انتہائی سیاسی قوم اور امریکن لڑکی کی ہرزہ سرائی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


ہم ایک انتہائی سیاسی قوم ہیں۔ (راقم یہ دعویٰ کرتے ہوئے اپنی کم علمی کا اعتراف بھی کرے گا کہ یہ اصطلاح پہلے کبھی استعمال ہوئی ہے کہ نہیں ) ۔ تو صاحب اکثریت پاکستانیوں کی طرح ہم بھی کبھی سیاسیات کے طالب علم نہیں رہے لیکن کیوں کہ ہم سیاسی قوم کے افراد پیدائشی طور پر سیاست سے بہرہ ور مانے جاتے ہیں اس لیے اگر کوئی ہماری اس اصطلاح سے اختلاف کرتا ہے تو ہم اسے اس کا جمہوری حق سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ بات جمہوریت کی ہے تو وہ بھلے بہترین انتقام ہو، شخصی آزادی کی ضمانت ہے۔

بات شخصی آزادی کی ہو رہی ہے تو یاد رہے کہ ہم یہ آزادی کسی قیمت پر نہیں کھونے دیں گے اس لئے اگر کسی کو سیاسی قوم کی اصطلاح عجیب لگے یا ناگوار گزرے بھی تو وہ اس پر تنقید کرنے کا حق نہیں رکھتا کہ یہ ہمارا سیاسی نظریہ ہے اور نظریات کے لئے، جمہوریت کے لئے اور سیاسی نظام کے بقا کے لئے ہم نے بہت محنت کی ہے اور بے شمار قربانیاں دی ہیں۔

آپ کو یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ ہم سیاست کو بحیثیت قوم عبادت کا درجہ دیتے ہیں اور عبادت مذہبی فریضہ ہے۔ لہذا ہم سیاسی جماعت کو کسی طور مذہب سے کم نہیں مانتے۔ یہ ہمارے مضبوط سیاسی نظام کی کامیابی کی دلیل ہے۔ خیر تمہید کو وقت کی کمی کی باعث مختصر کرتے ہیں کہ ہمیں قوم کے وقت کا احساس ہے۔

تو اصل نقطہ یہ ہے حضور کہ قدیم انسانی تاریخ سے لے کر آج تک مذہب ایک حساس معاملہ رہا ہے۔ مذہب پر جنگوں کو ہر مذہب کے ماننے والوں نے نہ صرف جائز سمجھا بلکہ قابل فخر اور باعث سعادت بھی سمجھا۔ یہ بات اگر واضح ہے کہ ہم مذہب پر عمل کریں نہ کریں اس کے لئے لڑنے مرنے پر تیار ہیں تو بالکل اسی طرح سیاسی قوم سیاسی جماعت کو مذہب مان کر اس کے لئے لڑنے پر تیار بلکہ کامیابی کا زینہ سمجھتی ہے۔ سیاسی خدا پر بات کرنے دینا کمزور ترین درجہ ہے۔ اور یہ بات ساری دنیا جانتی ہے کہ ہم اس معاملے میں کمزور نہیں بلکہ خوفناک حد تک طاقتور ہیں۔

دائیں بازو کی سیاسی جماعتیں مع سیاسی خداؤں کے شدت پسندانہ رویوں کے حوالے سے جانی جاتی ہیں جب کہ بائیں  بازو والے نسبتاً برداشت کے قائل ہوا کرتے ہیں۔ ہماری خوبی یہ کہ ہمارے ہاں دونوں ہم پلہ ہیں۔ سیاسی کارکن و رہنما اپنے سیاسی خداؤں کے لئے جان دینے کو باعث سعادت سمجھتے ہیں اور جانتے ہیں کہ ثواب بصورت ترقی اسی لڑائی میں پنہاں ہے۔ چند دن پہلے ایک امریکی نژاد پاکستانی صحافی نے ایک انتہائی مذہبی نوعیت کے معاملہ پر ہرزہ سرائی کر کے لاکھوں لوگوں کے جیالاتی جذبوں کو ٹھیس پہنچائی۔

ابھی تو مطالبہ معافی کا کیا جا رہا ہے جو کہ ایک مہذب طریقہ ہے لیکن بات آگے بڑھ سکتی ہے۔ امریکی صحافی کو یہ اختیار نہیں دیا جا سکتا کہ وہ سیاسی خداؤں کی شان میں گستاخی کرے۔ چند ماہ پہلے بھی ایک گستاخ صحافی کی لاش کہیں کوڑے کچرے سے برآمد ہوئی تھی۔ خیر یہاں بات غیر ملکی صحافی کی ہے تو سزا میں نرمی کا اندیشہ موجود ہے۔ آپ یہ مت سمجھیں کہ ہمیں اس سیاسی جماعت کے فدائیوں سے کوئی مسئلہ ہے۔ ہم ان کے جذبات کی قدر کرتے ہیں اور شدید ٹھیس پہنچی ہے اس لئے بھی ہم مذمت کیے بغیر نہیں رہیں گے۔ کل کلاں ایسی ہی گستاخی کسی اور کے ساتھ بھی ہو سکتی ہے۔

اس معاملہ میں ہماری حکمران سیاسی جماعت نہ صرف بہتر ہے بلکہ جدید اسلحہ سے لیس سیاسی فدائیان کا برقی بیڑا بآسانی ایسے معاملات میں دشمن کو ناکوں چنے چبوانے کے بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔ ایسے کسی بھی حملے کو پارلیمانی معاملہ بنانے کی نوبت نہیں آنے دیتا۔ (پارلیمان میں ایسے الفاظ حذف نہ ہوتے تو معاملہ وہاں تک لے جانے میں کوئی امر مانع بھی نہیں ) ۔ گھوڑا بھی وہیں میدان بھی وہیں کے مصداق چاروں طرف سے دشمن کے اعصاب پر حملہ کیا جاتا ہے۔

عموماً دشمن بھاگنے میں ہی پناہ سمجھتا ہے اور اگر نہیں بھاگتا تو وہ انتہائی ڈھیٹ ہو کر مزید چھیڑ خانی کرے گا جس سے ہماری حکمران جماعت کے مجاہد اس کو دشمن کا ایجنٹ ثابت کرنے میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔ یوں کامیاب حکمت عملی، جدید ٹیکنالوجی اور بہتر الفاظ کی بدولت یہ جنگ جیتی جاتی ہے۔ حزب اختلاف کو یہ سوچنا پڑے گا۔ لیکن اب لاشیں کچرے میں پھینکنے والے جیالیاتی غضب کو کوئی دعوت دے تو ہم اس پہ کیا کہہ سکتے ہیں۔ (گستاخی ہونے کی صورت میں معافی کا طلبگار ہوں کہ امریکی لڑکی کی طرح ضد پر اڑ جانے سے معافی مانگنا بہتر اور پسندیدہ عمل ہے۔ )

یہاں اور بھی کارآمد طریقے موجود ہیں مثلاً سڑک پر پولیس کی موجودگی میں مونچھوں کو تاؤ دیتے گاڑیوں کے شیشے توڑنے والی متوالی ادائیں، روشنیوں کے شہر میں ”بوریوں کے کاروبار“ سے دشمن کو سبق سکھانا، جامعات میں ملی جذبات سے لیس فحاشی کے خلاف ہلہ بول ”خالصتا اسلامی“ طرز نے بھی کامیابی کے جھنڈے گاڑے ہیں۔ ہمارے ہاں کچھ سیاسی جماعتوں کی ڈنڈا بردار فورس نیلے پیلے یونیفارم میں اپنے سیاسی خدا کو ”گارڈ آف آنر“ ایسے دلکش انداز میں پیش کرتی ہے کہ دشمن پر ہیبت طاری ہو جاتی ہے۔ یہ سبھی جذبات قابل احترام اور لائق تقلید و تعریف ہیں۔

ایک دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ اختلاف چونکہ جمہوریت کا حسن ہے اس لئے یہ سیاسی جماعتوں تک ہی محدود رکھا جاتا ہے اور بھرپور استعمال بھی ہوتا ہے لیکن غیر سیاسی قوتیں سیاسی معاملات میں مداخلت کی مرتکب بھی اسی اختلاف کی وجہ سے ہوتی ہیں۔ یہاں بات زیبا اور نازیبا الفاظ تک پہنچ جاتی ہے۔ جیسا کہ پہلے عرض کیا جا چکا ہے کہ یہ خالصتاً سیاسی حق ہے اور سیاست میں کوئی بھی چارٹر کبھی بھی طے پا جاتا ہے اس لئے مٹی پاؤ کی پالیسی کے تحت بات آگے بڑھ جاتی ہے۔ اب غیر سیاسی قوتوں کے ساتھ تو ایسا کوئی معاہدہ ممکن نہیں اس لئے وہ سیاسی خداؤں کی ہرزہ سرائی سے باز ہی رہیں تو بہتر ہے ورنہ ایف آئی آر سے عزت ہتک کے تمام قانونی راستے ہمارے پاس موجود ہیں۔ اور اس کے علاوہ جو ہیں ان کو قانونی کیسے بنانا ہے وہ تو آپ سمجھتے ہی ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *