چین میں آٹھ سال (پہلی قسط)۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وہ ستمبر 1985 کا کوئی دن تھاجب ہم بیجنگ ایئر پورٹ پر اترے۔ احفاظ کے دفتر کے کچھ لوگ ہمیں لینے آئے ہوئے تھے۔ ہمارا سامان کراچی ایئر پورٹ پر ہی رہ گیا تھا۔ اس زمانے میں چین کے حاجی پاکستان کے راستے حج کرنے جاتے تھے۔ وہ حاجیوں کی واپسی کے دن تھے۔ پہلے تو ہماری تصدیق شدہ ٹکٹوں کے باوجود ہمیں سیٹیں نہیں مل رہی تھیں۔ بہت شور شرابا کرنے پر ہمیں بٹھا تو لیا گیامگر سامان نہیں چڑھایا گیا کیونکہ واپس چین جانے والے حاجیوں کا سامان بہت زیادہ تھاچنانچہ ہم بغیر سامان کے بیجنگ پہنچے۔ ہماری نشستیں درجۂ اول میں تھیں اور جتنی خوبصورت اور سرو قدفضائی میزبان ہمیں اس پرواز میں نظر آئیں ویسی بیجنگ میں کبھی دکھائی نہیں دیں۔

احفاظ کو چین کی وزارت ثقافت نے غیر ملکی زبانوں کے اشاعت گھر میں اردو سیکشن میں ”غیر ملکی ماہر“ کی حیثیت سے بلایا تھا۔ ہماری شادی سے پہلے بھی احفاظ ثقافتی انقلاب کے دوران اس محکمے میں کام کر چکے تھے۔ ہماری رہائش کا انتظام فرینڈشپ ہوٹل (یوئی پنکوان) میں کیا گیا تھا۔ کہتے ہیں کہ یہ ایشیا کا سب سے بڑا گارڈن ہوٹل ہے۔ اس ہوٹل کے اندر غیر ملکی ماہرین کے لئے بہت سی چھوٹی چھوٹی چار منزلہ بلڈنگز بنی ہوئی ہیں جو ابتدا میں 1949 کے انقلاب کے بعد نئی حکومت کی مدد کے لئے آنے والے روسی ماہرین کی رہائش کے لئے بنائی گئی تھیں۔

بعد میں جب سوویت حکومت اور ماؤزے تنگ کی حکومت کے درمیان اختلافات پیدا ہوئے تو ان ماہرین کو واپس بھیج دیا گیا تھا۔ خیر یہ تو بر سبیل تذکرہ تھا۔ ہم تو دینگ سیاؤ پنگ کی ”اوپن ڈور پالیسی“ والے دور میں وہاں گئے تھے۔ احفاظ نے کراچی میں ہی خبردارکر دیا تھا کہ اب چین وہ نہیں رہا جس کے تم نے خواب دیکھے تھے، اس لئے زیادہ امیدیں لے کر مت جانا۔ لیکن ہمیں تو خوشی اس بات کی تھی کہ ضیا ء الحق کی آمریت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی گھٹن اور پریشانیوں سے دور جانے کا موقع مل رہا تھا۔

سامان تو ہمارے پاس تھا نہیں اس لئے تو لی شنگ صاحب ہمیں ہوٹل کے مقابل واقع ایک بڑی سی دکان میں لے گئے۔ دکان بڑی تھی مگر سامان کم تھا، ادھیڑ عمر کی سیلز ویمن کو گاہکوں سے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ جس چیز کے بارے میں پوچھو، جواب ملتا تھا ”مے یو“ یعنی نہیں ہے۔ احفاظ تو خیر اچھی خاصی چینی بول لیتے تھے مگر میں نے چینی زبان کا جو پہلا لفظ سیکھا وہ ’مے یو‘ تھا۔

ہوٹل پہنچ کر ہماری ملاقات اشتیاق صاحب اور ان کی فیملی سے کروائی گئی۔ اشتیاق صاحب ماہنامہ چین با تصویر میں کام کرتے تھے۔ انہیں جب ہماری بے سرو سامانی کا علم ہوا تو ان کی بیگم نے اپنے کئی جوڑے ہمیں پہننے کے لئے دے دیے۔ جب تک ہمارا سامان کراچی سے نہیں پہنچا، ہم بیگم اشتیاق کے کپڑے ہی پہنتے رہے۔ اس دوران دفتر والے ہمیں بیجنگ کی سیر کراتے رہے۔ بیگم اشتیاق کے والد کی پوسٹنگ پاکستانی سفارت خانے میں تھی۔ ان کی وجہ سے ہمیں پاکستانی سفارت خانے جانے اور بچوں کو سفارت خانے کے اسکول میں داخل کرانے میں آسانی رہی۔

یہ اسکول پاکستانیوں کے لئے ایک نعمت سے کم نہیں تھا کیونکہ اس کا الحاق پاکستان کے فیڈرل تعلیمی بورڈ سے تھا اور ذریعۂ تعلیم انگریزی تھا جب کہ چینی اسکولوں میں ذریعہ ء تعلیم چینی تھا اور چند سالوں بعد پاکستان جانے والے خاندانوں کے لئے اس کا کوئی فائدہ نہیں تھا۔ اس کا متبادل امریکن اسکول تھا جو اتنا مہنگا تھا کہ افریقی، ایشیائی اور مشرقی یورپی ممالک کے بچے بھی اسی پاکستانی اسکول میں پڑھنے آتے تھے، صرف ہندوستانی بچے اس اسکول میں نہیں آتے تھے کیونکہ ان کے سفارتخانے والوں کا کہنا تھا کہ پاکستانی اسکول میں پڑھایا جانے والا سوشل اسٹڈیز کا مضمون ہندوستان دشمنی پر مبنی ہے چنانچہ ہندوستانی بچے امریکن اسکول میں پڑھتے تھے اور اس کے لئے ہندوستان کی حکومت اپنے ملازمین کو خصوصی الاؤنس دیتی تھی۔ (جاری ہے )

اس سیریز کے دیگر حصےچوتھی قسط ثقافتی انقلاب۔ شروع سے آخر تک غلطچین میں آٹھ سال (قسط 2 )۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments