اور جب ہم کرونا کو چمٹے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کہانی شروع ہوتی ہے جنوری کے اختتام سے جب کرونا نے چین میں قدم جما لئے تھے۔ ہمارے باس چائنیز ہیں اور کچھ کولیگ بھی چائنیز ہیں، وہ سب چوہے والا نیا سال منانے چین گئے ہوئے تھے۔ جیسے ہی وبا پھیلی تو انہوں نے وہاں سے ہی ہمارے آفس کے لئے ہدایات جاری کر دیں جن میں سینی ٹائزر اور ماسک خریدنے اور آفس کے وقت میں نرمی شامل ہیں۔

فروری کے آخر میں پاکستان میں بھی پہلا کیس سامنے آ گیا اور پھر لاک ڈاؤن، سمارٹ لاک ڈاؤن اور کون سا لاک ڈاؤن جیسی اصطلاحات سامنے آئیں جس میں گورنمنٹ کی نا اہلی کا بار سپریم کورٹ نے بھی آگے بڑھ کر ساتھ اٹھایا تاکہ گورنمنٹ اکیلی باتیں نا سنے۔ اشرافیہ کی وجہ سے ایک نکما سا لاک ڈاؤن کرنا پڑا اور پھر انہی اشرافیہ کی وجہ سے لاک ڈاؤن کھول دینا پڑا اور نتیجہ یہ ہوا کہ وبا پاکستان میں کسی بدمست ہاتھی کی طرح پھیلتی رہی۔

خیر ہمارا آج کا مضمون ملک میں پھیلتی وبا پر نہیں ہے اس لئے اس قضیے کو ہم ادھر ہی چھوڑتے ہیں اور آگے روانہ ہوتے ہیں۔ تو ہم بات کر رہے تھے کہ کیسے ہم کرونا کو چمٹے۔ ہوا کچھ یوں کہ کرونا کسی پنڈی بوائے کی طرح موٹر سائکل کا اگلا پہیہ اٹھائے اندھا چلا آ رہا تھا اور آگے ہم اپنی مہران لئے فراٹے بھرتے جا رہے تھے، دونوں میں فرق صرف سینی ٹائزر کا تھا کہ ہم سینی ٹائزر میں نہائے پھرتے تھے۔ ایک دو دفعہ ایسا ٹاکرا ہوا جس میں ہم اڑتے ہوئے رنگوں سے کامیاب ہوئے مگر وہ کیا کہتے ہیں کہ بکری کی والدہ محترمہ آخر کب تک خیر منائیں گی تو بس یہی حالت ہماری بھی ہوئی۔ ایک دن بے احتیاطی ہوئی اور کرونا اپنے آل اولاد سمیت چڑھ دوڑے ہم پر۔ ہم کہ اپنے مورچے سے ذرا ٹانگیں سیدھی کرنے نکلے تھے، بس اسی چکر میں کرونا نے ہمیں سیدھا ہی پکڑ لیا۔

ہم کون سا چوڑیاں پہنے ہوئے تھے، لہذا ہم نے بھی وہ سارے واٹس ایپ میسج اکٹھے کیے جو عوام نے افادہ عام کے لئے مفت میں فارورڈ کیے ہوئے تھے اور اپنا لائن آف ڈیفنس بنایا۔ ہمارے لمبے چوڑے تڑنگے ڈیفنس کو دیکھتے ساتھ ہی کرونا بھائی لیٹ نہیں گئے یک دم۔ ہمیں مذاکرات کی دہائیاں دے، کبھی معافیاں مانگے مگر ہم بھی ڈھیٹوں کا امام بنے رہے۔ پہلا اور کاری وار ہم نے کرونا پر سنا مکی کا قہوہ ایک بھرے ہوئے کپ کی صورت میں پی کر کیا۔ لیں جی، اب کرونے کی چیخوں کی آوازیں آئی چاہتی ہیں، تھوڑا انتظار۔ مگر یہ کیا، آوازیں تو ہمارے پیٹ سے گڑ گڑ کی آ رہی ہیں۔ ہم نے ان آوازوں پر لبیک کہتے ہوئے واش روم کا پھیرا لگایا اور ایسے آ کر لیٹ گئے جیسے جسم میں جان نام کی کوئی چیز ہی نہیں۔

اپنا پہلا وار ناکام ہونے سے رنجیدہ ہونے کی بجائے ہم نے اپنی باقی ماندہ ہمت کو اکٹھا کیا، ایک لہسن کی تری لی، اس کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کیے اور پانی کے ساتھ دوائی کی طرح پی گئے۔ کرونا کو تو معلوم نہیں اس سے کچھ ہوا کہ نہیں مگر بیگم کی چنگھاڑتی ہوئی آواز ضرور سنی کہ اب اگر اس طرح لہسن کھا کر بوئیں پھیلائیں تو قرنطینہ سینٹر بھیج دوں گی۔ ہم کہ ٹھہرے ازل سے رن مرید، اپنے کمرے میں کونے میں دبک کر بیٹھ گئے۔

لسٹ اٹھائی اور اگلے ڈیفنس پر نظر ماری، لکھا تھا کہ گرم پانی پئیں کرونا گلے سے نیچے پھیپھڑوں تک نہیں جا سکے گا۔ ہم نے دل ہی دل میں کرونا کے خاندان کے بارے میں کچھ برا سا سوچا اور گرم سا پانی حلق میں انڈیل دیا۔ یہ کیا، پانی حلق تک کیا پہنچتا، گلے کے پہلے مرحلے سے ہی باہر ہمارے پیروں پر، اور گرم اتنا کہ پیر ہی جل گئے۔ اب زبان پر چھالے پڑ گئے، سوچا کہ آئسکریم کھا کر زبان کو راحت پہنچاتے ہیں مگر لسٹ میں لکھا پایا کہ آئسکریم نہیں کھانی۔ مرتے کیا کرتے، منہ بسورے چپ ہو بیٹھے۔

سوچا کچھ کھا کر اپنی قوت مدافعت بڑھاتے ہیں، واٹس ایپ میسجز کی رو سے چکن اور بیف بھی منع تھا، لہذا مٹن کی فرمائش کی گئی، منگل کو گوشت کی چھٹی کا سن کر ہم نے سوچا کہ پھر فروٹ کھا کر اپنی طاقت بحال کرتے ہیں مگر فروٹ مانگنے پر ہمیں یہ کہا گیا کہ فروٹ کو بازار سے لا کر دھو کر رکھ دیا گیا ہے تاکہ اگر کوئی نامراد کرونا ابھی بھی چپکا ہوا ہے تو خود ہی ناکام ہو کر زمین پر گر جائے۔ ہم نے جب دیکھا کہ ہمارے لئے فی الحال تو کچھ نہیں ہے تو بس دس بجے رات کا ٹائم تھا کہ ہم نے چھت پر چڑھ کر اذان دے دی تاکہ اللہ ہی کچھ کرے تو کرے ہمارے واٹس ایپ کے ڈاکٹر تو کرونا کے آگے رلتے پھر رہے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments