۔ مگر میرا آج کا سوال یہ ہے کہ کیا اجتماعی خود کشی کرنا بھی برحق اور جائز ہے؟

پہلے موت پر بات کر لیتے ہیں۔ موت کو لے کر سائنسدانوں کا خیال ہے کہ موت محض اک تکنیکی مسئلہ ہے جس پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ آپ کو یہ بات ہضم کرنے میں شاید دقت ہو اور اس کی بینادی وجہ ہمارا ایمان اور موت کے بعد کی زندگی کا بے تابی سے انتظار ہے جس میں اس فانی زندگی والے نقائص تو نہیں ہوں گے مگر سواد اور ذائقے سارے اسی زندگی والے ہوں گے بلکہ اگر مولانا طارق جمیل صاحب کی بتائی ہوئی جزیات کو گائڈ کے طور پر استعمال کیا جائے تو یہ دنیا تو نری بد ذائقہ اور پھیکے خربوزے کے موافق ہے جبکہ دوسری دنیا میں نا صرف دودھ اور شہد کی ندیاں ہوں گی بلکہ عیاشی کا (جو اس دنیا میں مکروہ و ممنوع ہے ) اک لا متناہی بندوبست ہو گا۔ مطلب یہ کہ آپ کے ہارمونک تخیلات کی جو حد ہے بات وہاں سے شروع ہو گی لہذا آگے آپ خود سمجھدار ہیں کہ آپ کیا کیا سوچ سکتے ہیں۔

بات موت سے بعد از موت کے سواد کی طرف چلی گئی۔ اس میں میرا بھی قصور نہیں دوسری دنیا کی کشش ہی ایسی بتائی گئی ہے۔ لیکن واپس اسی دنیا میں آتے ہیں۔ تو سائنسدانوں کو لگتا ہے کہ ہمارا جسم بھی اک مشین کے موافق ہے اور اس کے خراب پرزے بوقت ضرورت بدلے جا سکتے ہیں۔ جیسے دل خراب ہوا تو اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو ڈاکٹر اس کو بدل دیں گے اور آپ پھر سے تندرست یا کسی حد تک زندہ نما ہو جائیں گے جس سے کم از کم آپ کو اپنے پیاروں کو کچھ وقت تک سوگواران میں شامل نہیں کرنا پڑے گا۔ کیا ہم سب نہیں چاہتے کہ کچھ مہلت اور مل جائے؟ خیر جنیاتی سائنس میں روز افزوں ترقی اب ان رازوں کو بھی انسان پر افشا کر رہی ہے جو آج سے پہلے تصور کرنا بھی ممکن نہیں تھا۔ تھری ڈی پرنٹنگ کی وجہ سے انسانی اعضا کو لیبارٹریز میں بنانا آسان ہو گیا ہے اور باؤنک آگنز (Bionic organs) اب بکژت استعمال کیے جا رہے ہیں جس سے حادثات اور دیگر وجوہات کی بنا پر ناکارہ جسمانی اعضا کو بدلنا قدرے آسان ہو چکا ہے۔

آپ کو شاید یہ باتیں معمولی نوعیت کی لگیں مگر آپ تصور کریں کہ جس بندے کا دل بند ہونے والا ہو اس کہ لیے نیا اور دھڑکتا ہوا دل کیا معنی رکھتا ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں اوسط عمر پاکستانیوں کی اوسط عمر سے بہت زیادہ ہو چکی ہے اور یہ محض اتفاق نہیں ہے بلکہ صحت کے اصولوں پر عمل اور بہتر خوراک سے یہ ممکن ہوا ہے۔ تو سوال یہ ہے کہ کیا انسان موت کو شکست دے سکے گا؟ جواب کے لیے شاید میں اور آپ زندہ نا ہوں مگر قیاس یہ ہے کہ دنیا میں بہت جلد اک طبقہ ایسا پیدا ہو جائے گا جو موت کو اگر روک نا سکا تو کم از کم بہت برس تک موخر کرنے میں کامیاب ہو جائے گا اور اگر وہ پی آئی اے سے سفر نہیں کرتا اور پاکستان کا رہائشی نہیں ہے، جہاں فی الحال قومی پالیسی یہ ہے کہ سکون تو صرف قبر میں ہے، تو شاید موت کو شکست بھی دے سکے۔

کیا آپ کو یہ بات دلچسپ نہیں لگتی کہ بعد از موت زندگی پر آپ کا جتنا مرضی پختہ یقین کیوں نا ہو مگر اس زندگی کو پانے کے لیے مرنا کوئی بھی نہیں چاہتا۔ حتی کہ جہادی گروپ بھی ہر شہادت کا بدلہ لینا عین ثواب سمجھتے ہیں۔ اگر آپ کے نزدیک اک بندہ شہید ہوا ہے تو اس کے چاہنے والوں کو تو خوش ہونا چاہیے کہ وہ اس جہاں فانی سے اک بہترین جگہ پر چلا گیا ہے مگر ایسا ہوتا نہیں ہے کم از کم پسماندگان کے رویوں کو دیکھ کر نہیں لگتا کہ وہ شہید ہونے والے کی اس ترقی سے خوش ہیں۔

مرنا عوام کی مجبوری ہے مگر جن کے پاس وسائل ہیں وہ زندہ رہنے کہ لیے ہر جتن کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ بلکہ بل گیٹ کی طرف سے سپانسر کی ہوئی اک تحقق کے مطابق جو انڈیا کی غریب بستیوں میں رہنے والے لوگوں پر کی گئی یہ بات سامنے آئی کہ غریب لوگوں کی آمدن کا بڑا حصہ جو لگ بھگ گھریلو آمدن کا چالیس فیصد بنتا ہے دوا دارو پر خرچ ہو جاتا ہے۔ اس کی بڑی وجہ صحت پر کم توجہ اور غیر معیاری خوراک اور پینے کا صاف پانی نا ملنا ہے۔ تو ظاہر یہ ہوا کہ امیر ہو یا غیریب مرنے کو کوئی بھی بخوشی راضی نہیں ہوتا یہ وہ زہر کا پیالہ ہے جو مجبوری ہی میں پیا جاتا ہے۔ امیر بھی پوری کوشش کرتا ہے کہ موت کو ٹالا جا سکے اور غریب بھی اپنی آمدن کا بڑا حصہ اپنی سانسوں میں چند سال کا اضافہ کرنے پر ہی خرچ کرتا ہے۔

اب آپ کو یہ جان کر حیرت نہیں ہو گی کہ اک دنیا ہے جہاں زندگی کو بہتر سے بہتر بنانے پر توجہ دی جا رہی ہے اور اس کرونا کے دور میں بھی بہتر پالیسی اور انتظامات سے اموات کو روکنا ترجیح ہے۔ ابھی کل ہی آسٹریلیا کہ چیف میڈیکل افسر پروفیسر بریڈن مرفی یہ بتا رہے تھے کہ آسٹریلیا کے کرونا رسپانس سے چودہ ہزار اموات سے بچاؤ ممکن ہوا ہے۔ اب فرض کریں وہ چودہ ہزار لوگ اگر کرونا کے شکار ہو جاتے تو۔ مگر بہتر حکمت عملی کی وجہ سے وہ ابھی بھی زندہ ہیں اور آنے والے کتنے سال زندہ رییں گے کون کہہ سکتا ہے۔

مگر اب پاکستان کو لے لیں۔ کرونا محض اک زکام سے زیادہ کچھ نہیں اور آپ نے گھبرانا نہیں ہے۔ لاک ڈاؤن نہیں کروں گا کی گردان سے لے کر لاک ڈاؤن کرنا ہے اور پھر عید کے کپڑے لینے ہیں اور اب یہ نوشتہ دیوار بغیر کسی تاسف کے پڑھ کر سنا رہے ہیں کہ یہ تو ہونا ہی تھا۔ مجھے تو پتہ تھا یہ ہونا ہے۔ ہم کرونا کے آگے بے بس ہیں۔ سب کو کھانا نہیں دے سکتے کیونکہ وسائل نہیں ہیں اب جو ہو گا دیکھا جائے گا۔ آپ اندازہ کریں یہ اس ملک کا حکمران کہہ رہا ہے جس ریاست کی صبح، دوپہر اور شام صرف یہ راگ الاپتے گزر جاتی ہے کہ ملک کا دفاع ناقابل تسخیر ہے۔ کس کے دفاع کی بات کرتے ہیں یہ لوگ؟ آپ کی؟ کیا ملک صرف زمین کے ٹکڑے کا نام ہوتا ہے؟ کیا آپ کو لگتا ہے کہ جب ملکی سلامتی کی بات ہوتی ہے جس کے لئے گزشتہ سات دہاہیوں سے اس عوم کو غربت کی چکی میں پیسا جا رہا ہے، تو اس میں میں اور آپ بھی اتنے ہی معنی رکھتے ہیں جتنے کہ یہ وزیر اور کبیر؟ عوام کو کرونا کے آگے بھیٹر بکریوں کی طرح پھینک کر مرنے کے لیے چھوڑ دینا اور ساتھ اتنی ہی ڈھٹائی سے نا قابل تسخیر ہونے کا دعوع کرنا کتنا مضکہ خیز لگتا ہے۔

کیا آپ کو یہ عجیب نہیں لگتا؟ اگر نہیں لگتا تو کرونا سے شہادت آپ کے لیے ہی عام کی گئی ہے۔ تو جناب بغیر جہاد کیے جنت میں جانے کے لیے تیار رہیں اگر آپ کا مدافعتی نظام کرونا پر غالب آ گیا تو غازی تو آپ پکے ہیں۔ تو آپ کے وزیر اعظم کی طرف سے نوید یہ ہے کہ خان کی ریاست میں اور کچھ ہو نا ہو کم از کم اجتماعی خود کشی تو جائز کر ہی دی گئی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply