تقسیم سے پہلے کے کراچی کا نوحہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

قیام پاکستان سے پہلے کراچی ایک خوبصورت شہر تھا۔ 1885 کے دوران اس شہر میں ٹرام وے کا آغاز کیا گیا جبکہ دہلی، بمبئی اور کلکتہ میں اس کا آغاز 1902 سے 1908 کے درمیان ہوا۔ قائد اعظم نے ایوب کھوڑو سے مشورہ کر کے اس شہر کو دارالخلافہ بنانے کا اعزاز بخشا۔ جبکہ اس وقت لاہور اور دوسر شہر بھی دارالحکومت بن سکتے تھے۔ کراچی شہر اس وقت برصغیر کے جدید شہروں میں شمار ہوتا تھا۔ جہاں صفائی کا معیار ہندوستان کے تقریباً سارے شہروں سے بہتر اور اعلیٰ تھا۔

یہاں رہنے والے مقامی لوگوں میں مسلم سندھی، سندھی عامل، سندھی بھائی بندھ، میمن، گجراتی، پارسی، عیسائی، اینگلو انڈینز، اور بلوچ وہ جو تالپروں کی فوج میں تھے اکثریت ملیر کے گرد و نواح اور مکرانی جو لیاری کے پسگرداہی میں رہتے تھے۔ قیام پاکستان سے پہلے اس شہر کی اکثریت مڈل کلاس ہندو تھی۔ ان کے ہندوستان جانے سے یہاں جو خلا پیدا ہوا اسے ہندوستان سے ہجرت کرنے والوں نے پر کیا۔ اس وقت کے اعداد و شمار کے مطابق پورے سندھ صوبے سے صرف آٹھ لاکھ ہندو باشندوں نے یہاں سے ہجرت کی اور اس کے مقابلے میں انگنت لوگ ہندوستان سے سندھ میں آئے۔ اس ہجرت کے بعد یہ سلسلہ 1976 تک جاری رہا۔ ۔ جنوبی ایشیا کا کوئی اور شہر اس طرح تبدیل نہیں ہوا، جس طرح سے کراچی مکمل تبدیل ہوا۔ آپ سوچیں کہ لاہور پنجابی اکثریت کا شہر نہ رہے، ممبئی مہاراشٹر کے لوگوں کی اکثریت کا شہر نہ رہے، کلکتہ بنگالی اکثریت کا شہر نہ رہے۔

اس وقت برنس روڈ، بندر روڈ، صدر، گارڈن اور ملحقہ علاقوں میں مقامی سندھی باشندے جو کہ عامل ہندو، بھائی بندھ ہندو اور مقامی سندھی زمیندار شاندار گھروں اور اپارٹمنٹس میں رہتے تھے جن کی شاندار تعمیر کی نشانیاں آج بھی ان علاقوں میں ایستادہ ہیں۔ اس زمانے میں یہاں دو ہندو طبقات رہا کرتے تھے، جن میں ایک عامل اور دوسرے بھائی بند تھے۔

عامل وہ طبقہ تھا جو کلہوڑا اور تالپور دور میں ملازمت سے وابستہ تھا۔ یہ برطانوی راج کے دوران بھی افسرشاہی طبقہ کہلاتا تھا۔ ہیرآباد میں ان کی ایک عامل کالونی آج بھی قائم ہے، جنہیں حیدرآبادی عامل کہا جاتا ہے۔ ڈاکٹرز، انجینیئرز اور وکلا یہ سب عامل تھے۔ یہ صرف حیدرآباد تک محدود نہیں تھے بلکہ خیرپور، لاڑکانہ اور سیہون میں بھی رہائش پذیر تھے۔

ہندوؤں میں عامل اعلیٰ درجے کی ذات مانی جاتی تھی۔ کیونکہ یہ سب سے زیادہ پڑھا لکھا طبقہ تھا۔ یہ لوگ اعلیٰ عہدوں پہ بھی فائز تھے۔ حیدرآبادی عامل خود کو خدا آبادی عامل بھی کہلواتے تھے۔

بھائی بند وہ سندھی طبقہ تھا جو کاروبار سے وابستہ تھا۔ یہ لوگ تالپور حکمرانوں کے دور سے ہی کاروباری سرگرمیوں میں مصروف عمل تھے۔ یہ سلسلہ برطانوی راج تک بھی جاری رہا۔ وہ چھوٹے کارخانے دار تھے اور کسی نہ کسی صنعت سے بھی وابستہ تھے۔

1843 میں سندھ کی فتح کے بعد انگریزوں کو جب بھی سندھ کی بنائی ہوئی اشیاء کی ضرورت پڑتی تھی تب وہ اشیاء بھائی بند ہی فراہم کیا کرتے تھے۔ سندھ ورکی ان بھائی بند کو کہا جاتا تھا جن کی تجارت دور دراز ملکوں تک پھیلی ہوئی تھی۔ خام مال سے لے کر ضروریات زندگی کی دیگر اشیاء وہ بیرون ملک لے جایا کرتے تھے۔ جیسا کہ یہ تمام اشیاء سندھ میں بنی ہوئی ہوتی تھیں اس لیے اسے سندھ ورک کہا جاتا تھا، جو بعد میں سندھ ورکی ہوگیا، پھر یہ نام ایک مخصوص کاروباری طبقے سے منسوب ہو گیا۔

1947 میں تقسیم ہند کے بعد کلیمز کے ذریعے یہ خوبصورت عمارتیں تقسیم کی گئیں۔ یہ بات قابل غور ہے کہ اس طرح کی خوبصورت عمارتیں اس وقت یوپی، سی پی کے علاقوں میں بھی نہیں بن سکی تھیں بلکہ دہلی اور بمبئی میں چالیاں بڑی تعداد میں تھیں پر اپارٹمنٹس کی تعداد ہر گز اتنی نہیں تھی۔ ان خوبصورت عمارتوں میں نئے آنے والوں نے اس کی مینٹیننس کا بالکل خیال نہیں رکھا جس کی وجہ سے آج ان کی حالت قابل رحم ہے۔

آج آپ صدر چلے جائیں یہ ساری عمارتیں ان کے استعمال کرنے والوں کی بے حسی پر رو رہی ہیں۔ کراچی کے اہم علاقوں کی بہت ساری عمارتوں کو ڈھا کر نئے کامپلیکس تعمیر کیے گئے۔ حیرت کی بات ہے کہ کسی بھی حکومت نے ان شاندار عمارتوں کی تباہ حالی پر اپنی آنکھیں اور کان بند رکھے جبکہ دنیا کے مختلف ممالک کے شہروں پیرس، لندن، نیو یارک، پراگ، بڈاپسٹ اور بمبئی میں پرانی عمارتیں اب بھی اپنی شان اور آن سے قائم ہیں اور ان کا خیال رکھنے کے لئے باقاعدہ محکمے قائم کیے گئے ہیں اور مقامی شہری حکومتیں ان کی خوبصورت قائم رکھوانے کی ذمے دار ہوتی ہے۔ جس میں صفائی، رنگ اور ان کا قدیمی تشخیص برقرار رکھنا بھی شامل ہے۔ مگر آج اکہتر سالوں کے بعد ہم نے کراچی کی ان عمارات جو کہ پارسیوں، عیسائیوں اور سندھی ہندو لوگوں نے بنوائی تھیں ان کا کیا حشر کر دیا ہے۔ وہ دیکھنے کے قابل ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
الطاف داؤدپوتہ کی دیگر تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *