شہیدوں کا حساب کب برابر ہوگا


\"edit\"خوف ، بے یقینی اور بے بسی کے ماحول میں سب ڈھول گلے میں ڈالے اپنا اپنا موقف چلا چلا کر پوری دنیا کو سنانا چاہتے ہیں۔ وہ سب مل کر حکومت کو ذمہ دار سمجھتے ہیں۔ حکومت دہشت گردی کے واقعات میں 80 فیصد کمی کی نوید دیتے ہئے اعلان کرتی ہے کہ اتنا کچھ ہوا ہے تو باقی سب بھی ٹھیک ہو جائے گا۔ ایک آواز اس کوتاہی کا ذمہ دار دوسروں کو اور دہشت کے خلاف کھڑے ہونے کا کریڈٹ خود لینے کا دعویٰ دائر کر رہی ہے۔ اب باقی سارے واضح کرنا چاہتے ہیں کہ یہ دعویٰ غلط ہے۔ کراچی، اسلام آباد اور لاہور کے محفوظ ائر کنڈیشنڈ اسٹوڈیوز میں طوفان اٹھانے والے ان سب لوگوں سے دور بلوچستان کے دور دراز پہاڑی علاقے میں درگاہ شاہ نورانی پر ہونے والے ایک خودکش دھماکہ میں تین درجن سے زیادہ لوگ جاں بحق اور بیسیوں زخمی ہوئے ہیں۔ یہ دھماکہ مغرب کے وقت روایتی صوفی دھمال کے موقع پر درگاہ کے اندر کیا گیا تھا۔ امدادی کارروائیوں کےلئے فوج کو طلب کیا گیا اور کراچی سے ایمبولینسز رات گئے امداد فراہم کرنے اور زخمیوں کو منتقل کرنے کےلئے سانحہ کے مقام پر پہنچ سکی تھیں۔ ابھی یہ طے نہیں ہو سکا کہ کتنے لوگ جان سے گئے اور کس کس گھر میں صف ماتم بچھی ہے۔ کس کا باپ ، بھائی اور بیٹا اب دنیا میں نہیں رہا۔ کتنے بچے زندگی کی بہار دیکھنے سے پہلے ہی خونخوار آگ نے نگل لئے۔ کتنی خواتین جان سے گئیں۔ بم پھوٹتے ہیں تو یہ بڑے چھوٹے اور اچھے برے کی پہچان نہیں کرتے۔ اطلاعات کے مطابق یہ خودکش دھماکہ 14 سال کے ایک بچے نے کیا ہے۔ ابھی یہ معلوم نہیں کہ اس حیوانیت کے پیچھے کون لوگ ملوث ہیں۔

ٹیلی ویژن اور سوشل میڈیا پر یہ خبر دیکھنے والے پاکستانی اپنے اپنے گھروں میں دل گرفتہ ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ جاری ہونے والے سارے بیان ، غم اور دکھ کے سارے پیغام ، دہشت گردوں کو نیست و نابود کرنے کے سارے دعوے طفل تسلیاں ہیں۔ اب تو یوں لگتا ہے کہ یہ بیان پاکستان کے عوام کےلئے نہیں بلکہ خود کو مطمئن کرنے کےلئے جاری کئے جاتے ہیں۔ یہ تسلی کرنے کےلئے کہ ہم ابھی اس دہشت سے محفوظ ہیں اور بیان جاری کرکے اپنے ہونے کا ثبوت دے سکتے ہیں۔ جس طرح سننے والوں کو ان بیانات اور غم و افسوس کے اعلانات کا اعتبار نہیں ہوتا، بیان جاری کرنے والے قوت و حکمرانی کے مراکز اور ان کے سربراہوں کو بھی اپنے حرفوں کی صداقت مشکوک ہی دکھائی دیتی ہوگی۔ کیونکہ وہ اپنی بے بسی کو دوسروں سے زیادہ پہچانتے ہیں۔ بس وہ اس کا اظہار نہیں کرسکتے۔ ہر سانحہ پر دشمن کو فنا کر دینے کا ڈھونگ ضرور کر سکتے ہیں۔ پندرہ برس سے یہ قوم اپنوں کی لاشیں اٹھا رہی ہے۔ بلوچستان میں گزشتہ چار ماہ کے دوران یہ چوتھا سانحہ ہے۔ اگست میں سول اسپتال میں سوگوار وکیلوں پر ہونے والے حملہ میں 70 افراد جاں بحق ہوئے۔ اکتوبر میں کوئٹہ کے قریب دہشت گردوں نے پولیس اکیڈمی میں گھس کر 61 نوجوان افسروں کو شہید کر دیا۔ اب بلوچستان کے دور دراز پہاڑی علاقے پر واقع 500 سال پرانی درگاہ کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ 40 شہادتوں کی اطلاع ہے لیکن ان میں اضافہ کا اندیشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔ یہ درگاہ ایسے دور دراز علاقے میں واقع ہے کہ ابتدائی امداد کےلئے بھی فوجی طبی ٹیم کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے وہاں پہنچنا پڑا۔ کراچی نزدیک ترین شہر ہے۔ راستہ مشکل ہے اور پاکستانی ایمبولینسز میں شدید زخمیوں کا علاج کرنے کی سہولت دستیاب نہیں ہوتی۔ کوئی کہہ نہیں سکتا کہ کتنا جانی نقصان ہوا ہے۔ اور کتنے مناسب وقت پر امداد نہ ملنے کے باعث جان سے جائیں گے۔

لیکن کیا اس سے فرق پڑتا ہے۔ گزشتہ دہائی کے دوران مرنے والے چالیس ، پچاس یا ساٹھ ہزار میں چند درجنوں کا اضافہ ہی تو ہے۔ جو رویے ہزاروں لاشوں کا بوجھ اٹھا کر تبدیل نہیں ہوئے، وہ بلوچستان کے نامعلوم علاقے میں مرنے والے چند درجن لوگوں کے خون آلود چہرے دیکھ کر کیسے بدل جائیں گے۔ یہ پتھر دل تو صوبے کے لائق فائق وکیلوں کو دفناتے ہوئے بھی نرم نہیں ہوتے اور پولیس اکیڈمی کے جوانوں کے لاشے اٹھاتے ہوئے بھی احساس کی کوئی خاص رمق بیدار نہیں ہوتی۔ بے حسی کا یہ عالم ہے کہ لگنے لگا ہے کہ اب ہمارا کام صرف لاشیں اٹھانا ہے۔ کبھی عقیدہ کے نام پر نشانے پر آئے ہوئے بے گناہوں کی اور کبھی اسلامی نظام نافذ کرنے کے نام پر جہدوجہد کو آگے بڑھانے کےلئے کسی بھی ہجوم ، اسکول ، یونیورسٹی یا اسپتال میں جمع لوگوں کو سنگین پر چڑھا کر یہ بتانا مقصود ہوتا ہے کہ وہ قوتیں موجود ہیں، پھل پھول رہی ہیں اور اپنا مقصد پانے کےلئے کسی بھی جگہ، کبھی بھی وار کرنے کےلئے تیار ہیں۔ ہم اعلان کرتے ہیں، مقابلہ کرنے کا عزم کرتے ہیں، مجرموں کو سزا دینے کا وعدہ کرتے ہیں اور وہ ہر تھوڑے وقفے کے بعد ہمیں اپنے عہد کی یاد دہانی کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ وہ سرخرو ہو رہے ہیں کہ وہ خوف اور بے چینی پیدا کرنے میں کامیاب ہیں۔ ہم دعوے کرتے ہیں کہ ان کی کمر ٹوٹ گئی اور اب وہ لاچار ہیں لیکن ہمارے جوانوں ، بچوں ، بوڑھوں اور عورتوں کی لاشیں گرا کر وہ ثابت کرتے ہیں کہ بے بس اور لاچار ہم ہیں۔

ہمارا نظام مستحکم ہے۔ لاکھوں جوان اور درجنوں انٹیلی جنس ایجنسیاں دن رات اس ملک میں آباد لوگوں کی حفاظت میں سرگرم عمل ہیں۔ ہمارا فخر ہے کہ دنیا کی بہترین انٹیلی جنس ایجنسیاں پاکستان کے پاس ہیں۔ ہم کل عالم کی خبر رکھتے ہیں۔ ہم دشمن کے سینے میں چھپے راز جان لیتے ہیں۔ زمین کے سات پردوں اور سمندر کی بے قابو لہروں میں چھپی سازشوں کا سراغ لگا سکتے ہیں۔ بس کچھ یوں ہوتا ہے کہ ہم بڑے کاموں میں مصروف رہتے ہیں اور اس دوران دشمن خاموشی سے 14 سال کے ایک بچے کو جسم سے بم باندھ کر عقیدت سے جھومتے لوگوں کے ہجوم میں جا کر دھماکہ کرنے کےلئے تیار کر لیتا ہے۔ ہم اس مدرس تک نہیں پہنچ پاتے جو اس کم سن کے ذہن میں زہر گھول رہا ہوتا ہے۔ ہمیں وہ ماں باپ دکھائی نہیں دیتے جو اپنے لخت جگر کو سفاک درندوں کے حوالے کرتے ہوئے یہ سمجھ رہے ہوتے ہیں کہ وہ انہیں دین کی تعلیم کےلئے بھیج رہے ہیں۔ ہم ان اسمگلروں ، بھتہ خوروں ، بدعنوانی کرنے والوں اور غیر قانونی طریقے سے دولت کمانے والوں تک پہنچنے سے قاصر رہتے ہیں جو اپنے ناجائز دھندے جاری رکھنے کےلئے کچھ وسائل ان لوگوں کو فراہم کرتے ہیں جو معصوموں کو خودکش بمبار بنانے، نوجوانوں کو دین کے نام پر نفرت کا جھوٹا سبق پڑھا کر دہشت گردوں میں ڈھالنے اور مفت تعلیم کا جھانسہ دے کر والدین کو اپنی اولاد ان کے حوالے کرنے کا گھناؤنا کام کرتے ہیں۔

اور یہ لوگ چھپے ہوئے کہاں ہیں۔ یہ تو ہمارے بیچ رہتے ہیں۔ کوئی لاہور کے عین بیچ بہت بڑا دارالعلوم بنا کر، کوئی بہاولنگر میں درسگاہوں کی صورت میں اور کوئی عین وفاق کے قلب میں لال مسجد کو اپنا مسکن بناتا ہے۔ وہ کب اپنے آپ کو چھپاتے ہیں۔ وہ تو ظاہر ہیں۔ بتا رہے ہیں کہ اس ملک میں آباد لوگوں کو نفرت کرنے اور اس کی قوت پر آگے بڑھنے کا اذن ملا ہے۔ وہ یہ سبق عام کرتے ہیں۔ مگر ہمارا قانون ان کا راستہ کاٹنے سے گریز کرتا ہے۔ ہم اس کوچے کو جاتے ہوئے کانوں کو لپیٹ لیتے ہیں اور اپنی اپنی حیثیت کے مطابق حق خدمت بھی ادا کرتے ہیں اور مدد و سرپرستی کے خواستگار بھی ہوتے ہیں۔ کسی کو نیا معاشرہ بنانے کےلئے مدرسوں کو جدید بنانا ہے تو وہ دولت کا انبار قدموں میں ڈھیر کر دیتا ہے۔ کسی کو سیاسی مخالفین کے شر سے حفاظت کےلئے ان کی اعانت درکار ہے اور وہ ان کی پیٹھ ٹھونکتا ہے اور کوئی وسیع تر قومی مفاد میں کشمیر کے مظلوموں کی آواز پاکستان کے بچے بچے تک پہنچانے کےلئے انہیں اپنا اثاثہ سمجھتا اور ان کی حفاظت پر مجبور ہے۔ اسی لئے ہم انہیں ہر اس جگہ تلاش کرتے ہیں جہاں ان کا سراغ نہ مل سکے۔ ہماری توپیں اور فضائیہ کے طیارے قبائلی علاقوں کے ویران پہاڑوں کو راکھ میں بدل کر ان بدطنیت عناصر کا خاتمہ کر رہے ہیں۔ لیکن ہمیں اپنے گریبان میں جھانک کر انہیں پہنچاننے کا موقع نہیں ملتا۔

ہم گلی ، محلے اور دیہات کی مسجد میں نفرت پھیلانے والے مبلغ تک نہیں پہنچ پاتے۔ ہم ان مدرسوں کو بھی دیکھ نہیں سکتے جو قرآن کی آیات پڑھاتے ہوئے بچوں کو محبت ، انسانیت اور عالمگیریت کا درس دینے کی بجائے نفرت ، جنگ و جدل اور ایک ایسی برتری کا سبق پڑھاتے ہیں جس کے حصول کےلئے بندوق اٹھانا ، بم کا دھماکہ کرنا ، انسانوں کو مارنا ، ماؤں کی گود اجاڑنا ، دوسرے عقیدہ کے جلسوں جلوسوں کو انسانی لاشوں کے انبار میں بدلنا ۔۔۔۔۔۔۔ اور اس قسم کے ہر کام کو دینی فریضہ قرار دیا جاتا ہے۔ کہ یہ لوگ منظم ہیں اور چاہیں تو ڈنڈا بردار طالب علموں کا ہجوم سڑکوں پر لا کر ہمارے شہروں کو بند اور ہماری زندگی کو اجیرن کر سکتے ہیں۔ اسی لئے ان کے لیڈر ببانگ دہل وہ سب کہتے اور کرتے ہیں جن سے فساد فی الارض پیدا ہوتا ہے۔ لیکن ہمارا سراغ رسان نظام ، عسکری قوت اور سیاسی صلاحیت ایسے سب سرکشوں کے ساتھ مصالحت سے معاملات طے کرنے کو ضروری سمجھتی ہے۔ اسی کو عملیت پسندی PRAGMATISM کہتے ہیں۔ یہی سیاسی ہنر مندی ہے۔

ہم سمجھتے ہیں کہ انہیں باتوں میں لگا کر ہم اپنا مقصد حاصل کر رہے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ ہمیں باتوں میں لگا کر وہ وار کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ یہی کیا۔ ہم تو نظر بھر کر اپنی کتابوں کو بھی نہیں دیکھتے۔ پہلی سے دسویں تک کے اس نصاب کو بھی پڑھنے کی زحمت نہیں کرتے جو تاریخ کے نام پر جھوٹ ، عقیدہ کے نام پر نفرت ، وطنیت کے نام پر تعصب اور ثقافت کے نام پر احساس برتری (جو دراصل احساس کمتری کی بدتر شکل ہوتی ہے) سکھاتا ہے۔ ہمیں سیاست ، باہمی کھینچا تانی اور ملکی معاملات پر اتفاق رائے پیدا کرنے کے مشکل اور جاں گسل کام سے فرصت ملے تو اس طرف بھی توجہ دیں۔ اس دوران اگر دو چار نسلیں نفرت کے جھنڈے اٹھائے ، جھوٹ کی بنیاد پر خود کو رستم زماں سمجھتے ہوئے پروان چڑھتی ہیں تو اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ قومیں کوئی دس بیس پچاس برس میں تو نہیں بنتیں۔ اس کام میں تو صدیاں صرف ہوتی ہیں۔ ہم نے تو ابھی سفر کا آغاز کیا ہے۔

سفر کا یہ آغاز فی الحال ہمیں ایک دوسرے کی پگڑی اچھالنے اور ٹانگیں کھینچنے کا سبق سکھا سکا ہے۔ اس کھیل میں ہمیں بہت مزا بھی آ رہا ہے۔ کبھی ہم میمو گیٹ کھیلتے ہیں اور کبھی ڈان لیک کا مزا لیتے ہیں۔ بیچ میں منہ کا ذائقہ بدلنے کےلئے پاناما لیکس کی بساط بھی بچھا لیتے ہیں۔ کبھی صدر کو چور کہتے ہیں اور کبھی وزیراعظم لٹیرا نکلتا ہے۔ پھر سارے تالیاں پیٹتے چور ڈاکو کے نعرے لگاتے قوم کو یہ باور کروانے کی کوشش کرتے ہیں کہ ان چوروں سے نجات حاصل نہ کی تو ہم عظیم قوم نہیں بن سکتے۔ اس دوران کوئٹہ ، چارسدہ اور خضدار میں لاشیں گرتی ہیں تو کسی پرانے متن کو تازہ کرکے ازسرنو ٹویٹ کیا جا سکتا ہے۔ یہ کام تو روز ہی ہوتے ہیں۔ یہ نالائق اور کرپٹ حکومت کی کارستانی ہے۔

ہو سکتا ہے یہ تازہ دھماکہ بھی کسی سازش کا نتیجہ ہو۔ حکمران اپنا تخت بچانے کےلئے کچھ بھی کر سکتے ہیں۔ یہ بھی ممکن ہے، یہ دشمن کی سازش ہو۔ اس کے جاسوس پورے صوبے میں پھیلے ہوئے ہیں۔ وہ کشمیر سے توجہ ہٹانے کےلئے پاکستان میں اپنے ایجنٹوں کے ذریعے تخریب کاری کرواتے ہیں۔ اور ہم جو اپنے جگری چین کے ساتھ مل کر سی پیک کے نام سے ترقی کے شاندار سفر پر روانہ ہو رہے ہیں، دشمنوں نے ضرور اسی کو نقصان پہنچانے کےلئے دہشت گردی کی یہ سازش کی ہوگی۔ اسلام اور پاکستان کے دشمن کب چاہتے ہیں کہ ہم ترقی کریں۔ فکر نہ کریں۔ ان سب سازشوں کا پردہ چاک ہو گا۔ ہمارے ہاتھ جلد ان کی گردنوں تک پہنچیں گے۔ ہم عالمی سطح پر ثبوت عام کر دیں گے۔ یہ کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہیں گے۔

ایمبولینسز کی قطاریں لاشوں اور زخمیوں کو ڈھو رہی ہیں۔ خضدار میں درگاہ شاہ نورانی سے سول اسپتال کراچی تک خون کی جو لکیر آج کھینچی گئی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ کس کی سازش ہوگی۔ ابھی ہم لاشیں گن لیں ۔ جلد ہی سازش کے پیچھے چھپے ہاتھوں کا سراغ لگا لیں گے۔ وزیراعظم اور آرمی چیف نے بیک زبان کہا ہے کہ ملک دشمنوں کو معاف نہیں کیا جائے گا۔ ہم اپنے شہیدوں کا حساب لے کر رہیں گے۔

کتنے سال ہوتے ہیں یہ حساب ابھی تک ادھار چلا آتا ہے۔ حساب برابر کرنے کا وقت آخر کب آئے گا۔

Facebook Comments HS

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 3148 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali