ہمارے واجد خان


پاکستانی نژاد برطانوی سیاستدان واجد خان نے گزشتہ روز مانچسٹر کے نوائی شہر برنلے کے میئر کا حلف لیا تو وہ اس شہر کے کم عمر ترین میئر کا اعزاز حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ میرے جیسے بہت سے لوگوں کے لئے سوچنے کا بہت سا سامان بھی کر گیے۔

واجد خان برطانیہ کے شہر برنلے میں متوسط طبقے کے پاکستانی گھرانے میں پیدا ہویے۔ ان کے والد ایک ٹیکسی ڈرائیور تھے۔ واجد خان سیاست میں آنے سے پہلے یونیورسٹی آف سینٹرل لنکاشر میں سینئر لیکچرر تھے اور لیڈرشپ کا کورس پڑھاتے تھے۔ 2017 میں واجد خان لیبر پارٹی کے پلیٹ فارم سے یورپی پارلیمنٹ کے ممبر منتخب ہویے جہاں وہ دو سال تک اپنی ذمداریاں نبھاتے رہے۔ یورپی پارلیمنٹ میں واجد خان فارن افیئرز اور ہیومن رائٹس کی کمیٹیز کے ممبر تھے۔ واجد خان نے ہیومن رائٹس کی کمیٹی میں کھل کر مظلوم کشمیریوں کے لئے آواز اٹھائی اور ذاتی کوششوں سے کمیٹی کے چیئرمین انتونیو پنساری کو کشمیر کے مسلے پر اوپن ڈسکشن کروانے پر راضی کیا۔ حکومت پاکستان نے انسانی حقوق کے لئے واجد خان کی خدمات کے اعتراف میں انھیں ستارہ قائد اعظم سے بھی نوازا۔

واجد خان بلاشبہ پاکستان کے قابل فخر سپوت ہیں۔ انھنوں نے ایک مرتبہ پھر ثابت کر دیا کہ مغربی ممالک میں حسب نصب اور دولت کے انبار کے بغیر بھی سیاست میں ایک کامیاب کیریئر بنایا جا سکتا ہیں۔ واجد خان جیسے لوگ مغربی ممالک میں رہ کر جب کوئی بڑا کام کرتے ہیں تو پاکستان میں رہنے والے ان پر صرف فخر ہی کرتے ہیں ان جیسے لوگوں کو قابل تقلید نہیں سمجھتے اسی لئے وہ پاکستان میں پیدا ہونے والے واجد خان جیسے اپنے ہموطنوں کو ایسا کوئی کارنامہ کرنے کے لئے حوصلہ افزائی نہیں کرتے۔

پاکستان کے انتحابی ڈھانچے اور روایات میں کوئی ٹیکسی ڈرائیور یا اس کی اولاد ممبر پارلیمنٹ یا کسی شہر کا میئر تو دور کی بات اپنی یونین کونسل کا ممبر بننے کا بھی خواب نہیں دیکھ سکتا۔ ہمارے ہاں سیاسی قیادت مال و دولت، اثر و رسوخ اور حسب نصب والے کا پیدائشی حق ہے اور باقی لوگ صرف نعرے بازی، ہجوم اکٹھا کرنے اور ووٹ ڈالنے کے کام آتے ہیں۔

پاکستان میں حقیقی جموریت اور تبدیلی تب آیے گی جب پاکستان میں پیدا ہونے والے واجد خان جیسے لوگ مقامی، صوبائی اور قومی حکومتوں کا حصہ ہوں گے اور اپنے طبقے کے لوگوں کے لئے قانون سازی کریں گے۔ جب تک حکومتوں میں کسان کی نمائندگی جاگیر دار اور مزدور کی نمائندگی سرمایہ دار کرتا رہے گا جموریت کا پھل ہماری پہنچ سے دور ہی رہے گا اور ہم مغربی ممالک میں متوسط گھرانوں میں پیدا ہو کر بڑے بڑے کام کرنے والے پاکستانی نژاد لوگوں پر محض فخر کرتے رہیں گے۔