مردوں پر تشدد بند کرو، اسلامی نظریاتی کونسل کی عورتوں اور بچوں کو وارننگ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

\"saleemشکر ہے کہ اسلامی نظریاتی کونسل تھی کہ انہوں نے بیچارے مردوں کے حقوق کا بھی سوچا۔ ورنہ اس ملک میں کسی کو فکر ہی نہیں تھی کہ بیچارہ مظلوم مرد گھر کی چاردیواری میں عورتوں اور بچوں سے ہر وقت طرح طرح کا تشدد چپ چاپ سہتا رہتا ہے اور کبھی اف تک نہیں کرتا۔ اس کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔ مرد کو عورتوں اور بچوں، خاص طور پر بچیوں، کے ظلم و ستم سے بچانے کے لئے مدد کی اشد ضرورت ہے۔

یوں تو اس ملک میں ہر وقت کوئی نہ کوئی تماشہ لگا رہتا ہے۔ عورتیں اور خاص طور پر لڑکیاں معمولی واقعات پر مگر مچھ کے آنسو بہا بہا کر لوگ کو رام کرتی رہتی ہیں۔ معمولی غلطیاں جیسے کسی عورت کی آنکھیں نکال دی جائیں یا ہاتھ پاؤں کاٹ دیے جائیں تو اتنا شور ہوتا ہے جیسے خدائی الٹ گئی ہو۔ بھئی ایک عورت ہی ہے کوئی غلطی کی ہو گی اور مرد بے چارے نے غصے کی حالت میں مجبوراً اگر ٹانگیں کاٹ دی ہیں تو کیا عورت نے کوئی قومی یا عالمی دوڑ میں حصہ لینا تھا جو اب میڈل سے محروم ہو جائے گی۔ گھر میں روٹیاں وغیرہ ہی پکانی ہوتی ہیں اور اس کے لئے ٹانگوں کی کوئی خاص ضرورت نہیں ہوتی۔ یا اگر آنکھیں نکال دی ہیں تو اس نے کوئی غلطی کی ہو گی ناں ورنہ مرد کوئی پاگل تو ہوا نہیں ہوتا۔

اگر کسی عورت کے چہرے پر کوئی مظلوم مرد بے چارہ تیزاب ڈال دے پھر لوگ طوفان کھڑا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ حالاںکہ نقصان تو بیچارے مرد کا ہی ہوتا ہے۔ اسے روٹی، کپڑے، گھر کی صفائی اور والدین کی خدمت کے لئے پھر کسی نئی عورت سے شادی کرنا پڑتی ہے اور یہ بڑا خرچے والا کام ہے۔

اسی طرح سے اگر کسی لڑکی کو مار دیا جائے یا زندہ جلا دیا جائے تو بھی کچھ لوگ بڑا رولا ڈالتے ہیں۔ ایسی ہی معمولی باتوں پر نہ صرف لوگ شور کرتے بلکہ عام حالات میں مردہ پڑا ہوا قانون بھی حرکت میں آ جاتا ہے۔ اور یہ دیکھا گیا ہے کہ اگر کوئی بیچارہ بھائی اپنی بہن کو قتل کرنے کے بعد گرفتار ہو جائے تو اسے کئی مہینے تک جیل کی ہوا کھانی پڑتی ہے۔ تو ثابت یہ ہو کہ عورتوں کے خلاف تھوڑے بہت تشدد کو روکنے کے قوانین بہت سخت ہیں اوپر سے کچھ لوگ انہیں مزید سخت بنانے کے لئے واویلا کرتے رہتے ہیں۔

نا انصافی کی حد ہوتی ہے۔ کتنا ظلم ہے کہ عورتوں کے خلاف ہونے والے چھوٹے چھوٹے روزمرہ کے واقعات جیسے کہ جنسی ہراسانی یا ریپ کے لئے بھی قوانین موجود ہیں۔ حالانکہ ان جرائم کی وجہ تو خود خواتین ہی ہوتی ہیں جو غلط لباس پہن کر مردوں کو اشتعال دلاتی ہیں اور وہ بے چارے مجبور ہو کر ایسا کرتے ہیں۔ لیکن بے چارے مردوں کے خلاف گھروں میں عورتیں اور بچے جتنا بھی ظلم کرتے رہیں اس پر کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔ کوئی قانوں مردوں کو عورتوں اور بچوں کے مظالم سے بچانے کے لئے موجود ہی نہیں ہے۔

مرد کے خلاف آئے دن گھریلو تشدد ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر کبھی کھانا لیٹ ہے، کبھی روٹی بد شکلی سی ہے اور گول ہونے کی بجائے اس کے کونے نکلے ہوئے ہیں۔ کبھی کپڑے صاف نہیں ہیں اگر صاف ہیں تو پریس ٹھیک نہیں کیے ہوتے۔ کبھی کھانے میں نمک ٹھیک مقدار میں نہیں ہے اور کبھی مرچیں زیادہ ہیں۔ اتنے شدید جرائم کی روک تھام کے لئے کوئی قانون سرے سے موجود ہی نہیں۔

شکر ہے کہ اب کونسل آف اسلامک آئیڈیولوجی کو خیال آیا ہے کہ بیچارے تشدد کے مارے مظلوم مردوں کے تحفظ کی کچھ امید بندھی ہے۔ امید ہے کونسل جلد ہی ایک موثر قانون تجویز کرے گی تاکہ مردوں کے خلاف تشدد کرنے والی عورتوں اور لڑکیوں کو قرار واقعی سزا مل سکے۔

پس مضمون: اب پاکستانی عوام کو یہ بھی احساس ہوا ہو گا سی آئی آئی پر اٹھنے والے کروڑوں روپے سالانہ کے اخراجات ضائع نہیں گئے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سلیم ملک

سلیم ملک پاکستان میں شخصی آزادی کے راج کا خواب دیکھتا ہے۔ انوکھا لاڈلا کھیلن کو مانگے چاند۔

salim-malik has 220 posts and counting.See all posts by salim-malik

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *