یونائیٹڈ کرسچیئن ہسپتال اور 52 دن

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گلبرگ لاہور میں واقع معروف ہسپتال یونائیٹڈ کرسچن ہسپتال (یو سی ایچ) پچھلے کئی سال سے سخت مشکلات سے گزر رہا ہے۔ یہ ایک ایسا ڈوبتا ہوا جہاز ہے۔ جس کے اپنے ہی کپتان اور محافظوں نے ضربیں لگا لگا کر اس کی ہستی میں بے شمار سوراخ کر دیئے ہیں۔ اور کچھ لوگ دور کھڑے تماشائی بن کر اس کو ڈوبتا ہوادیکھنے کے انتظار میں ہیں۔ وہ کہتے ہیں جلے گھر کے کوہلے بھی بھلے۔ کچھ یہی حال یوسی ایچ کا بھی ہو کر رہ گیا اس کی رہی سہی مشینری بھی بیچ کر کھانے کی نوبت آ گئی۔ کچھ عرصہ سے اسے بچانے کی مسلسل کوششیں کی جا رہی ہیں۔ سپریم کورٹ پاکستان کے چیف جسٹس ثاقب حسن نثار نے از خود نوٹس لیا اور اس کی بحالی کے لئے سول سوسائٹی کے کچھ لوگ بھی سامنے آئے۔

فنڈ کا اعلان بھی کیا گیا۔ پھرکچھ ہی ماہ بعد چیف جسٹس ثاقب حسن نثار ریٹائر ہو گئے۔ ان کے جانے کے ہی ساتھ اسٹرینگ کمیٹی ختم ہوگئی اور یہ کوشش برآور نہ ہوسکی۔ اس کے فروخت کی باتیں بھی سننے کو ملیں۔ کچھ لوگ اسے بچا نے کی تگ و دو کر رہے ہیں۔ اب خصوصاٍ پاسٹر ساجد مسیح اور ان کی ٹیم یعنی یو سی ایچ فرینڈز، جو فیزیکل ہسپتال کے پارک میں گھاس لگانے، وارڈوں کی صاف ستھرائی، سفیدی اور مینٹیننس کا کام بڑے جوش وخروش سے کر رہے ہیں۔

وہ اور ہسپتال کی انتظامیہ بڑی پرامید دکھائی دے رہی ہے کہ وہ اس ہسپتال کو بحال کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔ پاسٹر ساجد نے 52 دن دیے ہیں یہ 52 دن ایک تاریخی واقعہ ہے جو نحمیاہ کی مقدس کتاب کے 6 باب میں مرقوم ہے۔ جب اسرائیل قوم کوبابل کی اسیری سے رہائی ملی اور وہ واپس یروشلم پہنچے تو انہوں نے دیکھا کہ پروشلم کی سٹرکیں اورد یواریں ٹوٹی ہوئی تھیں انہوں نے 52 دنوں میں اس کی تعمیر مکمل کی۔ پاسٹر ساجد کو کام کرتے ہوئے ابھی کچھ ہی دن ہوئے ہیں اور ان کی محنت رنگ لارہی ہے۔

بقول آئی سپیشلسٹ آکاش میتیھوجو میڈکل ڈائریکٹر ہیں اور ہسپتال کی انتظامیہ پاسٹر ساجد کے کام اور تعاون سے بہت خوش نظر آتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ 52 دنوں میں ہسپتال کو بحال کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ اس سے پہلے یہ افواہیں گردش کرتی سنائی دے رہی تھیں کہ ہسپتال لیز پر دیا جا رہا ہے۔ ہسپتال کی بحالی کے پروپوزل ان کو مل چکے ہیں مگر کٹری شرائط ہونے کی وجہ سے وہ پروپوزل ہسپتال کی انتظامیہ کو ناقابل قبول ہیں۔

پروپوزل میں واضح کیا گیا تھا کہ ہسپتال کو مکمل طور پر ان کے حوالے کیا جائے اور ان کے کام میں کمیٹی یا ایڈمنسٹریشن کو مداخلت کی اجازت نہیں ہو گی۔ اور ہسپتال کی جو ایڈمنشٹریشن منتخب ہو کر آتی، ہسپتال کو ان کے حوالے کر دیا جائے گا۔ اس وقت سول سوسائٹی کے علاوہ سب لوگ یہی چاہتے ہیں کہ یہ کمیونٹی کا ادارہ ہے اور کمیونٹی کا ہی رہے۔ وہ اس کو بچانے کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں اور یہ بھی چاہتے ہیں کہ وہ اپنی اسی پرانی آب و تاب سے چمکے۔

خدا کرے کہ یہ ان کی تمام کوششیں بارآور ثابت ہوں۔ واضح رہے کہ یو سی ایچ ہسپتال جو 1960 میں گلبرگ میں تعمیر ہوا۔ پنجاب بھر میں پرائیویٹ ہسپتالوں میں اپنی نوعیت کا یہ ایک منفرداور وسیع ترین ہسپتال تھا۔ جوجدیدترین جراحی آلات سے آراستہ تھا۔ جہا ں آنکھوں کے علاج سے لے کر ہر قسم کی جسمانی بیماریوں کے علاج اور آپریشن کی سہولیات میسر تھیں۔ غریب سے لے کر امیرتک یہاں علاج کے لئے آتے اور شفا پاتے تھے۔ ہسپتال کے علاوہ یہ پرائمری میڈیکل انسٹیٹیوٹ بھی تھا جس میں نرسنگ ہوسٹل بھی موجود تھا۔

اس ہسپتال سے ہر سال تقریباً 80 لڑکے لڑکیوں کو نرسنگ کے علاوہ ڈسپنسر، لیبارٹری ٹیکنیشن اورایکسرے ٹیکنیشن کی ٹریننگ بھی دی جاتی تھی۔ یہاں ڈاکٹرز ہاؤس جاب کیاکرتے تھے۔ ا مریکن ڈاکٹرز اور نرسز کی سربراہی میں چلنے والا یہ مشہور ہسپتال جب مقامی مذہبی ٹھیکیداروں کی سیاست اور لالچ کی زد میں آیا تو انہی محافظوں نے محض کار کوٹھی اور اپنے بینک بھرنے کی خاطراسے مال غنیمت سمجھ کر لوٹنا شروع کر دیا۔ ان کی فیملیاں اور بچے بیرون ملک سیٹل ہیں۔

خرد برد کا حال یہ تھا کہ ہسپتال کی زمین پر اوور ہیڈ برج بنانے کے لئے جو پیسہ گورنمنٹ نے دیا وہ بھی ان کے بڑے پیٹ میں چلا گیا جس کا آج تک حساب کتاب نہیں ہوا۔ واضح رہے کہ ہائی کورٹ کرسچن بار کونسل کے صدر کاشف الیگزینڈر ایڈمنسٹریشن کے ممبرہونے کے علاوہ اس کی بربادی اور لوٹ کھسوٹ کی انکواری بھی کر رہے ہیں۔ یہ ہسپتال کبھی انسانیت کا مسیحا کہلاتا تھا اور دن رات بیمار ولاچار انسانوں کی شفا کی بہترین خدمات میں مصروف عمل تھا۔

آج اس نیم مردہ جسم میں پھر جان ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ بہت سارے سوالات ا ب بھی لوگوں کے ذہنوں میں ابھر رہے ہیں۔ کہ کہیں وہ کسی باہر کی پارٹی کو اس کی بحالی کے لئے تونہیں دے رہے کیونکہ بڑے بڑے مگر مچھ یوسی ایچ کو بیچ کھائیں گے۔ جوبس موقع کی تلاش میں ہیں۔ اب وقت ہے کہ منفی سوچوں سے باہر نکل کر مثبت سوچ کی طرف بڑھناہے اور پاسٹر ساجد اور ان کے ساتھ کئی مخیر حضرات اس کو بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ سوال یہ بھی ہے کہ اسے جازب نظر بنانے کے علاوہ ڈاکٹرز، پیرا میڈیکل سٹاف سہولیات اور بہت سے معاملات ایسے ہیں جن کے لئے پیسے کی ضرورت ہوتی ہے۔

کیا یہ ممکن ہو سکے گا۔ ایک اطلاع یہ بھی ہے کہ نرسنگ، ڈسپنسر، لیبارٹری اورایکسرے ٹیکنیشن کی ٹریننگ کے لئے ہسپتال انتظامیہ نے دوبارہ رجسٹرڈ کروالیا ہے۔ اس کی بحالی میں اپنا اپنا حصہ ڈالا جائے تاکہ علاج معالجے کے علاوہ مسیحیوں کے بچے یہاں سے ٹریننگ کرکے اپنے اور اپنے خاندان کو معاشی طور پر مضبوط کرسکیں۔ ہماری خدا سے یہی دعا ہے کہ اس ہسپتال کی رونقیں پھر سے جلد بحال ہو جائیں۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments