ابے تیری اوقات کیا ہے؟ یہ وہ جملہ ہے جو برصغیر پاک و ہند میں تواتر کے ساتھ بولا جاتا ہے۔ چند دن پہلے جب اک کرنل کی بیگم نے یہ الفاظ کہے تو ساری قوم سیخ پا ہو گیٴ۔ قوم کا یہ غصہ دیکھ کر اچھا لگا۔ اس واقعہ سے یہ سوچنے پر مجبور ہوا کہ یہ اوقات آخر کیا بلا ہے جو اس خطے کے لوگوں کے دل و دماغ میں اتنی گہری سرایت کر چکی ہے کہ جس کو دیکھو وہ ہی اپنی حیثیت اور اعلی ذات کی دھونس جماتا نظر آتا ہے۔
اگر سائنس کے تناظر میں دیکھا جائے تو بنی نوع انسان کا ڈی این اے افریقہ کے ابتدائی لوگوں سے لے کر ہمارے موجودہ آبا و اجداد تک کی پوری تصویر کشی کرتا ہے۔ جس خطے کے ہم باسی ہیں اس کی ساری نسلیں ایران، ترکمانستان اور دیگر اقوام کے جینوم کا اک ملغوبہ ہیں جو جنیاتی تحقیق سے ثابت ہو چکا ہے۔ گزشتہ پانچ ہزار سال پرانی موہنجوداڑو تہذیب کا یہ گہوارہ بہت سارے حملہ آور گروہوں اور چرواہوں کا مسکن رہا ہے۔ اگر ماضی قریب کی بات کریں تو مغل اور انگریز تو کل کی باتیں لگتی ہیں۔
Read more