ظلم کی بہت سی صورتیں ہیں

ایک طرف تو دنیا کرونا کی وبا کی زد میں ہے اور نحوست اور مایوسی کے سائے دن بدن گہرے ہوتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں تو دوسری طرف امریکہ سمیت پوری دنیا میں جارج فلائڈ کی موت سے اٹھنے والی اک لہر ہے جو آسٹریلیا تک آ پہنچی ہے۔ ملبورن میں منظم احتجاج کا یہ دوسرا ہفتہ ہے اور دو نوجوان لڑکیوں نے سڈنی شہر میں آسٹریلیا کو دریافت کرنے والے کیپٹن جیمز کک کے مجسمے پر سپرے کر

Read more

قومی جہالت کا کاروبار

ترقی یافتہ اقوام کے ترقی کرنے کی وجوہات توکم و بیش ایک جیسی ہی ہوتی ہیں جیسے کے منزل کا درست تعین اور اس منزل کے حصول کے لیے اک واضح روڈ میپ۔ مگر ترقی پذیر اقوام کی ناکامی کی وجوہات ہر ایک کی اپنی اپنی ہیں۔ مطلب یہ کہ ناکامی کا اپنا ایک جہان ہوتا ہے اور ہر کوئی اس جہان میں سے اپنی نالائقی کہ موافق اپنی ناکامی کے اسباب چن لیتا ہے۔ مگر جو بات ناکام یا

Read more

کیا اجتماعی خود کشی کرنا بھی جائز ہے؟

ہم سنتے آئے ہیں کہ موت برحق اور ایک اٹل سچائی ہے۔ جو جان پیدا ہوئی ہے اس نے اک دن مرنا ہے اور زندگی دراصل پیدا ہونے سے لے کر موت کی طرف سفر کے درمیانی عرصہ کا نام ہے وغیرہ وغیرہ۔ لہذا جب تک موت کا تریاق ڈھونڈ نہیں لیا جاتا تب تک تو اسی اصول کو سچ مان کر چلنا پڑے گا۔ مگر میرا آج کا سوال یہ ہے کہ کیا اجتماعی خود کشی کرنا بھی برحق

Read more

بے اوقات لوگ

ابے تیری اوقات کیا ہے؟ یہ وہ جملہ ہے جو برصغیر پاک و ہند میں تواتر کے ساتھ بولا جاتا ہے۔ چند دن پہلے جب اک کرنل کی بیگم نے یہ الفاظ کہے تو ساری قوم سیخ پا ہو گیٴ۔ قوم کا یہ غصہ دیکھ کر اچھا لگا۔ اس واقعہ سے یہ سوچنے پر مجبور ہوا کہ یہ اوقات آخر کیا بلا ہے جو اس خطے کے لوگوں کے دل و دماغ میں اتنی گہری سرایت کر چکی ہے کہ جس کو دیکھو وہ ہی اپنی حیثیت اور اعلی ذات کی دھونس جماتا نظر آتا ہے۔

اگر سائنس کے تناظر میں دیکھا جائے تو بنی نوع انسان کا ڈی این اے افریقہ کے ابتدائی لوگوں سے لے کر ہمارے موجودہ آبا و اجداد تک کی پوری تصویر کشی کرتا ہے۔ جس خطے کے ہم باسی ہیں اس کی ساری نسلیں ایران، ترکمانستان اور دیگر اقوام کے جینوم کا اک ملغوبہ ہیں جو جنیاتی تحقیق سے ثابت ہو چکا ہے۔ گزشتہ پانچ ہزار سال پرانی موہنجوداڑو تہذیب کا یہ گہوارہ بہت سارے حملہ آور گروہوں اور چرواہوں کا مسکن رہا ہے۔ اگر ماضی قریب کی بات کریں تو مغل اور انگریز تو کل کی باتیں لگتی ہیں۔

Read more

سڈنی کا شرابی شوہر، کورونا اور ہماری قیادت

اس ٹویٹ سے خان صاحب کے اختیار، سوچ اور اس سارے کرائسس کو وہ کس نظر سے دیکھتے ہیں کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔

پہلی بات جو روز روشن کی طرح عیاں ہو چکی ہے وہ یہ ہے کہ ٹی وی پر قوم کو گمراہ کرنے اور نیم پختہ خودی اور خود انحصاری کے نظریات جو شان ماضی کے مبنی بر حقائق تصورات سے اٹے پڑے ہیں اور کچھ بھی نہیں جانتے۔ اپنی ذات اور اپنی ہی خودی میں قید اس شخص کے پاس نا تو کوئی وژن تھا اور نا کوئی وژن ہے۔ مگر ان مشکل موجودہ حالات میں جس طرح ان کے ذہنی بانجھ پن کا بھانڈا بیچ چوراہے کے پھوٹا ہے اس کی نظیر بھی نہیں ملتی۔

Read more