میری بہن بہت پیاری ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  • 3
  •  

\"zeffer05\"

ممتحن صاحب! پچھلے امتحان میں ’میری بھینس‘ پر جو مضمون آیا تھا، اس کی مشق کرواتے ماسٹر صاحب نے اس بات پر زور دیا تھا، کہ یوں آغاز کریں، ’میری بھینس بہت پیاری ہے‘۔ اور پھر بھینس کا رنگ روپ، اس کا چارہ کھانا، جگالی کرنا، دودھ کی مقدار کا ذکر کرنا وغیرہ بیان کرنے کو کہا تھا۔ اس وقت بھی مجھے رنگ روپ کے سوال کی سمجھ نہیں آئی تھی۔ بھینس کا رنگ تو کالا ہوتا ہے، پھر ہر بھینس ایک ہی طرح کا چارہ کھاتی ہے، اور جگالی کرتی ہے۔ اگر پرچے میں بھینس پر مضمون لکھنے کا سوال ہوتا تو میری تیاری مکمل تھی۔ اب پرچے میں بڑی بہن پر مضمون لکھنے کا سوال آیا ہے، تو میں حیران ہوں کہ کیا جواب دوں۔ پیارے ممتحن جی، مجھے لگتا ہے امتحانی پرچے میں ایسا سوال نازیبا ہے۔ اس سے میری غیرت کو شدید دھچکا لگا ہے۔ اس سوال سے ہماری صدیوں کی روایت کی نفی کی گئی ہے۔ پرچے میں اس طرح کے سوال سے میرے ایمان کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ یہ سوال کہ اپنی بڑی بہن پر مضمون لکھیں، اس کی عمر، قد کاٹھ، حلیہ، رویہ بیان کریں۔ اس طرح کے سوال کرنے والوں کو ڈوب مرنا چاہیے تھا۔ کیا ایسے سوال کرنے والوں کی اپنی بہنیں نہیں ہیں؟

\"aiou-matric-exam\"

سب سے پہلے تو یہ بتا دوں کہ میری بڑی بہن نہیں ہے۔ ایک صورت تو یہ تھی، کہ میں اتنا لکھ کر جان چھڑا لیتا، مجھ سے بڑی کوئی بہن نہیں، لیکن خدشہ ہے، اس طرح آپ اس سوال کے نمبر نہ کاٹ لیں۔ نمبروں کے حصول کے لیے میں صدیوں کی روایت، غیرت و ایمان کو ایک طرف رکھتے اپنی چھوٹی بہن پر مضمون لکھ رہا ہوں، جو اب چار بچوں کی ماں ہے۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو وہ بڑی ہوگئی ہے۔ اس کے بچے اب اس کو یہی کہتے ہیں، کہ آپ ماموں سے بڑی لگتی ہیں۔ یہ بات سن کر مجھے کتنی خوشی ہوتی ہے، یہ یہاں بتانے کا محل نہیں۔ تو مضمون کا آغاز یوں کرتا ہوں، ’میری بہن بہت پیاری ہے‘۔ اتنا لکھنے کے بعد مجھے کچھ اور نہیں سوجھ رہا، ما سوائے اس کے کہ وہی سب باتیں لکھ دوں، جن باتوں کا ذکر ’میری بھینس‘ میں تھا۔ آخر بھینس بھی تو کسی کی بہن ہے۔ چارہ کھاتی ہے، جگالی کرتی ہے۔ اور بالآخر شادی کے بعد بھینس بن جاتی ہے۔

ممتحن صاحب! میں نے سوچا ہے، مجھے ماسٹر صاحب کے لگوائے رٹوں سے ہٹ کر وہ لکھنا چاہیے جو احوال ہے۔ اس لیے میں بہن پر مضمون لکھنے سے پہلے یہ ضروری سمجھتا ہوں، کہ اپنے خاندانی پس منظر سے آگاہ کروں، تا کہ آپ کو پتا چلے ایسے خاندان میں پیدا ہونے والی بہنیں کیسی ہوتی ہیں۔ ہم جہاں پلے بڑھے، وہ گھر مشترکہ خاندانی نظام کا آئنہ دار تھا۔ نصیب کی کیا کہیے، کہ ہم بہن بھائی کی پرورش اس لبرل گھرانے میں ہوئی، جہاں لڑکوں کو اتنی اہمیت نہ دی جاتی تھی، جتنا لڑکیوں سے پیار کیا جاتا۔ بچے آپس میں لڑ پڑیں تو کتا کمینہ الو کا پٹھا، اور انتہائی غصہ ہو، تو ’ذلیل‘ کہ دیا جاتا۔ ’ذلیل‘ کہنے پر بہت مار پڑتی۔ لیکن ایسا لڑکے کہیں تو انھیں مار پڑتی تھی، لڑکیوں کی موج تھی، کیوں کہ اس خاندان میں عورت پر ہاتھ اٹھانا بے شرمی سمجھا جاتا ہے، لہذا خاندان کی لڑکیوں کے لیے ستے خیراں تھی۔ ہم لڑکے بھی ایسے ذہین تھے، کہ داؤ لگتے ہی بہنوں پر ہاتھ اٹھا لیتے تھے۔ زیادہ سے زیادہ کیا ہونا تھا، کسی بڑے نے بے عزتی ہی کرنا ہوتی، کہ تم مرد نہیں‌ ہو، جو عورت پر ہاتھ اٹھاتے ہو! یہی امتیازی سلوک تھا، کہ ہم لڑکے اپنی بہنوں کو ٹکر ٹکر دیکھتے تھے، کہ انھیں کون سے سرخاب کے پر لگے ہیں، جو ہم ان کے سامنے رذیل ہیں۔ ٹکر ٹکر دیکھنے کی وجہ ہی سے مجھے اپنی بہن کا حلیہ یاد ہے۔

عمر اور ظاہری حلیہ:

میری بہن مجھ سے سوا سال چھوٹی ہے۔ قد لگ بھگ پانچ فٹ چھہ انچ ہے؛ جسم ایسا ہے، کہ جیسا ہمارے ملک کی کسی بھی چار بچوں کی ماں کا ہوتا ہے۔ وہ ہمیشہ ایسی بے ڈھب نہ تھی، چوں کہ میں اسے بچپن سے جانتا ہوں، جب ہم ایک ساتھ کھیلا کرتے تھے، پھر ہمارا لڑک پن بھی ایک ساتھ گذرا ہے، تو میں یقین سے کہتا ہوں، وہ ایسی نہ تھی، جیسی ہو گئی ہے۔ بچپن میں وہ دھان پان سی تھی۔ امی اس کے بالوں کی دو پونیاں بنایا کرتی تھی۔ لڑک پن میں اس نے بال کٹوا لیے تھے۔ شادی سے پہلے وہ متناسب اعضا کی مالک تھی۔ چہرے مہرے کی ایسی تھی، کہ قبول صورت کہا جا سکتا ہے۔ مجھے کبھی ایسا نہیں لگا، کہ میری بہن حسین ہے۔ چوں کہ میری اس سے لڑائی بھی بہت ہوتی تھی، تو حسین لگنے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا تھا، لیکن سچ کہوں تو پھر بھی لڑکے اسے پسند کرتے تھے۔ شاید اس میں کشش ہو۔ ایسی کشش جو ایک بھائی کو دکھائی نہ دیتی ہو، ایسی کشش جو دوسرے لڑکوں کو دکھائی دیتی ہے۔ ممتحن صاحب! میں ایک نارمل انسان ہوں، اور نارمل انسان اپنی بہنوں سے بڑھ کر دوسروں کی بہنوں میں دل چسپی رکھتا ہے۔ اس سماج میں اپنی بہنوں کو غور سے دیکھنے کی نوبت اس وقت آتی ہے، جب اُن پر بہت غصہ آئے۔ اگر آپ کہتے کہ میں آپ کی بہن پر مضمون لکھوں تو میں دس صفحوں کا مضمون لکھ سکتا تھا۔ اس کا متن بھی اس مضمون سے بہت دل چسپ ہوتا۔ ہیر، لیلٰے، سسی، شیریں، رانو یہ بھی تو کسی کی بہنیں ہیں، لیکن ہم ان کے قصے بڑے مزے لے لے کر سنتے ہیں، پڑھتے ہیں۔ امید ہے اپنی ہی بہن پر میرے اس مضمون لکھنے کی ادنیٰ کاوش کو بہت سمجھا جاوے گا، اور پورے پورے نمبر دیے جائیں گے۔

رویہ اور سیرت:

\"sibling-brother-sister\"
میری بہن سیرت کی ایسی کہ ہمیشہ میری چیزیں مثلا پین کاپی کتاب چھپا دیتی اور میں ڈھونڈ ڈھونڈ پاگل ہو جاتا۔ مجھے امی سے ڈانٹ پڑتی کہ اپنی چیزیں نہیں سنبھال سکتا، اور وہ بیٹھی میٹھی میٹھی مسکراہٹ بکھیرتی، جیسے کہتی ہو، اب پتا چلا بچو! مجھ سے الجھو گے، تو کہیں کے نہ رہو گے! آپ اندازہ کرسکتے ہیں، کہ ایسی بد سیرت بہن جس بھائی کی ہو، وہ بے چارہ کتنا خوار ہوتا ہوگا۔ اس کی عادت تھی اور ہے کہ وہ بچت کرنا جانتی ہے۔ اس کے مقابلے میں میں ہمیشہ فضول خرچ سمجھا جاتا رہا ہوں۔ جیسا کہ فضول خرچ طالب علم کے ساتھ ہوسکتا ہے، ویسا ہی نتیجہ نکلتا۔ مجھے ہر مہینے جو پاکٹ منی ملتی، وہ پہلے دس دن ہی میں ختم ہو جاتی۔ جب کہ میری بہن مہینا ختم ہونے پر بھی کچھ نہ کچھ پس انداز کر لیتی۔ یہ کنجوسی نہیں تو اور کیا ہے، جب کہ امی ہمیشہ مجھے جتلاتیں کہ اپنی بہن سے کچھ سیکھو۔ دیکھو یہ کیسی سگھڑ ہے۔ ممتحن صاحب! ایسی بہنوں کا کیا فائدہ جو قدم قدم پر بھائیوں کو نیچا دکھاتی ہوں۔

\"brother-sister-5\"

میری بہن بد زبان ایسی کہ میں دعا کیا کرتا کہ اس کی شادی کسی دیو سے ہو جائے اور وہ پلٹ کر کہتی، کہ تیری شادی کسی چڑیل سے ہو جائے۔ (گمان ہوتا ہے، اس کی دعا قبول ہو گئی ہے۔ خدا بھی عورتوں ہی کی سنتا ہے) پھر اس کی شادی ہوگئی، تو اس مکار کے رویے بھی بدل گئے۔ خواہ مخواہ موقع بے موقع مجھ سے پیار کا ڈھونگ رچانے لگی۔ میں جب بھی کسی مشکل میں ہوتا، وہ مدد کو آ جاتی۔ یہ ناٹک نہیں تو اور کیا ہے۔ سامنے کی بات ہے، وہ دُنیا کو دکھانا چاہتی ہے، کہ وہ بہت اچھی ہے، اور میں نکھٹو۔ اس کے بچے کہیں، کہ ماموں بہت اچھے ہیں، تو جل بھن کر میری خرابیاں گنوانے لگتی ہے، کہ تمھارے ماموں نے آج تک کیا ہی کیا ہے؛ کیا تیر مار لیا! نہ پیسا کمایا، نہ زمانے کے ساتھ چلا، نہ ڈھنگ سے جیا۔ شاید ٹھیک کہتی ہے، میں زمانے کے ساتھ چلتا، تو آج اپنی بہن پر مضمون لکھنے کے بہ جائے غیرت مند بھائیوں کی طرح ایسے سوال کرنے والے کا گریبان پکڑتا۔ مجھ پر تقید وہ اس وقت کرتی ہے، جب میں سامنے ہوتا ہوں۔ میرے سامنے اپنے بچوں کو کوستی ہے، یہ تو ماموں پر چلے گئے ہیں۔ نہ جانے کیوں ایسا کوسنے دیتے اس کے چہرے پر ایک تسکین بھری مسکراہٹ پھیل جاتی ہے، کہ مجھے شبہہ ہوتا ہے، وہ بچوں کو میرے نام کا طعنہ ہی اس لیے دیتی ہے، کہ اس کے بچے ضد میں آ کر اپنے ماموں جیسے بن جائیں۔ خیر یہ تو شبہہ ہے، ورنہ کون بہن ہے، جو اپنے بچوں کو اپنے بھائی جیسا بنتے دیکھنا چاہتی ہو۔

\"brother-sister-4\"

ممتحن صاحب! میرے پاس وہ الفاظ نہیں ہیں، کہ میں اپنے دکھوں کو صحیح سے واضح کر سکوں۔ لبرل فاشسٹ خاندان میں پرورش پانے کی وجہ سے میری سیرت میں بھی کچھ خرابیاں پیدا ہو گئیں ہیں۔ مجھے اعتراف ہے، کہ میری چھوٹی بہن میرے ساتھ بالکل وہی رویہ اپنائے ہوئے ہے، جیسے وہ میری ماں ہو۔ میری چھوٹی بہن مجھے ڈانٹتی ہے، تو میں ہنستا رہتا ہوں، اور میرے بچے تالیاں بجاتے ہیں، کہ ابو کو کوئی تو ڈانٹے والا ملا۔ ممتحن جی! دوسری خرابی یہ ہے کہ میں اپنی بیٹیوں کو بہت پیار کرتا ہوں۔ انھیں غور سے دیکھتا ہوں۔ انھیں ہنستے کھیلتے دیکھ کر خوف نہیں آتا۔ وہ بلند آواز میں قہقہہ لگائیں تو مجھے خیال ہی نہیں آتا کہ انھیں ٹوکوں کہ وہ اپنی اواز نیچی کر لیں، کہ گلی سے گذرتا کوئی نامحرم ان کے قہقہے کی آواز سن کر محظوظ نہ ہو۔ میری بدقسمتی دیکھیے، کہ میری بیٹیاں بھی میری بہن کا پرتو ہیں۔ میری بڑی بیٹی کے ہاتھ بالکل ویسے ہی ہیں، جیسی اس کی پھپھو کے۔ ستم یہ کہ مجھے یہ دیکھ کر خوشی بھی ہوتی ہے۔ اس سے چھوٹی بیٹی تو خباثتوں میں پھپھی کی ہو بہ ہو تصویر ہے۔ وہی مکاریاں، وہی بہن بھائی کو زچ کرنے کی عادتیں۔ اور وہی کنجوسی کی نادر مثالیں، کہ پوری کی پوری پاکٹ منی بچا رکھتی ہے۔ پھر اپنی اس خرابی کی کیا کہوں، کہ میرا بیٹا اپنی بہنوں پر ہاتھ اٹھا لے تو میرا پارہ چڑھ جاتا ہے۔ میں کسی توتے کی طرح اپنے بزرگوں کے کہے الفاظ دُہرانے لگتا ہوں، ’بیٹا بہنوں پر ہاتھ نہیں اٹھاتے‘۔ ممتحن صاحب! میرا یہ مضمون شکستہ ہے، لیکن مجھے لگتا ہے، کل کو میرا بیٹا اپنی بہن پر جو مضمون لکھے گا، وہ اس سے کہیں بہ تر ہوگا۔ وہ یوں آغاز کرے گا، ’میری بہن بہت پیاری ہے۔ وہ میری ماں کی جیسی ہے‘۔ آنے والی کل میں اور کچھ ہو نہ ہو، بہ ہر حال امید تو ہوتی ہے۔


علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے اگلے امتحان کے لیے کچھ اور منتخب سوال
image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  • 3
  •  

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

ظفر عمران

ظفر عمران کو فنون لطیفہ سے شغف ہے۔ خطاطی، فوٹو گرافی، ظروف سازی، زرگری کرتے ٹیلے ویژن پروڈکشن میں پڑاؤ ڈالا۔ ٹیلے ویژن کے لیے لکھتے ہیں۔ ہدایت کار ہیں پروڈیوسر ہیں۔ کچھ عرصہ نیوز چینل پر پروگرام پروڈیوسر کے طور پہ کام کیا لیکن مزاج سے لگا نہیں کھایا، تو انٹرٹینمنٹ میں واپسی ہوئی۔ فلم میکنگ کا خواب تشنہ ہے۔ کہتے ہیں، سب کاموں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑا تو قلم سے رشتہ جوڑے رکھوں گا۔

zeffer-imran has 264 posts and counting.See all posts by zeffer-imran

3 thoughts on “میری بہن بہت پیاری ہے

  • 13/11/2016 at 10:43 pm
    Permalink

    ….Laajawaab

  • 14/11/2016 at 1:04 am
    Permalink

    sir,simply, great, great and great

Comments are closed.