جناب وزیراعظم آپ کیسا لاک ڈاؤن چاہتے ہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دسمبر 2019 ء میں جب چین کے صوبے، ہوبے کے دارالحکومت ووہان شہر میں چند باشندے شدید کھانسی، بخار اور سانس لینے میں دشواری کی تکلیف کی وجہ سے ہسپتال گئے تو ڈاکٹر ژینگ نے ان چند مریضوں میں نمونیہ کی ایک پر اسرار قسم کی مرض کی علامات پائی۔ پھر ووہان سنٹرل ہسپتال کے ڈاکٹر وینلیانگ نے بھی سوشل میڈیا کے ذریعے اس نئے وائرس سے لوگوں کو خبردار کیا۔ جب ووہان شہر میں مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہونا شروع ہوا تو تحقیق کے بعد معلوم ہوا کہ مریضوں کی زیادہ تعداد ان لوگوں کی ہے جن کا تعلق اس بازار سے ہے جہاں سمندری جانداروں کے گوشت کے فروخت کا کاروبار ہوتا ہے۔

جہاں پر کتے، بلی، بندر، خنزیر، سانپ، چمگادڑ، مگرمچھ، لومڑی، کچھوے اور دیگر مردار جانوروں کا گوشت بھی فروخت ہوتا ہے۔ جب ڈاکٹروں نے متنبہ کیا تو ان کو ہراساں کیا گیا۔ ابتدا میں اس بازار کو بند کیا گیا جبکہ بعد میں پورے ووہان شہر کو بند کرکے اس وائرس پر قابو پانے کے لئے اقدامات کیے گئے، لیکن اب دیر ہو چکی تھی اس لئے کہ یہ وائرس اب ووہان شہر سے نکل کر دنیا کے دوسری ممالک میں پہنچ گیا تھا۔ اس وائرس پر قابو پانے کے لئے ابھی تک کوئی دوا یا ویکسین موجود نہ تھی اس لئے چین کی حکومت نے اس پر قابو پانے کے لئے فوری طور پر ووہان شہر کو بند کر دیا۔

حکومت نے عوام سے درخواست کی کہ گھروں میں رہیں۔ آپس میں فاصلہ رکھیں۔ میل جول اور ملاقاتوں سے گریز کریں۔ ماسک کا استعمال کریں۔ گرم پانی استعمال کریں۔ بخار، کھانسی اور جسم میں درد کے لئے عام دوائیوں کا استعمال کریں۔ چین کی حکومت نے ان ہدایات کو سختی کے ساتھ نافذ کیا۔ عوام نے ان ہدایات کو ایمان کا حصہ سمجھ کر اس پر مکمل عمل کیا۔ یہی وجہ ہے کہ چین اس وبا پر قابو پانے میں کامیاب ہوا۔ عالمی ادارہ صحت نے اس وائرس کو Covid۔

19 کا نام دیا۔ چین کی ابتدائی تحقیق یہی ہے کہ یہ وائرس چمگادڑوں اور سانپوں سے انسانوں میں منتقل ہوا۔ پھر کھانسی اور چھینک سے ایک انسان سے دوسرے انسان میں منتقل ہوتا گیا۔ ابتدائی معلومات کے مطابق کورونا وائرس جب انسانی جسم پر ہو تو وہ اپنا افزائشی عمل شروع نہیں کر سکتا۔ جب انسان اپنے ہاتھوں کو ناک، منہ یا آنکھوں پر ملتا ہے تو پھر یہ وائرس انسانی جسم میں منتقل ہوجاتا ہے۔ یہ کا غذ پر ایک دن، پلاسٹک یا سٹیل پر تین دن اور تانبے پر چار گھنٹوں تک زندہ رہ سکتا ہے۔

چین اس وبا کو قابو کرنے میں اس لئے کامیاب ہوا کہ حکومت نے ہنگامی بنیادوں پرتحقیق کے بعد یہ نتیجہ اخذ کر لیا تھا کہ علاج نہ ہونے کی وجہ سے فوری حل یہی ہے کہ شہر کو بند کر دیا جائے اور لوگوں کوگھروں تک محدود کر دیا جائے۔ لوگ ماسک کا استعما ل کریں تا کہ کھانسی اور چھینک کی وجہ سے وائرس کے پھیلاؤ کو روکا جاسکے۔ آپس میں فاصلہ رکھیں۔ کھانسی، بخار اور درد کی صورت میں عام دوائیوں کا استعمال کریں۔ حکومت نے فوری یکسوئی سے اپنے فیصلوں کو نافذ کیا۔ عوام نے حکومت کی طرف سے جاری کردہ ہدایات پر عمل کیا اور یوں چین اس وبا پر کافی حد تک قابو پانے میں کامیاب ہوا۔

عالمی سطح پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن نے اس وبا کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔ ٹرمپ کی غیر ذمہ دارانہ طرز عمل کی وجہ سے امریکا اس وقت سب سے زیادہ متاثرہ ملک بن گیا ہے۔ برطانوی وزیر اعظم خود اس وباکا شکار ہوئے، وہاں لاکھوں افراد متاثر ہوئے جبکہ ہزاروں کی تعداد میں اموات بھی ہوئی۔

پاکستان میں جب کورونا وائر س کی وبا پھیلی تو صحت کی ناکافی سہولیات اور بڑے پیمانے پر پھیلاؤ روکنے کے لئے ابتدائی طور پر لاک ڈاؤن کا فیصلہ کیا گیا، مگر وزیر اعظم عمران خان اس لاک ڈاؤن کے خلاف تھے۔ صوبائی حکومتوں نے اسی طرح سختی نہیں کی جس طرح ووہان حکومت نے کی تھی۔ عوام نے بھی اس وائرس کو ایمان آزمانے کا سبب قرار دیا اور احتیاطی تدابیر پر عمل نہیں کیا۔ اداروں کا لاک ڈاؤن میں سختی نہ کرنا اور عوام کا احتیاطی تدابیر پر عمل نہ کرنے کی بنیادی وجہ وزیر اعظم عمران خان کی مبہم پالیسی رہی۔

ایک طرف وہ لاک ڈاؤن کے خلاف تھے تو دوسری طرف وہ لاک ڈاؤن کے نفاذ کا اعلان بھی خود ہی کرتے رہے۔ وہ لاک ڈاؤن کے خلاف تھے لیکن عوام کو متبادل لائحہ عمل دینے میں بھی ناکام رہے۔ ابھی چند روز قبل انھوں نے بیان دیا کہ وہ ایسا لاک ڈاؤن نہیں چاہتے تھے۔ عوام جاننا چاہتی ہے کہ وزیر اعظم عمران خان کیسا لاک ڈاؤن چاہتے ہیں؟ لیکن ساتھ ہی انھوں نے اپنی بے بسی کا بھی اظہار کیا کہ اٹھارہویں ترمیم کی وجہ سے وہ بے اختیار اور صوبے با اختیار ہوگئے ہیں جس کی وجہ سے وہ مثالی لاک ڈاؤن کے نفاذ میں ناکام رہے۔

وزیر اعظم عمران خان کا یہ بیان حقائق کے برعکس ہے اس لئے کہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد پر براہ راست ان کی حکومت ہے۔ وفاقی وزیر صحت کا قلمدان ان کے پاس ہے۔ خزانے کی چابیاں ان کے جیب میں ہیں۔ وفاقی وزیر داخلہ انہی کی پارٹی کا ہے۔ وفاقی وزیر تعلیم ان کا نامزد کردہ ہے۔ لیکن پھر بھی وہ مثالی لاک ڈاؤن کو وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں نافذ کرنے میں ناکام رہے۔ اگر وہ اپنے ذہن میں موجود مثالی لاک ڈاؤن کا نقشہ اسلام آباد میں عملی طور پر نافذ کرتے تو ممکن تھا کہ صوبے بھی اس سے استفادہ کرتے۔

پنجاب اور خیبر پختون خوا کے حکمران وزیر اعظم عمران خان ہی کے نامزد کردہ ہے انہی کو ذمہ داری سونپ دیتے کہ وہ اس مثالی اور شہکار لاک ڈاؤن کو اپنے صوبوں میں نافذ کر تے۔ اگر پنجاب کے عثمان بزدار اور خیبر پختون خوا کے محمود خان اب سیاسی طور پر بڑے ہو گئے ہیں اور وزیر اعظم عمران خان کے ویژن کو ماننے سے انکاری ہے تو بلوچستان کے اپنے اتحادی جام کما ل سے اس مثالی لاک ڈاؤن کو نافذ کرنے کی درخواست کرتے۔

جناب وزیر اعظم عمران خان: اب بھی وقت ہے۔ آپ جیسا لاک ڈاؤن چاہتے ہیں اسلام آباد کا شہر حا ضر ہے، اس لئے کہ اس شہر پر براہ راست آپ کی حکمرانی ہے۔ نافذ کردیں لاک ڈاؤن کا وہ مثالی اور اعلی نمونہ جو آپ کے دل و دماغ میں ہے۔ ممکن ہے کہ صوبے آپ کی پیروی کریں۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ عوام کو آپ کا یہ مثالی منصوبہ پسند آئے۔ بس ہمت کریں، مثالی لاک ڈاؤن کے اس منصوبے کا بوجھ اپنے سر سے اتار کر نافذ کردیں تا کہ صوبائی حکومتوں، اداروں، عوام اور دنیا کو معلو م ہو جائے کہ کورونا وائرس کے وبا کو شکست دینے کے لئے آپ نے لاک ڈاؤن کا کون سا سا مثالی اور شہکار منصوبہ ا پنے دل و دماغ میں بنا رکھا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply